زبان انسانی فطرت کا ایک دریچہ ہے – اسٹیون پنکر

یہ اسٹیون پنکر کی کتاب “The Stuff of thought” کا ریویو ہے۔ جناب اندو پراساد نے اس کتاب کا ریویو کیا ہے۔ 

ہم جس مخصوص طریقے سے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اس سے ہماری زبان پر زماں و مکاں کی احاطہ بندی ہوتی ہے، اسی طرح مادہ اور موجبیت بھی در آتے ہیں۔ گو کہ یہ تصورات اپنی تفصیل کی مناسبت سے ایک زبان سے دوسری زبان میں قدرے مختلف بیان ہوتے ہیں لیکن ان کی مجموعی منطق یکساں ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ افکار لسانیات کے جزلا ینفک ہیں لیکن ان کی اپنی بنیادیں خود زبان سے بھی زیادہ گہری اور عمیق ہیں۔ یہ افکار و نظریات ہمارے گرد و پیش کے مطالعے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ روز مرہ کی زندگی میں تعلقات کے نشیب و فراز کے بنیادی اصول مرتب کرنے کا کام کرتے ہیں۔ 

ہماری گفتگو ،ہمارے مکالمے،ہمارے فنون لطیفہ،ہمارا اندازِ ملامت ،ہمارے قانونی تنازعات، ہمارے بچوں کے نام؛ ان تمام باتوں پر گہرائی سے غور کرنے کا عمل ہمیں اپنے آپ کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ 

اسٹیون پنکر،دی اسٹف آف تھاٹ:  زبان انسانی فطرت کے دریچہ کی حیثیت سے نامی کتاب کے صفحہ نمبر 7 میں دی اسٹف آف تھاٹ کے  تعارف میں پنکر لکھتا ہے کہ یہ کتاب ان پہلوؤں پر بحث کرتی ہے جسے ماہر لسانیات معنویت اور خیال اور اظہار کنندہ کے باہمی تعلقات (پراگمیٹکس) کہتے ہیں ۔ زبان اور معنویت کے سلسلے میں پنکر کا اپنا نقطہ نظر، تاہم، ایک ماہر لسانیات کے جیسا نہیں ہے۔ 

ایک علمی سائنسداں کی حیثیت سے، پنکر کی توجہ بنیادی طور پر اس ربط یا تعلق پر مرکوز ہے جو لفظ اور معنی کو انسانی دماغ سے مربوط کرتا ہے۔ پنکر کا موضوع تصوراتی ” ڈھانچہ” ہے جس کے سلسلے میں وہ متیقن ہے کہ انسانی ذہن  فطرت کا ودیعت کردہ ہے، وہ فطرت پر مبنی علمی ڈھانچہ جو خود زبان کو ممکن بناتا ہے اور اس زبان کے مطالعہ کے نتیجے میں اس راز سے پردہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ 

پنکر اپنی کتاب ” دی لینگویج انسٹنکٹ” میں لکھتا ہے کہ اس کا موضوع بذات خود زبان کا مطالعہ نہیں ہے بلکہ زبان و دماغ کے درمیان موجود رشتہ، اس کا موضوع ہے۔ دی اسٹف آف تھاٹ جو اس کی تین کتابوں کی تیسری کڑی ہے۔ اس موضوع پر اسکی پہلی کتاب دی لینگویج انسٹنکٹ ہے جس میں وہ زبان کے شعبہ علم کو مجموعی طور پر بیان کرتا ہے۔

اور چونکہ، پنکر کہتا ہے ، زبان وہ ذریعہ ہے جو آواز اور معانی کے درمیان ربط قائم کرتی ہے، اس کی دیگر دو کتابیں ان ہی دو پہلووں کہ ارد گرد گھومتی ہیں۔ “ورڈس ایئنڈ رولس” میں وہ زبان کی اکائیوں پر بات کرتا ہے کہ کیسے وہ حافظہ میں جمع کی جاتی ہیں، اور کس طرح وہ مجموعوں کی ایک بڑی تعداد میں اندراج ہوتی ہیں جو زبان کو اس کے اظہار کی طاقت بخشتی ہیں۔ اسٹف آف تھوٹ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ معانیات اور سیاق و سباق کے دوسرے پہلو  کے بارے میں ہے۔ اسی کہ ساتھ ساتھ، پنکر کا کہنا ہے کہ، The Stuff of Thought انسانی فطرت پر تین کتابوں کی کڑی کو مکمل کرتا ہے۔ کتاب  How the Mind Works علمی سائنس اور ارتقائی نفسیات کی روشنی میں نفس کو معکوس  (“ریورس انجینئر”) کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ 

کتاب بیلنک سٹیٹ انسانی فطرت، اخلاق،جذبات اور سیاسی رنگسازی کے تصور کی بازیافت کرتی ہے، اور “دی اسٹف آف تھاٹ” اس موضوع کو دوسرے طریقہ سے پیش کرتی ہے۔ جس طرح ہم اپنے خیالات اور احساسات کو الفاظ میں ڈھالتے ہیں اسی سے ہم اپنی آرائش و زیبائش کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔ 

اسٹیون پنکر کی ابتدائی کتاب میں ایک لطیفہ ہے: ایک نوجوان شخص یہ فیصلہ کرنا چاہتا ہے کہ اسے اپنی زندگی میں کیا کرنا چاہئے، وہ اپنی ماں کے پاس جا کر کہتا ہے، ” ماں، ایسا لگتا ہے کہ مجھے فلسفہ کا ڈاکٹر بننا چاہئے۔ جس پر اسکی ماں خوشی کے مارے کہتی ہے، ’’شاندار بیٹا لیکن یہ “فلسفہ” کس طرح کی بیماری کا نام ہے؟  یہ لطیفہ پنکر کی کتاب “دی بلینک سلیٹ: دی ماڈرن ڈینیئل آف ہیومن نیچر” کی ابتداء میں  آیا ہے، جو مخالف فلسفوں کا کرارا جواب دینے کے سلسلے میں، شاید پنکر کی اب تک کی پائیدار کوشش ہے۔  جس نے بھی پنکر کی کسی بھی کتاب کو پڑھا ہے وہ ہرگز پنکر کو فلسفہ کے مرض میں مبتلا ہونے کا ملزم نہیں ٹھہرائے گا۔   جو رہنما اصول اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں وہ “سائنس” ہے۔ پنکر، جو ایم آئی ٹی (MIT) میں دماغ اور علمی سائنس کے شعبے میں پڑھایا کرتے تھے وہ اب ہارورڈ یونیورسٹی میں علم نفسیات کے پروفیسر ہیں، وہاں جستجو میں منہمک فلسفی کے مقابلے میں حقائق کو ثابت کرنے والے سائنسدان زیادہ ہیں۔ 

پنکر کے مطابق دنیا میں، اہم ویلن “بلینک سلیٹ” (تجربہ پسندی/ تجربیت) ہے، جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ “اکثر دو مختلف نظام عقائد کے ہمراہ ہوتے ہیں، جس نے جدید علمی دنیا میں ایک مقدس حیثیت حاصل کر لی ہے” نوبل سیویج (رمانیت، یہ تصور کہ انسان پیدائشی اچھے ہوتے ہیں لیکن سماجی حالات نے اسے خراب کردیا ہے) اور گھوسٹ ان دا مشین، (کارٹیشین دوہریت کہ دماغ اور جسم دو مختلف ہستیاں ہیں)۔  پنکر کے مطابق اس تثلیث نے ہمارے “خود” کو سمجھنے کے عمل پر تباہ کن نتائج مرتب کئے ہیں، اور اسی لئے اس تصور نے ہماری تعلیم، سماجی منصوبہ بندی اور سیاست پر ضرر رساں اثرات چھوڑے ہیں۔

 پنکر کے مطابق، اس مسئلہ سے باہر نکلنے کا راستہ خالصتا انسانی فطرت کو “سائنسی” اعتبار سے سمجھنا ہے۔ پنکر کہتے ہیں، کہ “انسانی فطرت ایک سائنسی موضوع ہے، اور جیسے جیسے نئے حقائق سامنے آئیں گے، اس کے بارے میں ہمارا تصور بھی بدلتا جائے گا۔” چنانچہ، کتاب در کتاب، پنکر مغربی فلسفے کے تحت لئے گئے غلط رخ کو منہدم کرنے اور اس کی جگہ انسانی فطرت کی صحیح، سائنسی، تفہیم کو کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتے ہے۔

پنکر کا بنیادی دقت طلب مسئلہ، جو کبھی فطریت کے مخالفین کے استعمال میں ایک مروجہ اصطلاح تھی، وہ ماہر لسانیات اور امریکی سامراجیت کے سخت ناقد نوم چومسکی کا بھی مسئلہ ہے۔ زبان اور ذمہ داری کے حوالے سے نوم چومسکی کہتے ہیں کہ “سماجی تبدیلی” کے حامیوں کا اس انتہاء پسند موقف کا اختیار کرنا فطری امر ہے، کہ “انسانی فطرت” ایک فسانہ ہے جو تاریخ کی پیداوار کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن یہ غلط موقف ہے۔

انسانی فطرت، انواع میں ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیوں کے علاوہ  اپنا ایک ناقابل تغیر وجود رکھتی ہے۔ اور جیسا کہ چومسکی اسے اطالوی مارکسسٹ انتونیو گرامسکی پر اپنی تنقید میں پیش کرتا ہے کہ، اس بات کا کوئی “ثبوت” نہیں ہے کہ انسانی فطرت “تاریخی طور پر طے شدہ سماجی نسبتوں کی میزان کل” ہے۔ چومسکی اور پنکر کے مطابق اس طرح کے دعوے “جھوٹے” ہیں۔  لہٰذا، پنکر اور چومسکی، دونوں کے مطابق زبان کا مطالعہ صرف منطقی اصولوں کا پڑھنا نہیں ہے بلکہ دراصل یہ نظریہ علم کی ضرورت کا مطالعہ ہے۔ 

چومسکی کا کہنا ہے کہ “لسانیات، علم نفسیات کا ایک حصہ ہے…” اور “ماہر لسانیات، تجرباتی ماہر نفسیات، اور نیورو فزیالوجسٹ (نظام اعصاب کے ماہر) ایک مشترکہ مقصد سے جڑے ہوئے ہیں” جس کا کام ذہن کے علمی ڈھانچے کو سلجھانا ہے۔ اور حیاتیاتی طور پر قائم نظام کی تھیوری کو تلاش کرنا ہے” جو اس کو مطلع کرتا ہے۔ زبان اور دماغ کے درمیان قائم رشتہ کے مطالعہ کے تحت، ہم اس کے نقطہ نظر کے مطابق، یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں جس کو پنکر “ہمارے تجربے کا بنیادی ڈھانچہ” کے نام سے موسوم کرتا ہے۔.”اس فکر کے مطابق چومسکی کے ہاں زبان “انسانی ذہن کا آئینہ ہے” اور پنکر کے نزدیک ” زبان انسانی فطرت کا ایک دریچہ” ہے۔

اس فکر کے مطابق چومسکی کے ہاں زبان “انسانی ذہن کا آئینہ ہے” اور پنکر کے نزدیک ” زبان انسانی فطرت کا ایک دریچہ” ہے۔

جو امر قابل غور ہے وہ ہمارے فطری علمی طریقہ کار میں ” قواعد زبان” یعنی “گرامر” کی سمجھ ہے جو لسانی اصولوں اور زمروں میں جھلکتا ہے اور ہمیں صحیح تفہیم کے سلسلے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔  خالص سائنسی اور صحیح علمی سمجھ، اس چیز کی طرف رہنمائی کرے گی کہ کیسے ہمارا ذہن کام کرتا ہے، انسانی ذہن کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے سے انسانی فطرت کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ فطرت انسانی کا حقیقی فہم، انسان اور انسانی ضرورتوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انسانی ضروریات کا صحیح ادراک، ہمارے مسائل کو حل کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے درست اقدامات کی مناسبت تفہیم کا باعث بنے گا۔

 یہ وہ اہم خیالات ہیں جو عام طور پر پنکر کے کام کو بیان کرتے ہیں اور خاص کر اسکی کتاب ” دا اسٹف آف تھاٹ” میں مذکور ہیں۔ تقریباً پانچ سو صفحات جو نو ابواب میں منقسم ہے،”دا اسٹف آف تھاٹ”  ان خیالات کے اثرات کو جاننے کی کوشش کرتی ہے۔کتاب کا آخری باب  “غارسے فرار” خلاصۃ پنکر کا یہ خیال پیش کرتا ہے کہ انسانی فطرت کی “انوینٹری” زبان میں کیسے جھلکتی ہے۔ پنکر لکھتے ہیں، یہ سائنسی طور پر خواندہ جمہوریت میں تعلیم کی جگہ کو نمایا کرتا ہے۔

طبیعیاتی اور سماجی دنیا کے بارے میں سوچنے کے ہمارے فطری طریقوں میں موجود خامیوں کو پورا کرنا در اصل تعلیم کا بنیادی مقصد ہے۔

 خالی ذہنوں میں غیر مادی بیانات کو ذہن نشین کرنے کی کوشش سے نہیں بلکہ ان ذہنی ماڈلز کو لے کر جو ہمارے معیاری لوازمات ہیں، ان کو منتخب تشبیہات میں نئے مضامین پر لاگو کرنے اور انہیں نئے اور زیادہ نفیس امتزاج میں جمع کرنے سے ہی تعلیم کی کامیابی ممکن ہے۔ پنکر کے مطابق، تعلیم تب ہی کامیاب ہو گی جب ہم ان پیدائشی معیاری ذہنی ماڈلز کا اعتراف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں جو ہمیں بطور انسانی نسل کے وراثت میں ملے ہیں۔ انسانی ذہن کی فطرت کے سلسلے میں تجرباتی سمجھ غلط ہے اور سیکھنے کے ایک ایسی وجہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو فطرتا اپنی اصل سے منحرف ہے کیونکہ ذہن فطری طور پر خالی ہوتا ہے، اس کو کسی بھی سانچے میں ڈھالا جاسکتا ہے۔دماغ کی تجرباتی سمجھ استبدادی طرز پر طاقت کے غلط استعمال کے امکانات کے طرف لے جاتی ہے ( جس کو پنکر “شرارت آمیز سماج سازی” کہتا ہے)، جو آزادی کو ختم کرتا ہے۔آخر کار زبان کی ہماری سمجھ میں جو چیز داؤ پر لگی ہوئی ہے وہ بالکل صحیح اور راست چیز کی سمجھ جسکا مطلب منصفانہ اور انسانی سماج ہوسکتا ہے۔

ایک آخری بات، اگرچہ یہ اس ریویو کے دائری بحث سے باہر ہے وہ یہ ہے کہ، یہ تجربہ پسندی کی حقیقت کیا ہے جس نے کئی مغربی مفکرین کو پریشان کیا ہوا ہے؟مغربی فکر کے مرکزی دھارے میں شامل، قدیم یونان میں اپنے آغاز سے ہی، عقلیت پسندی اور تجربہ پسندی کے درمیان ابدی خصومت کیوں ہے؟اور سائنس کو علم کے مراتب میں یہ امتیازی مقام کیوں حاصل ہے؟اس لحاظ سے، پنکر مکمل طور پر مغربی افکار کے مرکزی دھارے کے گرامر پر کام کرتا ہے۔  وہ کوئی تشریح پیش نہیں کرتا، لیکن وہ تمام آثار کو نمایا طور سے ظاہر کرتا ہے۔

بشکریہ : لرنگ کرو –عظیم پریم جی یونیورسٹی

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے