ہمارے ریاضی کے اساتذہ کتنے ماہر ہیں؟

تحریر:  رکمنی بینرجی  ،  گیتا کنگڈون

ترجمہ: سید نثار 

بشکریہ: لرننگ کرو (اشو 14)

مدرسہ تحتانیہ (پرائمری اسکول ) کی ریاضی پر کئے جانے والے ایک ٹیسٹ سے جو کہ اسکول ٹیلس (School TELLS) نامی سروے کا حصہ تھا  یہ واضح ہوتا ہے کہ اس میں اساتذہ کی جو مایوس کن کارکردگی رہی وہ اسکول کے طلبا ء کی ریاضی میں ناقص مظاہرے کا ایک معقول سبب ہے۔ اساتذہ کی صلاحیتوں کی مختصراً جانچ  ان کے مضمون کی معلومات اور ادراک سے  کافی مطابقت رکھتی ہے۔ لئے گئے اساتذہ میں سے تقریباً ۸۰ فیصد کسی حد تک اس بات سے متفق ہیں کہ،
“مجھے اپنے طلباء کے ریاضی کے سوالات کو سمجھانے میں کبھی کبھی دقت محسوس ہوتی ہے۔” نتائج میں دونوں چیزیں، تقرر کے لائحہ عمل اور اساتذہ کی تربیت کے نصاب کے لئے مضمرات ہیں۔  
اگرچہ کہ تحتانوی مدرسہ (پرائمری اسکول) کے طلباء کے حساب دانی سیکھنے میں کم درجہ حاصل کرنے کے متعدد عوامل ہیں، (ASER,2005-2008)، لیکن ایک قدرے اہم وجہ “اساتذہ میں کم  قابلیت” نے تحقیق،  مناظرے، اور تعلیمی پالیسی میں کچھ توجہ حاصل کی ہے۔
‌حالانکہ اساتذہ کی ناقص صلاحیتوں اور نصابی کتب پڑھانے میں ان کی تدریسی قابلیت پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، لیکن ہمارے علمِ قلیل کے مطابق ہندوستان میں اس مدعے کے لئے کچھ ہی باضابطہ شواھد ہیں۔ اسکول ٹیلس(School Tells) سروے (کنگڈون، بینرجی، ۲۰۰۸) کے ایک جز کے طور پر ہم نے اتر پردیش اور بہار کے ۱۰ اضلاع کے  پرائمری اسکول کے اساتذہ کی ریاضی (اور ہندی زبان میں بھی)  تدریسی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔ ریاضی میں ہم نے مندرجہ ذیل چیزوں کا احاطہ کیا:
‌۱۔ اساتذہ کی چوتھی- پانچویں درجے کی بنیاد ی ریاضی معلومات۔ یعنی کیا ٹیچر خود جانتی ہیں کہ انھیں کیا پڑھانا ہے ۔
‌۲۔ طلباء کی غلطیوں کی نشاندھی میں ٹیچر کی قابلیت۔
‌۳۔ ریاضی کے تصورات کو آسانی سے سمجھانے میں ٹیچر کی قابلیت۔
اس کو جانچنے کے کام اسی طرح سے معیاری ریاضی کے مطابق دئے گئے تھے جو پرائمری اسکول ٹیچر کو روزمرہ کلاس میں کروانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
اساتذہ کے امتحان کے لئے  گہرائی سے اتر پردیش اور بہار کے پرائمری اسکول کی نصابی کتب و مواد کا معائنہ کیا گیا۔ مثلاً اساتذہ کو فیصد اور رقبہ کی پیمائش کے عام سوالات دیئے گئے۔  اس طرح کے سوالات ریاستی نصابی کتب میں 4 / 5 درجے میں ہیں۔
اساتذہ کو ان سوالات کو حل کرنے کے لئے کہا گیا ( معلومات/ قابلیت کی جانچ)  اور پھر اس کا سطر بہ سطر ( درجہ بہ درجہ) واضح حل  لکھنے کے لئے کہا گیا (سمجھانے کی قابلیت)۔  ہم نے اساتذہ کو وہ کام بھی سونپے جس سے ان  کی “طلباء کی غلطیوں کی نشاندھی کرنے کی صلاحیت” کی جانچ ہوتی تھی۔ مثلاً ہم نے تقسیم کے مسئلے میں طلباء کے حل شدہ سوالات کی ۳  مثالیں دیں ۔ اور ان سے پوچھا کہ کس بچے کا حل صحیح ہے۔
یہ جانچ بہار ریاستی کونسل برائے تحقیق و تربیت (SCERT) (پٹنہ ) کے تحت تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں کی گئ۔  
سوالات برائے “کیا استاد واقف ہیں”:
فیصد پر مشتمل سوال: ایک جماعت میں ۵۵ طلباء ہیں ۔ ان میں سے ۳۲ کے پاس کتب ہیں۔ کتنے فیصد طلباء کے پاس کتابیں نہیں ہیں۔
رقبہ پر سوال: لیچی کےایک درخت بونے کیلئے آپ کو ۲۵ مربع میٹر درکار ہیں۔ رمیش کے پاس ایک کھیت ہے جو ۸۰ میٹر طویل اور ۷۰ میٹر عریض ہے اس کھیت میں زیادہ سے زیادہ کتنے درخت لگائے جا سکتے ہیں۔
ایک سوال یہ جانچنے کے لیے کہ ‘کیا اساتذہ طلباء کی غلطیوں کی نشاندھی کر سکتے ہیں؟ ( اساتذہ کو تقسیم کے حسبِ ذیل ۳ جوابات میں سے صحیح جواب کی نشاندھی کرنی تھی۔)
نتائج کافی چونکادینے والے تھے۔ صرف ۲۵ فیصد اساتذہ فیصد پر مبنی سوال کو حل کرسکے۔
بہاری اساتذہ کا مظاہرہ اترپردیش کے اساتذہ سے بہتر تھا۔ اور سرکاری مدارس کے ریگیولر ٹیچرز کا مظاہرہ خانگی اور پیرا ٹیچرز کی بنسبت خاصہ بہتر تھا۔
(گو کہ ریگیولر ٹیچرز کی غیر حاضری کی شرح جو یہاں نہیں بتا ئی گئی ہے، کافی زیادہ تھی ۔لیکن بہتر مظاہرہ کرنے والے اساتذہ یعنی بہار کے ریگیولر ٹیچرز میں بھی صرف 43 فیصد ہی فیصد پر مبنی سوال کو صحیح طور پر حل کر سکے۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پرائمری اسکول کی ریاضی پڑھانے کی صلاحیت میں کافی کمی ہے۔ صرف ۲۸ فیصد اساتذہ رقبہ پر مبنی سوال کو صحیح حل کر پائے۔ سرکاری مدارس کے ریگیولر ٹیچرز کا مظاہرہ پیرا ٹیچرز سے بہتر تھا۔(اور اتر پردیش میں ہم رتبہ خانگی ٹیچرز سے بھی۔ اس کے باوجود صرف ۳۹فیصد ریگیولر ٹیچرز بہار میں اور ۳۰ فیصد اتر پردیش میں، رقبہ پر مبنی سوال صحیح طور پر حل کر سکے۔ لیکن مختلف طرح کے اساتذہ (ریگیولر، پیرا ور خانگی) کا مظاہرہ سمجھانے اور طلباء کی غلطیوں کی نشاندھی لگ بھگ مماثل رہا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی ریاضی کے جملہ اسکور میں وہ اتنا زیادہ مختلف نہیں تھے جتنا کہ ریاضی کی “معلومات” کے معاملے میں، جو کہ صرف فیصد اور رقبہ کے سوال کے مظاہرے میں ہی جانچا گیا۔
اساتذہ میں سمجھانے کی صلاحیت کم پائی گئی کیونکہ بہت سارے اساتذہ واضح طور پر منظم انداز میں سوال کا حل بتانے سے قاصر رہے ۔ گرچہ غلطیوں کی نشاندھی کی صلاحیت بہتر تھی پھر بھی تشفی بخش نہیں تھی۔
۱۵٪ ریگیولر ٹیچرز اور ۲۶ فیصد پیرا ٹیچرز تقسیم کے ایک آسان سوال ( 927/9) کے تین طلباء کے دئے گئے جوابات میں سے ٹھیک طرح سے پہچان نہیں پائے کہ صحیح جواب کونسا ہے۔
پرائمری اسکول کی ریاضی میں اساتذہ کی اتنا مایوس کن کارکردگی یہی ظاہر کرتی ہے کہ اساتذہ میں کم قابلیت طلباء کے ریاضی میں کم درجے پانے کا ایک معقول سبب ہے۔

‌مثلاً:- اتر پردیش میں ریگولر ٹیچرز کی غیر حاضری کی شرح ۲۵ فیصد ہے۔ جبکہ پیرا ٹیچرز اور خانگی اسکول ٹیچرز کی بالترتیب ۱۲فیصد اور ۱۷ فیصد ہے ۔ اسی طرح اتر پردیش کے ریگیولر ٹیچرز کی تنخواہ ( جنوری ۲۰۰۸ میں لگ بھگ ماہانہ ۱۲۰۰۰) ، پیرا ٹیچرز کی تنخواہ کا چار گنا (ماہانہ ۳۰۰۰) اور خانگی اسکول ٹیچرز کی تنخواہ کی ۱۲ گنا تھی ( ماہانہ ے940) ۔ تنخواہوں کا یہ عدم تناسب اور بھی زیادہ ہو گیا جب ۲۰۰۹ میں اتر پردیش میں چھٹے پے کمیشن کا اطلاق ہوا۔ جس سے ریگولر ٹیچرز کی تنخواہ ۱۸۰۰۰ ماہانہ تک بڑھ گئی۔ کنگڈون (۲۰۱۰) اندازہ کرتے ہیں کہ اتر پردیش میں ریگولر ٹیچرز کی تنخواہ اور ریاستی جی ڈی پی کا تناسب ۱۷:۱ ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں یہ تناسب ۳:۱ ہے
پرائمری ٹیچرز کی حساب دانی کی تدریسی قابلیت کے علاوہ ہم نے   ان سے یہ بھی پوچھا کہ وہ اس بات سے کس حد تک متفق ہیں کہ”مجھے کبھی کبھی اپنے طلباء کے سوالات کے جوابات دینے میں اور ریاضی میں ان کے شبہات کو رفع کرنے میں دقت پیش آتی ہے”۔ جدول ۳ میں خود فراہم کردہ معلومات مہیا کی گئی ہیں اور وہ یہ بتاتا ہے کہ بہار میں صرف ۱۸ فیصد اور اتر پردیش میں ۲۲ فیصد اساتذہ اس بیان سے متفق نہیں ہوئے۔ یعنی تقریباً ۸۰ فیصد اساتذہ یہ مانتے ہیں کہ انھیں اپنے طلباء کے سوالات کے جوابات دینے میں کچھ دقت پیش آتی ہے۔
ان میں سے بہار کے ۲۵ فیصد اور اتر پردیش کے ۱۵ فیصد اساتذہ پوری طرح سے متفق ہیں۔

حاصل شدہ نتائج کے مضمرات:-
پرائمری اسکول کے نصابی کتب کے مواد کو تقرر کے لئے معیار کےلئے جانچا نہیں گیا ۔ یہ غالباً اس لئے ہوا کہ یہ قیاس کر لیا گیا تھا کہ ٹیچرز کی تعلیمی قابلیت اور ماقبل ملازمت تربیت اس بات کی ضامن ہوگی کہ انھیں موزوں معلومات اور پرائمری درجے کو پڑھانے میں مہارت حاصل ہے۔ اور اس طرح کی صلاحیتوں میں کسی کمی کو بعد میں بوقت تقرر پورا کیا جا سکتا ہے۔
حالانکہ یہ قیاسات کافی کمزور اور غیر حقیقی معلوم ہوتے ہیں ان نتائج کی روشنی میں کہ،
۱- اساتذہ کے بہترین زمرے یعنی سرکاری مدارس کے ریگیولر ٹیچرز،جن میں بیشتر بی اے اور ایم اے کی ڈگری کے علاوہ ما قبل ملازمت تربیت یافتہ ہیں، ان میں بھی قابلیت کا میعار کم ہے۔ یہ قیاسات ان شواھد کی روشنی میں (جو فی الحال یہاں پیش نہیں کئے گئے) کمزور نظر آتے ہیں کہ اساتذہ کی تدریسی قابلیت ان کی تعلیمی قابلیت اور ما قبل ملازمت تربیت سے کم ہی تعلق رکھتی ہے۔
اسطرح کے  کمزور  ارتباط اسی وقت ہو سکتے ہیں جب مختلف اساتذہ کو دی گئی تعلیم و تربیت میں قدرے فرق ہو ۔
ہو سکتا ہے کہ اساتذہ اس جانچ سے ڈر کر اس کی مخالفت کر سکتے ہیں، بالخصوص اس وقت جب ان کے گراں قدر مفادات ( مثلاً تنخواہ میں اضافہ،ترقی یا معاہدے کی تجدید) داؤ پر لگے ہوئے ہوں ۔ یہ بالکل غیر مناسب ہے کہ طلباء کو ایسے اساتذہ کے ذمہ کیا جا ئے جو خود ان کتب کو سنبھال/ سمجھ سکتے ہیں جو انہیں پڑھانی ہے۔
ہماری دریافت میں اہم مضمرات ہیں۔
‌اول تو جن افراد میں صلاحیتوں اور طریقہ کار کی کمی کی جو نشاندھی کی گئی ہے وہ مستقبل میں ما قبل ملازمت تربیت کے نصاب کی تشکیل اور زیر تربیت رفقاء کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ ثانیاً ، اساتذہ کی جانچ مستقبل کے تقرر ات میں قابل اشخاص کی نشاندھی میں معاون ہو سکتے ہیں۔ ثالثاً اساتذہ اپنے امتحان کا خیر مقدم کریں کہ یہ انھیں اپنی دوران ملازمت تربیت کی ضروریات کو اجاگر کرتی ہے اور انھیں مواقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں قبل اس کے کہ وہ  کسی اہم نازک  مواقع کے لئے آزمائے جائیں۔
اختتامی بات یہ کہ مضمون کے ماہرین کی کوئی سہولت پرائمری اسکول کی سطح پر ہندوستان کے بیشتر ریاستوں میں موجود نہیں لیکن ریاضی کو استثنائی شکل دینا مفید ہوگا کیونکہ اساتذہ میں یہ خصوصیت سے کمزور حصہ ہے  اور اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں ایک مشکل میدان ہے ۔
حوالہ جات
۱) کنگڈون جی ، آر بینرجی اور پی چودھری (۲۰۰۸)
اسکول ٹیلس سروے برائے دیہی علاقے پرائمری اسکول اتر پردیش و بہار (۲۰۰۷-۲۰۰۸)۔
نوٹ:-۔ گیتا کنگڈون، لندن یونیورسٹی، ادارہ برائے تعلیم  میں  تعلیمی معاشیات اور بین الاقوامی ترقی کی چیر مین ہیں۔ ان کی تحقیق حسب ذیل امور کے حسابیاتی تجزیہ پر محیط ہے۔
۱) مدارس کی موثر کارکردگی
۲) اساتذہ کے معاوضہ جات
۳) ام پیکٹ اِوالویشن (کسی عمل یا پالیسی میں جانی والی مثبت ترمیم کا محاسبہ )
۴) تعلیم کی سیاسی معاشیات
۵) صنفی امتیاز ( گھریلو تعلیمی سطح اور میں تعلیمی جزا ، دونوں صورتوں میں)
ان سے [email protected]@ioe.ac.uk پر ربط کیا جا سکتا ہے۔
رکمنی بینرجی ۱۹۹۶ سے پرتھم سے منسلک ہیں ۔ (www.pratham.org) ۔ وہ ASER مرکز کی ہدایت کار بھی ہیں (www.asercentre.org). ان سے
[email protected]  
پر ربط کیا جا سکتا ہے۔

Syed Nisar Ahmed

Author: Syed Nisar Ahmed

نثار احمد نےریاضی میں ایم ایس سی کیا ہے اور فی الوقت دکن کالج آف انجنیرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں لکچرر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے