اسکول کے اساتذہ کا اہم کردار

وجیا ورما

ترجمہ: زبیر صدیقی

 

ہندوستان کے اسکول کی تعلیم میں اصلاحات کے تجربات سے یہ تو ظاہر ہے کہ معیاری تعلیم دینے کی جدوجہد میں اسا   تذہ کا کردار کافی اہم ہے- اس کی ایک مثال حال ہی میں منعقدہ ہوشنگاباد سائنس ٹیچنگ پروگرام ہے- اگر کوئی استاد تعلیمی اصلاحات کو اپناتا ہے تو ایسے اصلاحات کامیاب ہو جاتے ہیں  لیکن جب کوئی استاد تعلیمی اصلاحات کے بارے میں لاتعلقی یا مخالفانہ رویہ اپناتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اصلاحات ناکام ہو جاتے ہیں-

 

این.سی.ای.آر.ٹی جیسی تنظیموں کے زیر انتظام تدوین نصاب یا      درسی کتب کی تیاری کا حسب معمول عمل انتہائی مرکزی سطح کا معلوم ہوتا ہے- اس میں درجہ بندی یعنی ٹاپ-ڈاون اپروچ کے حساب سے کام کیا جاتا ہے جس میں زیادہ تر فہم تنظیم یاپھر تنظیم کے “مضمون کے ماہرین” کی جماعت کے پاس ہوتا ہے- چنانچہ کچھ اساتذہ کو صرف شمولیت کے اعتبار سے شامل کر لیا جاتا ہے- اس طرح کی کوششیں عام طور پر اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہیں کہ نصاب تیار کرنے (جسے عمل میں لانے کے امکانات ہوں) میں نہ صرف نظم و ضبط کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوتا ہے بلکہ ان بچوں کے تصوراتی ارتقا کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے جن کے لئے اس نصاب کو تیار کیا جا رہا ہے- اس کے علاوہ اسکولوں میں دستیاب وسائل کے ساتھ سب سے ضروری اساتذہ کی مستعدی اور تیاری ہے جو اصل میں درس و تدریس پر عمل پیرا ہیں- ان تقاضوں کو پورا کرنے کا ایک ہی واحد طریقہ ہے- اس کے لئے جس ٹیم پر ذمہ داری عائد کی گئی اسے متعلقہ میدان کے اساتذہ کو اس عمل میں مرکزی حیثیت دینی چاہئے- ٹیم کو اپنے نقطہ نظر میں اتنا بھی ترتیبی نہیں ہونا چاہئے کہ اساتذہ کے پاس تدریسی عمل میں اپنے نظریات اور تجربات کو نصاب کی حیثیت سے شامل کرنے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے-

 

ہم نے جو کچھ بھی بیان کیا ہے اسے سمجھنےکے لئے کوئی بڑی محنت کی ضرورت بالکل نہیں ہے- تو سوال یہ ہے کہ ان اصولوں کی اطاعت کرنے کے بجائے خلاف ورزی کیوں پائی جاتی ہے؟ اس مختصر مضمون کے باقی حصّے میں ہم اس کی کچھ وجوہات کی جانچ پڑتال کرنے کی کوشش کریں گے-

 

اس کی بڑی وجہ جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا  ہے وہ اس نظام کا مخصوص رویہ  ہے- یہ نظام اس عمل پر قابو بنائے رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور کسی بھی طرح سے بڑے پیمانے پر مرکزیت کو ختم نہیں ہونے دینا چاہتا-  اس کے لئے قومی درسیاتی خاکے (این.سی.ایف) ٢٠٠٥ کی تیاری کے لئے این.سی.ای.آر.ٹی کی تازہ ترین مشق اور اس دستاویز کی بنیاد پر نصاب اور اسکول کی درسی کتب تیار کرنے پر غور کریں- پورے ملک سے مشاورت کے لئے ملک بھر کے ماہرین کو اس کام میں شامل کیا گیا- میری راۓ میں، اس کوشش کے اچھے نتائج ہو سکتے تھے اگر اسے دہلی میں مرکزی شکل نہ دیتے ہوئے شروعات میں چار علاقائی مراکز کے ساتھ آغاز کیا جاتا اور اسے قومی درسیاتی خاکے کے تیار ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ خود مختاری سے کام کرنے کی اجازت دی جاتی- اس سے نہ صرف نصاب تعلیم اور درسیاتی کتب کے چار آزاد سیٹ تیار  ہو سکتے تھے، جیسا این سی ایف ٢٠٠٥ نے خود ایک مطلوبہ مقصد کے طور پر تجویز کیا ہے، بلکہ اس سے علاقائی اہلیت کی ترقی کو فروغ  اور مرکزیت کو کم کیا جا سکتا تھا- اس سے تدوین نصاب اوردرسیاتی کتب تیار کرنے کے پورے عمل میں اسکول کے موجودہ اساتذہ کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے امکانات کھل سکتے تھے- اس طرح کے اقدام پر غور کرنے کے خلاف ایک دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ اس کوشش کو کار آمد بنانے کے لئے علاقائی اہلیت موجود نہیں ہے- یہ تو مرغی پہلے آئی یا انڈا جیسا مسئلہ ہو گیا ہے- علاقائی اہلیت کیسے ترقی کر سکتی ہیں جب تک ان کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے؟

 

کچھ حد تک یہ مانا جا سکتا ہے کہ متعدد معاشرتی اور تعلیمی وجوہات کی وجہ سے اساتذہ کی اوسط اہلیت ویسی نہیں ہے جیسا اسے ہونا چاہئے- پھر ہم ان حالات میں کیا کر سکتے ہیں؟  عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ “کوئی کام نہیں کر سکتے” وہ آخرکار اسکول کے ٹیچر بن جاتے ہیں اور حکومت بھی پیرا ٹیچر کی بھرتی جیسی پالیسیوں کو سختی سے اپناتے ہوئے اسکول کے اساتذہ کی پیشہ وارانہ ترقی میں کوئی مدد نہیں کرتی ہے- یہ پالیسیاں در حقیت تعلیم فراہم کرنے کے اخراجات کو کم کرنے کے ساتھ اساتذہ کے یونینوں کے اختیارات کو بھی روکتا ہے- اس میں ایک بات کو ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسکول کے اساتذہ کے معیار میں بہتری لاۓ بغیر اسکول کی تعلیم کے معیار کو بہتر نہیں کیا جا سکتا ہے- اور اس کا واحد طریقہ کام کرنے کے ماحول کو اتنا دلکش بنانا ہے تاکہ با صلاحیت افراد اس پیشے کی طرف ایک بار پھر راغب ہوں- یہاں میرا مطلب صرف تنخواہ سے نہیں ہے-  اس کے لئے اسکولوں میں بہتر سہولیات اور اسکول کے اساتذہ کے لئے کام کرنے کے بہتر ماحول کی ضرورت ہے- اسکے ساتھ ہی بہتر گرد و پیش، بہتر بنیادی ڈھانچا، کام کرنے کے بہتر حالات، بہتر کتب خانے اور سائنسی تجربہ گاہ بھی ضروری ہے- اس کے لئے اساتذہ کو تعلیم سے جڑے  سرکاری محکموں کے چھوٹے چھوٹے عہدیداروں کےتسلط سے آزاد کرنے کے لئے فعال اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی-

 

آج کل سیمیناروں کے ذریعہ سے اسکولوں میں معیاری تعلیم دینے کے لئے اسکول کے اساتذہ کی شمولیت کی مرکزی حیثیت کو تسلیم کرنے کا رواج بن رہا ہے- اس کو یقینی صورت دینے کا مطلب نہ صرف اسکول کے اساتذہ کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ درس و تدریس کی طرف ان کو پابند بھی کرنا ہے- اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے- میں یہ بات یقین کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ صرف اساتذہ کے لیے احتسابی قانون سازی کر کے حل نہیں کیا جا سکتا ہے- یہ تو واضح ہے کہ اساتذہ کو باقاعدگی سے اسکول بھیجنے کے لئے کچھ اقدامات کی ضرورت تو ہے لیکن یہ صرف ایک اولین شرطہے- کیوں کہ جن اساتذہ کو اسکول سے دور رہنے میں کوئی پشیمانی نہیں ہے وہ محض کلاس روم میں حاضر رہنے کے حکومت کے فیصلے کی بنیاد پر تعلیم دینا شروع نہیں کر دینگے- طلبہ کی کار کردگی کے لئے اساتذہ کو جوابدہ ٹھہرانا کافی دلکش لگتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہے کہ  اس نظام میں چھوٹے درجات میں بچوں کی اہلیت اور تعلیمی  اکتساب کی  پیماِئش پر کم سے کم زور دیا جاتا ہے- یہاں طلبہ کو ناکامی کے صدمے سے بچائے جانے کے بہانے   اساتذہ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث نقصان  ہوتا ہے-

 

صاف طور پر یہ معاملہ آخر میں اخلاقیات پر ٹھہر جاتا ہے کہ ایک شخص کو بنا کسی دباؤ کے اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنے کام کو انجام دینا چاہئے- ہمارے معاشرے میں کسی کی پیشاورانہ ذمہ داری کی جواب دہی پر کافی غفلت بھرا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اساتذہ کا کلاس روم سے غیر حاضر رہنا  اور کار کردگی کا فقدان اسی بات کے مظہر ہیں- اس کی ایک ممکنہ وجہ خاندانی روایات کا مستقل ٹوٹنا اور جدیدیت کے ماحول کے تحت متوسط طبقہ کی صفوں میں احمقانہ تجارتی کلچر کےاضافہ سے بچوں کو گھروں میں اچھی اخلاقی تعلیم ملنے کے مواقع کم ہوتے گئے- بچوں کے لیےاچھے اخلاق سیکھنے   کا دوسرا ذریعہ  اسکول بن سکتے تھے   لیکن اساتذہ نے جس طرح سے غلط مثالیں پیش کیں اور  ملٹی کلچرل اور کثیر مذہبی ماحول میں اخلاقی تعلیم کو جس طرح سے یکسانیت کے ساتھ پڑھایا جانے لگا ،  اسکولوں نے بھی اپنے کردار کو ادا نہیں کیا- آپ کس کے اخلاق اور کس کی تہذیب پڑھاتے ہیں ؟ اور چونکہ اس طرح کے سوالات روایتی طور پر مذہبی گفتگو کا حصّہ بن چکے ہیں، اس لئےعام طور پر اسکا کوئی قابل قبول جواب نہیں مل پاتا اور  بالآخرکسی کی بھی تعلیم نہیں دی جاتی ہے- میرا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے جب اس ڈسکورس کو مذہب سے باہر رکھا جائے اور ایسی بنیاد تیار کی جائے جو اسکول میں اس طرح کے مضامین کی تعلیم کے لئے دلائل اور استدلال پر مبنی ہو-  امید ہے کہ، اس طرح کے کورسیز پڑھانے اور ایسے ڈسکورس سے واقف ہونے کی بنا پر اساتذہ اور عام انسانوں کے بیچ مثبت بدلاؤ آسکتا ہے- اس سے پیشہ وری اور جواب دہی کا احساس پیدا ہوگا- آخرکار ہمارا مطالبہ بھی تو یہی ہے-

 

مختصر طور پر ہم نے اس چھوٹے سے مضمون میں یہ دیکھا کہ اچھےاساتذہ اسکول کے بہتر تعلیمی ماحول کے روح رواں ہوتے ہیں – تدوین نصاب اور درسیاتی کتب تیار کرنے میں اساتذہ کی شمولیت زیادہ سے زیادہ ہونی چاہئے اور اس کے لئے اس عمل کو مرکزیت سے دور رکھنا ہوگا- ہمیں بہتر پیشہ ور افراد کو اس پیشے کی طرف راغب کرنا چاہئے اور اس کے لئے ہمیں نہ صرف اچھی تنخواہ دینی چاہئے بلکہ اساتذہ کے کام کرنے کے لئے بہتر ماحول اور ان کو اچھی سہولیات بھی دستیاب کرنا چاہئے- مگر یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک ہم قانون سازی کے عمل کے ساتھ ساتھ اساتذہ میں احساس جواب دہی اور اسکول کی تعلیم کے ذریعہ اساتذہ اور طلبہ میں اخلاقیات کی صحیح سمجھ پیدا نہ کر دیں-

 

نوٹ : وجیا ورما دہلی یونیورسٹی کے ریٹائر طبیعات کے پروفیسر رہے ہیں۔ فلحال وہ امبیڈکر یونیورسٹی دہلی کے مشیر ہیں۔ انہوں نے دہلی سے ہی سائنس و تدریسی پروگرام، ہو شانگا باد، کے تحقیقی گروپ کی عالمانہ سطح پے رہنمائی کی ہے۔ ان سے اس میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ 

 

بشکریہ : لرننگ کَرو (Learning Curve)

Avatar

Author: Farhan Sumbul

تعلیمی اور پیشہ ورانہ لیاقت کے اعتبار سے سافٹ ویئر انجینئر ہیں. اردو زبان میں درس و تدریس کے مشاغل سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے