میں نے سائنس کا انتخاب کیوں کیا؟ ۔فہم کی دریافت ۔

جب میں نے سا ئنسی کیرئیر کے انتخاب کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو واقعتہََ اپنے آپ کوایک طالب علم کے طور پر دیکھنے کا موقع ملا۔مجھے ماضی کے جھروکوں سے اس خاص موقع کی تلاش تھی جو میرے کیرئیر کاانتہائی اہم موڑ ثابت ہوا ۔رفتہ رفتہ یہ بات واضح ہوگئی کہ کوئی خاص موقع کی بہ نسبت یہ کئی ایک بظاہر غیر متعلق واقعات تھے جو میرے سائنسی کیرئیر کے انتخا ب میں ممد و معاون ثابت ہوئے جو میرے لئے آج باعث فرحت ہیں۔
کسی سائنسی کتاب یا پیپر لکھنے کے برعکس جہاں تجرباتی خاکہ اور منجملہ نتائج کی تخمین کی جاتی ہے اس بات پر خامہ فرسائی کر نا کہ سائنس کو بحیثیت کیرئیر چننے میں کیا عوامل کارفرما تھے میری یادداشت اور چند اہم واقعات پر منحصر ہوگا۔یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آیا حیاتیاتی سائنس کی جانب میرا فطری میلان تھا یا میرے اساتذہ و سرپرستوں کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کیونکہ مضمون حیاتیات میں مَیں نے ہمیشہ ہی بہت اچھی کارکردگی نبھائی۔
ہائی اسکول کے بعد “قومی سائنسی استعداد سکالرشپ “کاملنا میرے کیرئیر کیلئے اہم موڑ ثابت ہوا۔اس میرٹ سکالرشپ کے ذریعہ حکومت ہند مستقبل کے سائنسدانوں کی آبیاری کرتی ہے۔اس سکالرشپ کی سب سے اہم یادداشت میری پروجکٹ رپورٹ تھی جو میں نے درخواستِ سکالرشپ کے ساتھ ملحق کی تھی جس کا مضمون اعصابی نظا م میں سیلیولر کمیو نکیشن(اعصاب کا آ پسی اتصالاتی نظام) تھا۔آج میری دلچسپی اور تحقیق کا میدان مدافعتی نظام میں اعصاب کا آپسی اتصال ہے۔اور جب میں پلٹ کر دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہیکہ اس سکالرشپ کی ہی مرہون منت میں آج سائنس کے میدان میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہوں۔

(قوی کونسل براءے تعلیمی تحقیق و تربیت)NCERT

کی جانب سے دی جانے والی سائنس سکالرشپ ان طلباء کے لئے ہے جو بنیادی سائنسی لیاقت و فطری استعداد رکھتے ہیں تاکہ مستقبل کے سائنسدانوں کی کھیپ تیار ہو۔میرا شدید احساس ہیکہ یہ موقع میرے خوابوں و امنگوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں اہم ثابت ہوا۔ حکومت کی جانب سے اس قسم کے پروگرامس آنے والی نسل میں سائنس اور دریافت کائنات کا موجب بن سکتے ہیں۔سکالرشپ پروگرام کی مرہون منت مجھے بہترین کالج کے انتخاب اور قابل سائنسداں کی سرپرستی میں ڈگری حاصل کرنے کا موقع ملا۔اس کے برعکس میرے کئی ایک ساتھیوں کو اسی مضمون کا انتخاب کرنا پڑا جو انہیں دستیاب تھا۔
اب اس سوال سے نبرد آزما ہوتے ہیں کہ میں سائنسدان کیوں بنی؟ جہاں کائنات کے مشکل سوالات کو حل کرنا بذات خود ایک اہم محرک تھاوہیں طبی و حیاتیاتی نمونوں کے کام کرنے کے عمل کو سمجھنے کا موقع سائنسدان کو ملنے والی کئی نعمتوں میں سے ایک ہے۔بشمول مذکورہ چیزوں کے سوچ و سمجھ کو موثر طریقہ علاج میں تبدیل کرنا بھی میرے لئے اہم محرک ثابت ہواجو درحقیقت فرد کی صحت کو بحالی میں مدد دیتا ہے۔ سوچ و فہم کی دریافت ایک اہم چیز تھی جس نے مجھے آج ایسے مقام پر لایا ہے جہاں ہر لمحہ چیلنج،ایجاد و دریافت اور سائنسی مسائل حل کرنے کے مواقع ملتے ہیں ۔بطور سائنسداں ایک شخص بچہ کی طرح تجسس برت سکتا ہے اور بچکانہ سوالات پر سربھی دھن سکتا ہے ۔
دوران گریجویشن میں نے بتدریج ترقی پذیر تولیدی امیونولوجی کے میکانزم اور اس میدان میں ہونے والے ترجمہ کے کام پر دھیان دیا اس مقصد کے ساتھ کہ مانع حمل ٹیکہ کی تیار ی کی جاسکے جو ملک میں آبادی پر قابو پانے کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہو۔مجھے احساس ہوا کہ جہاں میرے مقاصد بلند و بالاہیں وہیں انہیں پورا کرنابھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔آج جب میں گریجویشن کالج اور اس وقت کی تعلیم پرنظر ڈالتی ہوں تو کچھ اہم یادداشتیں ابھر کر آتی ہیں۔ یہ وہی وقت تھا جب میں نے سائنسی دریافت کی حقیقت کو سمجھا اور کسی بھی کامیاب و ناکام تجربے سے حاصل ہونے والا سبق بھی سیکھا۔
اسکول میں پڑھائی جانے والی سائنسی تعلیم کا تجربہ اور اس کی موجودہ ہئیت کو بدلنے کا شوق میرے ذہن میں ہمیشہ موجود رہاکیونکہ میں نے یونیورسٹی میں میڈ یکل اسکول اور گریجویشن کی سطح تک تدریس کی خدمات انجام دی ہیں۔بطور استاد میرے لئے انتہائی خوشی و مسرت کا موقع ہوتا ہے جب میں دوران تدریس سوالات اٹھاتی ہوں چہ جائیکہ کچھ حقائق کو بیان کرتے چلے جاؤں۔میرا احساس ہیکہ میرے شاگرد اسی وقت سیکھتے ہیں جب وہ خود تدریسی عمل میں فعالی کے ساتھ حصہ لیتے ہوں،سائنسی تجربات کی تیاری کریں یامختلف سوالات کے ذریعہ سائنسی نمونوں کی جانچ کریں۔الغرض اگر میری یادداشت ٹھیک ہو تو اسکول میں جاری تدریس کچھ ایسی تھی کہ طلباء کو چند ایک معلومات کی راست فراہمی کردی جاتی اس امید کے ساتھ کہ وہ ان معلومات کو زبانی یاد رکھتے ہوئے متوقعہ امتحانات میں واپس پیش کردیں۔شائید ہی کبھی اس بات پر زور دیا جاتا کہ علم کے حقیقی تصور کو سمجھا جائے اور سوالات کے ذریعہ سائنسی نظریات کی تہہ کو پہنچا جائے۔یوں توسوال پوچھنے پر ابھارا جاتا لیکن فعال سوال وجواب والے اجلاس کی مقدار کم تو ہوتی تھی ساتھ ہی صرف جائزے تک محدود ہوتے تھے۔
میرا شخصی احساس ہیکہ ہائی اسکول میں کئے جانے والے لیابوریٹری تجربات ( چاہے کیمیاء میں ہوں یا طبیعات و حیاتیات ) ہی دراصل تکنیکی و مسائل کو حل کرنے والی صلاحیتوں کا موجب بنے۔اسی قسم کے تجربات کے ذریعہ سیکھنے والے طریقوں کو استعمال میں لاکر اور ان پر اور زیادہ وقت صرف کرتے ہوئے ہم سائنس کے خد و خال کو سمجھ سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سائنسی تعلیم کی جانب راغب کرسکتے ہیں۔اب جبکہ ہم اطلاعات کی بھرمار والے ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں نہ صرف درسی بلکہ دیگر کتابی وسائل کا ذخیرہ آسانی سے دستیاب ہے ایسے نظا م کو دائرۂ عمل میں لانا چاہئے جس کی بدولت طلباء کلاس سے پہلے مواد کا مطالعہ کرلیں جبکہ کلاس روم میں دانشورانہ مباحثے کروائے جائیں۔طلباء کو مناسب وقت دیا جائے تا آنکہ وہ مضمون سے مکمل آہنگ ہوجائیں اور کلاس روم میں سوچنے اور علم کے ہشت پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع مل سکے۔
میرا ایمان ہیکہ اس قسم کے کلاس روم اگر وجود میں آجائیں تو درحقیقت تدریسی انقلاب برپا ہوگا، طلباء زندگی بھر کیلئے سیکھنے والے اور پرجوش مسائل کے حل کرنے والے بن جائیں گے۔اس کا یہ بھی مطلب ہوگا کہ ہمارے ملک میں اساتذہ پر پیسہ خر چ کیا جانا چاہئے۔ ایسے اساتذہ جو انتہائی با صلاحیت ہوں۔ جو نسل نو کی پرداخت اس نہج پر کریں کہ طلباء میں فہم، سو چ اور عقل کی دریافت ودیعت ہوجائے اور جس کے بھروسے ہم ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھ پائیں۔

کاتب تحریر: محترمہ اوشا پونادن، ارکنساس یونیورسٹی۔

[email protected]

مترجم: عبد الموئمن
mumin.mo[email protected]

بشکریہ لرننگ کروسائنس اشو12،عظیم پریمجی فائونڈیشن، بنگلورو
(Learning Curve Issue 12, April 2009)

Author: Abdul Mumin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے