آرٹس بطور بنیادی نصاب

اسکولوں میں عموماً   آرٹس  “ایکسٹرا کریکولر”  کے طور پر سکھائے جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آرٹس فالتو ہیں، اور اُس دائرہِ مقدس کے باہر ہیں جِس میں باقی مضامین کا شمار ہے۔ صاف بات تو یہ ہے کہ آرٹس غیر تعلیمی، یعنی “نان اکیڈمک” (non academic)، سمجھے جاتے ہیں۔ اُن کا اختتام بورڈ کے امتحانوں سے نہیں ہوتا۔ تو اگر ہم آرٹس صرف دوپہر کو سکھائیں، جب بچے اپنی باقی کلاسوں کو مکمل کر کے نڈھال جو چکے ہوں اور اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہوں، تو کوئی مسئلہ نہیں۔ “اہم” مضامین مثلاً ریاضی اور زبان (سائنس بھی ان میں شامل ہونے کے قریب ہے) کو ٹائم ٹیبل میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ یہ اہم مضامین صبح پڑھائے جاتے ہیں جب بچوں میں سیکھنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ مجھے ایک ٹائم ٹیبل دکھا دیں جِس میں گیت، رقص، اداکاری یا پینٹنگ کی کلاسوں سے دن شروع ہوتا ہو۔ اگر کسی اسکول کا ایسا ٹائم ٹیبل ہے، تو میں اُس اسکول کو داد دوں گی کہ وہ تعلیم کے مقصد کو سمجھتے ہیں۔

یہ سب محض میری ذاتی رائے نہیں۔ اِس موقعے پر میں دیوی پرساد کے خیالوں کا سہارا لوں گی جو اُنہوں نے اپنی اہم کتاب “آرٹس: تعلیم کی بنیاد” میں پیش کیے۔ دیوی پرساد صاحب گاندھی اور ٹیگور کے خیالوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ گاندھی اور ٹیگور کے تعلیم پر خیالات آج کے بھارت میں بہت اہم پائے جاتے ہیں۔

دیوی پرساد کے مطابق تعلیم کے دو مقاصد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “سماج کے طور طریقے سمجھانے اور اُن پر عمل کرنا سکھانے کے ساتھ ساتھ، تعلیم کا مقصد یہ بھی ہے کہ بچوں میں خودمختاری، خودداری اور آزادیِ خیال پیدا ہو۔”

پرساد اپنی رائے کا خلاصہ کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ “تعلیم عام طور پر اور آرٹ خاص طور پر وہ طریقہ ہے جس سے انسان ترقی کرتا ہے، اور قدرت کی خوبصورتی کا، سماجی طور طریقوں کا اور دنیا میں پائی جانے والی جمالیات کا احساس کرتا ہے۔”

پر کیونکہ ہم عالمگیریت (globalisation) کے دور میں رہتے ہیں اور ہم اپنے بچوں کو اچھی نوکری حاصل کرنے کے قابل بنانا چاہتے ہیں، ہمارا آرٹسٹک تعلیم پر دھیان نہیں رہا۔ تخلیقی آرٹس کے ذریعے ہی بچے اپنی جڑیں مضبوط کر پائیں گے اور زندگی کا مقصد ڈھونڈ پائیں گے، تاکہ وہ دنیا کی مستقل تبدیلیوں کا سامنا کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔ اِس کے علاوہ، تخلیق اکیسویں صدی کا ایک ضروری ہنر ہے، اور اِس ہنر کو سیکھنے کا بہترین طریقہ تخلیقی آرٹس سیکھنا ہے، جنہیں سیکھنے کا اثر دوسرے مضامین کی تعلیم پر بھی نظر آئے گا۔

اگر یہ دلائل تخلیقی آرٹس کو “غیر نصابی” سے “بنیادی نصابی” (core curricular) میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہیں، تو آئیے سوچتے ہیں کہ ایسے نصاب کو کیسے بنایا جائے؟ اور ہم ایسے نصاب کو کس طرح نافذ کر سکتے ہیں کہ ہر بچے کی انفرادی ضروریات پوری ہوں؟

میں استانی اور ماہرِ تعلیم ہونے کہ تجربہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینا چاہتی ہوں۔

نصاب سازی جب دھیان آرٹ پر ہو

سب سے پہلے تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گی کہ نصاب سازی ایسا عمل ہے جس میں اساتذہ کو شامل کرنا ضروری ہے۔ جب اُستانی کو احساس دلایا جائے گا کہ وہ نصاب کی تخلیق کار ہیں تو وہ دل سے اس نصاب کو بچوں کو سکھانے کی خاطر استعمال کریں گی۔ مجھے پتا ہے کہ نصاب بنانے میں بہت وقت لگتا ہے، پر جب اِس عمل میں کسی ماہرِ نصاب کی مدد لی جائے، تو یہ عمل اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے، جِس سے اسکول کے نظام کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

جب اساتذہ اپنے شعبے سے متعلق خیالوں کا اظہار کریں گے اور مل کر فیصلہ کریں گے کہ کیا سکھانا چاہیے، تو بچوں کا گہرائی میں جا کر سیکھنے کا امکان بڑھ جائے گا۔

اگلا قدم اُن موضوعات کو چننا ہے جن کو سکھانے سے تعلیم کا مرکزِ نگاہ آرٹ ہو۔ اِس قدم کو پورا کرنے کے لیے ماہروں سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چنے گئے موضوعات کی ذیل خوبیاں ہونی چاہیے:

  • موضوع بچوں سے متعلق ہونا چاہیے
  • موضوع اساتذہ کے لیے دلچسپ ہونا چاہیے
  • موضوع اسکول کے اجتماعی سیاق و سباق سے متعلق ہونا چاہیے

تینوں نکات پر پورا اترنا مشکل ہے، پر اگر اساتذہ ایک دوسرے سے مشورہ لیں تو ہو سکتا ہے۔ اِس سلسلے میں بچوں سے بات کرنا بھی ضروری ہے۔ اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ اکیڈمک سال کے شروع ہونے سے پہلے نصاب کا تیار ہونا لازمی ہے، اساتذہ بچوں سے نصاب کے متعلق گزشتہ اکیڈمک سال کے اختتام سے پہلے بات کر سکتے ہیں یا پھر حالیہ اکیڈمک سال کے دوران سامنے آنے والے خیالات پر غور کر سکتے ہیں تاکہ اُن موضوعات پر پہنچے جن سے بچوں کا کوئی مطلب ہو۔ اگر نصاب سازی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اساتذہ اپنے شاگردوں سے غیر رسمی گفتگو کریں، تو وہ اپنے شاگردوں سے واقف بھی ہو جائیں گے اور اُن کی ضروریات کو بہتر سمجھ سکیں گے۔ اِس عمل کے اِس حصے پر جتنی تاکید کی جائے کم ہے۔ بچوں کو وہ چیزیں پڑھانا جِن سے اُن کا مطلب ہو اور بچوں سے واقف ہونا کلاسوں میں تعلیم فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

انٹرنیٹ پر بھی بہت سے وسائل میّسر ہیں جن کی مدد سے اساتذہ مختلف موضوعات کے نصاب کو لے کر ایک نصاب بنا سکتے ہیں۔ ان میں سے چند وسائل اِس مضمون کے اختتام میں بھی پیش کیے گئے ہیں۔

موضوع کے انتخاب کے بعد سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیسے ہر مضمون اُس موضوع پر روشنی ڈال سکتا ہے۔ ذہن لگاتے وقت خیالات کو ایک ذہنی نقشے پر ڈالا جا سکتا ہے۔ ذہنی نقشہ ایک خاکہ ہے جس پر معلومات کو تشکیل دیتے ہیں۔ میں آپ کے لیے ایک ذہنی نقشے کی مثال پیش کرتی ہوں جو میں نے خود بنایا ہے اور جو میرے اصلی کام سے کافی ملتا جلتا ہے۔ اِس ذہنی نقشے میں تجویز کردہ مواد دیگر کلاسوں کے لیے ڈھال لیا جا سکتا ہے۔ ڈھالنے کے لیے بہتر ہوگا اگر بین الاقوامی معیارات (www.mcrel.org/standards-benchmarks) یا قومی معیارات (eg. NCERT guidelines) سے رجوع کریں اور درس کو سیکھنے کے  نتیجے کو کسی معیار سے جوڑ دیا جائے جو بچوں کی عمر کے لحاظ سے مناسب ہو۔

آپ اِس ذہنی نقشے کو دیکھ کر سوچ رہے ہوں گے کہ آرٹ اِس کا مرکزِ نگاہ تو نہیں ہے۔ مربوط (integrated) تعلیم کی اِس ترتیب میں، پچی کاری (tessellations) ایک ایسا موضوع ہے جو آرٹ میں بین مضامین ہنر (interdisciplinary skills) کے لیے مناسب ہے۔ ایک اور طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی تاریخی واقعہ جیسے دوسری جنگِ عظیم پر موسیقی، رقص، تھیٹر اور آرٹ کے ذریعے تبصرہ کیا جائے۔

جب ایک مربوط ترکیب کو استعمال کیا جاتا ہے، تعلیم حقیقی دنیا میں زیادہ موثر انداز سے واقع ہوتی ہے بہ نسبت تب جب موضوعات کو دیگر موضوعات سے علیحدہ کر کے سکھایا جائے۔ جب آرٹس کو انضمام (integration) کا مرکز بناتے ہیں، تو وہ احساس جِس کا ذکر دیوی پرساد کر رہے تھے اور زندگی کی جمالی صورتیں فروغ ہوں گی۔ 

ٹیگور اپنی کتاب “تخلیقی اتحاد” میں ہر فرد کی تخلیق کی ضرورت کے متعلق لکھتے ہیں کہ “ہمارے اندر کے اتحاد کی خوشی اور خواہشِ اظہارتخلیقی عمل میں تبدیل ہو جاتا ہے، جبکہ اپنی ضروریات کو پوری کرنے کی خواہش مفید ہے۔ پانی کے برتن کو اگر صرف بطور برتن دیکھا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ اس کے وجود کی وجہ کیا ہے؟ اس کے تعمیر کی فٹنس سے وہ اپنی وجود کا جواز پیش کرتا ہے۔ پر جب اس کو بطور تخلیقِ حُسن دیکھا جائے تو اسے کسی سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنی ترتیب میں ایک ایسا اتحاد افشاں کرتا ہے جس سے ہر وہ چیز جو اُس میں مختلف لگتی ہے، اِس طرح سےمتعلقہ ہو جاتا ہے کہ پر اصرار انداز میں وہ ہمارے اندر کے اتحاد کا ساز بجاتا ہے۔”

آرٹس کو بچوں کی تعلیم کا مرکز بنانے سے نے صرف بچے بخوبی سیکھیں گے بلکہ ہر شاگرد میں ہم آہنگی پیدا ہو گی۔ یہ اکیسویں صدی میں بے حد ضروری ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتاری سے ہونے والی ترقی سے انسانی نفسیات میں عدم توازن پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ جب بنیادی نصاب کا مرکز آرٹ ہو تو بچوں کو نا صرف تخلیقی ہنر بلکہ تخلیقی اتحاد بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔


مصنف: تارا کینی،  انڈیپنڈنٹ کنسلٹنٹ ، تعلیم اور موسیقی ۔ 

مترجم:  سید علی حسن

بشکریہ: لرننگ کرو (آرٹ  کی تعلیم پر خصوصی شمارہ)، عظیم پریم جی یونیورسٹی، بنگلور

Avatar

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے