کتنا کھاتی ہے یہ وہیل؟

مترجم : زبیر صدیقی

یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ وہیل جیسی بڑی مخلوق کی بھوک بھی بہت بڑی ہوگی- لیکن کتنی بڑی؟ حال ہی میں محققین نے دریافت کیا ہے کہ بلین ویل کی خوراک اندازہ سے تین گنا زیادہ ہے- ان کے منہ میں کنگھی جیسی چھلنی ہوتی ہے جسے بلین کہتے ہیں- یہ پانی کے ساتھ سمندر میں تیرنے والے اپنے شکار (چھوٹے کرسٹیشین جانور اور پیراکو) کو چھاننے اور نگلنے میں مدد کرتا ہے۔

اس تحقیق نے ایک تضاد کو بھی دور کر دیا ہے- کرسٹیشین جانوروں کو جتنی مقدار میں یہ وہیل کھاتی ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہیل نہ ہوں تو ان ننھے جانوروں کی آبادی بڑھ جائے گی- لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ شکار کی وجہ سے سمندروں میں وہیل کی تعداد میں کمی کے بعد کرسٹیشین کی تعداد میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہیل سمندر میں غذائی اجزاء بھی لے جاتی ہے- وہ سمندر کی تہہ سے خوراک لیتی ہیں اور فضلات کو سطح پر خارج کرتی ہیں، اس طرح سمندر میں غذائی اجزاء کا سلسلہ چلتا رہتا ہے- یہ کرسٹیشینس کے لئے غذائیت کا ایک اہم ذریعہ ہے- اس لئے وہیل کے جانے پر کرسٹیشین کو بھی غذائیت ملنا بند ہو گئی۔

وہیل کی ایک جھلک!

یونیورسٹی آف ہاپکنس مریں سٹیشن کے ماہر ماحولیات میتھیو ساوکا یہ پتا لگانا چاہتے تھے کہ وہیل کے پیٹ میں کتنا پلاسٹک آتا ہے؟ لیکن پہلے انہیں ایک اور بنیادی سوال کہ جواب تلاش کرنا تھا: وہیل کی خوراک کیا ہے؟ کیونکہ اب تک اس حوالے سے صرف اندازے ہی لگائے گئے ہیں۔

ساوکا اور ان کے عملے نے ڈرون، ایکو ساؤنڈنگ آلات اور سکشن کپ ٹریکنگ ڈیوائس کی مدد سے 321 وہیل پر نظر رکھی-اس نو سالہ (2010-19) تحقیق میں انہوں نے بحر اوقیانوس، بحرالکاہل اور جنوبی سمندروں میں وہیل کی سات اقسام سے خوراک کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔ یہ سارا عمل بہت مشکل تھا۔

نیچر میگزین میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بلین وہیل(Blain Whale) اندازہ سے تین گنا زیادہ خوراک نگل جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، شمالی بحرالکاہل کی بلو وہیل روزانہ اوسطاً 16 ٹن چھوٹے سٹیشینس کھا جاتی ہے جو تقریباً دو بھرے ٹرک برابر ہے- اس طرح بؤہیڈ وہیل(Bowhead whale) روزانہ تقریباً 6 ٹن پیراکو کھا جاتی ہے- اس بنیاد پر محققین کا اندازہ ہے کہ بیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر وہیل کے شکار شروع ہونے سے پہلے، بحر جنوبی میں بلین وہیل ہر سال تقریباً 43 ملین ٹن کرسٹیشین کھاتی تھیں۔

بلین وہیل کا قہر!

اس تحقیق میں یہ بھی خاص طور پر مشاہدہ کیا گیا کہ وہیل توقع سے زیادہ آئرن جیسے غذائی اجزا پیدا کرتی اور ملاتی ہیں- اس کے نتیجے میں سمندر کے فوٹو سینتھیٹک پلانکٹن کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے جو سمندر کی فوڈ چین کی بنیاد ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ وہیل کے لئے زیادہ کرسٹیشین اور شکار کے لیے زیادہ مچھلیاں۔ اس کے علاوہ زیادہ فوٹو سیتھیسز کی وجہ سے فضاء میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ جذب ہوگی۔

اس تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہیل کا شکار سمندروں کو بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر متاثر کرتا ہے اور ماحولیاتی تحفظ ایک کافی پیچیدہ معاملہ ہے۔

سورس : سروت فیچرس

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے