مجھے سائنس کیوں پسند نہیں؟

مشہور اداکار رابن ولیمس کہتے ہیں کہ کرہ ارض پر دو قسم کے پیشے موجود ہیں۔ایک وہ جو زندگی کی برقراری میں ممد و معاون بنتا ہے دوجہ وہ جو زندگی کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔سائنس( میری دانست میں )پہلی قسم کا پیشہ ہے اور میں بذات خود دوسرے پیشہ کا حصہ بننا چاہتا ہوں درآنحالانکہ ابھی سائنس کی ہی ایک شاخ، کامرس پڑھ رہا ہوں۔

میں نے سائنس کو دو (۲)سال پہلے ہی چھوڑنے کا ارادہ کرلیا تھا اور آج جبکہ میری عمر ۱ٹھارہ(۱۸) سال ہے اورمیں اپنے فیصلہ پر قائم ہوں۔اسکول میں سائنس سات (۷) ستارہ ہوٹل کے اس بفیٹ کھانے کی طرح ہوتی تھی جودیکھنے کیلئے توخوشگوارمعلوم ہوتا ہے لیکن کھانے پر اپنی بد مزگی ظاہر کئے دیتاہے اس بدمزگی کا الزام باورچی پر جاتا ہے نہ کہ کھانے والے پر۔اسی قیاس کی بناء پر میرا خیال ہیکہ پہلے تو اسکول میں سائنس صحیح نہیں پکائی جاتی (نصاب و تدریس کے مسائل) ۔بعد ازاں کھانے کیلئے دے دی جاتی ہے (پڑھنے کیلئے) جو ہم بڑے شوخ سے قبول کرتے ہیں لیکن جب کھاتے ہیں (یعنی پڑھتے ہیں )تو اس کی بد مزگی کا پتہ چلتا ہے۔
مذکورہ بالاتمہید دراصل میری سائنس سے ناپسندیدگی کی وجہ ہے۔جو سائنس کی تدریس سے متعلق ہے نہ کہ مطلق علم سائنس سے۔
اسکول کی سطح پر سائنس کوکیمیاء، طبیعات اور حیاتیات میں تقسیم کیا جاتاہے۔ الیومینیم کا اخراج، روشنی کا مختلف لکیروں میں بٹنا اور انسانی ارتقاء کی تفصیلات میرے لئے اس قسم کی دلچسپی کا سبب نہیں بن پاتے جس طرح ان مظاہر کی دریافت یا ان پر مزید تحقیق کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہوگا۔میری خودی کسی بھی ایسے علم کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جسے میں محسوس کرنے سے قاصر رہوں۔
لیکن سوائے ادب کے مجھے تاریخ، جغرافیہ یا اکاؤنٹس میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں۔پھر بھی ان مضامین سے اس شدت کی نفرت نہیں جتنی مضمون سائنس سے ۔ آخراسکی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
میں علم سائنس کا احترا م کرتا ہوں کیونکہ یہ ہمیں تخلیق کے پیمانوں کو سکھاتاہے ۔ لیکن میں اس مضمون سے کوئی اٹوٹ رشتہ نہیں جوڑ پاتا۔ اور یہ انسانی رویہ ہی تو ہے کہ جس چیز کو عزت افزائی دی جائے اور وہی پلٹ کر ہمیں ناکام کرے تو اس کے تئیں نفرت کے بیج پیدا ہونے لگتے ہیں۔
میں جانتا ہوں کہ یہاں کچھ ناانصافی ہورہی ہے کیونکہ اگر میں واقعتہََ سائنس کی عزت افزائی کرتا ہوں تو مجھ پر لازم ہے کہ اس علم کو حاصل کرنے کی خاطر کما حقہ کوشش بھی کروں ۔
جیسا کہ ابتداء میں بات آئی تھی مجھے ایسے پیشہ میں دلچسپی ہے جو زندگی کی خوبصورتی کا نظارہ کروائے۔ بدقسمتی سے علم سائنس ،کم از کم میرے لئے اس مقصد کو پورا کرتا نظر نہیں آتا ۔کیونکہ یہ حد سے زیادہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے او ر اس میں مختلف فیہ احساسات کا کم ہی دخل ہوتا ہے [سوائے اس وقت جب سائنسداں حضرات آپس میں اس بات پر طبع آزمائی کرتے ہیں کہ خلاء کی ہئیت بیضوی ہے یا خط مستقیم]۔
مجھے ادب سے محبت ہے۔ کاروبار میں دلچسپی ہے۔جب میں بچہ تھا تو میری تمنا تھی کہ بڑا ہوکر سائنسداں بنوں گا اور ایڈز کا علاج دریافت کروں گا۔ لیکن اب میرا خواب ہیکہ کاروبار کروں گا اور ایسے لوگوں کو ملازمت دوں گا جو ایڈز کا شکار ہیں۔
سائنس میں کوئی برائی نہیں ہے: بس بات یہ ہیکہ وہ میرے لئے بہتر نہیں ہے۔

تحریر: پارتھ سنگھ۔ پی این پودر اسکول، ممبئی
مترجم: عبد الموئمن

Author: Abdul Mumin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے