کیا لاک ڈاؤن نے کاربن اخراج کو کم کیا ہے ؟

کوویڈ -١٩ کے وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے دنیا بھر کے ممالک میں لاک ڈاؤن اپنایا گیا – کچھ ممالک میں تھوڑا جلدی تو کچھ میں تاخیر سے نافذ کیا گیا –6عرب لوگوں کے لاک ڈاؤن میں رہنے سے کاربن اخراج میں کمی کا اندازہ لگانا فطری ہے- لیکن غور کیا جائے تو گرین ہاؤس میں کمی نہ کے برابر دکھائی دیتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق، سال ٢٠٢٠ میں اخراج میں 5فیصد سے زیادہ کی کمی متوقع ہے لیکن یہ ابھی تک طے شدہ ہدف سے بہت کم ہے – ابتدائی مطالعات کے مطابق ، آنے والے سالوں میں زمین کے درجہ حرارت میں بڑھوتری کو ١.٥ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لئے سالانہ کم از کم 7٫6فیصد کمی کی ضرورت ہے۔

اس لاک ڈاؤن کے دوران ، کاربن بریف نامی ایک تحقیقی گروپ نے اطلا ع دی ہے کی چین میں ابتدائی لاک ڈاؤن کے 4 ہفتوں کے دوران ، کاربن اخراج میں 20 فیصد کی کمی ہوئی لیکن لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کاربن اخراج دوبارہ سے شروع ہو گیا – اسی طرح روڈیم تنظیم کے مطابق امریکا میں 10 مارچ سے 14 اپریل کے بیچ پچھلے سال کی اسی مدّت کے مقابلے کاربن اخراج میں ١٥-٢٠ فیصد کی کمی آئی تھی- یہ صرف چند ماہ کے اعداد و شمار ہیں جس سے پورے سال کے بدلاؤ کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا– بیشتر محققین کا خیال ہے کہ سال کے آخر تک معیشت میں تیزی آئے گی اور پھر سے کاربن اخراج میں اضافہ ہوگا – آئ ایم ایف کے اندازے کے مطابق ، عالمی جی ڈی پی میں ٣ فیصد اور امریکی جی ڈی پی میں ٦ فیصد کی کمی متوقع ہے ، لیکن ٢٠٢٠ کے دوسرے نصف حصّے میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

گلوبل کاربن پروجیکٹ کے مطابق ، ٢٠١٠ سے ٢٠١٨ کے درمیان عالمی اخراج میں اوسط اضافہ ٠.٩ فیصد تھا – امریکا میں 2005 سے اب تک اخراج میں سالانہ ٠.٩ فیصد کی کمی واقع ہوئی اور ٢٠١٩ میں اس میں ٢.١ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے – ایسے میں اخراج میں 20 فیصد کمی کے منظرنامہ میں ، عالمی کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کا تین چوتھائی حصّہ بھی ایک سال کے لاک ڈاؤن میں جاری رہے گا۔

روڈیم گروپ کے فضائی اور توانائی تحقیق کے سربراہ ٹریور ہاؤزر اس لاکڈاؤن اور معاشی بدحالی کے مابین فرق کی وضاحت کرتے ہیں– عام طور پر معاشی بدحالی میں کاربن ڈائی آکسائڈ اخراج میں کمی مینوفیکچرنگ اور شپنگ میں کمی کی وجہ سے ہوتی ہے– لیکن ابھی تو اس کے برعکس ہوا ہے– شپنگ کی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور مینوفیکچرنگ کا کام بھی آہستہ آہستہ کم ہوا– لاک ڈاؤن کے دوران بھی چین میں سٹیل اور کوئلے کے پلانٹ بھی کم وسعت سے کام کرتے رہے۔

کاربن اخراج میں کمی خاص طور پر زمین پر چلنے والی گاڑیوں میں کمی سے واقع ہورہی ہے– برطانیہ کے آمدورفت میں54 فیصد ، امریکا میں 36 فیصد اور چین میں19 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے– اس کے ساتھ ہی چین میں کوویڈ – ١٩ کے پہلے500 معاملے سامنے آنے کے بعد ہوائی سفر میں 40 فیصد کی کمی آئی جب کہ یورپ میں ١٠ میں سے ٩ فیصد پروازوں کو روک دیا گیا۔

اس کے نتیجے میں جیٹ ایندھن کی ضرورتوں میں65 فیصد کی کمی واقع ہوئی– ڈیپارٹمنٹ آوف انرجی سٹیٹسٹکس کے مطابق امریکا میں 4 ہفتوں میں پٹرول کی ضرورتوں میں 41 فیصد کی کمی ہوئی– انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اپریل ماہ میں روزانہ ١.١ کروڑ بیرل اور مئی میں ١ کروڑ بیرل کی کمی آئی– پھر بھی عالمی معیشت نمایاں طور پر زیادہ تیل استمعال کر رہی ہے۔

ایجنسی کے مطابق ، دنیا بھر میں رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں 7٫6 کروڑ بیرل روزانہ استمعال ہوا ہے– پٹرول اور جیٹ ایندھن کی ضرورتوں میں کمی کے بعد بھی امریکا کی تیل کمپنیوں نے مئی ماہ کے 4 ہفتوں میں 55 لاکھ بیرل تیل بازار منتقل کیا ہے– ڈیزل کی ضرورتوں میں بھی کمی آئی لیکن شپنگ اور کارگو جہازوں میں صرف 7 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے- پیٹرو کیمیکل سیکٹر میں بھی اس کے اثرات یکساں نہیں ہیں– آٹو مینوفیکچرنگ میں استمعال ہونے والے پلاسٹک میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اسے کھانے کے سامان کی پیکنگ میں استمعال کیا جا رہا ہے– مجموعی طور پر، ایجنسی کا خیال ہے کہ سال کے آخر تک فیڈ اسٹاک جیسے ایتھن اور ناپٹھہ کی ضرورت کم ہو جائےگی لیکن پٹرول اور ڈیزل کی طرح نہیں۔

گلوبل کاربن پروجیکٹ کے مطابق ، 2019 میں اخراج بڑھ کر مجموعی طور پر 36٫8 گیگا ٹن تک پہنچ گیا ہے – کل اخراج میں آمدورفت کا حصّہ مجموعی طور پر20 فیصد تھا جس میں سے نصف حصّہ سڑک کے آمدورفت کا ہے- اگرچہ یہ 20 فیصد بہت بڑی تعداد ہے، لیکن باقی 80 فیصد میں اب بھی کوئی خاص کمی واقع نہیں ہوئی ہے– اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیل ہماری معیشت میں کس گہرائی سے موجود ہے– اگر ساری کاریں رک جائیں پھر بھی تیل کا استمعال ہوتا رہے گا۔

اس وبا کی وجہ سے بڑی کمی صرف آمدورفت کے میدان میں آئی ہے– کوئلے کے استمعال میں کمی واقع تو ہوئی ہے لیکن دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار اسی پر منحصر ہے– عالمی کاربن ڈائی آکسائڈ کا 40 فیصد اخراج کوئلے سے ہوتا ہے جو کسی بھی ایندھن کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے– بھارت میں نیشنل گرڈ کے روزانہ کے اعداد وشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اپریل میں کوئلے سے بنائی جانے والی بجلی کی پیداوار روزانہ 1٫9 گیگاواٹ فی گھنٹہ تھی جو 24 مارچ (جس دن لاکڈاؤن شروع ہوا ) کے دن 2٫3 گیگاواٹ فی گھنٹہ تھی – تیل کی طرح یہ بھی معاشی پیداوار میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

بریک تھرو انسٹی ٹیوٹ کے فضائی اور توانائی کے منتظم زےکے ہاسفادر کے مطابق، اس وبا نے دنیا کے ترّقی پسند حصّوں کے لئے صاف توانائی کو سستی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے– معیشت کو کاربن سے آزاد کرنے کے لئے تکنیک کی ضرورت ہے۔

Author: Zubair Siddiqui

ایکلویہ فائونڈیشن سے جڑے ہیں اور سائینسی تعلیم اور تحریر میں دلچسپی رکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے