چیزوں کو بنانا، کرکے دیکھنا

اروند گپتا

مترجم :زبیر صدیقی

اچھی سائنس مہنگی نہیں ہونی چاہئے- اسے تو دلچسپ بنایا جا سکتا ہے-

پرائمری سائنس پر سب سے بہترین ہندوستانی کتاب، پریپریشن فار سائنس(Preparation for Science) ہے جو 1928 میں لکھی گئی تھی- اسے ایک امریکی ماہر معاشیات رچرڈ گریگس نے لکھا تھا جو مہاتما گاندھی سے بہت متاثر تھا- دو سال تک گریگس نے امریکی مشنری ایس. ای.ا سٹوکس (S.E. Stokes)کے زیر انتظام ہماچل پردیش کے ایک اسکول میں ایکٹیویٹی پر مبنی سائنس کی تعلیم دی- ہندوستانی اسکولوں میں بچوں کو سائنس کی تعلیم دینے کے طریقوں پر یہ سب سے اہم کتاب ہے-  

آسان آلات سے خوبصورت کھلونا!

 

گریگس لکھتے ہیں:

“مطلوبہ آلات انتہائی آسان اور سستےہیں، اور ان  سے گاؤں کے بچے اچھی طرح  واقف بھی ہوتے ہیں- ان میں سے کئی چیزیں تو گاؤں کے بڑھئی ، کمہار یا  لوہار کے ذریعہ بنایا جا سکتا ہے- بچوں کو ایسا نہیں لگنا چاہئے کہ سائنس کوئی مشینری یا ایک عجیب و غریب ٹیکنالوجی ہے- سائنس کی عظیم شخصیات نے اپنا کام انتہائی آسان آلات کے ساتھ کیا ہے- لہذا، ان کے نقش قدم پر چلنا اور بغیر کسی مہنگے اور وسیع تر آلات کے سائنسی سمجھ بنانا  عین ممکن ہے- آخر کار، طالب علم کا ذہن مطلوبہ آلات میں سب سے مہنگا  اوزار ہے-“

گریگس مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ، “میں نہیں چاہتا کہ ہندوستان کے گاؤں کے بچے سائنس کو صرف اسکول  کی چہار دیواری تک ہی محدود رکھنے کا خیال حاصل کریں یا صرف اس کو چمکدار پیتل اور شیشے کے آلات اور دیگر مخصوص ساز و سامان سے متعلق دیکھیں- میں ایسا مانتا ہوں کہ وہ مغربی تجربہ گاہوں میں استعمال ہونے والے تمام مہنگے اور پیچیدہ آلات کے بغیر یاکم سے کم استعمال کر کے زیادہ واضح طور پر اپنی سوچ اور سائنسی سمجھ کو حاصل کرنا سیکھ سکتے ہیں”-

جیسا کہ سائنس کی تاریخ کے ساتھ اکثر ہوتا آیا ہے، یہ پیشن گو کتا ب  دینا میں نا معلوم رہی  یہاں تک کہ 1975 میں  UNICEFکے ایک مشیر کیتھ وارن  (Keith Warren)نے اس کتاب کو ایک بار پھر ڈھونڈ نکالا اور اس کو  Preparation for Understanding کے نام سے جاری کیا- اس سے بچوں کو آس پاس کی دنیا میں ایک توازن دریافت کرنے میں مدد ملتی ہے- وہ کنکر، ٹہنی، پتے، تار، بیج اور دیگر قدرتی اشیا سے استعمال کرتے ہیں جن کی قیمت زیادہ نہیں ہوتی ہے- اگر بچوں کے پاس کاغذ/ پنسل نہیں ہے، تو وہ چھڑی کی مدد سے زمین پر پیٹرن بناتے ہیں-

بچے پتیوں اور بیج  کا انتظام کرتے ہیں اور “رنگولی” کی طرح کے کئی پیٹرن بناتے ہیں- بچوں کو 3-ڈی پزل (3D Jigsaw Puzzle) کے لئے ٹوٹے ہوئے مٹی کے برتن کو گیلی مٹی سے جوڑنے کے لئے کہا جاتا ہے-

بچّہ 3-ڈی پزل بناتے ہوئے!

ایک اور مشق میں، ایک بچےکو مٹی کی ایک جیسی چار گیندیں دی جاتی ہیں- اس کے بعد وہ بچہ/ بچی مٹی کی ہر گیند کو مختلف جسامت کے جانور، مکعب، پیالہ یا پلیٹ میں ڈھال دیتا ہے- پھر اس سے  پوچھا جاتا ہے کہ: ان میں سے کون  سب سے بھاری ہے؟ کیا شکل میں بدلاؤ کرنے سے وزن بھی تبدیل ہوتا ہے؟

بچے چار مختلف کنٹینر میں برابر پانی ڈالتے ہیں  – پھر ان سے پوچھا جاتا ہے، “کس برتن میں زیادہ پانی ہے؟”

کتاب کا بنیادی اصول یہ ہے کہ: بچوں کو کسی چیز کو سمجھنے سے پہلے، انہیں تجربے کی ضرورت ہوتی ہے: دیکھنا، چھونا، سننا، چکھنا، سونگھنا، منتخب کرنا، ترتیب دینا، چیزوں کو ایک ساتھ رکھنا اور چیزوں کو الگ کرنا- بچوں کو حقیقی چیزوں کا تجربہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے-

 

 ہندوستان میں ہوشنگ آباد سائنس ٹیچنگ پروگرام (ایچ.ایس.ٹی.پی) اسکول سائنس کی تعلیم کو نئے سرے سے تر و تازہ کرنے کی بہترین  کوشش ہے- 1972میں قائم کردہ          ایچ.ایس.ٹی.پی. مدھیہ پردیش کے 14 اضلاع کے 1000 سے زیادہ سرکاری اسکولوں میں پھیل گیا- یہ پروگرام دریافت کے طریقہ کار پر مبنی تھا- بچے آسان تجربات کرتے اور پھر انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس کی بنیاد پر سوالوں کے جواب دیتے- وہ علم کے “غیر فعال صارفین” نہیں بلکہ “حقیقی تعمیر کار” تھے- یہاں کوئی درسی کتابیں نہیں تھیں، صرف ورک بک تھیں- اس پروگرام میں نصاب کی تشکیل کے لئے اساتذہ کی فعال شرکت شامل تھی- سب سے پہلے اساتذہ  کے ٹرینر ( Teacher Trainer ) کے طور پر پروفیسر یشپال آئے تھے- اس سے زبردست توانائی اور تخلیقی صلاحیتیں ابھرکر آیئں- یہاں پر فلاسک کو کانچ کی بوتل سے بدلنا نہیں تھا- تلاش تو کچھ ایسے متبادل، کم لاگت، غیر منحرف اشیا کی تھی جو بچے کے  گرد و پیش میں با  آسانی  فراہم ہو سکے- اس کے لئے ایک کھلے ذہن اور باریک نقطہ نظر کی ضرورت ہے- بچوں نے “چاک کرنے والی سوئیوں” کے بجاۓ “ببول” کے کانٹوں کا استعمال کیا- ٹائٹریشن کے لئے استعمال کئے جانے والے انڈیکیٹر، فنوفتھلین، کی جگہ جانی مانی قبض کی دوا “ویکولیکس” کے استعمال کیا- اس کی گولی کو پانی کی معلوم مقدار میں ملاکر ایک شاندار انڈیکیٹر تیار کیا گیا-   

دوسری جنگ عظیم نے بہت سارے ملکوں کو تباہ کر دیا تھا- شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے، کچھ غریب ممالک اسکول بنانے میں کامیاب رہے- لیکن پھر ان کے پاس سائنسی تجربہ گاہوں کو قائم کرنے کے لئے کافی کم پیسا بچا، جس کو تعمیر کرنا کافی مہنگا تھا- 1950 کی دہائی کے اواخر میں، ایک برطانوی استاد، جے. پی. سٹیوینسن  (J.P Stephenson)نے ایک کتاب تیار کی جس میں بہت ہی آسان آلات کے ذریعہ عمل پر مبنی سائنس کو تجربہ کرکے سیکھنے کے امکانات بتاۓ گئے ہیں-

کتاب کا عنوان اپنے آپ میں کافی اہم تھا: سجیشن فار سائنس ٹیچرس ان ڈیواسٹیٹڈ کنٹریز Suggestion for Science Teachers in) Devastated Countries) – اس کتاب نے دنیا میں طوفان مچا  دیا- اس کتاب نے یہ ثابت کر دیا کہ مہنگے، فینسی آلات عام بچوں کی زندگی سے بہت دور کر دیے گئے تھے- UNESCO نے اس کتاب کے دائرے کار کو وسیع اور گہرا کرنے پر اتفاق کیا اور اس کے نتیجہ میں سائنس ایکٹیویٹز کی بائبل کہی جانے والی مشہور یونیسکو سورس بک فار سائنس ٹیچنگ منظر عام پر آئی- 1963 میں اس کتاب کا ہندی، مراٹھی اور کچھ دوسری علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا-    

ونی ہارلیں  (Winnie Harlen) اور جوس ایلسگیسٹ  (Jos Elsgeest)کے ذریعہ لکھی گئی یونیسکو سورس بک فار سائنس ان پرائمری اسکول کو سب سے پہلے 1990 کی دہائی کے اوائل میں شائع کیا گیا- اس کے بین الاقوامی شمارہ کی قیمت 20 امریکی ڈالر تھی- خوش قسمتی سے، نیشنل بک ٹرسٹ نے اس حیرت انگیز کتاب کا کم لاگت والا ہندوستانی شمارہ دوبارہ شائع کیا جس کی قیمت 65 روپے رکھی گئی- اس کتاب کا دوبارہ کبھی جائزہ نہیں لیا گیا لیکن پھر بھی یہ چوتھی بار چھپنے کے لئے تیار ہے-

اس سے عام اساتذہ پر میرا اعتماد بحال ہو گیا- ایک اچھی کتاب، جس کی قیمت بھی مناسب ہے اسکی فروخت بھی اچھی طرح سے ہوگی- اس کتاب کے دو حصّے ہیں: ایک تھیوری کا حصّہ اور دوسرہ حصہ جسم میں چلڈرن اینڈ واٹر، چلڈرن اینڈ بیلنسس، چلڈرن مرر اینڈ ریفلیکشن اور چلڈرن اینڈ انوائرنمنٹ  ، چار بہترین سائنس ایکٹویٹییز- کاش  کہ چند  دور اندیش افراد اس ایکٹویٹی کتاب کا مقامی زبانوں میں ترجمہ کر سکیں؟  

دنیا بھر کے تجربوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے سے تیار کی گئی سائنس کٹ کبھی کبھار ہی کام کرتی ہیں- زیادہ تر معاملات میں وہ بنا کھولے ہوئے پڑی رہتی ہیں- اساتذہ ان کے بارے میں نہ تو سوچتے ہیں، نہ تیار کرتے ہیں، نہ اکھٹا کرتے ہیں اور اسی لئے وہ اس کو استعمال کرنے میں پراعتماد بھی نہیں ہوتے ہیں- کٹ کو استعمال کرنے پر کٹ ٹوٹنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے – لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کو بند ہی رکھا جائے- لیکن جب بھی  اساتذہ روزمرہ کے سامان کا استعمال کرتے ہوئے آسان سائنس ماڈل تیار کرنے کے امکانات ظاہر کرتے ہیں تو وہ اسے  بڑی خوشی اور پورے جوش کے ساتھ کرتے ہیں- جب وہ چیزوں کو اپنے ہاتھوں سے تیار کرتے ہیں تو وہ خود کو “با اختیار” محسوس کرتے ہیں اور ان کو عملی طور پر استعمال کرنے کے زیادہ امکان رکھتے ہیں-   

ہم ایک ایسے صارفیت پسند معاشرے میں رہتے ہیں جو کباڑ کا پہاڑ پیدا کرتا ہے- گتے کے کارٹون، بال قلم کے ریفل، پرانے قلم، سکّے، جھاڑو کی ڈنڈی، اخبارات، سائیکل ٹیوب، ماچس کا ڈبہ، ٹیٹرا پیک، دودھ کے تھیلے، آئس کریم کی ڈنڈیاں، تنکے، وغیرہ- یہ فہرست لا محدود ہے- ان تمام ہی چیزوں کو دوبارہ استعمال کرکے بچوں کے لئے سائنس ماڈل اور کھلونے تیار کئے جا سکتے ہیں- مثال کے طور پر، پرائمری اسکول کے بچے دو فلم کین، پرانے سائیکل کے ٹیوب اور ‘والوز’ کے لئے ٹیپ کا استعمال کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز ہینڈ پمپ تیار کر سکتے ہیں- یہ سستا پمپ، ایک غبارے کو پھلا سکتا ہے اور 10 فٹ دور پانی کو پھینک سکتا ہے!

جب کھلونے کے ذریعہ  بچے سائنس کے اصولوں کو دیکھتے ہے تو بہتر طور پر سمجھتے ہیں- اور اگر وہ ان کھلونوں سے کھلتے ہیں تو وہ اس سے اور بہتر “احساس” حاصل کرتے ہیں- “سینٹری فیوگل” اور “سینٹری پیٹل” فورس تجریدی لفظ ہیں اور بچے اس کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پاتے ہیں- لیکن جھاڑو کی ڈنڈی سے تیار کیا گیا Spinner  ان الفاظ کو معنی بخش سکتا ہے- خود سے تیار کیا گیا ایکروبیٹ کھلونا اس تصور کی بہترین ترجمانی کرتا ہے- اس طرح کے   تقریباایک سو    حیرت انگیز سائنس کے کھلونوں کے بارے میں سدرشن کھنا کی ایک کتاب The Joy of Making Indian Toysمیں اکھٹا کیا گیا ہے .  ( این.بی.ٹی. کے ذریع شائع کردہ اور صرف 40 روپے کی لاگت)- یہ کھلونے برسوں سے موجود ہیں- ہر نسل نے اس ذخیرے کو پڑھا اور عوام کے لئے چھوڑتی چلی گئی- یہ کھلونے “پھینک دینے” والی چیزوں سے تیار کئے گئے ہیں، ماحولیات کے اعتبار سے بھی  مناسب ہیں اور غریب ترین بچے بھی ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں- ان کو تراشنے میں، بچے مختلف قسم کی چیزوں کو کاٹنا، کاٹ چھانٹ کرنا، چپکانا، ٹھیک کرنا، کیل لگانا اور اکھٹا کرنا سیکھتے ہیں- وہ عظیم سائنس بھی سیکھتے ہیں-  

سائنس کا بحران یہ ہے کہ لوگ اب بھی اپنے ہاتھوں کو گندا نہیں کرنا چاہتے ہیں-

رٹ کر سیکھنا، چاک-اور-ٹاک طریقہ آ ج  بھی معروف و مقبول   ہے- ہر ایک کورس کو “cover” کرنے کے لئے تیار ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ

تعلیم کا اصل کام چیزوں کو “انکور uncover” کرنا ہے- 

بوسٹن میں چلڈرن میوزیم کی تخلیقی منتظم اور تاریخ ساز کتاب “میکنگ تھنگس” کی مصنف این سئیر وائزمن (Ann Sayre Wiseman) نے ان الفاظ میں سائنس کے جوہر کا خلاصہ پیش کیا ہے: (اردو میں ترجمہ )

ناکام ہونا ٹھیک ہے-

 

غلطیاں کرنا ٹھیک ہے-

آپ اس سے بہت کچھ سیکھیں گے- 

جوکھم  لینا ٹھیک ہے-

اپنےلیے ضروری وقت لینا ٹھیک ہے-

اپنی رفتار تلاش کرنا ٹھیک ہے-
اپنے طریقہ سے آزمانا ٹھیک ہے-

 

ناکام ہونا ٹھیک ہے-

بے خوف دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں-

بیوقوف لگنا ٹھیک ہے-

کچھ الگ لگنا ٹھیک ہے-

خود کو تیار کرنے تک انتظار کرنا ٹھیک ہے-

تجربہ کرنا(احتیاط کے ساتھ)  ٹھیک ہے-

“لازمی” پر سوال کرنا ٹھیک ہے-
خود کو بناے رکھنا خاص ہے-

گڑبڑ کرنا بھی ضروری ہے-
جس کو ٹھیک کرنے کی آپ ہمّت رکھتے ہیں-

(تخلیق کا عمل اکثر گندا جو ہوتا ہے)

اروند گپتا پونے میں چلڈرن سائنس سینٹر میں کام کرتے ہیں- اس تحریر میں مذکور کتابوں کو ان کی ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے- ان سے دی گئی ویب سائٹ اور ای میل سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے-        

اروند گپتا اپنے کہلونوں کے کمرے میں!

Arvind Gupta Toys

[email protected]

 

 

Author: Zubair Siddiqui

ایکلویہ فائونڈیشن سے جڑے ہیں اور سائینسی تعلیم اور تحریر میں دلچسپی رکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے