فنون لطیفہ اور سائنس میں ریاضی اور کمپیوٹیشنل (حسابی) تصورات

کشور کمار کا گایا ہوا آر ڈی برمن کا گیت”میرے نینا ساون بھادوں” اور 1982 کی فلم “ایک دوجے کے لئے “کا گیت” تیرے میرے بیچ میں”نہ صرف اپنے وقت بلکہ شائد ہر دور کے سدا بہار نغموں میں سے ایک ہیں۔اس کے علاوہ 1970 کی فلم “میرا نام جوکر” کا ایک گیت “جانے کہاں گئے وہ دن” ہے۔

مشہور ترین گیت ہونے کے علاوہ کیا ان کے درمیان کوئی اور بات بھی مشترک ہے؟ جی ہاں یہ گیت دھُن یا راگ میں مماثل ہیں۔کیوں کہ ان میں ریاضی کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے اور اسی طرح یہ تینوں گیت ہندوستانی راگ “شیور نجنی”سے اخذ کئے گئے ہیں۔لیکن کیا ہم دھن یا راگ میں موجودکوئی خاکہ یا ریاضیاتی تصور کوپہچان سکتے ہیں؟اس مضمون کا مرکزی موضوع و خیال “فنون لطیفہ اور سائنس میں ریاضی اور حساب کے تصورات ” ہے۔
قدرت کے خاکوں کی طرح مقدار کی مماثلت ، دراصل کمپیوٹیشنل (حسابی)سائنس کی وہ شاخ ہے جو اعداد و شمار پر مبنی نہیں ہوتی ہے،اورجسے “مصنوعی ذہانت” کہا جاتا ہے۔

یہ میدان جہاں ایک طرف مشین یا موسیقی کے عملی ادراک کی وجہ سے جمالیاتی لحاظ سے دلچسپ ہوجاتا ہے وہیں حقیقی قدرکے طور پربھی اپنی حیثیت منواتا ہے جیسے کمپیوٹر کی مدد سے ادویات کی دریافت اور سالماتی مماثلت کا تعین وغیرہ۔
کون کہتا ہے کہ “جمالیاتی حسن ” صرف فن کاروں کی دولت ہے اور سائنس دانوں اور انجینئروں کا اس سے کوئی سروکارنہیں؟

کیا یہ بات بذات خودحیرت انگیز نہیں ہے کہ جمالیاتی حسن میں ریاضیاتی خاکے پوشیدہ ہوتے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ سائنس اور فنون لطیفہ ایک ساتھ جمع ہوسکیں؟

یہ مضمون تامل ناڈو کے قدیم چولا اور پلّوا منادر سے لے کر اڑیسہ کے منادر کی مثالوں کے ذریعے ریاضی کے ایسے تصورات کے رول (یا کردار) کی وضاحت کرتا ہے جو تناسب(symmetry)، عدم تناسب(assymetry) اور ثنویت (duality)کے ذریعے وجود پذیر ہوتےہیں۔

نیچے دی گئی تصویر پر غور فرمائیں، یہ کانچی پورم کے کیلاش نادھا مندر کی ہے جو چینائی سے دو گھنٹےکی مسافت پر ہے۔

یہ مندر پلّوا (Pallava)سلطنت کے فن سنگ تراشی کے جمالیاتی حسن کی یادگار ہے۔ایک مکرّر ریاضی خاکہ جو ایسے کئی مندروں کےڈھانچوں میں نظر آتا ہے ، دراصل متناسب، غیر متناسب اور ثنویت کے تصورات کا مجموعہ ہوتا ہے۔مثال کے طور پر جھومتے رقاصوں کے درمیان ایک مجموعی تناسب موجود ہےوہیں طاقوں کے درمیان کچھ عدم تناسب اور ثنویت بھی موجود ہےگویا عمومی تناسب کے علاوہ آفاقی توازن کو بھی قائم رکھا گیا ہو۔ ثنویت سے میری مراد یہ ہے کہ ایک جانب نوجوان کی تصویرہے تودوسری جانب ایک معمر شخص کی :کبھی آپ کو شیطان کی تصویر ملتی ہے اور کبھی فرشتے کی۔

عام تناظر میں ،مَیں نے ہندوستان کی ہمہ گیر اور عظیم ثقافت ، مذہب اور فلسفہ میں تناسب، عدم تناسب اور ثنویت کا جائزہ لیا ہے۔تناسب کو ہم عام طور پر”پوائنٹ گروپ آپریشن” کے تحت سمجھتے ہیں یعنی گردش(rotation)، انعکاس(reflection)، تقلیب(inversion) اور بے قاعدہ گردش(improper rotation)، کی روشنی میں ریاضیاتی غیر متبدل(invariance) کے طور پر، لیکن ‘ثنویت کا تصور ‘دراصل متضاد تصاویر جیسے ‘دیو یا شیطان اور فرشتہ’ یا “آگ اور پانی “یا “شیوا اور شکتی” وغیرہ تاکہ ایک آفاقی تناسب قائم رکھا جاسکے۔
موسیقی کی جانب آئیں تو اس میں ریاضی اور کمپیوٹیشنل(حسابی ) تصورات ، ریاضیاتی اور کمپیوٹر دورکے راگوں کے ذریعے متعارف ہوئے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ راگ کسی بھی دھن کی ریڑھ کی ہڈی اور ہندوستانی موسیقی کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔تو درحقیقت کتنے راگ موجود ہیں؟ اور کیا ابھی کچھ نئے راگ بھی دریافت طلب ہیں؟ان دلچسپ اور توجہ طلب سوالات کے جوابات راگ کی تشکیل اور اس کی گنتی کے ساتھ امتزاج میں ہوتے ہیں۔

ایک منظم ترتیب وار طریقے سےکثیر الاسمی تفاعل (جنہیں “راگ اِنونٹری یا راگوں کی فہرست” کہا جاتا ہے) کی مدد سےمختلف آروہن (چڑھاؤ) اور ‘اواروہن'(اُتار)کے ذریعے یہ کام کیا جاسکتا ہے۔

‘راگ انونٹری ‘کے کثیر الاسمی تفاعلات کے مختلف حصوں کے عددی سروں کی قدر دراصل کئی اور متعدد اقسام کے راگوں کی تشکیل کرتے ہیں۔پھر کمپیوٹر کی مدد سے ایک ضابطہ فروغ دیا گیا جو مختلف راگوں کی تشکیل کرتاہے۔بالآخر یہ ثابت ہوا کہ من جملہ 262،144 غیر واکرہ (خم دار) اور غیر روایتی راگ ہوتے ہیں۔اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ اُتاراور چڑھاؤ ، مساویانہ تعدد ہوتےہیں۔ہم نے اس طرح کے غیر روایتی راگوں کی فہرست مرتب کی ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ مختلف راگ جیسے ‘شیورنجنی’،’ بھوپالی’، ‘مال کونس’، ‘چاروکیسی’ وغیرہ ایک ایک کرکے بتائے گئے ہیں۔ پھر بھی کچھ راگ جیسے “درباری کنڈا” اور “سِری” شامل نہیں کئے جاسکے، کیوں کہ وہ واکرہ (خم دار)راگ ہیں۔ سالموں کی طرز تعمیر اور دواؤں کے نقشہ جات کے سیاق و سباق کے تعین کی جانب آئیں۔ کوئی کس طرح ایسے جمالیاتی اور معیاری وصف کا تعین کرسکتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ چند اصولوں پر مبنی ایک مجموعہ تیار کیا جائےجس کے تحت دو انواع یا راگوں کو مربوط کیا جاسکے۔ ایک بار جب اُصول طئے ہوجائیں تو مختلف انواع اور سالموں میں کسی بھی قسم کے اقلیدسی فاصلوں (Euclidean types of distance)کومتعین کرسکتا ہےمزید برآںشماریاتی طریقے مثلاََ کلسٹرنگ اور پرنسپل کامپوننٹ انالسیس(مرکزی جزو کا تجزیہ) کااستعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح کمپیوٹر سائنس، ریاضی، جوہری علمِ سکون و حرکت (Quantum mechanics) اور حیاتیا ت کے تصورات کا ایک دلچسپ امتزاج بنتا  ہوا دکھتاہے جو کہ ایکمنفرد نقطہ نظر کی جانب لے جاتا ہے۔ مثلاََ کس طرح ایک جاندار جیسے چوہے کے جگر کے پیچیدہ مرکب پروٹوم کو کامپلکس (complex proteome) الجبراء کے ذریعے جانا جاسکتا ہے اور کسی طرح ہم ایک خلیے کے ہزاروں پروٹین کے پیچیدہ سرنیوں کے دو جہتی خاکوں کو جاننے کے لئے الگورتھم  (algorithm)ترتیب دے سکتے ہیں۔

آئیے آئن سٹین کے نظریہ مناسبت(relativity) اور ثقیل و جدید دریافت شدہ عناصر کے کیمیائی جوڑ کی نوعیت پر غور کرتے ہیں۔میری تحقیق کا ایک گراں قدر حصہ انتہائی ثقیل جوہر کے سالموں کے کیمیائی جوڑ پر مناسبت کے اطلاق سے تعلق رکھتا ہے۔ویسے ہم سب نے سنا ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ، کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ سونا نظریہ مناسبت کے سبب چمکتا ہے، جی ہاں آپ نے صحیح سنا ہے۔لیکن پروفیسر آئن سٹائن کے نزدیک سونے کی خوبصورتی سیاہی مائل یا نقوی رنگ کی صورت میں دفن ہوگئی ہوتی اور درحقیقت سونے کی زرد چمک اس کے جوہرکے الیکٹران  (electron)کی بڑھی ہوئی رفتار  کی طرف منسوب کی جاسکتی ہے۔ جب کبھی آپ کسی چمکتے ہوئے طلائی زیور کی خوبصورتی کوسراہیں تو آئن سٹائن کو ان کے نظریہ مناسبت پر   تاریخی مقالات پیش کرنے کے  لئے خراج عقیدت بھی پیش کریں۔

چونکہ ہم جدید عناصر کی دریافت میں جٹے رہتے ہیں ، جن میں سے اکثر کے نام ابھی رکھے جانے باقی ہیں۔ مثلاََ 114 اور 115 جو “لارنس لیور مور “کی قومی تجربہ گاہ   ٔاور(Lawrence Livermore National Lab)میں دریافت کئے گئے ہیں۔ نظریہ مناسبت یہاں اہم تر ہوجاتا ہے کیوں کہ جوہری اعداد کے بڑھنے کے ساتھ ان عناصر کے الیکٹرانس(منفی برقیے) بڑھتے جاتے ہیں جو مکافئی مناسبتی تصور (parabolic relativistic effect)پیدا کرتا ہے۔

ان موضوعات کی وسعت پر ایک نگاہ ڈالیں جن پر ہم نے گفتگو کی ہے۔ جمالیات، مجسمہ سازی، موسیقی، ثنویت، مماثلت، نسبت ، جوہری علم، سکون و حرکت، معلوماتِ حیاتیات، اور یقیناََ جوہری کمیات۔ !
کس عالم میں مَیں نے اس تحریر کو ہندوستانی اور کارنائی (جنوبی ہند) کی موسیقی کے نظریات سے لے کر پلّوا کے طرز تعمیر تک اور نظریہ تناسب سے لے کر ادویات کے نقشہ جات تک ایک ہی مضمون میں سمودیا؟جیسے جیسے اس سوال کے متعلق گہرائی سے غور کرتا ہوں ، میں ماضی کے ہندوستان کے شہر پِلانی کوجا پہونچتا ہوں اور واضح طور پر خوبصورت سَرسوتی مندر اور بِرلا انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (بِٹس)کا گھنٹہ گھر یاد کرتا ہوں۔یہ تعلیم کی خوبصورتی اور ہمہ جہتی تصویر ہے جو بحیثیت بِٹس کے طالب علم کے ہمیں مِلی تھی۔

وہ عظیم ترین فیض جو کسی کو حاصل ہوسکتا ہے تاکہ وہ اس جدید دنیا کا سامنا کرسکے جس میں بین الضابطہ (interdisciplinary)موضوعات کی بہتات ہو، یہی ہے کہ کثیر الضابطہ(multidisciplinary) موضوعات اور وسیع تعلیم دی جائے جو کہ بِٹس پِلانی نے ہمیں فراہم کیا اور فراہم کرتی رہے گی۔


 نوٹ: یہ مضمون ایک اصل مضمون کا اقتباس ہے جو سب سے پہلے BITSAAکے جریدے “SAND PAPER” میں شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون ایک خطاب پر مبنی ہے جو IIT Chennai چینائی میں دیا گیا تھا-  

مضمون نگار: کرشنن بالا سبرمنیم ، لارنس لیور مور قومی تجربہ گاہ ، کیلی فورنیا یونیرسٹی اور لارنس برکیلی تجربہ گاہ میں مشترکہ طور پر اعلیٰ تدریسی عہدے پر فائز ہیں۔

مترجم: نثار احمد

Syed Nisar Ahmed

Author: Syed Nisar Ahmed

نثار احمد نےریاضی میں ایم ایس سی کیا ہے اور فی الوقت دکن کالج آف انجنیرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں لکچرر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے