فن تعلیم و تربیت – افضل حسین – باب اول

جناب افضل حسین صاحب  انڈیا کے ایک بڑے ماہر تعلیم گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ تعلیم و تربیت کے اسلامی اقدارکو اردو طبقہ تک   پہنچانے کے لیے اپنی  زندگی وقف کر دی تھی۔ اسکول کے لیے اردو میں درسی کتب بھی تیار کیں۔ مرحوم کی شہرۂ آفاق کتاب فن تعلیم و تربیت کا پہلا باب ہمارے قارئین کے پیش خدمت ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر اس  شخص کو کرنا چاہیے جو اسلامی بنیادوں پر  بچوں کی تعلیم و تربیت کرنا چاہتا ہے۔ 

تعلیم و تربیت
شادی کے بعد ہر جوڑے کی یہی تمنّا ہوتی ہے کہ جلد اس کی گود ہری ہو۔ دیر ہوتی ہے تو سو جتن کرتا ہے،روتا گڑگڑاتا ہے،دعایٔیں مانگتا ہے منتیں مانتا ہے اور نہ جانے کیا کیا کرتا ہے۔ خدا خدا کرکے نخل آرزوبارآور ہوتا ہے،دل کی کلی کھلتی ہے اور مانگی مراد پوری ہوتی ہے۔اللہ اس کی گود بھرتا اور مسرّت کا سامان کرتا ہے۔ اعزہ خوشی کے شادیانے بجاتے اور احباب ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔ بچّہ بلاشبہ اپنے ساتھ بے شمار مسرّتیں لا تا ہے، اس کے ساتھ گھر میں برکت آتی ہے، اس کی پیاری پیاری صورت اور کامنی سی مورت سب کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے، والدین اپنے جگر گوشے کو پھولتا پھلتا دیکھ کر باغ باغ ہو جاتے ہیں، غالبا ان کے لیے اس سے بڑی کوئی مسرّت نہیں ہوتی۔ ماں دن کا سکھ اور رات کا چین قربان کرکے بھی خوش رہتی ہے۔ صورت دیکھتے ہی باپ کی ساری الجھنیں کافور ہو جاتی ہیں۔ والدین ہی پر کیا موقوف، بچوں کے معصوم چہرے اور ان کی بھولی بھالی باتیں کس کا دل نہیں موہ لیتیں۔ کون ہے جو انھیں ہنستاکھیلتا دیکھ کر خوش نہیں ہوتا۔ سنجیدہ سے سنجیدہ آدمی بھی بچوں کی معصوم حرکتوں پر بےساختہ مسکرا دیتا ہے، جنت کے ان پھولوں کے کھلنے سے ہر گھر میں رونق اور ہر چمن میں بہار آ جاتی ہیں۔ چاروں طرف مسرت کی ہوائیں چلتی ہیں، خوشبو پھیلاتی اور ہر ایک کو گدگداتی ہیں۔ پودے لہلہاتے، پرندے چہچہاتے ہیں، کلیاں مسکراتی ہیں اور پھول ہنستے ہیں۔ غرض ہر طرف فرحت و انبساط کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

بچے کی پیدائش پر یہ غیر معمولی مسرت بلاوجہ نہیں ہے۔

  •  جنت کا یہ پھول، صانع حقیقی کی صنّاعی کا شاہکار اور انمول تحفہ ہے۔ 
  •  اس کی وجہ سے گھر میں خیر و برکت آتی ہے۔
  • والدین کے مابین تعلقات استوار اور رشتہ مستحکم رکھنے کا وہ بہترین ذریعہ ہے۔
  • اس کے اندر اللہ تعالی نے غیر معمولی کشش اور جاذبیت رکھی ہے۔
  • اس سے مل کر آنکھیں ٹھنڈی،قلب مطمئن اور غم غلط ہو جاتا ہے۔
  • اس کی وجہ سے خاندان کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ 
  • آرزوؤں اور تمناؤں کا مرکز ہوتا ہے، مستقبل میں اس سے طرح طرح کی امیدیں وابستہ ہوتی ہے۔ 

 ظاہر ہے ایسا بیش بہا تحفہ اور ایسی نعمت غیر مترقبہ پاکر کون بدنصیب مسرور نہ ہوگا۔
مگر ____ مسرتوں کے ساتھ بچہ بے شمار ذمہ داریاں بھی لاتا ہے۔

  • خوش دلی سے اس کو پالنا پوسنا۔ 
  • شفقت و محبت کا برتاؤ کرنا۔ 
  • ہمدردی و دلسوزی سے اسے سکھانا پڑھانا۔
  • تدریج سے پسندیدہ عادات ڈلوانا۔ 
  • مختلف مواقع کے آداب بتانا۔
  • مہذب طور طریقے سکھانا۔ 
  • عقائد کو نکھارنا، اعمال کو سدھارنا اور اخلاق کو سنوارنا۔ 
  • صحت و عافیت اور ترقی و کامرانی کی فکر کرنا۔

 یہ سب وہ اہم ذمہ داریاں ہیں جو بچے کے ضمن میں والدین پر عائد ہوتی ہیں۔ شاید ہی کوئی باپ ایسا ہو جسے ان ذمہ داریوں کا احساس نہ ہو اور وہ ان سے عہدہ برآ ہونے کی خواہش نہ رکھتا ہو۔ اپنی اولاد پر جان چھڑکنا، یہ تو ایک فطری تقاضا ہے، جان بوجھ کر کون غفلت اور کوتاہی کرے گا۔ باپ ہی تو وہ ہستی ہے جو اولاد کو اپنے سے بھی بڑھ چڑھ کر دیکھنا چاہتی ہے، لیکن ایسے خوش نصیب کم ہی ہوتے ہیں جن کی یہ تمنا پوری ہوتی ہے اور جو اپنی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہو پاتے ہیں۔ کیوں کہ تنہا خواہش ہی سے تو سارے کام نہیں بن جاتے۔تعلیم و تربیت کے لیے سلیقہ بھی چاہیے اور غیر معمولی جدوجہد بھی۔ جب ان میں کمی ہوتو کسی اچھے نتیجے کی توقع کیونکر ہو سکتی ہے۔

ناکامی کے اسباب

بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت میں عموماً کیوں ناکامی ہوتی ہے؟اس کی درج ذیل وجوہ ہیں:
(1) تعلیم و تربیت بہت ہی صبر آزما اور پتّہ ماری کا کام ہے۔ یہ کام جتنی توجہ، دلسوزی اور جدو جہد چاہتا ہے، اس کے لیے عملاً کم ہی لوگ آمادہ ہوتے ہیں۔
(2) عام طور پر بچوں کی عمر اور صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ان سے توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں اور جب ان سے بار بار کوتاہیاں اور لغزشیں سرزد ہوتی ہیں اور رفتار ترقی بھی خلافِ توقع بہت سست دکھائی دیتی ہے تو اصلاحِ حال کی طرف سے بد دل ہو کر لوگ عموماً نہ صرف اپنی کوششوں میں کمی کر دیتے ہیں بلکہ اپنے رویے اور برتاؤ سے خود بچوں کو بھی مایوسی اور بد دلی کا شکار بنا دیتے ہیں اور ان میں خود اعتمادی باقی نہیں رہ جاتی۔
(3) پورا معاشرہ بگڑا ہوا ہے۔ بڑوں کے غلط نمونے اور ہم عمروں کی بری صحبت کے غیر محسوس اثرات بچے برابر قبول کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اچھے بھلے والدین کے بچوں میں بھی غیر شعوری اور غیر ارادی طور پر طرح طرح کی خرابیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں۔
(4) جس بچے کا بھی جائزہ لیجیے یہی معلوم ہوگا کہ چند اگر سنوارنےکی کوشش کرتے ہیں تو متعدد اسے بگاڑنے کے در پے رہتے ہیں۔
(5) ضروریاتِ زندگی اب محدود نہیں رہیں بلکہ ان کی فہرست بہت طویل ہوگئی ہے، اقتصادی نظام اور معاشی ڈھانچہ بھی روز بہ روز پر پیچ ہوتا جا رہا ہے۔ چنانچہ ضروریات کی تکمیل کے لیے دوڑ دھوپ سے فرصت نہیں ملتی۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دینے کی توفیق کہاں سے نصیب ہو۔
(6) مناسب تعلیم و تربیت کے لیے جس صلاحیت اور سلیقے کی ضرورت ہے اکثر لوگ اس سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کی کوشش بار آور ہونے کے بجائے بسا اوقات الٹی پڑتی ہیں۔
(7) والدین کے باہمی تعلقات کی ناخشگواری، جدائی، موت، عدم موجودگی یا گھر سے دوری وغیرہ بھی بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت میں بہت زیادہ مزاحم ہوتی ہیں۔
(8) باطل نظام نے زندگی کی قدریں بدل دی ہیں۔ مادہ پرستی ذہنوں پر اس قدر غالب آ گئی ہے کہ بچوں کی دنیا سنوارنے اور ان کا مستقبل “شاندار بنانے کے لیے اچھے بھلے لوگ اپنے جگر گوشوں کے ایمان و اخلاق کو اپنے ہاتھوں شیطان کی بھینٹ چڑھا دینے میں کوئی باک نہیں محسوس کرتے۔
(9) کتنے لوگ اپنی معاشی پریشانیوں، علامتوں یا دیگر حقیقی معذوریوں و مجبوریوں کے باعث اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت خود کر نہیں پاتے اور کسی حلقے سے انہیں اس ضمن میں کوئی امداد بھی نہیں مل پاتی، کیونکہ صنعتی انقلاب نے خاندانی نظام درہم برہم کر دیا ہے۔ سماجی بندھن بھی ڈھیلے پڑ چکے ہیں۔ چنانچہ والدین کی معذوری، کوتاہی اور غفلت کی صورت میں خاندان کے دوسرے افراد اس بات کو برداشت کرنے کے لیے نہ تو خود آمادہ ہوتے ہیں نہ سماج انہیں مجبور پاتا ہے اور نہ خود سماج ان بچوں کا کوئی معقول انتظام کرتا ہے۔
(10) بچوں کو مصروف رکھنے اور ان کے فرصت کے اوقات کو کار آمد بنانے کے لیے دلچسپ تعمیری مشاغل یا موزوں کھیلوں وغیرہ کا کوئی معقول انتظام نہیں ہو پاتا۔ چنانچہ بچوں کی صلاحیتیں غلط رخ اختیار کر لیتی ہیں، وہ آوارہ گردی کا شکار ہو جاتے اور طرح طرح کی نازیبا حرکت کرنے لگتے ہیں۔
(11) سماج میں بڑھتی ہوئی فحاشی، بے حیائی، اخلاقی بے قیدی، نظروں کو خیرہ کرنے والے پر فریب مناظر، فحش لٹریچر، عریاں تصاویر، گھناونے پوسٹرس کی فراوانی، مخرب اخلاق فلموں، افسانوں اور ناولوں کی کثرت وغیرہ عموماً اصلاحی کوششوں پر پانی پھیر دیتی ہیں۔
(12) بچوں کی شخصیت پر گھر، مدرسہ، ماحول، معاشرہ اور مملکت ہر ایک کا کچھ نہ کچھ اثر پڑتا ہے۔ مناسب اور معیاری تعلیم و تربیت کے لیے ان سب میں تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ لیکن یہاں یہ چیز مفقود ہے، ہم آہنگی تو الگ رہی ان میں سے تقریبا ہر ایک کی کوششوں کا رخ الگ الگ سمتوں میں ہے۔ گھر کے لوگ فکر کرتے ہیں تو اچھے مدرسے نہیں ملتے۔ مدرسہ اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہے تو اوروں کا تعاون حاصل نہیں کر پاتا۔ چنانچہ بیشتر بچے اس تناؤ اور کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں۔

غفلت کے نتائج

تعلیم و تربیت کی طرف سے غفلت نہ صرف افراد اور کنبوں بلکہ ملک و ملت سب کے حق میں انتہائی خطرناک اور مضر ثابت ہوتی ہے۔ کیوں کہ:

  • بچے ناکارہ اور نکمے رہ جاتے ہیں، ان کی پیدائشی قوتیں اور صلاحیتیں یا تو ٹھٹھرجاتی ہیں یا غلط رخ اختیار کر لیتی ہیں۔
  • طرح طرح کی برائیوں اور بداعمالیوں میں مبتلا ہو کر بچے دین دنیا دونوں تباہ کر لیتے ہیں۔
  • آنکھوں کی ٹھنڈک اور بڑھاپے کی لکڑی بننا تو الگ رہا الٹا خار بن کر کھٹکتے اور والدین پر بوجھ بن کر رہتے ہیں۔
  • باپ دادا کی گاڑھی کمائی نہایت بے دردی سے اڑا دیتے ہیں۔
  • خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے بجاۓ اس کا نام ڈبوتے ہیں۔
  • اپنے خراب اسوہ سے دین و ملت کو بدنام کرتے ہیں۔
  • جرائم پیشہ ہو کر سب کے لیے دردِسر بنتے ہیں اور ملک اور معاشرے کو طرح طرح سے نقصان پہنچاتے ہیں۔
    ملت صالح افراد، معاشرہ، بے لوث خادموں اور مملکت اچھے شہریوں سے محروم رہ جاتی ہے۔
  • ان کے لیے حکومتوں کو جیلوں، عدالتوں، تھانوں اور اسپتالوں وغیرہ پر کافی روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔
  • ملکی معاش اور اجتماعی اخلاق کے لیے وہ گھن ثابت ہوتے ہیں۔ غرض جنت کے وہ پھول جو خوشبو پھیلانے کے لیے کھلے تھے اور ابتدا میں ہر ایک کی فرحت و انبساط کا سامان تھے۔غفلتوں اور کوتاہیوں کے نتیجے میں غلاظت کا ڈھیر بن جاتے اور اپنے ناقابلِ برداشت تعلق سے سب کا ناک میں دم کر دیتے ہیں اور اس طرح کوتاہی اور لاپروائی کا قدرت ہر ایک سے انتقام لیتی ہے۔

اس کے برعکس بچوں کی تعلیم و تربیت پر اگر مناسب توجہ دی جاۓ تو:

  • ان کی صلاحیتیں ابھرتی، سیرتیں سنورتی ہیں اور دین دنیا میں انھیں فلاح و کامرانی نصیب ہوتی ہے۔
  • اس مقصد کی تکمیل میں مدد ملتی ہے، جس کے لیے اللہ نے انھیں زمین پر بھیجا ہے۔
  • وہ اپنی انفرادی، خاندانی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔
  • وہ اللہ کے صالح بندے، معاشرے کے بےلوث خادم اور ملک کے وفادار شہری بنتے ہیں۔
  • ان کا وجود اپنے اور ملک و ملّت کے لیے باعثِ خیرو برکت ہوتا ہے۔
  • تمدن کی ترقی میں ان کی صلاحیتوں سے مدد ملتی ہے۔
  • ملکی معیشت و آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور حکومت کے مصارف میں کمی آتی ہے۔

غرض صحیح تعلیم و تربیت پر صرف کی ہوئی قوت، محنت اور دولت ہر ایک کے حق میں نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہماری غفلتوں اور اربابِ سیاست کی کوتاہ اندیشیوں سے ساری دنیا پر ایک ایسا نظامِ تعلیم و تربیت مسلط   ہو گیا ہے، جو اپنے گونا گوں مضامین و مشاغل، درسی و امدادی کتب، بیرونِ نصاب مصروفیات اور کلچرل پروگراموں وغیرہ کے ذریعے یا تو خداپرستی، احساسِ ذمہ داری اور اخلاقی قدرتوں کی پاسداری سکھانے کے بجاۓ خدا سے بے نیازی، آخرت کی باز پرس سے بےخوفی اور اعلی انسانی قدروں کی بے قدری سکھاتا ہے یا شرک و تو ہم پرستی، تعصب و تنگ نظری، ملکی و قومی عصبیت، خودغرضی و خودنمائی، عیاشی وتن آسانی وغیرہ میں مبتلا کرتا ہے، اور جو مادی ترقی اور معاشی خوشحالی کو تو آخری مقصود ٹھیراتا ہے لیکن سیرت کو سنوارنے اور اخلاق کو سدھارنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔

ظاہر ہے اس نظام میں جب تک بنیادی تبدیلیاں نہ کی جائیں گی، اس کے تحت پروان چڑھنے والی نسلوں سے بحیثیت مجموعی کسی خیر کی توقع عبث ہے۔ البتہ شر کے اندیشے ہمیشہ لگے رہیں گے۔ رہے دینی ادارے جو صحیح تعلیم و تربیت کے علم بردار اور جہالت کی تاریکیوں میں روشنی کے مینار رہے ہیں اور جن سے ہدایت و رہنمائی کے سوتے پھوٹتے اور خلقِ خدا کو فیض پہنچتا تھا وہ بھی اب اپنی بے حسی، ملت کی عدم توجہی، پرایوں کی رقابت، باطل سے مرعوبیت، دینی غیرت وحمیت کے فقدان، ایثار و بے لوثی کی کمی، اساتذہ کی علمی و عملی کوتاہیوں اور فنِ تعلیم و تربیت سے ناواقفیت، علوم میں دینی و دنیوی کی عملا تفریق اور اپنے یک رخے پن اور ازکارِ رفتہ نصاب و نظام وغیرہ کے باعث ٹھٹھر رہے ہیں اور دن بدن ان کی افادیت گھٹتی اور ان کا حلقئہ اثر سکڑتا جا رہا ہے۔
اس صورت حال کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام افراد اور جماعتیں اصلاحِ حال کی طرف توجہ دیں اور انفرادی و اجتماعی حیثیت سے جو کچھ کر سکتے ہیں، اس سے ہر گز دریغ نہ کریں۔ غیر معمولی جدو جہد اور پامردی و استقلال سے حالات کا مقابلہ کیا اور اس کا رُخ موڑا جا سکتا ہے۔
صورتِ حال بلاشبہ نہایت روح فرسا اور حوصلہ شکن ہے۔ ملک بظاہر کسی صالح انقلاب کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔ اکثریت یا تو مادہ پرستی اور مغرب زدگی کا شکار ہے یا احیائی ذہنیت کا۔ وہ یا تو آنکھیں بند کرکے مغرب کے پیچھے بھاگ رہی ہے یا ” پراچین سبھیتا ” کو لوٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ وہ خود بھی اس سیلاب کی نذر ہونے پر تلی ہوئی ہے اور ہمیں بھی اس میں بہا لے جانا چاہتی ہے۔ ادھر امتِ مسلمہ کا حال یہ ہے کہ اس میں نظم و اتحاد نہیں وہ جزوی و فروعی اختلافات میں الجھی ہوئی ہے۔ اس کے وسائل و ذرائع محدود، ہمت و جرأت مفقود اور حوصلے انتہائی پست ہیں۔ ایسی صورت میں کسی ہمہ گیر انقلاب کی دعوت دینا مجذوب کی بڑ سمجھا جاۓ گا۔ لیکن جس سیلاب میں ہم گھر گیٔے ہیں اس کے ساتھ بہنے میں ملت کا وجود نمک کی طرح تحلیل اور ملک کا اخلاق بالکلیہ تباہ ہوا جاتا ہے پھر اس کے سوا چارہ کیا ہے کہ ملک و ملت اور آئندہ نسلوں کو تباہی سے بچانے کے لئے بہادروں کی طرح اٹھ کھڑے ہوں اور سیلاب کا رُخ موڑنے کی پوری جدوجہد کریں۔ اسی میں ہماری ہر طرح جیت ہے۔

Avatar

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے