ریاضی سیکھنے میں ثقافت

احمدآباد میں منعقدہ حالیہ ورکشاپ میں ہم نے مدرسہ کے اساتذہ سےکہا کہ وہ اپنے طلباء سے پوچھیں کہ مدرسہ کے بعد وہ کیا کرتے ہیں اور کیا اسمیں ریاضی بھی شامل ہوتی ہے؟ اساتذہ نے کافی کچھ بتایا۔ انکے مدرسہ کے بچے جنکا تعلق غریب گھرانوں سے ہے، اپنے والدین کی ترکاری فروخت کرنے مدد کرتے ہیں۔ وہ پتنگیں، بندیاں اور اگر بتی کے پیکٹ اور کئی اور چیزیں بناتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں۔ یہ بچے ترکاریوں کی مختلف اکائیوں کے دام اور ایک کوری [20 پتنگیں] پتنگ سے حاصل ہونیوالا منافع بھی جانتے ہیں۔ پتنگ کو پیکٹ میں آنیوالے کاغذ اور گٹھری میں آنیوالی کاڑیوں سے بنانا پڑتا ہے جو مختلف اکائیوں میں ہوتے ہیں۔ خام مال کی خریداری، مال کی تیاری اور اسکی فروخت میں قدرتی طور پر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بچے اپنے بھائی بہنوں یا والدین کے ساتھ مل کر ان مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنے ہی انداز کے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں اور اس دوران وہ مستقل ہندسوں اور ریاضی کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔

یہ باتیں ہمیں بچے نہیں بتا رہے تھے بلکہ اساتذہ بتا رہے تھے۔ ہم نے اساتذہ سے پوچھا کہ انہوں نے کسطرح دریافت کیا کہ بچے اتنا کچھ جانتے ہیں تو انکا جواب تھا کہ جب بچے اسکول سے غیر حاضر رہتے ہیں تو وہ سبب جاننے کیلئےانکے گھر جاتے ہیں، انکے والدین سے بات کرتے ہیں اور اکثر ان بچوں کو اپنے والدین کی مدد کرتا ہوا پاتے ہیں۔ غالباً ترکاری وغیرہ فروخت کرتے ہوئے جب انکی مائیں روزمرہ کے کام نپٹاتی ہیں۔ ہم خوش تھے کے اساتذہ بچوں کی حاضری کے تئیں اتنی تکلیف اٹھا رہے ہیں، لیکن انکے جواب سے کچھ بے اطمینانی بھی ہورہی تھی۔ جب ہم نے ورک شیٹس کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ان مدرسوں میں بچوں کو مروجہ کتابوں کے بجائے اساتذہ کے تیار شدہ ورکشیٹس دئے جاتے ہیں اور انمیں وہ سب ندارد تھا جو ہم نے سنا تھا۔ ہمیں یاد آیا کہ بچوں کی سرگرمیوں کو اساتذہ نے اسکول سے باہر جانا ہے نہ کہ علم ریاضی کی کلاس میں۔

اساتذہ کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد ہم نے یہ جانا کہ وہ ‘باقاعدہ’ ریاضی پر گہرا یقین رکھتے ہیں۔ ڈچ اسٹڈی میں مستعمل یہ سوال کہ “اگر ایک قطبی بھالو 350 کلو وزنی ہےتو کتنے بچوں کے وزن کو جمع کرنے سے اسکے برابر ہوگا” ان اساتذہ کے نزدیک ایک اچھا سوال نہیں تھا، کیونکہ اس میں وہ تمام معلومات نہیں ہیں جو اسے حل کرنے کیلئے ضروری ہیں۔ بچے اسکول سے باہر جو سوالات حل کررہے تھے ان میں اکثرمطلوبہ معلومات نہیں تھے اور نہ ہی کوئی ایک درست جواب لیکن بچوں نے انکو حل کرنے کیلئے غیر مروجہ طریقے استعمال کئے۔ اسی لئے اساتذہ نے یہ محسوس کیا کہ بچے دراصل کوئی ریاضی نہیں کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوا کہ ایک غیر مرئی دیوار اسکول کی ریاضی اور اس سوچ اور حساب کے درمیان حائل ہے جو بچے معاشی سرگرمیوں کے پس منظر میں کرتے ہیں۔

یہ کہانی غیر معمولی یا ان سنی نہیں ہے۔ کئی غریب گھرانوں کے بچے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ایک مختلف سماجی اور جغرافیائی پس منظر میں اگر کوئی غور کرے تو محسوس ہوگا کہ یہاں بھی بچے اسکول سے باہر بھی ریاضی کر سکتے ہیں۔ لگ بھگ سارے اسکولوں کے نصاب میں ہی اسطرح کے روزمرہ ریاضی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ، بچوں کی دلچسپی کو بڑھانے کیلئے پس منظر لگا دیا جاتا ہے۔ لہٰذا، بچے اسکول کے اندر اور باہر جو کچھ بھی سیکھتے ہیں وہ ایک دوسرے سے علیحدہ اور غیر متعلق ہی رہ جاتا ہے۔ یقیناً یہاں بڑا مسئلہ اسکولی نصاب اور باہر کی زندگی کا تعلق ہے۔ چونکہ ریاضی علم کی ایک تجریدی شاخ ہے، کوئی یہ سوچ سکتا ہیکہ ثقافت اور روزمرہ زندگی سے اسکے تعلق پر کم ہی بولا جا سکتا ہے۔ لیکن، کئی محققین نے روزمرہ اور اسکولی ریاضی کے تعلق کا مطالعہ کیا ہے جس سے کئی اہم چیزوں کا ادراک ہوا ہے۔

کنسٹرکٹوزم  (Constructivism)کے وکلأ اور پیاجے (Piaget)  کے ماننے والے اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ بچے خالی ذہن لیکر انہیں بھرنے کے انتظار میں داخل نہیں ہوتے، وہ پہلے ہی سے اسکولی ریاضی اور سائنس کے کئی پہلووں کا پیچیدہ علم حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ ادراکی ارتقاء کا مطالعہ کرنے والے ماہرین نفسیات نے ان تصورات کا تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے جنھیں بچے فوراً اخذ کرلیتے ہیں۔ کنسٹرکٹوزم  کی پہلی لہر کو انفرادی تعلم پر زیادہ زور دینے کیلئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ تنقید مختلف پہلووں سے کی گئی جو سماج اور ثقافت کے اثرات کے تئیں حساس تھے۔ ان تنقیدات کے مضمرات پر اب بھی ریاضی تعلیمی برادری کے مفکرین و محققین آج بھی کام کر رہے ہیں۔ یہاں ہم ان امکانات اور نظریات پربات کرتے ہیں جو اس مباحثہ سے ابھرے ہیں۔

تیریزنہا نیونس(Terezinha Nunes) اور ساتھیوں کی “راستوں کی ریاضی” پر کی گئی مخترع تحقیق، جیوفرے ساکس (Geoffrey Saxxe)کا علم الانسان   (Anthropology)کے تحت پاپوا نیوگنیا (Papua New Guinea)برادری کے ریاضی کا مطالعہ، ہندوستانی پس منظر میں فریدہ خان کی تحقیق اور اسطرح کی کئی اور تحقیقات نے یہ واضح کیا ہے کہ کس طرح روزمرہ کے معمولات میں ریاضی اچانک نمودار ہوجاتی ہے۔ یہ تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ روزمرہ کی ریاضی اسکولی ریاضی سے کس طرح مختلف ہوتی ہے۔ روزمرہ میں حسابات زبانی ہوتے ہیں اور اکثر جمع کر کے بنانے کا استعمال ہوتا ہے۔ جب بہار کے مسہری قبیلہ کے ایک فرد سے یہ پوچھا گیا کہ اگر ایک تربوز کا دام ۳۵ روپئے ہے تو ۱۰ تربوز کے دام کیا ہونگے؟ تو اس نے داہنی طرف 0 کا اضافہ کر کے براہ راست 350 نہیں کہا بلکہ پہلے اس نے ۳ تربوز کا حساب لگایا 105 روپئے اور اس سے ۹ تربوز کا دام لگایا 315 روپئے، اب اس سے ۱۰ تربوز کا دام 315+35 یعنی 350 روپئے بنا۔ ٹھیک یہی طریقہ ‘نیونس’ کی تحقیق میں برازیل کے ایک پھل فروش بچے نے اسی سوال کو حل کرنے کیلئے استعمال کیا۔ داہنی طرف 0 کا اضافہ کرنا تحریری ریاضی کا طریقہ کار ہے اور روزمرہ کی ریاضی میں غیر معروف ہے۔


تناسب کے سوالات روز مرہ کی زندگی میں عموماً تعمیر قاعدے سے حل کئے جاتے ہیں نہ کہ اکائی طریقہ یا تین کے قاعدے سے۔ مثلاً اس سوال پر غور کریں کہ اگر18 کلو جھینگے خول سے الگ کرنے پر3 کلو حاصل ہوتے ہیں تو 2کلو صاف کئے ہوئے جھینگے حاصل کرنے کیلئے کتنے کلو جھینگے پکڑنے ہونگے؟ ‘نیونس کی تحقیق میں ایک مچھیرے نے اسطرح جواب دیا کہ ۹ کلو شکار سے ہمیں ڈیڑھ کلو صاف جھینگے ملیں گے اور اسی طرح ۳ کلو شکار سے آدھا کلو صاف جھینگے ملیں گے، ۹جمع ۳، ۱۲ ہوئے۔ تو ۱۲ کلو شکار سے ہمیں ۲ کلو صاف جھینگے ملیں گے۔

چونکہ یہ طریقہ کار زبانی تھے کبھی کبھی جواب دہندہ حساب کرتے ہوئے کسی مرحلے کو مکمل کرنا بھول جاتاتھا لیکن عموماً غلطیاں بہت معمولی اور جواب معقول تھے۔ عموماً حساب کرنے کا طریقہ بالکل درست تھا۔ اسکے برعکس اسکولی بچے کسی حسابی مسئلہ کو حل کرنے میں غلط طریقہ اختیار کرتے ہیں اور نامعقول جواب ڈھونڈتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ثقافت اور ادراک روزمرہ کی ریاضی میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تاکہ موزوں ہونے کا ایک فعال نمونہ پیداہو سکے۔ جب بچوں کے سامنے کوئی ایسا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے جسے وہ سمجھ سکتے ہیں اورانہیں آزادانہ طور پر حل کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ انکے بر وقت حل کرنے کے طریقے اکثر روزمرہ کی ریاضی کی طرح ہوتے ہیں ۔ ان نتائج کے ریاضی سیکھنے اور سکھانے پر اہم مضمرات ہوتے ہیں۔ مثلاً کوئی بھی سیکھنے کے مدارات کو نیا تصور دے سکتا ہے، تا کہ روز مرہ ریاضی کے سوالات، تصورات اور طریقہ کارریاضی کے زیادہ مضبوط تصورات کیلئے لچکدار بنیاد فراہم کر سکے۔مضبوط اور شاندار پس منظر جس سے بچے آشنا ہیں گراں قدر سہارا بن سکتا ہےجس سے بچہ مسائل کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتا ہے اور یہ تصدیق کرسکتا ہے کہ حل معقول ہے۔

اگر ہم ثقافتی علوم کو محض باقاعدہ ریاضی کو پہنچانے کاذریعہ سمجھتے ہیں جو کہ اسکے بنا آسانی سے نگلی نہیں جا سکتی تو ہم شاید بہت ہی تنگ نقطہ نظر اختیار کر رہے ہیں۔ ہم ثقافت میں محض اسلیئے کانکنی نہیں کر سکتے کہ اسے ایک مخصوص تعلیمی ایجنڈے کوبڑھانے کا ذریعہ بنا سکیں۔ ثقافتی علم کو باقاعدہ علم کے ساتھ رکھنے سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ بحیثیت معلم ہم بہت گہرائی کے ساتھ انکے تعلق پر غور کر سکیں۔ ہم، ثقافت سے نہ صرف ریاضی کے تصوراتی ذرائع لینگے بلکہ اسے وہ چیزیں لوٹائینگے جو اسکے لئے قیمتی ہے۔ اگر کسی علم کو طویل میعاد میں پھلنا پھولنا ہے اور نشونما پانا ہے تو اسکی جڑیں ثقافت میں بہت گہری ہونی چاہئے۔ ہم منظم تعلیم اور ثقافت کا حصہ بن کر بکھری ہوئی تعلیم کو جوڑنے والے نکات کو کم ہی سمجھ پاتے ہیں۔ جیسے کہ کچھ مفکرین بحث کرتے ہیں ، ‘کیا ثقافت میں بکھرا ہوا علم یونیورسٹیوں کے درسی علم سے غیر متناسب ہے[ڈاولنگ، ۱۹۹۳]؟ کیا ثقافتی علم بالمقابل درسی علم یا پھر روایتی علم بالمقابل جدید علم کی معروف دو نوعیتی فکر ان دو اقسام کے علوم کے تعلق کا احاطہ کر سکتی ہے؟ علم کے بعض موضوعات میں ثقافت کے ذریعہ بکھراؤ اور درسی اداروں کے ذریعہ ترسیل کا عمل دونوں ایک طویل مدت سے کارفرما ہیں۔ ایک اچھی مثال کلاسیکی ہندوستانی موسیقی ہے۔ ایک اور مثال روایتی علم طب ، جو اب جدید تعلیمی اداروں کے ذریعہ ارسال کی جا رہی ہے۔ موسیقی اور طب دونوں درسی نظام کے طور پر مختلف النوع ثقافتی اشکال سے یا پاپولر موسیقی سے یا پھر کئی مقامی اور مخصوص طبی روایتوں سے تعلق کی حفاظت کرتے ہیں۔ اسکول میں دی جانیوالی تعلیم کے بیشتر حصہ کا ثقافت میں کوئی وجود نہیں ہے اور نہ ہی یہ مختلف النوع طریقوں سے پیش کی جاتی ہے۔

ہماری ثقافت میں ریاضی کی گہری جڑیں شاید موجود ہیں جنکا ہمیں ابھی ادراک ہونا باقی ہے۔ مسہری قبیلہ کے چند افراد کے پاس ریاضی کی پہیلیوں اور معموں کا اور انکے حل کا بہترین علم موجود ہے۔ یہ پہیلیاں ‘کٹکا’ کہلاتی ہیں، جو ریاضِی کی ایک تکنیک کا نام ہے اور اسکا قدیم ترین خلاصہ سنہ ۵ عیسوی کے آریہ بھٹیم میں موجود ہے۔ کٹکا ایک اہم اور مضبوط تکنیک ہے جو ہندوستانی ریاضی میں اہم ترقیات کا سبب بنی۔ ۶ صدی عیسوی میں برہمگپت نےالجبرائی تکنیک کو ‘کٹکا گنیتا’ کے نام سے موسوم کیا۔مسہری پہیلیاں جن میں مساوات کو حل کرنا بھی شامل ہے، ریاضی کی ان گہری روایات سے تعلق کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ بہت دلچسپ بات ہیکہ ایسا علم ایک ایسی کمیونٹی کے پاس ہے جو سماجی درجہ بندی میں بہت نیچے ہے۔ مختلف سماجی سطحوں پر برادریوں کے درمیان علم ریاضی کی ترسیل کو بہتر انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ثقافت علم ریاضی کے فروغ اور نشونما میں نہ صرف کام کے ذریعہ بلکہ پہیلیوں کی وسالت سے کھیلوں کے ذریعہ بھی مدد کرتا ہے۔روایتی فنون مثلاً موسیقی کی تجدید اور ڈیجیٹل ٹکنالوجی کے ذریعہ انکی تزئین نو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ثقافت اور ریاضی کو مربوط کرنے کے امکانات موجود ہیں جنھیں سمجھنا باقی ہے۔

روزمرہ اور درسی ریاضی کے مابین تعلق کو مختلف نظریہ سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہیکہ سیاسی معاملات بھی مناسب ہیں۔ جیسا کہ متعدد مصنفین نے بحث کی ہیکہ جدید ٹکنالوجی والے سماجوں کا ریاضی علوم پر بڑھتا انحصار ‘ریاضی’ کو روزمرہ زندگی سے بہت دور چھپی ہوئی سطحوں سے دستبرداری کی طرف بڑھا رہا ہے۔ نہ صرف تکنیکی آلہ جات کے اندر کارفرما پیچیدہ ریاضی ہی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے بلکہ روزمرہ کے معاشی معاملات بھی ریاضی کی سوچ سے خالی ہو سکتےہیں۔ روزمرہ کے مالیات کے ضمن میں جو کہ ہر فرد سے متعلق ہے، ایس محسوس ہوتا ہیکہ ٹکنالوجی، ریاضی کو غیر مستعمل بنانا چاہتی ہے۔ Calculators، EMI اور دوسری تکنیکی سہولیات Black Box کی طرح کام کرتے ہیں جو حساب اور استدلال کی جگہ لینا چاہتی ہیں۔ اسکا نتیجہ ہنر کے فقدان کے علاوہ ان تکنیکی سہولیات کے پیچھے کام کر رہی ریاضی سےتوجہ اور دلچسپی کا خاتمہ ہے۔ ایک تجزئیے میں ہم نے پایا کہ عموماً تعلیم یافتہ کریڈٹ کارڈ صارفین کو بھی کریڈٹ کارڈ کے کام کرنے کے نظام سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں حتی کہ سود کی موثر شرح کی جانکاری بھی نہیں ہے۔ غرض، سماج کا بڑھتا ہوا “ریاضی پن ” اپنے ساتھ سماج کے افراد کو ریاضی سے مبرا کر رہاہے۔ چونکہ ریاضی اسکولی نصاب میں اسطرح محفوظ کیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسری ہی سماجی غرض کو پورا کر رہا ہے یعنی ریاضی اور سائنس جو کہ موجودہ سماج کی تشکیل میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں کا حصول سماج کی بڑی آبادی کیلئے نا ممکن بن کر رہ گیا ہے۔
چھوٹی سطح پر پیداوار کی سرگرمیوں کا غیر رسمی شعبہ کی صورت میں ظہور غریب گھرانوں کو رسمی معیشت میں ہونیوالی تبدیلیوں کے تلخ اثرات کے خلاف مزاحمت اور روزگار کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ “غیر ریاضی پن” (De Mathematisation) کی بحث میں متوازی خط کھینچنے سے رکنا بڑا مشکل ہے۔ غیر ریاضی پن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بر عکس راستوں اور کام کرنے کی جگہوں میں ریاضی کا ظہور ایک مخالف رجحان ہے جوسماج کے کمزور طبقات کی مکمل بیدخلی کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔ بیشک یہ ظہور خود ایسی کوئی طاقت نہیں رکھتا کہ جس سے ریاضی تک رسائی حاصل ہوسکے لیکن تعلیمی ادارے اس امکان کو سرعت بخش سکتے ہیں۔ روزمرہ ریاضی کو درسی ریاضی کے نصاب میں شامل کرنے سے سماج کے ایک بڑے طبقے تک زیادہ ریاضی کی ترسیل کا راستہ تیار ہو سکتا ہے۔

مصنف: کے سبرامنیم ہومی بھابھا سینٹر فار سائنس ایجوکیشن، ممبئی سے جڑے ہوئے ہیں۔ انکی موجودہ تحقیق کے اہم موضوعات، ابتدائی اور ثانوی درجہ کے مدارس میں ریاضی کی تدریس کے جدید طریقے اور ریاضی کے مدرسین میں پیشہ ورانہ ارتقاء ہیں۔ اسکے علاوہ ادراکی سائنس، فلسفہ با لخصوص ریاضی سیکھنے اور تعلیم سے متعلق۔

مترجم – سید نثار احمد

بشکریہ لرننگ کرو ، عظیم پریمجی یونیورسٹی، شمارہ برائے ریاضی تعلیم

Syed Nisar Ahmed

Author: Syed Nisar Ahmed

نثار احمد نےریاضی میں ایم ایس سی کیا ہے اور فی الوقت دکن کالج آف انجنیرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں لکچرر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے