تدریس کے بدلتے ہوئے تیور : اسکول لرننگ سے ای لرننگ تک

تعلیم کا اسکول سے گہرا تعلق ہے۔ صدیوں سے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ تعلیم و تربیت کے لیے لوگ ایک تعلیمی ادارے سے رجوع ہوتے تھے۔ چاہے انکو گروکل کہا جائے، مدرسہ یا مکتب کہا جائے یا اسکول۔ جہاں استاذ بچّوں کو پیار و محبت سے تعلیم دیتے تھے۔ شفقت و حکمت کے ساتھ انکی تربیت کرتے، ذہنی سطح و معیار کے مطابق اُنکی ذہن سازی کرتے، ان کی استطاعت اور قابلیت کے مطابق ان کی شخصیت کا ارتقاء کرتے، اور اس طرح ان تعلیم گاہوں سے ملک کو ماہرین اور قائدین میسّر آئے ہیں۔ آج تک بھی یہ اسکولی تعلیمی نظام مؤثر تھا۔ ہندوستان میں چالیس کروڑ طلباء اس سے وابستہ ہیں۔ یہاں تقریباً 10,30,996 پرائمری اسکول ہیں، جس میں تقریباً آٹھ لاکھ اسکول دیہی علاقوں میں ہیں، تقریباً 900 یونیورسٹیاں اور چالیس ہزار کالجز ہیں۔

موجودہ حالات کے تناظر میں جہاں کورونا وائرس کی وباء کے باعث تعلیمی ادارے طویل مدت سے بند ہیں۔ ای لرننگ، (E-learning) ایک متبادل کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ ہر جگہ آنلائن کلاسز (Online Classes) پر زور دیا جارہا ہے۔ لیکن کیا یہ جماعتی تدریس کا بدل ہوسکتے ہیں جو ماحول کلاس روم تدریس میں بنتا ہے؟ آنلائن تدریس کے ذریعے گھروں میں بن پائیگا؟ اسکول آکر اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلتے، کودتے سیکھنے میں جو خوشی بچّوں کو میسّر تھی کیا وہ خوشی اي لرننگ کے ذریعے مل پائیگی۔

اسکول میں استاذ بچّوں کی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تدریس کرتے ہیں کیا آنلائن تعلیم کے دوران استاذ کو بچّوں کی نفسیات اور ذہنی کیفیت کو جاننے کا موقع مل پائیگا؟ اس کا امکان بہت کم ہے۔

اسکول ایک ایسا مقام ہے جہاں سیکھنے کے ایک سے زائد مواقع ہوتے ہیں۔ کلاس روم کے علاوہ لائبریری میں مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ لیابروٹری میں تجربات کرنے کا، ثقافتی مقابلوں میں حصہ لیکر اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا موقع ملتا ہے۔ کھیل کے میدان میں جسمانی اور ذہنی صحت کے علاوہ قیادت، ٹیم ورک اور مقابلہ آرائی کی تربیت ہوتی ہے۔ غرض اسکول کے ماحول کے ذریعے جو تعلیم و تربیت ہوتی ہے، جو صلاحیتیں اور مہارتیں پروان چڑھتی ہیں کیا اي لرننگ سے یہ تمام چیزیں حاصل ہوسکتی ہیں۔ تعلیم کا عمل صرف معلومات کا تبادلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک شخصیت سازی کا کام ہے کیا اس مجازی تعلیم (Virtual Teaching) سے ایک حقیقی شخصیت بن پائیگی۔

جہاں اي لرننگ کے اثرات و نتائج پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں وہاں اس کی سہولت اور انتظامات بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے ملک کی اکثریت گاؤں میں رہتی ہے ان دور دراز علاقوں میں بجلی، انٹرنیٹ، اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کی سہولت محال ہے۔ اس طرح  طلباء کی بہت بڑی اکثریت  کا تعلیم سے محروم رہنے یا پیچھے رہنے کا خطرہ رہتا ہے۔

لیکن ان حالات میں تعلیم کا متبادل کیا ہے؟ یہاں پر والدین کا کردار بڑھ جاتا ہے چونکہ ماں کی گود کو پہلی درسگاہ کہا گیا ہے۔ لیکن جدید دور کے تقاضوں نے ماں کو اپنے بنیادی ذمےداری سے دور کردیا تھا آج پھر سے اُسکی  یہ  ذمےداری ادا کرنی پڑیگی۔ دنیا کی بڑی بڑی شخصیات اپنی ماں باپ کی تربیت سے پروان چڑھیں ہیں۔ ایک بڑی عمر تک اُن کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی ہے۔ آج والدین کو اپنے بچّوں کی جسمانی غذا کے ساتھ ساتھ ذہنی غذا کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔ بچّوں کی تعلیم کے لیے خصوصی وقت نکالنا ہوگا۔ غصّہ اور مار کے بغیر اُن کو پڑھنے لکھنے کی طرف راغب کرنا ہوگا۔

درسی کتابیں حاصل کرنے یا انکا پی، ڈی، ایف ڈاؤنلوڈ کرکے، اساتذہ سے ربط میں رہتے ہوئے بچّوں کے تعلیمی عمل کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ بچّوں کو اپنے معلم کا فون کال ڈھیر ساری خوشیوں کا پیغام ہوتا ہے۔ ان کی ذہنی پریشانیوں اور علمی مشکلات کا مداوا ہوتا ہے۔ اگر استاذ والدین کی تربیت یا رہنمائی اس طرح کریں کہ وہ اپنے بچّوں کی تعلیمی نگرانی کا کام انجام دے سکے تو یہ کافی مفید تر ہوگا۔ اسی کو ہوم اسکولنگ کہتے ہیں۔

جن بچّوں کے پاس بجلی یا فون کی سہولت نہیں ہے اساتذہ اُن کے گھروں کو ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ جاکر بچّوں کو کام دیں، ان کی الجھنیں دور کریں اور اُنکی تعلیمی حوصلہ افزائی کریں۔ بچّے استاذ کے دورے سے متاثر ہوکر اور حوصلہ پاکر سیکھنے کے اعمال شروع کرینگے اور خود سیکھنے کے اس عمل کو (Self-learning) یا خود اکتسابی کہتے ہیں۔

اور تیسرا حلقہ اُن بچّوں کا ہے جن کے پاس فون، انٹرنیٹ ،کمپیوٹر کی سہولت ہے اور انکو اپنے تعلیمی عمل کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کو ای لرننگ کہتے ہیں۔ ای لرننگ اصل میں الیکٹرونک آلات کی مدد سے تعلیم حاصل کرنے کو کہتے ہیں جہاں پر استاذ اور شاگرد کو کسی ایک مقام پر جمع ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ٹی،وی کی تعلیمی نشریات، ریڈیو کے تعلیمی پروگرام، موبائل کے تعلیمی ایپلیکیشن، تعلیمی پورٹل یا سائنس، ویکیپیڈیا، گوگل، آنلائن لائبریرس، ای – بکس (E-books) یوٹیوب میں تعلیمی ویڈیوز، آنلائن کلاسز، سوشل میڈیا  کے اجتماعی پلیٹ فارمس، اور گروپس وغیرہ کی مدد سے طلباء ماہرین کے ذریعے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر تعلیمی اصول کے جو بھی متبادل طریقے استعمال کیے جائیں اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ ان کے طریقوں سے تعلیمی مقاصد حاصل ہوں۔ اور ایک ذمےدار، با اخلاق شہری تشکیل پائے۔

Avatar

Author: Khalid Parwaz

تعلیم ایم ایس سی فزکس۔ بیس سال سےپیشہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ بچوں اور نوجواں کی تعلیم و تربیت کے متعلق اخبارات و رسائل میں لکھتے رہتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے تعلیمی معیار اور اساتذہ کی تربیت پر کام کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے