اسوۂ حسؐنہ کی ر و شنی میں – فن تعلیم و تربیت از افضل حسین – باب ششم دوسرا حصہ

اس سلسلے کا پچھلا مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

طریقِ تعلیم

حضورؐ کے اسو ئے سے اس ضمن میں ہمیں مندرجہ ذیل ر ہنمائی ملتی ہے:

طلبہ کو آمادہ کر کے یاان کا تجّس ابھارکر سبق پیش کیا جا ئے۔حضوؐر کو ئی سوال کرکے یا کوئی ادھوری بات کہہ کر لوگوں کے تجّس کو اُبھاردیتے اور اپنی طرف اچھی طرح متوجہ کر لیتے تب کوئی بات پیش فرماتے۔مثلاََ آپؐ کا سوال “سب سے بڑا سخی کون ہے؟”اور پھر جواب دیا،یا منبر  پر چڑ ھتے ہو ئے تین بار ارشادفر مانا:”ہلاک ہوا وہ،ہلاک ہواوہ۔۔۔۔۔”اور واقعہ یہ ہے کہ جب تک طلبہ متجس یاذ ہنی طور پر آمادہ نہ ہوں سبق کی طرف متوجہ ہوہی نہیں سکتے اور طلبہ کی توجہ و دل چسپی  اور انہماک کے بغیر معلم کی کو ششیں نتیجہ خیز نہیں ہو سکتیں۔

  • سبق کا مقصد متعین اورمعلم و متعلم دونوں پر اچھی طرح واضح ہو۔حضوؐر جو کچھ بتانایا سکھا نا چا ہتے تھے اس کا بنیادی مقصد آپ کی نظر میں تو خیر متعین ہو تا ہی تھا خود متعلمین پر بھی اچھی طرح واضح ہوتاتھاکہ وہ کیا کچھ اور کس مقصد سے سیکھنے جار ہے ہیں۔معلم کو بھی اس کا لحاظ ر کھنا چا ہئیے تا کہ دورانِ سبق معلم و متعلم دونوں کا پُورا وقت اور تو جہ اسی مقصد کے حصول کی کوشش میں صَرف ہو اور ادِ ھر ادھربھٹکنے سے بچ جائیں ۔
  • طلبہ کو آمادہ کر کے یاان کا تجّس ابھارکر سبق پیش کیا جا ئے۔حضوؐر کو ئی سوال کرکے یا کوئی ادھوری بات کہہ کر لوگوں کے تجّس کو اُبھاردیتے اور اپنی طرف اچھی طرح متوجہ کر لیتے تب کوئی بات پیش فرماتے۔مثلاََ آپؐ کا سوال “سب سے بڑا سخی کون ہے؟”اور پھر جواب دیا،یا منبر  پر چڑ ھتے ہو ئے تین بار ارشادفر مانا:”ہلاک ہوا وہ،ہلاک ہواوہ۔۔۔۔۔”اور واقعہ یہ ہے کہ جب تک طلبہ متجس یاذ ہنی طور پر آمادہ نہ ہوں سبق کی طرف متوجہ ہوہی نہیں سکتے اور طلبہ کی توجہ و دل چسپی  اور انہماک کے بغیر معلم کی کو ششیں نتیجہ خیز نہیں ہو سکتیں۔
  • سب کچھ ایک ساتھ بتادینے کے بجائے سبق کو مناسب اجزامیں تقسیم کرلیاجائے۔پھرطلبہ کو آمادہ کرکے ایک جز پیش کیاجائےاور اس جزکےذہن نشین ہو جانے کی طرف سے اطمینان کرکے اگلاجز لیا جائے۔حضرت معاذوالی حدیث سے اس ضمن میں پوری رہنمائی ملتی ہے۔اس طرح پُورا سبق بآسانی ذہن نشین ہوجاتاہے۔
  • طلبہ کے لیے حتی الامکان آسانیاں بہم پہنچائے انہیں اتنی مشکلات میں نہ پھنسائے کہ وہ گھبراکر کندھاڈال دیں۔

یَسِّرَ ا وَلاَ تُعَسِّرَا۔(حدیث)

آسانیاں بہم پہنچاؤمشکلات میں نہ ڈالو۔

بتدر یج آسان سے مشکل کی طرف بڑھیں تاکہ بچےبآسانی مشکلات پر قابوپاتے جائیں۔

  • دوران سبق دیکھتارہے کہ توجہ بھٹکنے یااکتا ہٹ پیدا ہو نے نہ پائے،حضوؐر اس کا بڑالحاظ رکھنے تھے اگراس کے آثار محسوس فرماتےتوتھوڑی دیر کے لیے موضوع بدل دیتے یا جتنا بتاچکتے اتنے ہی پر اکتفاکرتے۔
  • موادکی پیشکش کے لیے مندرجہ ذیل طریقوں میں سے موقع و محل کی مناسبت سے کو ئی بھی طر یقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
  • ا۔بات چیت کاطر یقہ        (Conversational Method)
  • ب۔سوال دجو اب  کاطریقہ  (Method  Question Answer)
  • ج۔اخباری یااطلا عی طریقہ (Narrative or Descriptive Method)
  • ۔لکچر ما خیطابت کا طریقہ (Lecture Method

ا۔ بات چیت کا طر یقہ

حضوؐر باتوں باتوں میں بہت سی ضروری معلو مات بہم پہنچا دیتے تھے۔یہ طریقہ بہت ہی دل چسپ،سادہ،فطری اور مفید ہے۔طلبہ نہایت بے تکلفی سے اپنا مطلب بیان کر دیتے ہیں،معلم کو ان کی مشکلات اور ان کے خیالات وجذبات کا ٹھیک اندازہ لگانے میں آسانی ہوتی ہے اور ان کی اصلاح دتربیت  کا فطری مو قع ہاتھ آتا ہے لیکن گفتگومفید اور نتیجہ خیز اسی وقت ہو سکتی ہے جب اس ضمن میں حضوؐر کے اسو ئے کی پوری پیروی کی جائے یعنی

  • گفتگو زیادہ سے زیادہ بے تکلفی کی فضا میں ہو ،تاکہ ہر ایک بےجھجھک اپنامافی الضمیر اداکر سکے البتہ شائستگی کو ہر حال میں برقراررکھاجائے۔
  • پوری توجہ اور خندہ پیشانی سے بات سُنی جائے۔
  • بات کاٹی نہ جائے۔ایک وقت میں ایک ہی شخص بات کرے۔جب تک ایک شخص اپنی بات پوری نہ کرلے بیچ میں بولانہ جائے۔
  • موضوع سے بالکل ہٹی ہوئی،خلاف واقعہ یانامناسب گفتگو ہونے لگے تومناسب انداز سے اصلاح کردی جائے۔
  • دوران گفتگو تعلیم وتر بیت کے جوفطری مواقع ہاتھ آئیں ان سے پورا فائدہ اٹھایاجائے۔
  • بات چیت میں الفاظ تیز رفتاری سے نہیں بلکہ ٹھہرٹھہر کراطمینان سے اداکیے جائیں اور ضرورت ہوتووہ الفاظ یافقرے جن  پرزور دینا ہود و تین بار دہراد ئیے جائیں تاکہ بات خوب ذہن نشین ہو جائے اور ان الفاظ یا ٖفقروں کی اہمیّت بہ خوبی محسوس ہو نے لگے۔
  • گفتگو میں مخاطب کی استعدادذوق اور ضرورت کی حتی الامکان ر عایت کی جائے۔

ب:۔سوال و جواب کاطریقہ

بہت سی باتیں حضوؐراس طریقے سے بھی ذہن نشین کراتے تھے۔جوکچھ بتانا ہوتااسے پہلے سوالات کی شکل میں رکھتے اور پھر صحیح جواب ارشا دفرماتے دوسروں کو بھی آزادی سے پو چھنے کامو قع دیتے۔البتہ لغواور لایعنی سوالات سےیاتو مناسب انداز میں منع فرمادیتے یا صَرف نظرکرجاتے۔غیرمتعلق سوال ہوتاتوبات ختم کرنے کے بعد علیٰحدہ سے جواب ارشادفرماتے۔یہ طریقہ بہت مفید ہے۔اس میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ متعلم کاذہن سوال کاحل ڈھونڈنے میں پُورازور لگادیتاہے پاکم از کم پوری توجہ اوریکسوئی  سے اس کاجواب سننے پرآ مادہ ہوجاتا ہے۔اس ضمن میں آپؐ کے اسوئے سے حسبِ ذیل رہنمائی ہوتی ہے:

  • سوالات مختصراور جامع ہوں۔نیزوا ضح الفاظ میں پو چھےجائیں تاکہ مخاطب اچھی طرح سمجھ جائیں کہ ان سے پوچھاکیاجارہاہے اور سوال کے الفاظ بھی  ز بان پرچڑھ جائیں تاکہ جواب سو چنے یاسُن کر خوب سمجھنے میں مددملے۔جب تک سوال ا چھی طرح مستحضر نہ رہے نہ توپوراجواب دیاجاسکتا ہےاور نہ دوسرے کاجواب بہ خوبی سمجھ میں آسکتا ہے۔
  • سوال پو چھنے  کاانداز ایساہو کہ  ہر ایک کان کھڑے کرے۔ہمہ تن متوجہ ہوجائے اور ذ ہن جواب سوچنے یا سُننے پرپُوری طرح آمادہ ہوجائے ۔
  • سوال پو چھنے کے بعدسو چنے کا مو قع دیاجا ئے پھر خندہ پیشا نی سے جواب سُناجائے۔
  • غلط جواب کی تصحیح کر دی  جائے اگر جواب بالکل نہ ملے یا سوال لوٹادیا جا ئے توخود  ہی وضاحت سے جواب دے کر مطمئن کر دیاجائے تجسس بید ار کرکے تسکین کا سامان نہ کرنامضراورمو جب خلجان ہوتا ہے۔
  • طلبہ کو بھی سوالات پو چھنے کے مواقع د یئے جا ئیں کیونکہ جوزیادہ پوچھتا ہے وہ زیادہ سیکھتا ہے۔لیکن لغو یالالعینی سوالات کریں توجھڑ کنے کے بجا ئےیا تو نظر انداز  کر دیاجائے یا مناسب انداز سے روک دیاجائے۔
  • غیر متعلق لیکن مفید اور ضروری سوال ہو توبات ختم کرنے کے بعد علیحٰدہ سے جواب دے دیاجائے۔

ج:۔اخباری اطلا عی یا بیا نیہ طریقہ 

 کسی چیز کے بارے میں کچھ بتانا ہو تایاکوئی واقعہ سُنانا ہوتاتوآپُ کبھی کبھی سادہ اخباری یااطلاعی انداز بیان اختیار فرماتے تھے۔لیکن آپؐ کا بیان مندرجہ ذیل خصوصیات کا حامل ہوتا تھا۔ 

  • احتصار:۔آپؐ بیان کو بہت طول نہیں دیتے تھے بلکہ اختصار ملحوظ رکھتے تا کہ لوگ اُ کتا ئیں نہیں۔
  • منظر کشی:الفاظ میں ایسی منظر کشی فرماتے کہ ان دیکھی حقیقتیں ایسی معلوم ہو تیں گویا سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
  • تشبیہات و تمثیلات کے ذریعے وضاحت:بات کو اچھی طرح واضح کرنے کے لیے نہایت موزوں اور بر محل تشبیہات وتمثیلات سے کام لیتے تھے جس سے اس کاہر پہلو بآ سانی سمجھ میں آجاتاتھا۔
  • موقع ومحل کی منا سبت سےلب و لہجہ،اتارچڑھاؤاور الفاظ،فقروں پرزور:آپؐ کے اس اہتمام کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ آپؐ جوکچھ پیش فرماتے اس کی اہمیت اور شدت پورے طورپر ذہن نشین ہو جاتی۔
  • چہر ے،بشرے،حرکات وسکنات،جذبات و تاثرات کے ذریعےکیفیت  پیدا کر نے کی کو شش:جس طرح کاتاثرآپؐ دیناچاہتے اس کاتاثرسب سے پہلے آپؐ اپنے اوپر محسوس فرماتے چنانچہ آپؐ کی اس کیفیت کاسا معین پر بھی گہرااثر پڑ تا۔ظاہر ہےبات جب دل سے نکلتی ہے تو متا ثرکرکے چھوڑتی ہے۔
  • حسب ضرورت عملی نمو نہ یاروزمرہ کی زندگی پراس کا عملی انطباق:آپؐ کوئی بات زبانی یااصولی طورپر بتادنیے ہی پر اکتفانہ فرماتے بلکہ ضرورت اور مو قع ہو تاتو کرکے دکھاد یتے یاروزمرّہ زندگی پر اس کا عملی انطباق اور زندگی سے اس کا تعلق بھی طرح سمجھاد یتے تھے۔

معلم کو بھی اپنے بیا نیہ اسباق میں ان باتوں کالحاظ رکھنا چاہئیے۔

د:لکچر یا خطابت کاطریقہ 

حضورؐ کاعام اندازِ بیان خطیبا نہ تھا۔اجتماعی تعلیم و تربیت میں آپؐ عمومًااسی طریقہ سے کام لیتے تھے۔آپ جب خطبے کے لیے کھڑے ہوتے  تو مجلس پر سناٹا چھاجاتا۔بہت ہی مختصر اور جا مع خطبہ ارشاد فرماتے۔آپ کے خطبے نہایت زوردار،جوشیلے اورمؤثر ہوتےتھے۔انداز بھی انتہا ئی جوشیلا اور جذبات میں تلاطم پیدا کرد ینےوالا ہو تا تھا۔موقع محل کی منا سبت سے آواز میں اُتار چڑھاؤ یا سوز وگداز ہوتا۔جسم کی حرکات و سکنات، چہرے بشرے اور آنکھوں سے آپؐ کے قلبی تاثرکا پُورا اظہار ہو جاتا تھا۔چنانچہ سامعین بے حد متاثر ہو تےتھے۔صحابہ کرامؓ میں اثیار و قر بانی،جوش وجذبے اور حسن عمل کی بے پناہ قوتوں کی نشوونما میں آپؐ کے خطبات کو بھی بہت کچھ دخل تھا۔لکچرکا طریقہ اپنا نے میں معلم کو بھی ان خصوصیات کا لحاظ رکھناچاہئیے۔

توضیح و تشریح

حضوؐر اپنی بات کوواضح اور اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے لیے حسبِ ضرورت مندرجہ ذیل طریقے اختیار فرماتے:

  • عملی نمو نہ پیش فرماتے،کرکےدکھاتے یا ہاتھوں انگلیوں وغیرہ کے اشارے سے بتاتے تھے۔
  • کبھی کبھی ریت پر نشانات بناکراپنامدعاواضح فرماتے۔
  • کسی جانی پہچانی چیزسے تشبیہ دے کربات ذہن نشین کراتے۔
  • کسی موزوں کہانی،واقعہ چٹکلہ یا تمثیل سے مددلیتے۔
  • اس کی ضدسے مقابلہ کر کے فرق کوا چھی طرح واضح فرماتے۔
  • حسبِ ضرورت ایک بات کو مکرر سہ کرربیان فرماکر خوب ذہن نشین کراد یتے۔

معلم کو بھی ان چیزوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاناچاہئیے۔

متعلمین سے برتاؤ

متعلمین کے ساتھ بھلا ئی سے پیش آنے کی حضوؐر نے وصیّت فر مائی ہے آپؐ کا اسوہ مبارک یہ تھا:۔

  بچّوں  کے ساتھ آپ کابرتاؤ تواور زیادہ شفقت آمیز تھا۔آپ بچّوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے،خودسلام کر تے،ان کے سروں پر ہاتھ پھر تے۔گود میں اُ ٹھالیتے۔ کند ھے پر بٹھالیتے۔پیارکر تے۔دُعائیں دیتے،ان کی دل چسپی کی با تیں کر تے بچوں کو قطار میں کھڑ اکر کے انعا می دوڑ کرا تے۔بچے دوڑ کر سینے اور پیٹ پر گر پڑ تے آپ بخوشی انگیز کر تے۔خو ش طبعی اور دل لگی کے کلمات فرماتےکھا نے پینے میں شر یک کر تے۔پیارسے ادب و آداب سکھا تے۔راستے میں ملیں توا پنی سواری پر بٹھا لیتے۔غلطی کریں تو سمجھا کر معاف کر دیتے، بچّوں کو پیٹنے سے منع فر ما تے۔ان کے معا ملے میں باربار عفو درگزرسے کام لینے کی تلقین کرتے۔حالتِ جنگ میں بعص صحا بہؐ نے غیر مسلموں کے چند بچّوں کو قتل کر دیا۔آپؐ نے سُنا تو بہت ر نجیدہ ہو ئے۔چہرے کارنگ بدل گیا۔

  • مسکر اتے ہو ئے خذہ  پیشانی سے ملتے۔نرمی و ملاطفت سے پیش آتے۔
  • ان کی عزّت نفس کا ہمیشہ خیال رکھتے۔آپؐ نے کبھی کسی کی تحقیر یا تذ لیل نہیں کی۔
  • ان کی دلداری کے لیے خوش طبعی اور مہذّب ظرافت سے بھی کام لیتے۔ 
  • بیمار ہوں توعیادت اور پُر سہ کے لیے جاتے،مزاج پو چھتے،تسلّی دیتے،دعا فرماتے۔
  • ان کی استعداد،ذوق اور دل چسپی کی رعایت فرماتے۔گفتگو،تقریر یاوعظ و تلقین کو کبھی ان پر بار نہ ہو نےدیتے۔عدم دل چسپی  کااحساس ہو تا تو مو ضوع بدل دیتے یا سلسلہ ختم کر دیتے۔
  • ہرایک کی بات غورسے سُنتے۔اچھی بات پر تحسین فرماتے۔نامناسب گفتگو پر مطلع فرمادیتے۔
  • کوئی ادب کی حدود سے تجاوز کر تاتوکمال حلم سے برداشت فرماتے،ناپسند بات پر تغافل فرماتے اور ٹال جاتے۔
  • ان کے سوالات کے تشفی بخش جواب دیتے۔لغو یا فضول سوالات سے ،منع فرمادیتے یا نظر اندازکرجاتے۔
  • کوئی خامی دیکھتے تو عمومی اندازمیں ٹوکتے یادر حدیثِ دیگراں توجہ دلاتے۔
  • ان کے دُکھ درد میں کام آتے۔ڈھارس بندھادیتے۔ناداروں کی خود بھی مدد کر تے اور صاحبِ استطاعت صحابہ﷜ سے بھی مددکراتے۔
  • ان کے سا تھ روابط میں غیر معمو لی یگا نگت،قُرب اور لگاؤ کاثبوت دیتے،ان کے برابیٹھ جا تے،سینے  سے چمٹاکردعائیں د یتے۔دونوں کند ھوں پرہاتھ رکھ کر نہایت شفقت اور دل سوزی سے تلقین فرماتے،کبھی کبھی اپنے کھانے پینے میں شریک کر تے۔
  • کوئی فر دکسی طرح کی کوئی معمولی خدمت بھی بجالا تومتشکر ہو تے اور دُعادیتے۔
  • مجلس کے ایک ایک فرد پرجہ فرماتے تاکہ کسی کوتفوق یا ترجیحی سلوک کااحساس نہ ہو،ہر ایک یہی محسوس کرتاکہ آپ کومجھ سے غیر معمولی انس ہے۔
  • بچّوں کے ساتھ آپ کابرتاؤ تواور زیادہ شفقت آمیز تھا۔آپ بچّوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے،خودسلام کر تے،ان کے سروں پر ہاتھ پھر تے۔گود میں اُ ٹھالیتے۔ کند ھے پر بٹھالیتے۔پیارکر تے۔دُعائیں دیتے،ان کی دل چسپی کی با تیں کر تے بچوں کو قطار میں کھڑ اکر کے انعا می دوڑ کرا تے۔بچے دوڑ کر سینے اور پیٹ پر گر پڑ تے آپ بخوشی انگیز کر تے۔خو ش طبعی اور دل لگی کے کلمات فرماتےکھا نے پینے میں شر یک کر تے۔پیارسے ادب و آداب سکھا تے۔راستے میں ملیں توا پنی سواری پر بٹھا لیتے۔غلطی کریں تو سمجھا کر معاف کر دیتے، بچّوں کو پیٹنے سے منع فر ما تے۔ان کے معا ملے میں باربار عفو درگزرسے کام لینے کی تلقین کرتے۔حالتِ جنگ میں بعص صحا بہؐ نے غیر مسلموں کے چند بچّوں کو قتل کر دیا۔آپؐ نے سُنا تو بہت ر نجیدہ ہو ئے۔چہرے کارنگ بدل گیا۔خفگی سے ارشاد فرمایا:

“(وہ بچے) تم سے اچھے تھے۔خبر دار بچوں کو  ہر گز قتل نہ کرو۔”

ایک بچے کو بو سہ دیتے ہو ئے آپُ نے فرمایا:

“یہ بچے تو جنّت کے پھُول ہیں۔”

بچّے بھی آپُ سے  بہت محّبت رکھتے،گلی  کُو چوں میں آپؐ کود یکھ کر اُ چھلنے کُودنےلگتے۔دوڑکرآتے۔آپؐ سے ملتے۔ملِ کر بہت خوش ہو تے اور پُھو لے نہ سما تے۔حضوؐر کے معیاری طر یق تعلیم و تر بیت اور متعلمین کے سا تھ آپؐ کے اسی برتاؤ کانتیجہ تھاکہ ان کے اندر حصول علم کی غیر معمولی لگن  پیدا ہو ئی۔آپؐ کی ہر بات انہوں نے دل سے سُنی۔انتہا ئی خلوص سے ان پر عمل کیا۔ارشاداتِ گرامی کو گرہ میں باندھ لیا۔زندگی بھر یادرکھا،اور آپؐ کی تعلیمات کو دُدسر وں تک پہنچا نے کے لیے تن من دھن سے لگ گئے۔اس راہ میں ہر طرح کا دُکھ جھیلا۔حالات کا پامردی سے مقا بلہ کیا،ہرحال میں حق پر جمے رہے اور اعلاء کلمتہ الحق کے لیے خون پسینہ ایک کر دیا۔اللہ ان سےر اضی ہو آج بھی حالات بدل سکتے ہیں بشر طیکہ معلمین اپنے اندران اوصاف کی جھلک  پیدا کر لیں۔

اس سلسلہ کا دوسرا مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ماخوذ: فن تعلیم وتربیت (مصنف :  افضل حسین )  – باب  ششم

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے