قرآنی قصہ گوئی کا منفرد انداز – حصہ اول

قرانی قصہ گوئی

ہم دیکھتے ہیں کہ قران کریم کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اور اس کتاب کی  سب سے عظیم سورۃ (الفاتحہ) میں جب ہم ھدایت کے لیے دعا مانگتے ہیں تو اپنے سے پہلے والے ان لوگوں کی کہانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن پر صراط مستقیم کی شکل میں اللہ کا فضل ہوا تھا۔ یہ صحیفانہ انداز بیان جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ کہانیاں دل و دماغ کو ہلا دینے والی طاقت رکھتی ہیں، اور اس خلط مبحث کا بھی  قلع قمع کر دیتا ہے  کہ “کہانیاں محض  بچوں کے لیے مفید ہوتی ہیں” یا “ان کا ہمارے بیانیے( discourse )میں شامل ہونا اس کے فکری موقف کو کمزور کر دیتا ہے۔ جبکہ قران نے نہ صرف کہانیوں کی توثیق کی ہے بلکہ اس نے اپنی کہانیوں کے انفرادی تشخص کو کافی اہمیت دیا ہے جس میں اس کے پڑھنے والوں کو ان کے خودکی  بہترین ساخت میں ڈھال دینے کی طاقت موجزن ہوتی ہے۔

اس مقالے میں یہ تجزیہ کرنےکی کوشش کی گئی ہے کہ قرانی قصہ گوئی کا انداز ایسا کیوں ہے، جو درآنحالیکہ لوگوں کو غیر روایتی معلوم پڑتا ہے، لیکن اس میں ایسی حکمت پنہاں ہے جواس کی الہی بنیادوں  کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 

قصہ گوئی اپنےاوج کمال پر

“اے محمدؐ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کرتے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزو ں سے) تم بالکل ہی بے خبر تھے”  (12:3)

کیا اس آیت سے ہم یہ سمجھیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی جو اس سورۃ میں آگے آئی ہے یہی ایک سب سے بہترین کہانی ہے؟ کچھ علماء حضرات نے تو یہ نقطہ نظر اختیار کیا ہے ،لیکن یہ موقف درست نہیں لگتا کیونکہ اس کے پیچھے کئی دلیلیں کار فرما ہیں ۔۔۔ کم از کم موسی علیہ السلام کی زندگی اور  ان کےمشن کو لے کرقرانی حوالات کی کثرت کی بناء پرایسا ماننا مشکل ہوجاتا ہے۔ کیا پھر ہم یہ  مانیں کے وہ ساری کہانیاں جو خدا نے قران حکیم میں شامل کی ہیں وہ سب بہترین کہانیاں ہیں؟ یہ بات زیادہ مناسب لگتی ہے ،لیکن اس سے بھی پوری بات بیان نہیں ہو پا رہی ہے۔ مفسرین اوپر بیان کی گئی آیت کے تئیں قران کے اس نکتے کی طرف نشاندھی کرتے ہیں کہ  اللہ نے اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ وہ بہترین قِصص(کہانی)  بیان کرتا ہے بلکہ یہ کہ وہ بہترین قَصص( یعنی قصہ گوئی)بیان کرتا ہے ۔ یا دوسرے الفاظ میں اللہ صرف اس چیز کا انتخاب نہیں کرتا کہ کون سی مثالی کہانیاں سنانی ہے بلکہ انہیں  بہترین پیرائے میں سناتا بھی ہے۔ اور جس طرح سورۃ یوسف کا تعارف قصہ گوئی کے قرانی انداز کی شناخت کرتا ہے جو کہ بہترین ہے اسی طرح اس سورۃ کا اختتام اللہ کے اس راست کلام کے ذرئیعہ  سے مزید تفصیل بیان کرتا ہے،            

یقیناً ان (سابقہ اقوام) کے واقعات (1)میں ہوش مند لوگوں (3)کے لیے عبرت (2)ہے. یہ (قرآن) ایسی بات نہیں جسے گھڑ لیا گیا ہو بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اس کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور (4)(اس میں) تفصیل ہے ہرچیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو (اس پر) ایمان لاتے ہیں

یہ آیت قرانی قصہ گوئی کی چند اہم خصوصیات کے بارے میں ہماری فکر کو مزید گہرائی بخشتی  ہے اوراس امر کو بھی کھول کر بیان کرتی ہے کہ یہ طریقہ کارکیسے قران کی اصل غرض و غایت “ھدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو (اس پر)  ایمان لاتے ہیں” کو بہترین طریقے سے انجام دیتاہے۔قران کریم، قصہ گوئی کے اس انداز کی مزید تعمیر ، قصہ خوانی اور داستان گوئی  کے تئیں عربوں کے اندر پہلے سے موجود انس کی بنیاد پر اور ہر معلوم انسانی تہذیب کی اس معاملے میں متعلقہ  دلچسپی کی بنیاد پر کرتا ہے اور پھر اسے اس اعلی مقام پر پہنچاتا ہے جہاں وہ سب سے اعلی و ارفع مقصد یعنی الہی پکار کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔     

سبق آموزی

اس امر میں شک نہیں  کہ قران انسان کو مبہوت کر دیتا ہے لیکن اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس کا یہ حیرت انگیز کلام آفاق کی وسعتوں و گہرائیوں کو چیر کر صرف اس لئے زمین پر نہیں اترا ہے کہ وہ ہمیں فَریفْتَہ کررکھ دے۔ بلکہ یہ قول الفصل ہے جو زمین پر مقدس حقائق کو اجاگر کر تا ہے، عدل کے پیمانے کو قائم کرتا ہے اور انسانوں کے لیے خدا ئی اخلاقی اقدار  کیا ہیں  جیسے معاملات پر اپنا فیصلہ سناتا ہے۔ لیکن یہ مقصد اسے الہی فنون لطیفہ کا حسین گلدستہ بننے سے روکتا بھی نہیں جو انسانوں کو تخلیقی انداز کے ایسے اسباق سکھلاتا ہےجو انھیں ان حقائق اور تعلیمات کو جاننے اوراپنانے میں مدد کرتے ہوں۔ قرانی قصے اس طرح واضح اور واقع ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے الہی قوانین کی بہترین تصریح کرسکیں اور ہمیں  ان قوانین کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی ترغیب ملتی ہے۔      

محمدابن عاشور (متوفی 1973)جو عصر حاضر کے معزز ماہرین قران  میں سے ایک رہےہیں وہ التحریر والتنویر میں بیان کرتے ہیں کہ قرانی قصہ گوئی  صرف اس لیے بہترین نہیں ہے کہ وہ سبق آموز ہے یا وہ بس سچے واقعے سناتی  ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سی غیر قرانی کہانیاں بھی سچی اور سبق آموز ہوتی ہیں۔ قرانی قصہ گوئی کو جو بات منفرد بناتی ہے وہ ہے اس کا دلوں پر نقش و نگار بنانا نہ کہ بس چیزوں کا تعارف کرادینا – وہ زمان و مکاں سےپرے ہوکر قاری اور سامع کی زندگی میں اسباق کو پرو دیتا ہے  اور دھیرے دھیرے ان کو اپنانے کے لیے ان کی دلچسپی کو بڑھاتے رہتا ہے۔ لوگ کہانیاں اس طرح کہتے ہیں جس سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا –- بلا مقصد کہانیاں جو بس مزہ دیتی ہیں یا ضرورت سے زیادہ تفصیلات جو کہانی کے مقصد کو در گور کر دیتی ہیں، جو ان کی اخلاقی تطہیر کی طاقت کو کمزور بنا دیتی ہے— یہی وجہ ہے کے ہمارے روایتی علماؤں نے ایسی کئی باتیں لکھی ہیں جن میں  پیشہ ور قصہ گویوں سے ہمیں محطاط رہنے کی تلقین ملتی ہے۔ لیکن قرانی قصےمحض  سبق پر مبنی نہیں ہیں  بلکہ وہ سبق آموز اور سبق کو پرونے والے ہیں– یہ قصے اپنی  بات کو پروان چڑھاتے ہیں  نہ کہ بس اخلاقی سبق دیتے ہیں  –  بلکہ لوگوں کوبا اخلاق بنانے کے لیے موزوں ترین ہوتے ہیں- اس طرح قران، اس روایتی قصہ گوئی سے بالکل الگ دکھتا ہے جس کے ہم سب عادی ہیں۔

مثال کے طور پرقران ، اکثرلوگوں کے نام اور ان کے حسب و نسب کو حذف کر دیتا ہے، اسی طرح شہر اور ان کا جائے مقام بھی، ایسا اندازجو ہمیں عام تاریخ اور سوانح حیات کی  دستاویزات میں نہیں ملتا۔ اور یا کانٹ چھانٹ بالکل طئے شدہ اور موزوں ہوتی  ہے کیونکہ یہ قاری کی نظر کو مدعا پر مرکوز رکھتی  ہے اور اسے تاریخ کے  کسی بھی دور میں پھنسنے نہیں دیتی۔ الغرض قران ہمیں صاف صاف یہ کیوں نہیں بتلاتا کہ (مثال کے طور پر)، انسانوں کے آبء اجداد ڈائناسور کے ساتھ رہتے تھے یا نہیں، یا فرعون کے خاندان سے ایمان لانے والوں کا نام کیا تھا، یا اصحاب کہف کا غار کہاں واقع ہے؟ غالبا ان حقائق کے حذف کر دینے کے پیچھے اللہ کا اس بارے میں کامل علم ہے کہ کتنی  آسانی سے ہم بے توجہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیا علم کلام کے ماہرین نے آدم کے قصہ میں اس بات پر تاریخی بحث نہیں کی ہے کہ شجر ممنوعہ (forbidden tree) کس طرح کا پھل اگاتا تھا، جبکہ یہ بات جان کر کوئی فائدہ نہیں۔ کیا کچھ نیک و صالح ارواح کی فرض شدہ قبروں پر درگاہ بنا کر وہاں اللہ تعالی (جو کہ سمیع ہے) کے بجائے ان بزرگوں کو نہیں پکارا جانے لگا؟ کیا مذہبی صحیفوں میں حسب و نسب پر تاریخی زور نے اشراف النسل کے نظریے کو ہوا نہیں دیا جو خدا کے قانون عدل وانصاف کے بالکل بر عکس ہے؟

قرانی قصے اس لیے لا محدود طریقے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کرتے ہیں کہ کیا شامل اور کیا حذف کیا  جائے، تاکہ گمراہی کے راستوں  کا مکمل سد باب ہوجائے ، اور اس طرح تاریخ کے تاریک ابواب کو پھر سے دہرانے سے روکا جا سکے۔        

اصحاب الکہف کا غار

غور کیجیے اللہ کس طرح اصحاب کہف کے مسخ شدہ قصے کو واپس اپنی اصل حقیقت پر لاتا ہے۔ ابتداء میں یہ اعلان کرتا ہے کہ “ہم ان کا اصل قصہ تمہیں سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی” ۔ دوسرے الفاظ میں اللہ کہتا ہے کہ ان یہودیوں کے انداز بیان کو مسترد کردو جنہوں نے اپنے مذہب کو قومی بنا دیا ہے اور نسلی جڑوں کو انسانی قدروں کی اصل بنیاد بنا دی۔ وہ تو بلکہ کچھ نوجوان تھے جن کے آگے ساری زندگی پڑی تھی، لیکن انھوں نے ایمان کا انتخاب کیا باوجود اس کے کہ وہ مذہبی ظلم و ستم سہ رہے تھے۔ یہ بات اصل اہمیت رکھتی ہے نا کہ ان کا کسی خاص نسل سے اتفاقی تعلق۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی جاتی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ بس یہی نہیں کہ ان بہادر نوجوانوں  کا نام اور عمر نہیں بتلائی  جاتی ہےبلکہ اللہ نے ان کے مقدار کے سلسلے میں بھی کسی قسم کےنزاعی مباحثے پرخبردار کردیا۔

“میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو”   (18:22)۔

دوسرے الفاظ میں اس طرح کے مباحثے کا کیا فائدہ جو ہمیں سمجھ میں ہی نہ آئیں  کیونکہ نا اس کا کوئی ثبوت موجود ہے اور نا اس بحث کا کوئی ماحصل ہے۔ اور پھر آخرکار، اس قصے کے خاتمہ (climax) پر قدرت خداوندی کی اس عظیم نشانی پر ہماری توجہ مبذول کروائی جاتی ہے کہ جس نے انھیں تین صدیوں  کے بعد نیند سے جگایا۔

“اِس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آ کر رہے گی ” (18:21)۔

    اس طرح یہ فضل الہی ہے کہ خدا کی قدرت کی اصلی حقیقت سے ہماری توجہ نہیں ہٹتی چہ جائے کہ ہم ان بے کار کی باتوں میں پڑجائیں کہ یہ تاریخی واقعہ کس سال ہوا تھا، کس شہر میں وہ قدیم چاندی کے سکے کے ساتھ آپہنچے تھے، اس غار کے جغرافیائی نقاط کیا ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ 

قران کی یہ خصوصیت (سبق آموزی) ہمیں اس کے مکرر بیانیے کے پیچھے چھپی حکمت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ بدرالدین ابن جماعہ (متوفی 1333) کی تصنیف “المقتنص” قران میں قصوں کے تکرار کے سات فوائد بتلاتی ہے۔ اس بات میں ایک حکمت  یہ بھی پائی جاتی ہے کہ قرانی قصہ گوئی، تبلیغ کی طرح، اصلاً تدریسی (didactic) ہے۔ ایک مبلغ سے یہ پوچھنا عجیب لگےگا کہ “بھئی مجھے یاد آ رہا ہے کہ آپ نے پچھلے سال اس شخص کے بارے میں کہا تھا، پھر آپ اسے دہرا کیوں رہے ہو؟” جبکہ متعلقہ سیاق ہر بار اس کے اس تکرار کا جواز پیش کرتا ہے۔ اسی طرح قران بھی بار بار اسی کہانی کا حوالہ دے گا جس سے سیاق کو فائدہ ہو اور اس تکرار سے سبق کی حقیقت قاری کے دل میں اتر جائے۔

قران خود کو بار بار دہراتا کیوں ہے؟ اس سوال کا برجستہ جواب تویہی ہو سکتا ہے کہ “کیونکہ تمہیں ہزار بار اپنا کمرہ صاف کرنے کے لیے کہنا پڑتا ہے” ۔ بات یہ ہے کہ ہم سب کے اندر ایک چھوٹا سابچہ بستا ہے اور ہمارے دل و دماغ میں ایک پراگندا کمرہ۔ بالکل ایک بچے کی طرح ہمیں بھی اپنی ناتجربہ کاری اور بے صبری سے اوپر اٹھنے کے لیے ایک حکیمانہ اور منظم طریقےکار کی ضرورت ہے – ایک ایسا طریقےکار جو ہمارے کم نظر رجحانات پر قدغن لگاتا ہو، جو ہمیں ہر شئے یا معاملے کو بس پہلی ہی نظر میں کرگزرنے پر اکسانے سے بچاتا ہو، اور بس جب چاہا اور جو چاہا اسے بنا سوچے سمجھے پکڑ نے کی عجلت سے باز رکھتا ہو ۔  وگرنہ  ہمارا ہر شئے کو لے کر  اندھا مثبت رجحان (سلامتی کا غلط احساس)، یا فوری تسکین پر انحصار، جیسے جذبات ہمارے زندگی کے ہر شعبے پر منفی اثرات ڈالتے ہیں – چاہے وہ طبیعی ہوں، ذہنی ہوں، جذباتی ہوں، معاشی ہوں یا روحانی ہوں۔ 

انسانی نفسیات کا خالق اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے ذہن اور دل میں کسی بھی بات کو پختہ کرنے کے لئے اسے بار بار دہرانے کی ضرورت ہے۔بغیر واضح یاددہانی اور  باقاعدہ تکرار کے ان قصوں کو ہم نا ہی کبھی  اپنے اندر سما سکتے ہیں اور نا ہی ان کے اندر چھپی باریکیوں کو پہچان سکتے ہیں ۔

اور اس طرح ہماری مشغول زندگی ان قصوں  میں  موجود انمول حکمتوں کو گنوا سکتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو تھام لینے والے  ایسے شدید لمحات کو  یاد کرنا چاہیے– ایسے لمحات جنھوں نے گویاوقت کو روک دیا ہو یا ہم نے چاہا ہو کہ رک جائے۔چاہے وہ لمحات تشکر کے شدیداحساس سے بھرے  ہوں یا پھر ایسی کیفیت جیسے زندگی پر  کاری ضرب لگی ہو جو ہمیں واپس اٹھنے ہی نا دے، لیکن زندگی چلتی رہتی ہے اور وہ حسین لمحات  گزر جاتے ہیں یا وہ تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ یہی انسان کی تقدیر ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جس طرح آدم بھول گئے اسی طرح ان کی ذریت بھی بھول جائے گی”۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ قرانی قصے انسانی یادداشت کی فطری کمزوری کا کس طرح خیال رکھتے ہیں، ایک مسلسل گرتے ہوئے بوند  کی طرح جو ہفتوں، مہینوں اور سالوں تک  محیط ہے اور  جوہماری سنگ جیسی انا کو بالآخر چیر پھاڑدیتا ہے – بجائے اس کے کہ مختصر سی بوندا باندی ہو جو بس پتھر  کی سطح کے گردو غبار کو دھو دے لیکن کوئی معنی خیز تبدیلی پیدا نا کر سکے۔  جیسا کہ اللہ کہتا ہے

“منکرین کہتے ہیں ‘اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟’ ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے” (25:32)

    قران میں کلام کی تکرار کے پیچھے دوسری حکمت اس کی لسانی بلاغت ہے۔ مصنفین اکثر بھونڈا لگنے کے ڈر سے موضوع کی تکرار سے گریز کرتےہیں، جبکہ قران اس معاملے میں بالکل بھی نہیں شرماتا۔ عربی کے ماہرین اس بات پرحیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح تخلیقی ردوبدل کے ساتھ ساتھ قران خود کو بار بار دہراتا ہے جس سے اس کی بلاغت کی فراوانی پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نا ہی اس کی پرکشش پکار کمزور پڑتی ہے۔ قران بار بار اسی قصے کو الگ الگ انداز میں بیان کرتا ہے لیکن کہیں بھی قصہ الٹ پلٹ نہیں جاتا۔ پھر اسی قصے کے کسی دوسرے بیانیے میں باریکیوں کے کچھ نئے نگینے پرو دیتا ہے، اس طرح یہ دوسروں سے الگ تو ہو جاتا ہے ،لیکن  داستان کی مجموعی سالمیت اور نظم پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

اس طرح اگر قرانی تکرار پر گہرائی سے نظر ڈالا جائے تو ہم پراس کی بے عیب باریکیاں اور لطیف امتیازات کھلتے جاتے ہیں جو قران کی لسانی برتری کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مزید آگاہی اور روح کی تطہیر کا سامان کرتے ہیں۔ 

ان تین پیچیدگیوں (ہمہ گیری، یک رنگی، ہم آہنگی) کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ تحریری شکل میں دکھنے والا قران حقیقت میں تقریری کلام ہے ناکہ تحریر اور یہی بات اس کی لسانی نفاست میں مزید اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ نظر رکھنی چاہیے کے قران کی تصنیفی ساخت سے عرب کے لوگ  بالکل بھی واقف نہیں تھے۔ ابن عاشور کہتے ہیں کہ مفصل اور کہانی پر مبنی مکالمہ جس طرح قران میں پایا جاتا ہے وہ عربی شاعری میں کبھی بھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اس لیے قران میں قصہ کو شامل کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ عرب کے ممتاز شعراء تعاملی مکالمے (interactive dialogue) سے گریز کر کے قرآنی چیلنج (تواس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ) کا مقابلہ کرنے میں اپنی نااہلی کو چھپانے کی کوشش کر سکتے تھے۔ شاید یہ لسانیاتی قوانین تھے جو ان کی شاعری کی ساخت اور مترادف الفاظ کے تعین کو اتنی سختی سے جکڑ کر رکھتے تھے کہ وہ تصویر کشی اور تشبیہات کا تو بے دھڑک استعمال کر لیتے تھے لیکن مکالماتی قصے نہیں کہہ پاتے تھے۔ اب وجہ جو بھی ہو لیکن ایسا لگتا ہے کہ قران ،وقت کے شیکسپیر (Shakespeare) سے یہ ببانگ دہل اعلان کر رہا ہو کہ: میں نے قصہ گوئی کے طریقوں کو مختلف طریقوں سے تمہارے سامنے پیش کر دیا ہے، پھر بھی، ان میں سے کسی ایک بھی طریقے پر اپنی زبان کو ڈھالنے کے ابدی چیلنج کو تم قبول نہیں کر رہے ہو۔ 

قران میں قصوں کی تکرار کا تیسرا فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی کو اس کا مختصر حصہ بھی یاد ہو تو تب بھی کچھ اہم قصوں سے اس کا سامنا ہوہی جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی طور پر مسلمانوں کی اکثریت پورا قران یاد نہیں کرتی آئی ہے۔ اللہ کے رسول کے زمانے میں بھی لوگ ان کے پاس آتے تھے، قران کا کچھ حصہ حفظ کرتے تھے پھر اپنے شہروں کو واپس چلے جاتے تھے۔ اس لیے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہر ایمان والا قران کی مثالی کہانیوں سے شناسا رہے، اس سے قطع نظر کہ انھوں نے کیا یاد کیا ہے اورکیا  یاد نہیں کیا ہے، ان کہانیوں کو دہرا دہرا کر، پوری کتاب میں بکھیر دیا گیا ہے۔   

حالانکہ ہم نے اوپر قرانی قصوں کی تکرار کے کچھ ہی فوائد گنائے ہیں ، اس سلسلے میں ابن جماعہ نے سات بصیرت افروز نکتے پیش کیے ہیں جنھیں ہم نیچے پیش کر رہے ہیں:

  1.   ہر بار اضافی باریکیوں کے ساتھ قصوں کو دھیرے دھیرے واضح کرنا؛
  2.  اس بات کو یقینی بنانا کہ ایمان والے، عام آدمی اور علماء قران کے اہم قصوں سے باخبر ہوں؛
  3. متعدد اصطلاحات کے ذریعے ایک ہی منظر کی ہم آہنگ تصویر کشی کر کے قرآن کی منفرد فصاحت و بلاغت کا مظاہرہ کرنا؛
  4. اس کی تعلیمات کی زیادہ سے زیادہ رسائی کو یقینی بنانا کیونکہ لوگ ھدایات کے بجائے کہانیوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے میں دلچسپی لیتے ہیں؛
  5. عربی بلاغت کے اساتذہ  کو عاجز کرنا جو قران کے بیانیے کی طرح ایک بھی آیت نہیں بنا سکے؛
  6. مناظرہ بازوں کو یہ دعویٰ کرنے سے روکنا کہ “قرآن اپنی کہانیوں کو مختلف طریقوں سے از سر نو ترتیب نہیں دے سکتا، تو اس کے منکرین کو ایسا کرنے کا چیلنج کیوں دیتا ہے؟”
  7. ایک ہی  کہانی کو ہر بار ایک نئے طریقے سے پیش کر کے قارئین کی دلچسپی کو برقرار رکھنا، جنہیں بار بار ان مناظر میں ڈوبنے کی ضرورت  ہوتی ہے۔

مقالہ نگار:  شیخ محمد الشناوی

مترجم: مجاہد الاسلام، عظیم پریم جی یونیورسٹی

بشکریہ  : https://yaqeeninstitute.org/read/paper/the-unique-storytelling-style-of-the-quran


 

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے