سماجی علوم میں سائنسی مزاج کتنا پایا جاتا ہے؟

مصنف : مانس سرما

مترجم : سلمان وحید

سماجی علوم مطالعہ کا ایک بہت اہم اور حیرت انگیز شعبہ ہے۔ بطور سائنس کی ایک شاخ، ‘سماجی علوم’ علم بشریات سے لے کر سماجیات تک مختلف موضوعات کو اپنے احاطے میں لیتا ہے۔ سماجی علوم وسیع سطح پر موضوعات کا احاطہ کرتا ہے، اور انسانی رویوں کوانفرادی اور اجتماعی سطح پرسمجھنے میں مدد کرتا ہے۔

سماجی علوم، علم کی وہ شاخ ہے جس کا تعلق قدرتی دنیا سے جڑے انسانی پہلوؤں سے ہوتا ہے (سائنس کی دیگر دو شاخیں قدرتی سائنس اور رسمی سائنس ہیں)۔ کچھ سماجی علوم جس میں (قانون، معاشیات اور نفسیات ہیں) کا نام قابل ذکر ہے۔ سماجی علوم قدیم یونانیوں کے زمانے سے موجود ہیں، اور تب سے ہی ان کا ارتقاء ہوتا آرہا ہے۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ، سماجی علوم نے ترقی کی اور  خوب حمایت حاصل کی۔ کچھ کالجوں، جیسے ییل یونیورسٹی (Yale University)نے دوسرے مضامین کے مقابلے سماجی علوم پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سماجی علوم زیادہ تر معیاری تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں نہ کہ دوسرے علوم کی طرح حتمی ہوتے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنی مزید تفسیر کے لئے زیادہ کشادہ ہیں۔ سماجی علوم باقی علوم کی طرح سائنسی مزاج بھی رکھتے ہیں۔ طبعی اور رسمی علوم کی طرح ان علوم کو بڑے سطح پر سائنس کے طور پر قبول نہیں کیا گیاہے۔ لیکن پھر بھی طبعی اور رسمی سائنس کی طرح وہ بھی سائنسی علوم ہیں۔

سماجی علوم ہم کو سماج سے ہم آہنگ کرتے ہیں!

سماجی سائنس کی بہترین مثال قانون ہے۔ جتنا لوگ سوچتے ہیں اس سے کہیں زیادہ سائنسی مزاج قانون میں موجود ہے۔ وکلاء کو تمام فیڈرل قوانین جاننے ہوتے ہیں، ریاست کے تمام قوانین جہاں وہ رہتے ہیں، مضبوط مواصلاتی مہارتیں، اور تنقیدی فکر کی متعدد جہتوں کا علم ہونا ضروری ہے۔ قانون کا مطالعہ کرنے کے لیے جتنی تنقیدی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے اتنی مقدارسائنس کے لئے کافی ہے۔  وکلاء کے لئے معاملے کی سنجیدگی جتنی بڑی ہوگی، فہم کی مقدار بھی اتنی ہی زیادہ درکار ہوگی۔ حالانکہ وکلاء کو فزکس یا کیمسٹری یا اس جیسی کوئی چیز جاننے کی ضرورت نہیں ہے، اس کے باوجود بھی وہ علمی طور پر اتنے ہی سائنسی ہیں جتنا کہ آئزک نیوٹن یا میڈم کیوری، یعنی اپنے فطری طریقے میں۔

سماجی علوم میں قانون کے مقابلے بہترین مثال معاشیات کی ہو سکتی ہے۔ علم معاشیات کو اگر ایک لفظ میں اداکیا جائے تو وہ ‘مالیات’ ہے۔ معاشیات اس مطالعہ کا نام ہے جو ‘مال کے ردوبدل کی تحقیق کرتا ہے’، کس شرح سے وہ بدلتا ہے، کس طرح ممکنہ طور پر تبدیل ہو سکتا ہے اور اس کے بدلنے کی شرح کیا ہوگی۔ حالانکہ معاشیات براہ راست سائنس سے بحث نہیں کرتا لیکن ہاں یہ سائنس کے مساوی ضرور ہے۔ تجارت یا معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کالج میں تقریبا پچاس سے ساٹھ فیصد کیلکولس(calculus) کی ضرورت درکار ہے۔ سائنس کے کچھ میدانوں میں بھی کیلکولس(Calculus) کی ضرورت درکار ہے، جیسے، علم طبعیات یا علم کیمیات وغیرہ۔ اب جب کہ علم معاشیات اور سائنس دونوں کو کیلکولس(Calculus) کی ضرورت پڑھتی ہے تو معاشیات بھی سائنس ہی کہلائے گا۔

سائنس اور سماجی علوم دونوں میں سائنسی مزاج اپنی شکل میں موجود ہوتا ہے!

شاید سماجی علوم میں سب سے زیادہ سائنسی مزاج کا حامی ‘علم نفسیات’ ہے۔ علم نفسیات انسانی رویوں کے مطالعہ کا نام ہے، کیسے ان کے رویے بدلتے ہیں، انسان کا ذہنی تناؤ، اور بنیادی طور پر لوگوں کے رویوں سے لے کر ان کے جذباتی ڈھلاؤ تک، ہر چیز کا مطالعہ ہوتا ہے۔ علم نفسیات کا میدان اتنا ہی عزت کا مستحق ہے جتنا کہ سائنس، کیونکہ اس کے مطالعہ کے لئے وہ تمام چیزیں ضروری ہیں جو سائنس کو درکار ہیں۔علم نفسیات کے مطالعہ کے لئے علم حیاتیات، علم کیمیاء، اور شماریات کے ساتھ علم نفسیات کی اعٰلی سطحی کلاس کی ضرورت بھی پڑھتی ہے۔ دیگر سائنسی میدانوں جیسے انجینیرنگ میں علم حیاتیات، کیمیاء اور کبھی (شماریات) کی بھی ضرورت پڑھتی ہے۔ نفسیات اور سائنس کے مشترکہ تقاضوں کے ساتھ، علم نفسیات خود ایک سائنس ہی ہے جیسے کہ حقیقی سائنس کا میدان ہے۔

سماجی علوم، ہماری زندگی اور اطراف دنیا کا ایک بہت ہی اہم اور حیرت انگیز جز ہیں۔گرچہ وہ اتنے سائنسی نہیں ہیں اور ممکنہ طور پر زیادہ تجریدی ہوسکتے ہیں، سماجی علوم کے ساتھ جو رویہ ہے اب اسکے بالمقابل ان علوم کے ساتھ مزید ہم آہنگ ھونا چائے۔ کیونکہ صرف لوگوں کی آگاہی سے ہی آپ اپنے اطراف کی دنیا سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔

 

مصنف کے بارے میں : مانس سرما کی پیدائش 1994،  لوویل، میساشوسٹ میں ہوئی۔ فی الحال گیارویں کی تعلیم  شریوس بیوری  ہائی اسکول سے حاصل کررہے ہیں اور وہیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی پسندیدہ سرگرمیاں  بشرط موسم کی اجازت  موجود ہو تو دوستوں کے ساتھ باہر کھیلنا اور اپنے پسندیدہ مزاحیہ ڈرامے جیسے”جارج لوپیز” اور “دی یبگ بینگ تھیوری” دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان سے اس میل سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ [email protected]

بشکریہ : لرنگ کرو  –  عظیم پریم جی یونیورسٹی

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے