کورونا وائرس مرض سے متعلق بچّوں سے بات چیت

کچھ اہم ہدایت والدین، اسکول اسٹاف، اور ان لوگوں کے لیے جو بچّو ں کی دیکھ بھال کرتے ہیں

جیسے کہ کورونا وائرس پر عوام کے درمیان بحث طول پکڑ چکی ہے، بچّے اس بات سے پریشان ہو سکتے ہیں کہ اُن کا خاندان اور رشتےدار بھی اس بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ۔ والدین، اہل خانہ، اسکول کا عملہ اور دوسرے قابلِ اعتماد اور باشعور لوگ بچّوں کو سمجھانے میں مدد کریں کہ وہ جو بھی سن رہے ہیں، درست اور صحیح ہے۔ اور اس طرح بچّوں کی ذہنی پریشانی یا اُلجھن کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

(سی، ڈی، سی) نے کچھ اہم ہدایت تیار کی ہیں جن کی مدد سے سمجھدار لوگ بچّوں کے درمیان باآسانی اس وائرس پر بات چیت کریں جس سے وہ بیماری کے پھیلنے اور اس کے شکار ہونے سے بچ سکیں۔

بچّوں سے گفتگو کے عمومی اصول :

سکون اور اعتماد سے بھرپور:

یاد رہے، آپ کیا کہتے ہو اور کیسے کہتے ہودونوںکو لے کر بچّے ردِّ عمل رکھتے ہیں ۔ آپ ان کے ساتھ یا کسی اور کے ساتھ جو گفتگو کرتے ہو اس کے طریقے اور اشاروں سے بھی وہ متاثر ہوتے ہیں۔

بچّوں سے بات چیت کے لیے خود کو ہر وقت تیار رکھیں:

بچّوں کے ساتھ بات چیت کے لیے وقت نکالیں۔ دھیان رہے! جب بھی کوئی سوال ہوگا بچّے آپ کے پاس جواب ڈھونڈنے کی خاطرآسکتے ہیں۔

ایسی زبان و لہجہ سے پرہیز کریں جو دوسروں کو مورد الزام ٹھہرائے اور کسی کی بدنامی کا باعث بنے:

یاد رہے! وائرس نسل و قوم کا لحاظ کئے بغیر کسی کو بھی بیمار کرسکتا ہے ۔ آپ اُن تمام مفروضوں سے بچئے جن سے یہ باور ہوتا ہو کہ فلاں پر اس وائرس کا حملہ ہوا ہے یا فلاں پر نہیں۔

بچّے ٹیلی ویژن، ریڈیو یا سوشیل میڈیا پر جو بھی دیکھتے یا سنتے ہیں اس پر آپ کی توجہ مرکوز ہونی چاہیے:

دھیان رکھیں کہ کووڈ– 19 سے متعلق جانکاری کے لیے بچّے اپنا زیادہ وقت اسکرین پر نہ گزاریں۔ اس حساس موضوع سے متعلق غیر ضروری اور بہت ساری معلومات بچّوں کو پریشان کرسکتی ہیں۔

بچّوں کو ایسی معلومات دیجئے جو بالکل درست اور سچی ہوں:

  • بچّوں کو ایسی معلومات فراہم ہونی چاہیے جو بالکل سچی ہوں اور بچّے کی عمر اور ذہنی نشوونما کی سطح کی مناسبت سے موزوں ہوں۔
  • بچّوں کو بتائیں ککہ کس طرح انٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا پر كووڈ– 19 سے متعلق کہانیاں، افواہیں اور مغالطے بھرے پڑے ہیں۔

بچّوں کو ہر روز ایسے اقدامات سے واقف کرائیں جن سے جراثیم کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہو:

  • بچّوں کو یاددہانی کرواتے رہیں کہ وہ کھانسی، چھینکنے والے اور بیمار لوگوں سے فاصلے برقرار رکھیں۔
  • بچّوں کو بتئیے کہ جب بھی کھانسی یا چھینک آئے تو اپنی کہنی سے منہ کو ڈھانک لیں یا پھر، ٹشو پیپر کا استعمال کریں اور فوراً اس کو کوڑا دان میں پھینک دیں۔
  • بچّوں اور اسکول کے عملے کے تحفظ میں مدد کے لئے اسکول میں کیے جانے والی کسی بھی نئی کارروائی پر تبادلہ خیال کریں۔(مثلاً ہاتھ دھونے کے عمل میں اضافہ ہو اور تمام تقریبات اور سرگرمیوں کو منسوخ کیا جائے)

بچّوں میں ہاتھ دھونے کے عمل کو عادت کا حصہ بنایا جائے:

  • بچّوں کو سکھاؤ اور بتاؤ کے کم از کم بیس سیکنڈ تک صابن اور پانی سے اپنے ہاتھ دھوئیں ۔ خاص طور پر اس وقت جب، ناک بہہ رہی ہو، کھانسی ہو، چھینک آئے، بیت الخلا جانے اور آنے کے دوران اور کھانا کھانے سے پہلے اور کھا نا تیار کرنے سے پہلے۔
  • اگر صابن اور پانی موجود نہیں ہے تو اُنھیں ہینڈ سینٹئیزر کا استعمال سکھلائیے۔ ہینڈ سینٹیئزر میں کم از کم ساٹھ فیصد الکوہل کا ہونا ضروری ہے۔
  • ضرور بہ ضرور ی یہ عمل آپ کی نگرانی میں ہو اس خدشے سے بچنے کے لئے کہ بچّے کہیں الکوہل کو پی نہ لیں۔ خاص طور پر اسکول اور وہاں جہاں بچّوں کی دیکھ بھال ہوتی ہو۔

بچّوں سے بات چیت کے لیے کووڈ – 19 سے متعلق کچھ بنیادی حقائق:

معلومات کو آسان اور واضح رکھیں، اور اُنھیں یقین دلائیں کہ صحت کے ماہرین اور اسکول کے ذمےدار لوگ ہر ایک کو محفوظ رکھنے کے لیے پوری محنت کررہے ہیں۔

کووڈ – 19 کیا ہے؟

کووڈ – 19 مختصر نام ہے کورونا وائرس ڈسیز 2019 کا، یہ ایک نیا وائرس ہے۔ ڈاکٹرز اور سائنسدان ابھی تک اس کی جانچ میں لگے ہیں۔

حال ہی میں بہت سے لوگ اس وائرس سے بیمار ہوئے ہیں۔ سائنسدان اور طبیبوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ ٹھیک ہونگے، خاص طور پر بچّے،۔لیکن کچھ لوگ سخت مرض کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

لوگوں کی صحت یابی کی خاطر صحت کے ماہرین اور ڈاکٹرز کڑی محنت کررہے ہیں۔

کووڈ – 19 سے بچنے کے لیے مجھے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے:

  • اسکول، گھر اور کھیل کے میدان میں صحت مند عادتوں پر عمل کریں تاکہ اس مرض کے پھیلنے سے خود کو اور اپنے اطراف لوگوں کو بچا سکیں۔
  • کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو پیپر کا استعمال کریں یا کہنی سے منہ ڈھانک لیں، اگر کھانسی اور چھینک کے دوران آپ ٹشو کا استعمال کرتے ہو ں تو اُس کو کوڑادان میں پھینک دیں۔
  • خیال رہے، آپ اپنے ہاتھ کو اپنے منہ، ناک اور کان سے محفوظ رکھیں، اس عمل سے آپ کا جسم جراثیم سے محفوظ رہے گا۔
  • اپنے ہاتھ کو کم از کم بیس سیکنڈ پانی اور صابن سے دھوئیں، ان پانچ اقدامات پر عمل کریں۔ پہلے اپنے ہاتھ کو گیلا کریں، خوب کف بنائیں، دونوں ہاتھوں کو زور سے رگڑیں، صاف پانی سے اپنے ہاتھوں کو دھوئیں اور صاف کپڑے سے ہاتھوں کو پوچھ لیں۔اس دوران سالگرہ مبارکیا کوئی اور خوشگوار گیت بھی گاسکتے ہیں۔
  • اگر آپ کے پاس پانی اور صابن نہیں ہے تو کسی سمجھدار اور جانکار کی مدد سے ہاتھ کو صاف کریں۔
  • ہر چیز کو صاف رکھیں، جن چیزوں کو اسکول اور گھر میں ہم زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کو صاف رکھنے میں بڑے بچّے چھوٹوں کی مدد کریں،۔جیسے، ڈیسک، دروازوں کے لوکس، سوئچ بورڈز، اور ریموٹ کنٹرول وغیرہ۔ (بالغ بچّوں کے لیے خصوصی نوٹ: صفائی اور جراثیم کشی کے لیے مزید معلومات آپ سیڈی سی ویب سائٹ کی مدد سے حاصل کر سکتے ہیں)۔
  • اگر اپنے آپ کو بیمار محسوس کرتے ہو تو گھر پر ہی رہیں، جیسے آپ چاہتے ہو کہ دوسرے لوگوں کے جراثیم آپ پر قبضہ نے جمائیں اسی طرح دوسرے بھی نہیں چاہتے کہ آپ اپنے جراثیم دوسروں تک پھیلائیں ۔

 

اگر آپ کووڈ – 19 کی وجہ سے بیمار ہوں، تو اس کے اثرات کیسے ہونگے؟

یہ وائرس مختلف لوگوں میں مختلف طرح سے نظر آسکتا ہے۔ اس وائرس سے متاثر اکثر لوگ ہلکا سا فلو جیسا محسوس کرینگے۔ بخار، کھانسی یاسانس لینے میں زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اس وائرس سے متاثر زیادہ تر لوگ سخت مرض کے شکار نہیں ہوئے ہیں۔ بہت ہی قلیل مقدار میں ایسے لوگ پائے گئے ہیں جو اس وائرس سے سخت ترین مرض کے شکار ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز نے اب تک جو دیکھا ہ کہ بچّے زیادہ بیمار نہیں ہوئے بلکہ بالغ لوگ زیادہ شکار ہوتے ہیں جس میں اکثر ٹھیک بھی ہو گئے ہیں۔

اگر آپ بیمار ہوگئے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسی وائرس کے شکار ہو۔ لوگ ہر طرح کے جراثیم سے بیمار ہوسکتے ہیں۔ زیادہ اہم بات جو دھیان دینی کی ہےکہ اگر آپ بیمار ہوتے ہو تو بالغ اور بڑے لوگ ہر وقت آپ کی مدد کے لیے موجود ہونگے۔

اگر آپ کو شک ہوتا ہے کے آپ کا بچہ اس وائرس سے متاثر ہے تو آپ پہلی فرصت میں ہسپتال فون کریں، ان کے آپ تک پہنچنے سے پہلے آپ اُن تک پہنچنے کی پوری کوشش کریں۔

حوالہ: سی ڈی سی ویب سائٹ

https://www.cdc.gov/coronavirus/2019-ncov/community/schools-childcare/talking-with-children.html

کوڈ ١٩ پر کچھ پوسٹرز جسکا استمعال آپ کر سکتے ہیں –

Share:
Avatar

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے