چھوٹے بچوں کے لئے گریڈڈ ریڈر کی تخلیق

ریاست کرناٹک میں کنڑا زبان میں پہلی اور دوسری کلاس کیلئے ‘ریڈرز’ کی تیاری کا تجربہ پیش کرنا چاہونگی اور اسکے علاوہ ریاست چھتیس گڑھ میں ہندی ریڈرز تیار کرنے کی کوشش کے بارے میں بھی- دونوں اقدامات یونیسف اور متعلقہ ریاستوں کے تعلیمی محکموں کے مشترکہ پلیٹ فارم پر تھے۔

جب بچہ پہلی کلاس میں داخل ہوتا ہے تو کبھی پری اسکول کے تجربات رکھتا ہے یا وہ پہلی مرتبہ اسکول میں قدم رکھتا ہے۔ ہر بچہ یا بچی اپنے منفرد تجربات اور ذخیرہ الفاظ کے ساتھ آتا ہے- ذخیرہ کا تنوع گھر اور ماحول پر منحصر ہوتا ہے۔ تعلیم سے محروم گھروں سے آنے والے بچے طباعت شدہ الفاظ سے ناآشنا ہوتے ہیں اور یہ اسکولی نظام کی اضافی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ کتابوں اور پڑھنے اور پرنٹ سے بھرپور ماحول کی دنیا کا ایک سحر انگیز اور دلکش راستہ بنے۔

جیسا کہ وسیع پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے، پڑھنے کی تیاری میں بصری امتیازی سلوک کی مہارت، سمعی امتیازی، آنکھوں میں ہم آہنگی اور ضابطہ کشائی کی منطق کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بار جب بچہ لفظوں کو پہچاننے لگتا ہے، تو یہی وقت ہوتا ہے آسان جملے اور مختصر پیراگراف میں جانے کا، اور یہی ‘ریڈرز’ متعارف کرانے کا مرحلہ ہوتا ہے-
ریڈر کیا ہے؟

ریڈر ایک کہانی کی کتاب سے مختلف ہوتی ہے۔ ‘ ریڈرز’ کی درجہ بندی مشکل سطح پر تب ہوتی ہے جب نمبر اور الفاظ کی پیچیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے- ابتدائی ‘ریڈرز’ کم از کم تین الفاظ کے جملے سے شروع ہوتے ہیں، جو زیادہ تر واقف الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں اور ممکنہ طور پر ایک آسان کہانی پر۔ آہستہ آہستہ، ‘ریڈرز’ میں بڑی تعداد میں لمبے اور زیادہ پیچیدہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں- ایک ‘ریڈر’ کو ایسا ڈیزائن کیا جاسکتا ہے کہ بچہ اپنے اساتذہ کو ماڈل سمجھتے ہوئے، اور اساتذہ کی نگرانی میں پڑھے۔ کلاس 1 کے لئے، ہم نے ملٹی یوزر اور مشترکہ ‘ریڈرز’ کی کوشش کی ہے- بچے کی آسانی کیلئے کتاب کے دائیں طرف کے صفحات پر بڑے فونٹ میں واقف الفاظ استعمال کئے ہیں- بائیں طرف کے صفحات میں لمبے متن ہوتے ہیں، چھوٹے فونٹس میں کچھ زیادہ پیچیدہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جو بچے کی کہانی کو وسیع کرتے ہیں اور یہ کلاس میں اساتذہ کے ذریعہ زور سے پڑھنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ کلاس 2 اور 3 میں اعلیٰ صلاحیتوں کے بچوں کیلئے خاموشی سے پڑھنے کا مواد بھی ہوسکتا ہے-

ریڈر میں زبان کا استعمال
انگریزی زبان نے وسیع پیمانے پر عمراور مہارت کی مناسبت میں الفاظ کی فہرستوں کو قبول کیا ہے۔ ہندوستانی زبانوں میں ایسی فہرستیں بہت کم ہیں۔ بہت سی ریاستوں میں نصابی کتابیں، پڑھنے کو متعارف کرانے کیلئے لفظی طریقہ استعمال کرتی ہیں اورانہی سے الفاظ کی فہرست بنتی ہے۔ کرناٹک کے نصاب میں حرفوں کو سیکھنے کی سیڑھی موجود ہے، جسے ہم نے بنیاد کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ابتدائی ریڈرز کیلئے ہم نے بہت زیادہ ان چیزوں پر انحصار کیا ہے: شعری تصنیف، مکرر، ہمقافیہ الفاظ اور اجتناب- ہمقافیہ الفاظ محض سننے کیلئے ہی اچھے نہیں ہوتے ہیں بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کے قافیوں کی ترتیب کو پہچاننے اور ان سے لطف اٹھانے کی صلاحیت ایک اہم ارتقائی سنگ میل ہے- بے معنی الفاظ سے بھی بچے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہ بہت ہی مددگار چیز ثابت ہوتی ہے، جب شروعات میں بچے کی الفاظ کو سمجھنے کی صلاحیت بہت ہی محدود ہوتی ہے۔

ابتدائی ‘ریڈرز’ میں آغاز کیلئے الفاظ کی کل تعداد سات یا آٹھ کے آس پاس ہوتی ہے، جو دو اور تین حرفی الفاظ ہوتے ہیں اور گرامر کا بنیادی اسٹرکچر استعمال کیا جاتا ہے-

اس کے بعد ہم حروف علت اور حروف غیرعلت کے محدود مجموعہ کے ساتھ اگے بڑھے اور آخر میں ان الفاظ کی طرف جن میں تاکید اور ترکیب ہے- چونکہ کرناٹک اور چھتیس گڑھ دونوں ہی ملٹی گریڈ- ملٹی لیول (ایم جی ایم ایل) اسکیم کو نافذ کررہے ہیں، لہذا سیکھنے کی سیڑھی[لرننگ لیاڈر] میں کلاس 1 سے کلاس 2 کیلئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

الفاظ کی فہرست تیار کرنا
اگر ایک نئی الفاظ کی فہرست بنانی ہے تو، یہاں کچھ ایسے طریقے ہیں جن کو ہم نے استعمال کیا ہے- اساتذہ اور کلسٹر ریسورس پرسن جوکنٹینٹ ڈویلپمنٹ ٹیم کا حصہ تھے، انھوں نے اسکول کے راستے، گھر پر، کھیل کے میدانوں میں بچوں کی بات چیت کو سنتے ہوئے کئی دن گزارے اور انکے استعمال کردہ الفاظ کے ذخیرہ کو لفظ بہ لفظ قلمبند کیا۔ اس کے بعد اس جامع فہرست کو اسم، صفت، فعل وغیرہ میں الگ کیا گیا- ہمارے ابتدائی ریڈرز میں بڑے پیمانے پر ‘اسم’ استعمال ہوئے ہیں اور پھرآہستہ آہستہ اجزائے کلام کے دوسرے حصوں کو بھی شامل کیا گیا- اس فہرست نے ہمیں ان موضوعات سے بھی واقف کرایا جو اس عمر کے بچوں کیلئے دلچسپ ہیں۔ ایک اور طریقہ ہے جس میں بچوں کی کئی طرح کی ادب اور کہانی کی کتابیں، بچوں کے رسائل، درسی کتابیں اور عام الفاظ کی فہرستیں تیار کرنے کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے- اس فہرست کا تجزیہ الفاظ کی تکرار سے متعلق کیا جا سکتا ہے۔ اسے کچھ جگہوں پر ‘سیکھنے کی سیڑھی’ بنانے کیلئے ایک رہنمائی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے- ذخیرہ الفاظ پر خود ساختہ حدود اور ریڈر کی طوالت کی وجہ سے ابتدائی ریڈرز کو لکھنا ایک مشکل کام ہے۔

ان مشقوں کے دوران، بولیوں میں علاقائی تغیرات کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا۔ چونکہ پوری ریاست کے لئے کتابیں مرکزی طور پر پرنٹ کی جاتی ہیں، لہذا سب سے کم پیچیدہ طریقہ یہ ہے کہ یکساں مواد استعمال ہو۔ جبکہ دوسرا حل علاقائی تغیرات کو شامل کرنے کیلئے مقامی طور پر پرنٹ کیا جائے۔ چھتیس گڑھ کی نسبت کرناٹک میں زبان کے علاقائی اختلافات کم ہیں۔

اس کے جزوی حل ہوسکتے ہیں اور اس کا انتخاب مقامی تحفظات کے لحاظ سے کرنا پڑتا ہے- کنڑا کی ریڈرز میں، ہم نے ‘پکشنری’ تکنیک استعمال کی ہے۔ مثال کے طور پر، ابتدائی ریڈر میں ہم نے غسل کے لئے جھلکا لفظ استعمال کیا حالانکہ یہ لفظ ریاست کے کچھ حصوں میں ہی ادب میں استعمال ہوتا ہے – ہم نے اسے لفظ کے ساتھ ساتھ تصویر سے بھی ظاہر کیا-

لفظ ‘سنان’ جو کہ باقی ریاست میں عام ہے استعمال اس لئے نہیں کیا گیا کہ اس میں دو حرف غیر علت کا مرکب ہے جس کیلئے بچے میں اعلی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بچے کے سیکھنے کے اس مرحلے پر مناسب نہیں ہے۔ چھتیس گڑھ میں، ‘مشترکہ ریڈر’ کے بائیں جانب والے صفحے پر مقامی لہجے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جسے ٹیچر کلاس میں بلند آواز میں پڑھیگا۔ دائیں طرف والے صفحہ پر ریاست بھر میں مرکزی دھارے کی زبان استعمال کی گئی کیونکہ یہ عمومی طور پر لکھنے میں استعمال ہوتی ہےاور بچہ بالغ ہو کر بالآخر یہی زبان استعمال کریگا۔ حقیقت یہ ہے کہ لہجے اور تلفظ میں تغیر (جو صرف بول چال میں واضح ہوتی ہے)، بولی کو ممتاز کرتے ہیں، اور چھپے ہوئے الفاظ لطیف باریکیوں کو واضح نہیں کرتے۔

ریڈرز کا ڈیزائن
بصری اپیل وہ ہے جو بچے کو پڑھنے کے لئے ریڈر کی طرف راغب کرے اس وقت بھی جبکہ بچہ اسے پڑھنا شروع بھی نہ کیا ہو۔ خوشگوار اور شوخ رنگوں کا استعمال اورصاف و واضح تصاویر بچوں کو دلچسپ لگتی ہیں۔ مختلف اسٹائل کی درجہ بندی بچے کو پڑھنے کا ایک بھرپور تجربہ فراہم کرتی ہیں۔ آرٹسٹ، کارٹون اسٹائل، حقیقت پسندانہ اسٹائل یا گرافک اسٹائل استعمال کرسکتے ہیں۔ ایک آرٹسٹ کو مقامی طرز زندگی، ثقافت، تنوع اور صنف سے متعلق حساس رہنا چاہئے۔ جہاں تک ممکن ہو ‘ریڈر’ کو درسی کتاب سے کافی مختلف ہونا چاہئے۔

ایک بار جب کتاب کا بنیادی مسودہ تیار ہوجائے تو مطلوبہ عمر کے بچوں اوراساتذہ کے ساتھ ایک مرتبہ تجربہ کرلینا چاہئے۔ ہم نے اپنی ریڈرز کو لسانی مواد کے ساتھ ساتھ تصویروں کی موزونیت کے جائزے کیلئے ریاست کے مختلف حصوں میں آزمایا-

مجھے ایک واقعہ یاد ہے جب میں نے شمالی کرناٹک کے ہلیال گاوں میں ایک بچے کو ریڈر دکھایا۔ میں نے صفحے پر موجود بھالو کی طرف اشارہ کیا اور اس سے پوچھا کہ بھالو کیا کر رہا ہے۔ بچے نے مڑ کر پوچھا: “کیا یہ بھالو ہے؟! بھالو بھورا نہیں سیاہ ہوتا ہے۔ اور کتا بھورا ہوتا ہے-”

ہمارے اعلیٰ قابلیت والے کارٹون ڈیزائنر آرٹسٹ نے نیشنل جیوگرافک پروگراموں میں دکھائے جانے والے مخصوص بھورے بھالو کی پیش کش کی، اور اس کے ہندوستانی کزن کو نظرانداز کردیا! اس ردعمل کی بنیاد پر آرٹسٹ نے تصویر بدل دی۔ اور ہم نے کلاس 3 اور 4 کے بچوں کو بھی ‘ریڈرز’ دکھایا۔ انہوں نے بائیں ہاتھ والے صفحات پر اساتذہ کیلئے دئے گئے طویل متن کو پڑھنے میں زیادہ دلچسپی دکھائی۔

کلاس 1 اور 2 کے لئے کل سو [100] ریڈرز تیار کیے گئے، جو آج کرناٹک میں ” نلی کلی ” پروگرام کے درس و تدریس کے مواد کا حصہ ہیں-

پڑھنے سے پرے
‘ریڈرز’ کے ارد گرد کئی سرگرمیاں ڈیزائن اور تیار کی جاسکتی ہیں۔ چھوٹی ورک بک کو ڈیزائن کرنا آسان ہے جہاں بچوں سے کہانی کی تفہیم کے ساتھ ساتھ ان کی مثال (السٹریشن) کی وضاحت کے بارے میں بھی سوالات پوچھے جاسکتے ہیں۔ اس طرح ‘ریڈرز’ تحریری اور فہم صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہیں-

پرنٹ ۔ رچ کلاس روم ماحول بنانا
یہ مشہور اصطلاح ان پرنٹ آئٹمز کی درجہ بندی کا احاطہ کرتی ہے جس کے ساتھ بچہ کلاس روم میں گفتگو کرسکتا ہے، اس میں دیوار والے پوسٹر، الفاظ کی تختیاں، بلیٹن بورڈ، چارٹ، نظمیں اور کتابیں شامل ہیں۔اسکے علاوہ پڑھنے اور لکھنے کی جگہ بھی مختص ہو۔ ادب کے مختلف پیرایوں، اشکال اور طوالت والے نمونوں سے بچہ کا باربار تجربہ انہیں باضابتگی سے پڑھنے کی طرف مائل کرتا ہے۔ بچوں کو لازمی طور پر آگاہ ہونا چاہئے کہ اشارے، بل بورڈز، لیبلز، خطوط، شکریہ نوٹ، جیسی طباعت شدہ زبان ان کے آس پاس موجود ہے۔ کتابیں، رسالے، اخبارات، اور یہ پرنٹ بہت سے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔

ہندوستان میں بچوں کے معاشرتی تناظر میں، ریڈرز کے زریعے خواندگی کی ابتدائی تجربات ایک اہم ابتدائی قدم ہونا چاہئے، اور اسی پر پڑھنے سے محبت کی بنیاد رکھی جائے۔

پڑھنے اور بچوں کے ارتقاء کی ماہر سیلی شیویز کے مطابق، جو بچہ پڑھتا ہے، وہ دن میں سات نئے الفاظ سیکھتا ہے جو سال میں تقریباً 2500 الفاظ ہوجاتے ہیں۔ اور یہ زندگی بھر کے لئے علم کا خزانہ ثابت ہوسکتا ہے-

———————————————–

 مصنف: اکشارا فاؤنڈیشن کی منیجنگ ٹرسٹی کنچن بنرجی نے، بنیادی طور پر کرناٹک کے سرکاری ابتدائی اسکولوں میں بچوں کے لئے کام کیا ہے۔ وہ چھوٹے بچوں کے لئے لکھتی ہیں، خاص طور پر دو زبانوں میں کہانیاں بھی -ان سے اس پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:[email protected]

مترجم: سمین رضوی

بشکریہ لرننگ کروسائنس اشو13،عظیم پریمجی فائونڈیشن، بنگلورو

Avatar

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے