فن تعلیم و تربیت

بچوں کی صحیح تعلیم وتربیت ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ اس کی ادائیگی کی پوری فکر ہونی چاہئے ورنہ سخت گرفت کا اندیشہ ہے۔ اس ذمہ داری میں والدین اوراساتذہ کے ساتھ اگرچہ پوری ملّت، معاشرہ اورمملکت بھی شریک ہیں، لیکن براہِ راست ذمّہ داری والدین اور اساتذہ پرعائد ہوتی ہے۔ اس لئے اُنہیں اس ضمن میں سب سے زیادہ فکر مند بھی ہونا چاہئے۔

خصوصا آج کے حالات میں تو اس طرف غیر معمولی توجہ دینے کی ضرورت ہے- کیوں کہ معمولی  سی غفلت نہایت خطرناک نتائج سے دو چا کرسکتی ہے۔ خدا کا شکر ہے صورتِ حال کی سنگینی کا اب کسی  حد تک احساس ہوچلا ہے اور مختلف اداروں اور  جماعتوں کی انفرادی و اجتماعی کوششوں کے  نتیجے میں لوگ اس طرف متوجہ ہورہے ہیں۔

جو ادارے ٹھٹھر رہے تھے، اُنہیں تقویت بہم پہنچائی جارہی ہے جو اپنوں کی سرد مہری اور دوسروں کی تنگ نظری کا شکار ہو چُکے تھے، اُنہیں ازسرِ نو زندہ کیا جارہا ہے۔ نئے نئے اداروں کا قیام عمل میں آرہا ہے، صباحی وشبینہ مکاتب کھولے جارہےہیں۔ غرض زندگی کے کچھ آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔

ملت کی ضروریات کے لحاظ سے اگر چہ جو کچھ ہورہا ہے وہ بہت ہی کم اور انتہائی ناکافی ہے لیکن جن محدود وسائل و ذرائع کے ساتھ اور جن زحمتوں اور  دشواریوں میں َگھر کر یہ کام انجام پا رہا ہے، اسے بسا اوقات غنیمت ہی کہا جاسکتا ہے۔ 

صحیح تعلیم وتربیت کے بندوبست میں یوں تو متعدد دشواریاں پیش آرہی ہیں، لیکن مندرجہ ذیل ان میں خاص ہیں۔  

نئے اداروں کے لیے موزوں اساتذہ نہیں ملتے۔

جن اساتذہ سے کام لیا جارہا ہے ان کی  اکثریت فنّ  تعلیم وتربیت سے ناواقف ہے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کا پورا تعاون حاصل نہیں ہوتا، ادارہ جو کچھ سکھاتا اور پڑھاتا ہے، عمومًا اس پر پانی پھیردیتا ہے۔

اِنہیں مشکلات کو حل کرنے اوربچوں کی تعلیم وتربیت کو مؤثر بنانے میں مدد دینےکے لئے یہ کتاب ترتیب دی گئی ہے۔ اس میں بچوں کی نفسیات، تعلیم کے اصول، تدریس کے طریقے، تربیت کے ڈھنگ، مدرسے کا انتظام، تعاون کے حصول کی صورتوں وغیرہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے  کہ :

زبان آسان اور سلیس، اندازِ بیان عام فہم اور شستہ ہو۔

اساتذہ، والدین اور تعلیم سے دلچسپی رکھنے والےتمام حضرات کیلئے یکساں، دلچسپ اور مفید ہو۔

تعلیم وتربیت سے‌متعلق تمام اہم مباحث پر روشنی پڑجائے۔

ہر مسئلے پر اسلامی نقطۂ نظر سے بحث ہو۔

حتی الامکان اصلاحی الفاظ اور علمی اندازِ بیان سے گزیر کیا جائے۔

صحیح تعلیم وتربیت کا احساس اُبھرے اور اپنی ذمہ داریوں کوکما حقہ انجام دینے کی فکر لاحق ہو والدین اور اساتذہ کی کوشش نتیجہ خیز ہوں۔ اوربچوں پر ان کے تحمل سے زیادہ بوجھ نہ پڑ نے پائے۔

ان کوششوں میں ہم کہاں تک کامیاب ہوسکے ہیں، اُس کا فیصلہ ناظرین ہی کرسکتے ہیں۔ اہلِ علم حضرات سے استدعا ہے کہ وہ اپنے مفید مشوروں سے محروم نہ رکھیں۔ اللّٰہ تعالیٰ اس حقیر پیش کش کو قبول فرمائے اور پیشِ نظر مقصد کے لئے مفید بنائے-

                                                    افضل حسین

مکمل کتاب یہاں سے ڈائونلوڈ کریں

 

Avatar

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے