ماں کی ریاضی اور تخمینہ کا فن

تصنیف – ناٹ رام چندرن
ترجمہ – سید نثار احمد
اس مضمون پر ایک نظر ڈالیے اور پرنٹ ہو سکنے‌والے‌ حروف کا اندازہ ‌لگائیے۔
ریاضی ایک حتمی سائنس ہے کیونکہ اس کے بنیادی عناصر ‌یعنی اعداد اور عوامل حتمی ہوتے ہیں۔ریاضی کے برعکس لسانیات میں (تحریری یا‌ تقریری ) مختلف توجیہات و توضیحات ‌کا امکان ہوتا ہے۔ مثلاً دو لوگ ایک ہی اخباری مضمون پڑھ کر مختلف نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ لیکن ریاضی اپنے آپ‌ میں حتمی اور منطقی طور پر خود مکتفی ہے۔ بالفاظ دیگر کبھی بھی اور کہیں بھی عدد ۲ ہمیشہ عدد ۷ سے کم رہے گا۔ جمع کے عمل کا‌ حتمی اور مستقل جواب ہو گا۔ لیکن لفظ sky blue مختلف انداز کے کئَی توجیہات پیش کر سکتا ہے۔
جان ڈون کا‌یہ شعر
“And therefore never send to know for whom the Bell tolls; it tolls for thee”
مختلف جذبات ابھار سکتاہے ۔
ان‌احساسات کے باوجود تصوراتی ریاضی( Abstract Mathematics) حقیقی دنیا میں ایک استثنا ء ہے۔جس‌طرح ہم‌ریاضی کے امتحان میں دیکھتے ہیں اس طرح سے روز مرہ کی ہماری زندگی نظریاتی مسائل ، بیان اور مکمل اطلاعات کےساتھ خود کو پیش نہیں کرتی ۔ریاضی کا عملی استفادہ ریاضی کی سائنس کو تخمینہ کے فن کے ساتھ ملا کر ہم آہنگ کرنے میں ممکن ہے۔ تخمینہ، یعنی کسی ایسی شئے کے‌متعلق واقف کاری کے ساتھ اندازہ لگانا جسے کوئی جانتا نہ ہو ، موروثی طور پر ایک مبہم عمل ہے اور اسی لئے خطا‌کا‌محتمل بھی ۔ بہرحال حتمی سائنس کو ایک مبہم فن کے ساتھ ملانے سے ریاضی کی قوت اور اہمیت بڑھتی ہے۔
جب میری والدہ کھانا پکاتی تھیں تو مجھے تعجب ہوتا تھا کہ وہ اپنے پکوان میں نمک صحیح مقدار میں کس طرح ڈالتی ہیں۔ باوجود یہ کہ اُنہیں مختلف مقدار میں کھانا تیار کرنا ہوتا تھا یا‌جب کوئَی نیا پکوان ہوتا جس میں عمومی صلاح ہوتی ہے « نمک حسب ذائقہ»۔ لیکن میں نے سمجھ لیا کہ یہ ان کے زمانہ دراز کے پکوان کے تجربے اور ان کی صلاحیت سے حاصل ہوا ہے جس نے ان میں نمک کی پیمائش کی قابلیت پیدا کی ( اور یقیناً خوش قسمتی کی ایک چٹکی تا کہ اس معاملے میں ہمیشہ صحیح رہیں )۔
مایئں (اور دوسرے لوگ ) حساب کتاب میں اندازے لگاتے ہیں اور قیاس و ظن‌ سے کچھ عملی قواعد قائم کرتے ہیں جہاں متعلقہ معلومات کم ہوتی ہیں ، نہیں ہوتی ہیں، یا ان کو حاصل کرنے میں لگنے والی محنت اسکے نتیجے سے کہیں زیادہ مطلوب ہوتی ہے۔
جانتھن سوِفٹ « گلور کا سفر » ( Gulliver’s travel) میں واضح طور پر تشریح ‌کرتے ہیں کہ کس طرح للی پٹ (Lilliput)کے جزیرے میں رہنے والے چھوٹے چھوٹے لوگوں نے ( جو کہ گلور کی جسامت سے ۱۲ گنا چھوٹے تھے ) گلور کے لئے ایک قمیص کی سلائی کرڈالی۔
“پھر انھوں نے میرے داہنے انگوٹھے کی پیمائش کی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ریاضی کے حساب کے مطابق کلائی انگوٹھے‌کی‌ گولائی سے دوگنی ہوتی ہے۔ اور اسی طرح گردن اور کمر ، اور میرے پرانے قمیص کی مدد سے جسے میں نے زمین پر بچھا کر دکھایا تھا، انھوں نے بالکل میرے ناپ کی قمیص تیار کر دی۔ ایسا لگتا ہے کہ سوفٹ کے للی پٹ کے پاس کپڑے سینے اور تخمینے کا کا فی بہتر ہنر تھا۔
ایک کرکٹ کے بلے باز کی صلاحیت پر غور فرمائیے کہ کس طرح وہ فن اور ریاضی کی سائنس کا اشتراک کرتا ہے ۔ اسے گیند‌ کی رفتار کا تخمینہ لگانا ہوتا ہے۔ اور اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ کتنی دیر میں یہ گیند اس تک پہنچے گی ۔ اس کے علاوہ گیند کا‌ گھماؤ ‌کہ یہ‌کس‌ طرح آئے گی۔
( مثلاً فل ٹاس ، ان سُونِگ وغیرہ)۔
اور پھر اس کو مناسب زاویے میں بلے پر زور دینا ہوتا ہے تا کہ گیند باؤنڈری لائن کے باہر جا سکے ۔ ان باتوں کے تخمینہ میں ہونے والی ایک چھوٹی سی لغزش کا مطلب ہوتا ہے کہ گیند چھوٹ جائے گی یا پھر اسٹمپس‌اُڑجائیں گے ۔ ایک اچھے بلےباز کیلئے یہ سارے کام ایک لمحہ میں کرنے ہوتے ہیں۔
سچن ٹنڈولکر اپنی طرف آنے والی گیندوں کے بہترین پرکھ رکھنے والے ہیں، جس‌ نے انہیں قابل ستائش بلے بازبنا دیا۔
ہندوستان میں رائج موجودہ تعلیمی نظام غیر ضروری طور پر تجریدی ریاضی پر زور دیتا ہے جس‌سے اس کے لئے فن اور ریاضی کے مفید پہلو موقوف ہو جاتے ہیں۔ ریاضی کو آلہ کار کی طرح  سکھایا جانا چاہیے جو ماہرانہ طرز پر عملی زندگی ‌میں نافذ ہو سکے۔ ریاضی کو تخمینہ اور حساب کی اصطلاحات میں مفید آلہ کار بنا نے کی صلاحیت اسکول میں ہی پیدا کرنی چاہیے۔ مثلاً طلباء کو بیک وقت مستطیل کا رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ سکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے کلاس روم کا عملی طور پر رقبہ معلوم کرنے کیلئےبولا جائے ۔اسی‌ طرح جیومیٹری میں زاویۂ قائمہ ( right angles) یا وتر ( hypotenuse) بتاتے ہوئے یا عام فاصلوں کی پیمائش کے مختلف اصطلاحات جیسے میٹر، سینٹی میٹر اور کلومیٹر کے متعلق بچوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اپنے آس پڑوس میں اس طرح کے اندازے اور تخمینے لگائیں۔ فاصلہ اور رفتار کے متعلق پڑھاتے وقت مختصر معلومات والے ایسے فرضی سوال دئیے جا سکتے ہیں (مثلاً کسی کو اسکول سے بس اسٹاپ جا کر اپنے پاس والے شہر کو جانے والی بس پکڑنے کیلئے کتنی تیزی سے پیدل چلنا پڑے گا)۔ اس طرح کی عملی مشقیں ہمیں تجرید شدہ تصورات کو نافذ کرنے کے قابل بناتی ہیں۔
کاروبار و تجارت ایک غیر یقینی عالم میں رہتے ہے جس کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔چناچہ انہیں ‌مسلسل تخمینے اور اندازے سے کام ‌ لینا پڑتا ہے کہ مستقبل میں وہ کتنا سامان فروخت کر سکیں گے۔ان‌کی ممکنہ قیمت کیا ہو گی جس میں فروخت کر سکیں ۔اس سے متوقع منافع کتنا ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے اندازے کاروبار کے لئے ضروری ہیں تاکہ وہ اپنا سرمایہ لگائیں (یا نہ لگائیں)۔ اس طرح کی ہلکی پھلکی مشق بچوں سے اس وقت کروائی جائیں جب اُنہیں پیسہ ، سرمایہ، نفع ، مجموعی نفع ، قیمت کی نشاندہی اور قیمتِ فروخت کے بارے میں سکھا یا جا رہا ہو۔اس طرح کی مشقوں سے ریاضی کے تصورات آسانی سے سمجھے جا سکتے ہیں۔تجرید شدہ تصورات کے اطلاق کا شعور پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ آپ کے نو خیز ذہنوں کو تیز تر سوچنے اور حساب کرنے کیلئے ‌پلیٹ فارم مہیا ہوتا ہے۔تخمینہ‌کا‌فن بچوں کیلئے اس پس منظر سے بھی اہم ہے کہ زندگی ہمارے سامنے اس طرح مکمل معلومات کے ساتھ پیش نہیں ہوتی جس طرح امتحان کے سوالیہ پرچوں میں ہوتی ہے۔
تخمینے اور اندازے کی افادیت ، روز مرہ کی زندگی میں اس کے مستقل استعمال سے ہے۔ اگر اس طرح سے عمل کیا جائے تو بچے ریاضی کو ایک تکلیف دہ مضمون نہیں سمجھیں گے جو صرف موٹا چشمہ پہنے ، الجھے ہوئے بالوں والے ریاضی دانوں کیلئے مختص ہو تا ہے۔منطقی اور معقول اندازے قائم کرنا تخمینہ کاری کا اہم جز ہے ۔خطاؤں کے احتمال کو نظر انداز کر تے ہوئے یہاں آپ کیلئے ‌کچھ تخمینے ہیں تاکہ آپ اس میں غور فرمائیں۔
۱) پچاس ‌فلیٹ والے ایک اپارٹمنٹ میں یہاں کے رہنے والے لوگ سالانہ کتنا پانی استعمال کرتے ہیں۔
۲) ایک کارٹون باکس میں ۱۰۰۰ سیب رکھے جا‌سکتے‌ ہیں تو اس کارٹون باکس میں کتنے لیمو رکھ جاسکتے ہیں۔
۳) ہندوستانی آبادی اپنے ناشتے‌کیلئے کتنے پیسے خرچ کرتی ہے۔
۴) دیوالی کے دن ہندوستان میں کتنے فون کالز کئے جاتے ہیں۔
اس مضمون میں پرنٹ ہونے والے حروف ۵۲۹۶ ہیں۔ آپ کا تخمینہ کتنا صحیح تھا؟
————————————————————-
نوٹ: ناٹ رام چندرن ویلیمنگٹن، ڈیلور میں کام کرتے ہیں۔ سورج کے تحت آنے والی لگ بھگ ہر اشیاء کے متعلق ان کی اپنی رائے ہے۔ منجملہ داغِ آفتاب کے۔ان‌کی دلچسپی کے موضوعات میں ارتقائی سائنس، سیاسی فلسفہ، سیکھنا اور ایس پر امن دنیا کو حاصل کرنے کے لئے دہریت کی وکالت کرنا ہے۔اپنے فاضل وقت میں وہ خود کو کارٹون شو ” دی سمپسنس” کے کردار “ہومر سمپسن” سے تشبیہ دیتے ہیں۔
ان سے [email protected]. پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
بشکریہ  لرننگ  کرو، عظیم پریم جی یونیورسٹی، بنگلور
Share:
Avatar

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے