ہاتھ لگی حلوے کی ہانڈی

یہ بوسکی کے پنچ تنتر کاچوتھا حصہ ہے۔اس میں دو برہمنوں کی کہانی ہے جو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے من میں خیالی پلاؤ پکا رہے ہیں۔ ایک اپنے بستر پر لیٹا خیالوں میں مگن ہے، جب کہ دوسرا گنگا کنارے پراتھنا کرتے وقت چوہیا ہاتھ لگنے پر اپنی سوچوں  میں غرق ہے۔

دوسرا برہمن

برہمن تو تھے ـــــــــــــــــــ

شاید حضرت شاعر بھی تھے۔

سوتے جاگتے سپنے دیکھا کرتے تھے۔

خوب پکاتے حضرت خوابوں کی کھچڑی

رائی – رائی ایک پہاڑ بناتے تھےاور چڑھ جاتے تھے

گرتے تھے پھر چڑھتے تھے۔

کام وام تو کوئی نہیں تھا

مانگ تانگ کر ، بھکشا لے کر رات اوردن

چلاتے تھے۔

ایک دفعہ ایک دعوت میں

حلوے کی ہانڈی حضرت کے ہاتھ لگی

کھٹیا ڈال کر آنگن میں اور سامنے

ہانڈیا ں         لٹکا       کے

پھر سوچتے سوچتے سپنوں کے

ہچکولوں میں وہ جھوم اٹھے

اس بکر ی کا دودھ بکے گا

دودھ بکے گا پیسے ہوں گے

پھر بکری کے بچہ ہوگا

اس بچے کے بچے ہوں گے

ایک کے دو اور دو کے چار اور چار کے آٹھ

نہیں  نہیں تب بیچ کے ان کو

گائے دو لے آؤں گا

دودھ دہی ، اور مکھن کی دوکان

شہر     میں     کھولوں       گا

تب    وہ   ہے   نا  ،   بھٹیارن

کہے  گی  مجھ سے سادی کرلو

میں بھی سہر چلوں گی  ساتھ

سارے دیش کی گائے  بھینسوں پر میرا ہی

                                     سکہ  ہوگا۔

اتنا پیسہ ہوگا میرے پاس کہ بس۔۔۔

پوری بلڈنگ جتنی ایک تجوری ہوگی۔

سب سنتری شہر کے روکیں گے

میں لڑتا ہوا تلواروں سے

لاتوں سے اڑاتا  ہوا سب کو

ماری جو لات ان حضرت نے

حلوے کی ہانڈی پھوٹ گئی

حضرت کا  سپنا ٹوٹ گیا ۔

حلوہ جا بکھرا مٹی میں ـــــــــــ

حضرت کا پاؤں سوج گیا۔

تیسرا برہمن

بہت دن بہت دن بہت روز پہلے

کی اک بات ہے

کہ گنگا کنارے پجاری کوئی

دعا کررہا تھا

اٹھا کے وہ جوڑے ہوئے دونوں ہاتھ۔

اسی وقت اس کی ہتھیلی میں آکر گری

چوہیا   اک   ادھ  موئی   سی

دعا کرکے وہ جوگی پھر سوگیا

مگر جب اٹھا وہ سویرے سویرے

چمتکار تھا  ،  دیکھتا        رہ  گیا

بڑی پیاری  سی ایک چھوٹی سی

ننھی سی لڑکی  تھی  بستر  میں سوئی ہوئی

اٹھا کے برہمن نے فوراً گلے سے لگایا اسے

کیا اپنے بھگوان کا شکریہ ۔

بڑے چاؤ سے اس پجاری برہمن نے پالا اسے

بڑے لاڈ سے  وہ   بلاتا  ،   اموشی،

بیٹی رانی ۔

پجاری نے سورج سے پوچھا:

بھلا کوئی تجھ سے زیادہ ہے شکتی میں کیا؟

کہا ہنس کے سورج نے ” بادل ہے نا۔

کئی بار ٹھنڈا کیا ہے مجھے۔ “

بلایا پجاری نے بادل کو اپنے

چمتکار سے۔

اموشی تو بس کانپنے ہی لگی:

کہا ہنس کے پربت نے ، ہے تو سہی

میں پتھر ہوں ، بالکل ہی پتھر مگر

میرے جسم میں چھید کرتا ہے وہ

بہت چوٹا سا ایک چوہا ہے وہ۔

پجاری نے  چوہے کو آواز دی ۔

کہیں پاس ہی بل میں سویا ہوا تھا

چلایا لمبی سی دم  کو اٹھا ئے ہوئے

 

مصنف : گلزار احمد

ناشر : ڈائرکڑ قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو

 کہانی پڑھنے کے لئے نیچے کلک کریں۔

 

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کےلئے لنک کلک کریں

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے