جماعت اول تا پنجم کی سائنسی کتابوں پر تبصرے – حصہ اول

نصاب میں اصلاحات اور تخلیقی و ندرت کی کوشش پچھلے کئی دہوں سے جاری ہیں۔ اور قابل ذکر اثر ہواہے۔ لیکن ہمارے نظام کی مجموعی خستہ حالی (جسکے کئی وجوہات ہیں) نے اِن ثمر آور کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔مروجہ تنظیمی نصاب کے وہ مقاصد جن پر مجموعی طور پر اطمینان ہے وہ درحقیقت درسی کتب اور تدریسی روایات میں دور دور تک کام کرتے دکھائی نہیں دیتےہیں۔ہومی بھابھا کا نصاب اور سمال سائنس سیریز آف بُکس (درسی کتب، ورک بُک اور اساتذہ کی کتابیں)” دراصل اس خلیج کو پاٹنے کا کوشش کرتی ہیں۔

عام طور پر کسی بھی تعلیمی نصاب کا مقصد ہوتا ہیکہ طلباء اپنے اطراف اور دُنیا کے تئیں تجسس کو پروان چڑھائےاور اسکے بارے میں مزید جاننے کی کوشش خود مشاہدے اور پوچھ تاچھ کے ذریعے کرتا رہے۔ نصاب کا ہدف بچوں کے اذہان کو جِلا بخشنا، انکے تجسس کی پذیرائی کرنا اور اُن میں سائنسی مزاج کو تقویت بخشنا ہوتا ہے۔

اسکول کے ابتدائی دِن بچے کے سیکھنے کے رجحان کی تشکیل کے سلسلے میں انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اِس عرصے کے تجربات آگے آنے والے اسکولی اوقات میں بچے کےسیکھنےکے انداز پر راست اثر کرتے ہیں۔

کیابچے ، سیکھنے کے عمل کو اُنکی روزمرہ زندگی اور تجربات سے یکسر غیر متعلق اطلاعات کو سُننااور یاد کرنا سمجھتے ہیں؟یا وہ سیکھنے کو اپنے اطراف کی دُنیا کو سمجھنے کی کوشش اور اُس کی پُر اَسراریت و رازوں سے پردہ اُٹھانے کے عمل سے تعبیر کرتے ہیں؟

سمال سائنس سیریزپرائمری اسکول (اول تا پنجم)کے بچوں کیلئے ترتیب دی گئی تھی۔ کلاس اول اور دوم کیلئے ماحولیاتی سائنس کی تعلیم، اور کلاس سوم ، چہارم اور پنجم کیلئے سماجی و ثقافتی(کلچرل) نقطہ نظرسےسائنس کی تعلیمجیسے عنوانات باندھے گئے ہیں۔ اول، دوم اورسوم کلاسوں کا ہرعنوان روزمرہ کے تجربات اوراطراف کےماحول سےشروع ہوتا ہےاور آگے اُسی دائرے کو بڑھاکر ماباقی دنیا کے معاملات پر سائنسی انداز میں گفتگو ہوتی ہے۔چہارم اور پنجم کلاسوں کیلئے پیمائش کے دلچسپ طریقوں پر بحث کی گئی ہے۔سوم اور چہارم کلاسوں کی درسی کتابوں میں مِنی اور اپُو نامی دو بچوں کی کہانی شامل ہے جو تجربے و مشقوں کو کرتے ہوئے اور سوالات کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اس میں بچوں کو مشاہدہ، سوالات کے جوابات کی آگہی، اورسوالات کرنے پر اُبھارا جاتا ہے۔سادہ زبان میں لکھی گئی اِس کتاب میں بچے کو تحقیقاتی اورعملی تجربے کرنے پر ابھارتی ہے جس سے بنیادی سوچ و فکرکےسوتے کُھلتے ہیں اور بچہ مشاہدہ، چیزوں میں تفریق اوراصولوں کےاطلاق کی صلاحیتوں کا استعمال کرنے لگتا ہے۔اس کتاب میں مختلف تصاویر اور سادہ و سیدھے خطوط کا استعمال کرتے ہوئےمضامین کو سمجھایا گیا ہے۔مثال کے طور پر چہارم کی کتاب میں ہاضمے کے نظام کو سمجھانے کیلئے تصویری خاکے میں ٹماٹر کے ہضم ہونے کو دکھلایا گیا ہے۔یہ انتہائی اہم مثال ہے کیونکہ ہر بچہ ٹماٹر کھاتا ہے اور وہ بآسانی اس مثال کو سمجھ سکتا ہے۔

بچے میں ہمارے سماجی ڈھانچے کی جانب تجسس اور اُس سےتعلق کو مضبوط کرنے کیلئے عنوانات کی ترتیب اس طرح دی گئی ہیکہ بچہ اپنے خاندان سے لیکر باہر کی دنیا سے مختلف نِسبتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔دیسی کتابیں(ٹیکسٹ بُکس) اور ورک بُکس دونوں نصاب کے اختتام تک بچے کی دلچسپی کو باندھے رکھتے ہیں۔ اِس کتاب میں جہاں تجربہ و عمل کرنے کیلئے ہدایات ہیں وہیں مشاہدہ اور خود سے نتائج تک پہونچنے کیلئے مشورے بھی ہیں۔

اِن کتابوں میں سائنس کو محض کلاس روم میں سیکھنے پر اکتفاء نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی سائنس کو کسی مخصوص مدت میں ختم کئے جانے والے نصاب سے تعبیر جاتا ہے۔ درحقیقت یہ کوشش کی گئی ہیکہ کلاس روم سے باہر وجود پذیر عالمِ رنگ و بو کو کلاس روم کے اندر بحث، گفتگو اور سمجھنے کی کوشش کی جائے، جس سے طلباء میں سیکھنے کا داعیہ پیدا ہو اور وہ سائنس کو زندگی کا اٹوٹ حصہ سمجھنے لگ جائیں۔

ہماری زندگیاں دراصل سائنسی عمل سے عبارت ہیں۔ اِس بات کا قوی امکان ہیکہ بچوں میں روزمرہ کی زندگی اورسائنس میں ربط پیدا کرنے کا شوق اور عِلم کی پیاس مزید تقویت حاصل کرلے۔درسی کتب اور ورک بکس، پرائمری سطح کے بچوں کیلئے مظاہر قدرت سے ہونے والے تجربات کو پرکھنے اور اُنہیں زبانی طور پر اظہار کرنے کے قابل بناتا ہے، جس سےسیکھنے کا عمل بہتر سے بہتر ہوتا جاتا ہے۔

نصاب اور کتابیں محض اطلاعات بہم پہونچانے والے نقطہ نظر سے ہٹ کراُن مہارتوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جوسائنسی علم حاصل کرنے اور بالآخر سائنسی عمل کوسمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہوں۔

مشاہدہ اور اس کی بنیاد پراہم نکات درج کرلینے پر بہت زور دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اول اور دوم کلاسوں میں بھی اس پر اہمیت دی گئی ہے۔ایسی مشقیں جس میں پودوں، پھولوں، پتوں، پتوں کے حاشیے ، پھولوں کے رنگ، اُن پر موجود پنکھڑیوں کی تعداد وغیرہ کے مشاہدے کی ترغیب دی جاتی ہو، بچوں کیلئے دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔مختلف اشیاء کی پیمائش پر بھی دھیان دیا جاتا ہے، چاہے وہ پودے کے نشو نما کو لیکر ہو یا بارش کے پانی کی مقدار ہو، پیمائش پر بہت اہمیت دی گئی ہے۔تصویریں اتارنا اور جدول(ٹیبل) کی شکل میں مواد کو اکٹھا کرنا، مستقبل میں شماریاتی مواد کی ترتیب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بحث، سماعت، بات کرنا، رائے زنی کرنااور دوسروں کی /دوسروں سے رائے کو معلوم کرنا جیسی مہارتوں پردھیان دیا جاتا ہے۔مثالیں جیسے مچھروں کی افزائش کیسے کم جائے یا لوگوں سے معلون کیاجائے کہ وہ سفر کرنا کیوں پسند کرتے ہیں۔

ان کتابوں میں کئی ایسی مثالیں ہیں جو معروضی(و تنقیدی) سوچ کو بڑھاتی ہیں، جیسے : بچوں سے پوچھا جائے کہ دی گئی کاڑیوں میں وہ انگریزی لفظ ایچکو بنانے کیلئے کس کس کااستعمال کرینگے؟

اِن کتابوں میں چند دیومالائی قصہ کہانیوں کی بھی بیخ کنی کی گئی ہے، جیسے: اِس سوال پر بحث کی جاتی ہے کہ کیا سانپ اُنہیں دئے جانے والے دودھ کو پیتے ہیں؟

پودے لگانے والی مشق دراصل بچوں کو یہ باور کروانے کیلئے ہیکہ تمام غلہ دار پودےایک قسم کی گھاس ہیں۔ میری دانست میں نظریہ سے شروع کرتے ہوئے اُسکی بنیاد پرنتیجہ تک پہونچنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔

ان کتابوں کی روشنی میں کئی تعمیراتی کام، چیزوں کوبنانا، اورتجربات کرنا جیسےہوائی سمت معلوم کرنے والا آلہ، چھوٹےموٹے آلہ جات اوردیگرکئی اہم کام انجام دئے جاسکتے ہیں۔

کلاس اول اور دوم کی کتاب جیشری رامداس، عائشہ کولکر اور سندھو متھل نے لکھی ہے۔

کلاس سوم اور چہارم کی کتاب جیشری رامداس نے لکھی ہے۔

کلاس پنجم کی کتاب جیوتسنا وجا پُرکار نے لکھی ہے۔
کاتب: اما ہری کمار
مترجم:عبدالمومن

Avatar

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے