گھر میں خود سے تعلیم، وقت کی اہم ضرورت – حصہ دوم

مصنف : خالدپرواز گلبرگہ

مولانا مودودی  سے پوچھا گیا کہ آپ  سفر میں کونسی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔آپ نے کہا

میں سفر میں کتابوں کا  نہیں بلکہ “کتاب کائنات “کا مطالعہ کرتا ہوں۔

یقینا ً خدا کی بنائی ہوئی عظیم کائنات کو دیکھنا ،اس پر غور و فکر کرنا  ،علم کے دروازوں کو کھولتا ہے۔اس کائنات میں پائی جانے والی مختلف توانائیوں اور قوتوں کا احساس  ،شعور و آگہی کو بیدار کرتا ہے۔قدرت کے کمالات کی جستجو ، اس کے سر بستہ رازوں کو جاننے کی  کوشش ،انکشافات کا ذریعہ بنتی ہے۔اس کائنات میں موجود  غیر معلوم  اور اَن دیکھی چیزوں کی تحقیق   ، دریافت  کا ذریعہ  بنتی ہے۔

مسافر بچّہ کائنات پر غور کرتے ہوئی!

حقیقی تعلیم یہی ہے کہ طلبہ خود اپنی ذات اور کائنات کی حقیقت سے روشناس ہوں ۔احساس و شعور کو بیدار کرکے  تحقیق و جستجو کے ذریعہ  نئے انکشافات اور دریافتیں کر سکیں۔

لیکن  موجودہ دور  میں  تعلیم کے معنی “کسی اسکول کے کمرے میں بیٹھ کر کسی مضمون کی کتاب کے چند سطور یاد کرلینااور امتحان میں اُن یاد کی ہوئی چیزوں کو  لکھ کر اچھے نمبرات  حاصل کر لینا  اور کسی نوکری کے  اہل بننا” تک محدود ہوگئے ہیں۔

لیکن اس کے  ذریعےان میں اوصاف حمیدہ  کی تشکیل ،ایک مضبوط شخصیت کی تعمیر اور ایک کامیاب زندگی گذارنے کے لئے جن مہارتوں کی ضرورت  ہوتی ہے  ،ان صفات کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔

صرف کمرے کے اندر تعلیم محدود اور پریشان کن ہے۔

ہم نے کئی بزرگوں کو دیکھا ہے جو کسی اسکول یا یونیورسٹی کے فارغین تو نہیں ہوتے لیکن اُن میں بَلا کی زکاوت  وذہانت ہوتی ہے۔وہ فرد شناسی و معاملہ فہمی کے  ماہر ہوتے ہیں  ،پیچیدہ سےپیچیدہ  مسائل کو پل بھر میں حل کر دیتے ہیں۔ان میں لوگوں سے رابطے کی غیر معمولی صلاحیت ہو تی ہے۔محلے و گاؤں کے تمام لوگوں کو وہ جانتے ہیں  اور ان سے بہترین تعلقات رکھتے ہیں۔وہ اپنی بات  کو سلیقے سے رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ سند یافتہ تو نہیں ہیں  لیکن   ایک کامیاب زندگی گذارنے کے  تمام ہنر جانتے ہیں۔وہ خواندہ تو نہیں ہیں لیکن ان کو ہم تعلیم یافتہ کہیں  گے  کیو نکہ وہ تمام صفات ان میں موجود ہیں  جو تعلیم کا ماحصل ہوتی ہیں۔ اس  کی دوسری جانب  کوئی لکھنا پڑھنا تو جانتا ہو اور سند یافتہ بھی ہو ،لیکن  اچھے صفات اور صلاحیتوں سے دور ہو تو اس  شخص کو خواندہ تو کہیں گے لیکن وہ تعلیم یافتہ نہیں ہو سکتا۔

موجودہ نسل میں  خواندگی کے ساتھ ساتھ  دیگر تعلیمی محاصل  کے  حصول کی کوشش ہونی چاہیے۔فہم و ادراک  یا کسی معاملے کو سمجھنے  ،اس کی گہرائی میں جاکر اس کا تجزیہ کرنے  کے لئےصلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر مرحلے میں پیش  آنے والے مسائل کا سامنا کرنا  ،اس کے ممکنہ حل کو تلاش کرنا   اور مسئلے  کو حل کرنا،ان کو آنا چاہیے۔زندگی میں پیش آنے والے حادثات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا اور جذبات  کا شکار ہوئے بغیر ذہنی توازن کو قائم رکھنا اور ایک بہتر رویہ پیش کرنا   ان کو سیکھنا چاہیے۔قوت فیصلہ بھی ایک اہم صفت ہے  جو زندگی کے ہر موڑ پر جس کی ضرورت  ہوتی  ہے۔ صحیح فیصلہ نہ کرنا  بہت نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔

اپنی بات کو  اچھے انداز میں کہنا اور اپنے مافی الضمیر  کا اظہار  کرنا ،دباؤ کے وقت بھی اپنی زبان پر قابو رکھنا  ایک اہم  قابلیت ہے ۔

دوسروں سے رابطہ رکھنا   ،ان کی توقیر کرنا ، ان کی بات کو سننا،ان کے نقطہ نظر کو سمجھنا ، ان  کے درمیان   آنے والی دراڑوں کو پاٹنا بھی ایک اہم  مہارت ہے جن کو بچوں میں آنا چاہیے۔ مل جل کر کام کرنے کا ملکہ  بھی آج کی ضرورت ہے۔ٹیم اسپرٹ کے بغیر کوئی مہم بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔کسی ادارے یا کمپنی میں اس صفت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔تخلیقیت و قیادت کے اوصاف بھی آج کے دور کی مانگ ہیں۔یہ تمام زندگی کی مہارتیں  کا بچوں کی تعلیم و تربیت کے محاصل ہونا چاہئے۔

خود سے سیکھ کے ہی خود اعتمادی جنم لیتی ہے۔

صفات کے حصول کے لئے اساتذہ کی تربیت ضروری ہے کہ وہ معلومات کے تبادلہ کو ہی تعلیم نہ سمجھیں بلکہ  ان صلاحیتوں اور اوصاف کو بھی ان کی شخصیت کا حصہ بنائیں۔والدین کا کردار بھی اس میں بہت اہم ہے،   چونکہ بچے زیادہ وقت گھر میں گذارتےہیں اور گھر والوں کو دیکھ کر ہی بہت ساری چیزیں سیکھتے ہیں۔

آئیے دیکھیں  زندگی کی مہارتوں کی تشکیل بچوں  میں کیسے کی جائیے:۔

 سب سے پہلے خود آگہی ، جو شخصیت کے ارتقاء کے لئے اور اس کو صحیح سمت میں پروان چڑھانے کے لئے ضروری ہے؛ یہ بتلاتی ہے کہ فرد میں کون کون سی  خوبیاں اور کون کون سی کمزویاں ہیں،وہ کن باتوں میں دلچسپی لیتا ہے اور کن چیزوں میں  دلچسپی نہیں لیتا،کون سے کاموں کو بہتر طریقے سے کرسکتا ہے  اورکون سے کام اس کو بھاری لگتے ہیں۔اپنی خوبیوں،خامیوں،دلچسپیوںاور صلاحیتوں کو جاننے کا نام ہی خود آگہی ہے۔

اس کے لئے  ان کو الگ الگ کام کا موقع دیا جائے۔کام کے دوران وہ اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جان سکتے ہیں۔اگر بچے اسکول میں یا گھر میں مختلف مقابلوں میں حصہ لیں گے ،تحریری ،تقریری ،ڈرائنگ ،نظم گوئی ،ماڈل سازی ہو یا کھیل کے مقابلے ہوں،اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں مختلف دن منانے ہوں یا مہمات ؛ ان میں حصہ لینے سے بچے یہ جان سکتے ہیں کہ وہ کس میدان کے لئے مفید ہیں ۔

اسکول یا گھر کے تقریبات میں  بچوں کی شمولیت ان کے لئے خوشی کا سبب بنتی ہے، ساتھ میں مختلف  صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی وجہ بھی  ہو سکتی ہے۔

تقریب کی منصوبہ بندی سے سامان کی خریدی تک،مہمانوں کے انتظام سے پکوان کی نگرانی تک  ،اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام بچوں میں  خود اعتمادی  کا ذریعہ بنتے ہیں ، اس کے دوران منصوبہ بندی، قوت فیصلہ ،ٹیم ورک اور لوگوں سے رابطہ کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔

اسکول یا گھر کے معاملات میں بچوں کو شامل کرنا ،  مجلسوں میں ان کو بڑوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع دینا  ،ان سے مشورہ لینا  ، ان میں غور و فکر کرنے ،معاملہ فہمی اور مسائل کی  حل کی قابلیت پیدا کرتا ہے۔

بچے کام سے سیکھتے ہیں۔ مختلف کام دے کر سیکھنے کے عمل کو دلچسپ بنائیں اور موثر بھی۔ اس کے ذریعےان میں معلومات کی گہری سمجھ پیدا ہوتی ہے۔ایساطریقہ  تدریس  جسکے ذریعہ بچوں  کو مختلف کام دے کر ان میں زندگی کی مہارتیں پیدا کی جاتی ہیں اس کو  “پروجکٹ لرننگ “کہتے ہیں ۔ اس کے تعلق سے اگلے مضمون میں تفصیل سے  جانیں گے۔

Author: Khalid Parwaz

تعلیم ایم ایس سی فزکس۔ بیس سال سےپیشہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ بچوں اور نوجواں کی تعلیم و تربیت کے متعلق اخبارات و رسائل میں لکھتے رہتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے تعلیمی معیار اور اساتذہ کی تربیت پر کام کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے