جدید تعلیمی رُ جحانات – فن تعلیم و تربیت از افضل حسین – باب 7

اس سلسلے کا پچھلا مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

باب 7 – جدید تعلیمی رُ جحانات

‏ ‏الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ‏ ‏ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ ‏‏فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا   (ترمذی۔ابن ماجہ)

“حکمت ودانائی کی بات ایک صاحب حکمت اور دانا شخص کی گُمشدہ چیز ہے پس جہاں اسے وہ پائے اس کاو ہی زیادہ حق دار ہے (اسے لے لینا چا ہئیے)”

دنیا کے مختلف ممالک میں آج جن تعلیمی نظریات کاعام طور پر چلن ہے اور جو نظام ہا ئے تعلیم و ہاں مسلّط ہیں دہ اپنی بعض بنیادی خر ابیوں کے با عث اگرچہ انتہا ئی قابلِ اصلاح ہیں لیکن طویل تجر بات و مشا ہدات اور بچّوں کی نفسیات کے مطا لعہ کی رو شنی میں چندایسے رُ جحانات ابھر کر سا منے آر ہے ہیں جو مفید ہیں اور اسلا می تعلیمات سے ٹکر اتے بھی نہیں اس لیے خذ ما صفادع ماكدر کے اُ صول پرانہیں اپنانے کی کو شش کرنی چا ہئے مثلاً،

1۔ تعلیم کے مقصد و مفہوم کو، لکھنے پڑ ھنے تک محد د ورکھنے یا چند کُتب،مضامین اور فنون میں طلباء کومہارت پیدا کرادینے کے بجائے اس میں مزید وسعت دی جائے۔یعنی 

ا۔تعلیم کے ذر یعے طلبہ کی شخصیّت کے تمام پہلوؤں (ذہنی و جسمانی،عملی واخلاقی جذباتی و رُوحانی)کی ہم آہنگ نشوو نمااور متو ازن ارتقاء۔

ب۔انفرادی دا جتما عی دو نوں حیثیتوں سے طلبہ پر جوذمہ دار یاں عا ئد ہو تی ہیں، انہیں کما حقہ،انجام د ینے اور مل جُل کر کام کرنے کی صلا حیّت۔

ج۔خود اعتمادی کا جذ بہ،صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیّت اور روز مرہّ کے کاموں کو بلا جھجک انجام دینے پر قدرت۔

د۔فرصت کے اوقات کو مفید مشاغل میں استعمال کرنے کی عادت۔

ہ۔طلبہ اور اساتذہ دونوں میں تحقیقی اسپرٹ اور مزید معلومات حاصل کرنے کی تڑپ۔

2۔نصاب،مضامین یادرسی کتب کے بجا ئے بچہ کو مر کزی حیثیت اور بنیادی اہمیت دی جائےیعنی،

۱۔یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہے کہ تعلیم بچے کے لیے ہے نہ کہ بچّہ تعلیم کے لیے،تاکہ ساری تعلیمی کو ششیں بچے کو مختلف حیثیتوں سے فائد ہ پہنچانے کے لیے ہوں نہ کہ بچے کو تعلیم پر قربان کر نے کے لیے۔            

ب۔مستقبل کی تیاری کی فکر میں  بچوں کی موجودہ دلچسپیوں کویکسر نظر انداز نہ کر دیاجا ئے۔ورنہ اس کار دِّ عمل شدید ہو گااوروہ مقصد ہر گز حاصل نہ ہو گا۔جس کے لیے اسے حال کی مسرتوں سے محروم کیا جارہاہے بلکہ شخصیت کے بعض پہلو مجروح ہوں گے اور متوازن ارتقاء ہرگز نہ ہو سکے گا۔

ج۔بچے کی عمر،ذہنی صلاحیت،جسمانی حالت،اس کی ضروریات اور گھر یلو ماحول کو ملحو ظ ر کھ کر تعلیم دی جا ئے۔

د۔طلبہ کے مابین انفرادی فرق اوران کے مخصوص میلانات ور جحانات پیش نظر رہیں۔پوری جماعت کے بجا ئے ہر بچے کوعلیٰحدہ اکائی تسیلم کیا جائے۔اس کی انفرادیت کالحا ظ اور اس کی شخصیت کااحترام کیا جا ئے۔نیز پوری جماعت کوایک ہی لاٹھی سے نہ ہا نکا جائے۔

ہ۔طلبہ کی پیدا ئشی قوتوں اور فطری میلانات کو صحیح رُخ پر ڈالنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

3۔بچّوں کی تعلیم و تربیت کا نصاب مرتّب کرتے وقت مندرجہ ذیل امور پیش نظررہیں۔

ا۔بچّے کی عمر،اس کی فطری قو تیں، جبلّتیں، جذ بات ، خواہشات ،میلانات اور جسمانی وذہنی استعداد۔

ب۔بچّوں کی نشوونما کے مختّلف مراحل اور ہر مر حلے کی نفسی خصوصیات،ان کی دلچسپیاں اور ضروریات۔

ج۔سمابی اور فطری ماحول اور اس میں فٹ ہونے کے لیے ضروری صلاحیتیں اور اوصاف۔

د۔ملک وملت کی ضروریات،ان کےعزائم اورتہذ یبی ورثہ۔

ہ۔بچے کی شخصیّت کے تمام پہلو ؤں کی ہم آہنگ نشودنما اور تر بیت کے لیے عنوانات،مضا مین ومشا غل ومصرو فیات۔

د۔بچے کو مستقبل کی زندگی کے لیے تیار کر نے میں معاون امور۔

4۔طریقّہ تعلیم ایسااپنایاجائے کہ تدریس بچّوں کے لیے آسان دلحپسپ اور مؤ ثر ہو یعنی،

ا۔کھیل ہی کھیل میں بہت سی باتیں  سکھا دی جائیں۔

ب۔کہانیوں ،مکا لموں اورڈراموں کی مددسے تعلیم دی جائے۔

ج۔ہر مضمون سے متعلق ضروری تصاویر ،چارٹس اور دیگر تو ضیحی و تعلیمی سامان استعمال کیے جا ئیں۔تاکہ سبق دلحپسپ ہوجائے،تصّورات واضح بنیں اور ایک سے زائد حواس کو استعمال کرکے زیادہ مستحکم معلو مات حاصل کرنےکا موقع ملے۔

د۔مفید اور دلحپسپ مشاغل اور منصو بہ جات کابندوبست کر کے تعمیری صلا حیّتیں ابھاری جا ئیں اور خود تجربہ کرکے سیکھنے کے بیش ازبیش مواقع دئے جا ئیں۔

ھ۔درجے کی فضاایسی بنائی جا ئے کہ بچّے اپنی مشکلات اور الجھنیں کھل کر بے جھجک پیش کر سکیں۔

و۔جذ بات و خیالات کے اظہار کے مختلف ذرائع کوکام میں لانے کا سلیقہ سکھا یا جائے یعنی بچّے زبانی یاتحر یری طور پر مضمون نگاری، انشا پر دازی ،خطابت، آرٹ،وغیرہ کے ذریعے اظہارِ خیال کر سکیں۔

ز۔استادا پنے کو مستبد حکمر ان کے بجائے بچّوں کے مشیر،معاون اور محا فظ کی حیثیت میں پیش کریں۔

ح۔سبق کو آگے بڑھانے میں طلبہ کا تعاون حاصل کیا جائے۔درجے کو ساری معلومات خود فراہم کردینے کے بجائے ایسی صورتِ حال پیداکرنے کی کوشش کی جائے کہ بچّے معلومات حاصل کرنے کی خود کو شش کریں۔

ط۔مضامین اور اسباق کو آپس میں مربوط کرکے پڑھانےکی کوشش کی جائے۔سماجی وفطری ماحول اور بچّوں کی روزمرہ زندگی سے بھی اس کاربط ملایاجائے۔

ی۔تعلیم بچّوں کی مادری زبان میں دی جا ئے۔

5۔مدرسے کے انتظام میں آزادی،مساوات،جمہور یت اور تعاون کی رُوح کارفرماہویعنی

ا۔مدرسے کے انتظامات میں اساتذہ کے مشوروں کو اہمیت دی جا ئے۔

ب۔اساتذہ آپس میں نیزطلبہ آپس میں مساوات اور بھائی چارہ کی فضامحسوس کریں۔کسی طرح کافرق وامتیا زروانہ رکھاجائے۔

ج۔خارجی دباؤ کے بجا ئے خودانضباطی پر زوردیاجائے۔

د۔ٹولیوں میں ملِ جُل کر کام کرنے کی عادت ڈلوائی جا ئے اور مختلف قسم کی ذمہ داریاں سنبھا لنے کے لیے ٹولیاں بنا ئی جا ئیں جواپنے مانیٹرکی سرکردگی میں کام کرنا سیکھیں۔

۵۔سرپرستوں کا تعاون حاصل کرنےکی کو شش کی جائے۔

د۔تعلیم حتی الامکان سب کے لیے عام اور لازمی ہو۔

 

ماخوذ: فن تعلیم وتربیت (مصنف :  افضل حسین )  – باب  7

کتابت: سیدہ سارہ نوشین

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے