سماجی علوم کے تئیں میری عدم دلچسپی کا سبب

مصنفہ :نیراجا راگھون

مترجم : سلمان وحید

               تاریخ کو پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟ میں نے بحیثیت تیرہ سالہ لڑکی اس امید کے ساتھ کہ مجھے اپنی استانی صاحبہ سے علم افزا جواب ملے گا، بلا جھجک یہ سوال سوالیہ ڈبے میں ڈال دیا۔ ( میرے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں اس طرح کا سوال اُنکے  منہ پر پوچھ ڈالوں) مجھے اب بھی یاد ہے کہ میں کتنی بے تابی سے منتظر تھی کہ وہ میرا سوال اُس سوالیہ ڈبے سے باہر نکالیں گی۔اُس دن ڈبے میں کئی پرچیاں تھیں۔ مجھے ترساتے ہوئے اُنہوں نے بڑی دیر تک دوسرے سوالوں کے جواب دیے اور جب کلاس اپنے آخری لمحات پر تھی تب وہ میرے سوال پر پہونچیں۔لیکن افسوس کہ وہ قہقہہ لگاتے ہوئے یوں بول رہیں تھیں ” اور آخری سوال ہے: تاریخ پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟” اور سارے طلباء  اُنکے ساتھ قہقہہ لگانے لگے۔ لیکن میری اُستانی نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ کلاس سے رخصت ہوگئیں۔

  مجھے خود ہی اپنے سوال سے نپٹنا تھا جسے میں نے اپنی اسکولی تعلیم کے مکمل ہونے تک جاری رکھا لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔ تیرہ سال کی عمر تک میں نے تمام مضامین کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ پڑھا. جب مجھے نویں جماعت میں متبادل مواقع نظر آنے لگے تب میں نے اُن مضامین کی افادیت پر سوال کرنے شروع کردیے۔ جب کوئی واقعہ گزر چکا تو اسے تفصیل سے یاد رکھنے کی زحمت کیوں کی جائے؟ میں حیران ہوا کرتی تھی!سائنس اتنی مسحور کن ہے کہ کسی کو مجھے اسکی افادیت پر قائل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ میری جماعت میں کوئی ایک بھی طالب علم ایسا ہو جس نے سائنس کے حوالے سے یہ سوال کیا کہ : سائنس کو پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟ یا سائنس کے تئیں بیزاری کا اظہار؟ لیکِن ہاں، اکثر نے اسے مشکل ضرور کہا، لیکِن ” بے معنی ” کسی نے نہیں کہا۔

غالباً ایک واضح اور متعین سمت جس کی طرف یہ مضمون آپ کو ڈاکٹر، انجینئر یا ایک سائنسدان کے طور پر کیریئر اختیار کرنے کے لیے ابھارنے کا کام کرتا ہے، یا یہ کہ سائنس پڑھنا سماج میں ایک مقبول عمل ہے،جو بھی وجہ رہی ہو، مجھے اور میرے ہم جماعت کو سائنس پڑھنے کے لئے قائل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن ہاں، ہم میں سے چند لوگوں کی اپنی پسند تھی، جب ہم نے بایولوجی نا لینے کا فیصلہ کیا (جب مجھے کسی بھی حال میں ڈاکٹر نہیں بننا ہے تو میں مینڈک کا قتل کیوں کروں؟)  لیکِن علم طبیعیات، علم کیمیاء اور علم ریاضی ہمارے لیے زادِ راہ تھے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں تھی۔

علم جغرافیہ کی ضرورت کا احساس ہی بہت کم تھا۔ اس میں خود ایسے قدآور لوگ نہیں تھے جو اسکی ضرورت کی بازیافت کرا سکیں۔ در حقیقت کون اس بات کی فکر کرتا کہ معتدل علاقوں میں گھنے درخت تھے يا کہیں سونے کی کانیں تھیں؟ نقشہ کے مطالعہ اور نقشہ کھینچنے کے فن میں مہارت سے لے کر، آب و ہوا کے مختلف علاقوں اور وہاں سے حاصل ہونے والی فصلوں کی تفصیلات کو یاد کرنے تک، یہ ایک ایسا موضوع تھا جس میں کم ہی لوگ دلچسپی رکھتے تھے۔ مجھے یاد آتا ہے ایک اُستانی جو اس مضمون کو ” منطقی مضمون” کہا کرتی تھیں لیکن وہ بھی مجھے متاثر نہیں کر سکیں۔مختصراً، ان کلاسوں میں جہاں سماجی علوم پڑھائے جاتے تھے، بچوں نے جمائیاں ہی لی تھیں۔ ہم اپنی کلاسوں میں مغل رانیوں کی تصاویر پر مونچھوں اور غضب ناک بھنویں بناتے اور عظیم بادشاہوں پر بِندی اور انکے پلکوں کو کاجل سے سیاہ کرکے اپنی کلاسوں میں جان بھر دیتے تھے۔ان استعمال شدہ تصاویر کو ڈیسک کے نیچے سے ایک دوسرے تک منتقل کرتے، اور تاریخ کی غیر دلچسپ کلاسوں میں ہم صرف اسی طریقے سے تفریح کا سامان کرتے۔ صرف ایک ہی لورڈ ماؤنٹ بیٹن کی تاریخی اور خوش وضع شخصیت تھی جو ظاہر ہے کہ ہمارے کاٹ کوٹ کرنے والے قلم سے محفوظ تھی۔

علمِ ریاضی کے طریقے اور سائنس میں موجود خوبصورت منطق جن کا ہماری روزمرہ کی زندگی سےگہرا تعلق ہے: میں نے جغرافیہ اور تاریخ میں  اُن کی غیر موجودگی کو نمایاں طور پر محسوس کیا۔مثال کے طور پر، کیا سائنس ہم سب کے لیے ضروری ہے؟ یقیناً یہ انتہائی ضروری ہے، جسکا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بلا شبہ ہم کو کائنات کے قانون جاننے ہیں، جو ہمارے اطراف موجود نباتات اور حیوانات کی زندگیوں کو بدلتی ہیں۔پانی پت کی جنگ کی تاریخ یا راجہ اشوک کے ذریعہ لائی گئی تبدیلیاں۔۔۔ اف! ! کیا یہ اچّھا نہیں ہوگا کہ ہم موجودہ حکومتوں کے ذریعہ پیدا کیے گئے اثرات کے بارے میں جانیں. 

اور ہاں، سائنس بہت ہی مفید تھا۔ اس نے اس امر کو سمجھنے میں ہماری مدد کی کہ دودھ کیوں پھٹ جاتا ہے، پودے کیسے اُگتے ہیں، اور زخم کی مرہم پٹی کیسے کی جائے۔ سائنس نے ہمیں منظّم طریقے سے اور استدلال کے ساتھ سوچنے پر ابھارا ہے۔ معروضات کے پیچھے چھپی حقیقت کے سلسلے میں پوچھنا سکھایا ہے۔ ہماری زندگی کو آسودہ بنانے میں مدد کی ہے۔ اگر ہماری بدقسمتی کا یہ نتیجہ ہوتا کہ ایک سست استاد کے ذریعے یہ مضمون پڑھایا جائے تب بھی ہمیں سائنس پڑھنا تھا۔

اور ہاں! ، بعض اوقات سائنس پڑھنا اور بھی زیادہ دلچسپ ھوتا تھا۔ ہائی اسکول میں علم کیمیا کے  سحر انگیز ایام سے لیکر ایم ایس سی کے حیرت انگیز دور کے تجربات تک:اپنے جسم کے اندر ڈی این اے(DNA) کی پیچیدہ ساخت کو پڑھنے کے بعد میرے لیے شاید ہی کبھی “سائنس” اور “جمالیات” میں کوئی تضاد محسوس ہوا ہو۔(کچھ خوش نصیب ساتھیوں کا علم ریاضی میں یہی تجربہ رھا ھے لیکن اس پر کسی اور وقت بات ہوگی۔ ) کسی بھی مضمون میں میرے لیے دلچسپی کی بڑی وجہ اس مضمون کا جمالیاتی مزاج ہوتا تھا۔ 

اپنے جسم کے اندر ڈی این اے(DNA) کی پیچیدہ ساخت کو پڑھنے کے بعد میرے لیے شاید ہی کبھی “سائنس” اور “جمالیات” میں کوئی تضاد محسوس ہوا ہو۔

میرے نزدیک شاعری نہ ھی مفید تھی اور نہ ھی با معنی لیکن ھاں، یہ خوبصورت ضرور تھی۔ بلا شبہ ادب خوبصورتی سے زرخیز تھا جسکا میں انکار نہیں کر سکتی۔ لیکن تاریخ اور جغرافیہ کو بیان کرنے کے لیے میں سرمئی رنگ کا انتخاب کرونگی.(سائنس اور ادب کو تو شوخ رنگوں نے سجا رکھا تھا، اور تھوڑی بہت رنگینیاں ریاضی میں بھی موجود تھیں.) مندرجہ بالا تین اوصاف سے اگر سماجی سائنس متصف نہ بھی ہو سکا تب بھی میرا گمان ہے کہ اگر یہ مضمون صرف آسان ہوتا تو ہمارے ذوق کا حصہ بن سکتا تھا۔ریاضی کے سوال کو حل کر کےحاصل ہونے والا قلبی سکون کسے یاد نہیں؟  اس بات کو جاننے کا اطمینان کہ آپ ایک مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب ھو گئے، کتنا انوکھا ہوتا ہے – اور یہ چیز ریاضی کو اور قابل برداشت بناتی ہے۔

لیکن یہاں، آپ اسی وقت صحیح ہیں اگر آپ کی یادداشت آپ کو دھوکہ نہ دے۔ آپ جواب سوچ ہی نہیں سکتے یا شاید ایسے ہی ھم کو اس پر یقین کرنا سکھایا گیا۔ اس مضمون سے ایک آخری امید بھی جو ھو سکتی تھی، لیکن اس نے مجھ سے غیر معمولی حافظہ کا تقاضہ کیا۔اس لیے میں نے بلا تعطل کے اس مضمون سے ناطہ توڑ لیا۔اس طرح تاریخ اور جغرافیہ نے میرے لئے حقائق کا ایک ایسا مجموعہ تشکیل دیا جسے یاد کیے بغیر انسان اچھی زندگی گزار سکتا ہے۔ ان مضامین میں زندگی کا خاکہ کہاں تھا؟ کوئی روایت نظر نہیں آتی؟ اور میری زندگی سے کوئی ربط قائم ہوتا نظر نہیں آتا؟ یا تو انکا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور یا تو ان کو حقائق کے ڈھیر تلے دفن کردیا گیا ہے جن کو ہمیں حفظ کرنا تھا۔  یہ بات کہ تاریخ کا مطالعہ ہماری موجودہ زندگی کو بہتر بناتا ھے، یہ حقیقت مجھ پر کالج کے سالوں میں بھی آشکار نہیں ہوئی تھی۔

تاہم، میں یہ مسلسل محسوس کرتی رہی کہ بورنگ موضوعات کو ہم پر تھوپنے کا یہ ایک ناگوار حیلہ ہے۔ اور میں نے اپنے اطراف ایک بھی ایسا شخص، سماج یا ملک نہیں دیکھا جو باوجود تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے کم غلطیاں کرتا ہو (یا بہتر زندگی گزارتا ہو)۔اس علم(اگر آپ اُس کو نام دینا چاہیں)نے تاریخ کی نصابی کتابوں کے غبار آلود سرورقوں کے درمیان پناہ لے رکھی ہے. اور کوئی بھی اسے اپنی روز مره زندگی میں لانے کی زحمت نہیں کرتا۔

کالج کے ایّام میں جب میرے اندر ایک شوق پنپا، مشہور لوگوں کی سوانح عمری پڑھنے کے سلسلے میں، تو اس نے غیر شعوری طور پر مجھ میں تاریخ پڑھنے کا موقع فراہم کیا، لیکِن یہ بہت ہی مختلف تجربہ تھا۔ غیر دلچسپ احوال اور مردہ تاریخوں کی جگہ وہ لوگ ان خوبصورت کتابوں کے اوراق میں بسے ہیں۔ میرے اسکول کی تاریخ کی درسی کتابیں انسانی عنصر سے مطلقاً خالی تھی۔چند دہائیوں کے بعد، ہمالیہ کے سفر کے دوران میں نے مختلف قسم کی چٹانیں اور پتھر دیکھے، اُنکی مختلف بناوٹیں اور رنگ مجھ سے اس خطہ عراضی کے پیٹرن کو بڑی بلاغت کے ساتھ بیان کر رہے تھے۔

مجھے حیرانی ہوئی کہ آخر کیوں اب تک کسی نے مجھے یہ نہیں پڑھایا؟ اُترکاشی کے اونچے پھاڑی علاقے، پہاڑی لوگوں کے منفرد کھان پان اور اُنکی پسندیدہ غذا: یہ سب کچھ جتنا حیرت انگیز تھا اتنا ہی بامعنی بھی۔اب مجھے یہ جاننے میں دلچسپی تھی کہ ان لوگوں کا رہن سہن کیسا تھا۔ پومپآئی میں پتھروں سے بنی گلیوں میں چلنا اور یہ جاننا کہ روم کے بادشاہ ان ہی پتھروں پر چلا کرتے تھے، یہ سب کچھ میری مسرت کو ظاہر کر رہا تھا۔ لوتھل میں دریائے سندھ کی تہذیب کے کھنڈرات کو دیکھنا میری نوجوانی کی زندگی کا دوسرا موقع تھا جب مجھے تاریخ کے مطالعہ کے بے پناہ امکانات نظر آئے۔

افسوس! یہ نامکمل خواب تھے: اب تک، تاریخ اور جغرافیہ کو سیکھنا میرے لیے بے رنگ و نور تجربات میں سے تھے۔ان مضامین کو پڑھانے کے لئےہمارے معلمین نے جس تختہ مصوری اور برش کا استعمال کیا وہ سوکھے اور بے رنگ تھے۔ شاید ان سوکھے  صحراؤں اور شان و شوکت والے بادشاہوں نے رنگوں کو خشک کر دیا تھا۔ 

مصنفہ کے بارے میں: نیرجا راگھون عظیم پریم جی فاؤنڈیشن، بنگلور میں ایک مشیر، اکیڈمک اورماہر درسیات کی حیثیت سے ہیں۔ وہ کئی سالوں سے ایک فری لانس مصنفہ ہیں جن کے ستر سے زیادہ مضامین معروف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ وہ تین کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

کتابوں کے نام

1۔ CURIOUSER AND CURIOUSER

2۔ Full Circle 2004

3۔  I WONDER WHY and I
WONDER HOW

4۔ Children’s Book Trust 2005, 2006

کتاب (ہندوستان میں متبادل اسکولنگ، سیج پبلیکیشنز 2007) کی ہم شریک مصنفہ بھی ہیں،  اور  سی ڈی کی ایڈیٹر بھی رہی ہیں جس کا عنوان تھا (مذہب کی سمجھ) (جین وشو بھارتی انسٹی ٹیوٹ، لیڈنن،راجستھان 2004)

بشکریہ : لرنگ کرو، عظیم پریم جی یونیورسٹی

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے