آداب تعلیم وتربیت

تعلیم وتربیت کی اہمیت وفضیلت اور کامیاب معلم کے اوصاف پر کچھ روشنی ڈالنے کے بعدمناسب معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم وتربیت کے آداب و طرق پر کچھ روشنی ڈالی جائے، ممکن ہے کہ ہمارے اساتذۂ کرام اور خاص طور سے نئے فارغین وفارغات اس سے استفادہ کریں اور ان کا تدریس وتعلیم کا عمل کامیاب اور بارآور ثابت ہو،اور ترقی ان کی قدم بوسی کرے۔


اس  مضمون کا حصہ اول یہاں پڑھیں


(۱)کلاس میں آنے سے قبل درس کی تیاری او رمطالعہ کرنا :

اساتذہ اور معلّمات کوکلاس میں تدریس كے لئے جانے سے قبل جو سبق پڑھانا ہے اس كے لئے اچھی طرح تیاری اورمطالعہ کرنا چاہئے، اس کی عبارت کو اچھی طرح حل کرنا اور سمجھنا چاہئے ۔ اس کے مسائل اور مضامین کو ذہن نشین کرنا چاہئے ۔مشکل الفاظ کے معانی ، واحد، جمع، جملوں میں استعمال وغیرہ کو جاننا چاہئے ، اورکسی لفظ اور عبارت کو حتی الامکان غیر مفہوم نہیں رہنے دینا چاہئے ، کسی درس کو بغیر سمجھے اور بغیر معرفت و بصیرت کے پڑھانا غلط ہے ۔جیسا کہ آیت کریمہ: ﭽ قُلْ َهذِهِ سَبِيْلِیْ أَدْعُو إِلَی اللّهِ عَلَی بَصِيْرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ  ﭼ (يوسف: ١٠٨) اس کی واضح د لیل ہے۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ مَنْ أُفْتِىَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ ‘‘ (رواہ ابو داود والدارمی، و قال الألبانی: سندہ حسن .مشکاۃ:۱؍۸۱)جس نے بغیر علم کے کوئی فتویٰ دیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہوگا۔

مطالعہ سے جہاں علم وبصیرت حاصل ہوتی ہے وہیں استاد جب مطالعہ اور سبق کی تیاری پہلے سے کر کے کلاس میں پڑھانے جاتا ہے تو اسے اپنے اوپر مکمل اعتماد ہو تا ہے، اور وہ پورے اطمینا ن اور انشراح صدر کے ساتھ پڑھا تا ہے ۔اور اگر پہلے سے مطالعہ اور تیاری نہیں کی ہے تو اسے اطمینان نہیں ہوتا۔اورہر وقت اسے خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی عبارت حل نہ کرسکوں،کوئی مسئلہ طلبہ پوچھ لیں اور میں نہ بتا سکوں ،اس طرح وہ پورے درس میں پریشان رہتا ہے ۔ اور اگر کبھی کوئی مسئلہ صحیح طریقہ سے نہیں جانتا اوراٹکل سے بتا دیا اور غلطی ہو گئی تو گناہ کے ساتھ اس کا انکشاف ہو نے پر اس کے علمی وقار کو بھی نقصان پہنچے گا ۔ اور طلبہ کا اس پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔

پرانے اور تجربہ کار اساتذہ کو بھی مطالعہ اور درس کی تیاری کا اہتمام کرنا چاہئے،اور کبھی اس خوش فہمی میں مطالعہ ترک نہیں کرنا چاہئے کہ یہ مضمون یا کتاب ہم بہت دنوں سے پڑھاتے ہیں اور ساری باتیں ہمیں یاد ہیں اور اب مطالعہ کی ضرورت نہیں، کیونکہ کبھی پرانے اساتذہ بھی مطالعہ نہ کرنے کی صورت میں بعض عبارتوں میں پھنس جاتے ہیں اور اسی طرح بعض مسائل بروقت یاد نہیں آتے جس سے انہیں بڑی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے، اس واسطے تمام اساتذہ ومعلّمات کودرس کی تیا ر ی اور مطالعہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔

مصادر ومراجع اور اپنے مضامین كے لئے معاون چیزوں کے حاصل کرنے کا اہتمام کرنا:

اس موقع پر اساتذہ ومعلّمات سے یہ گذارش کرنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ انھیں اپنے مضامین سے متعلق مصادر و مراجع اور معاون چیزوں کو ضرور رکھنا چاہئے۔اگر وہ ان مصادر ومراجع کو خرید سکتے ہوں تو بہتر ہے، ورنہ مدرسہ کے مکتبہ سے حاصل کرلیں، ہر مدرس کی کوشش ہونی چاہئے کہ جن کتابوں کی عموماً اسے ضرورت پڑتی ہے ،جیسے لغت کی کتابیں ،نقشے ، شرحیں وغیرہ انھیں خرید لے، تاکہ جہاں بھی رہے ان سے استفادہ کرے اور کسی سے اسے مانگنا نہ پڑے۔

 دنیا کے تمام پیشے کے لوگ اپنے اوزار اورضروری سامان خو دخرید کر رکھتے ہیں، چنانچہ بڑھئی کے پاس اس کے اوزار، لوہار کے پاس اس کے اوزار،راجگیرکے پاس اس کے اوزار، اسی طرح تمام کام کرنے والوں کے پاس عموماً ان کے اوزار رہتے ہیں ،اسی طرح اساتذہ و معلّمات کو بھی اپنے پیشۂ تدریس سے متعلق ضروری سامان اور کتابیں وغیرہ رکھنا چاہئے، اس سے انھیں کافی سہولت ہو گی اور پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑ ے گا ۔

کبھی ایک مدرس کو ایسے مدرسہ میں پڑھانا پڑتا ہے جہاں خاطر خواہ اور حسب ضرورت مراجع اور کتابیں نہیں ہوتیں، یا بعض کتابوں کے صرف ایک دو نسخے ہوتے ہیں اور دوسرے اساتذہ پہلے نکلوالیتے ہیں تواس کو پریشانی ہوتی ہے ۔اوراگر اس کی ذاتی کتابیں ہوں تو وہ گھر،مدرسہ اور سفر وحضر ہر جگہ ان سے استفادہ کرسکتا ہے۔اور مختلف مصادر ومراجع کے مطالعہ سے حاصل ہونے والی معلومات اور ان کے حوالہ جات کو بھی وہ ان کے حاشیہ میں درج کرسکتا ہے، جبکہ مدرسہ وغیرہ کی کتابوں میں یہ ساری سہولتیں نہیں ہوتیں، اور اگر کچھ اہم معلومات نوٹ بھی کرلیں تو دوسرے سال وہ کتاب کسی دوسرے کے پاس چلی جاتی ہے اور ساری محنت اکارت ہو جاتی ہے۔

بہر حال اساتذہ کو اپنے مضامین سے متعلق معاون کتابیں اور اہم مصادر ومراجع کو خریدنے اور ا پنے پاس رکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے ،اس سے انہیں تعلیم وتربیت میں بڑی مدد ملے گی اور کافی سہولت ہوگی۔

مطالعہ کا طریقہ:

مطالعہ شروع کرنے سے قبل معاون کتابیں اور قلم کاغذ وغیرہ اپنے پاس رکھ لینا چاہئے ، تاکہ ضروری باتیں مطالعہ کے وقت نوٹ کر سکیں اور مطلوبہ معلومات کم سے کم وقت میں حاصل کر سکیں ۔

ضروری معلومات اپنی ذاتی کتاب کے حاشیہ پر یا مستقل کاپی اور نوٹ بک میں مختصراً لکھ لینا چاہئے ۔ مفصل اور طویل مسائل کے مصادر اور حوالہ جات مع جلد اور صفحہ نوٹ کرلینا چاہئے،تاکہ دوبارہ مراجعہ اورمطالعہ میں سہولت ہو ،مطالعہ کے وقت ایسی جگہ نہیں بیٹھنا چاہئے جہاں شور و غل یا کوئی اورڈسٹرب کرنے والی چیزہو ،تاکہ ذہن باربارمنتشرنہ ہو،چنانچہ کھڑکی کے پاس یا ایسی جگہ جہاں لوگ بیٹھ کر باتیں اور گپ شپ کرتے ہوں مطالعہ کرنا قطعاً مناسب نہیں ۔مطالعہ نشاط کی حالت میں اورمناسب وقت پر کریں،سخت تھکے ہونے یاپریشانی یانیند اور ذہنی انتشار کی حالت میں مطالعہ کرنا بے کار ہے ۔ اسی طرح مناسب روشنی اور مناسب وقت کابھی لحاظ کرنا چاہئے، اندھیرے میں یا سخت دھوپ اور گرمی میں یا سخت سردی میں مطالعہ کرنا ٹھیک نہیں ۔

مطالعہ کے وقت جونئی باتیں ذہن میں آئیں انہیں بر وقت لکھ لینا چاہئے، تاکہ نسیان کی وجہ سے بعد میں لکھنے میں پریشانی نہ ہو۔
جو باتیں گھر پر مطالعہ سے حل نہ کر سکیں اور اس کے متعلق کوئی کتاب مدرسے کی لائبریری میں ہو تو درس سے پہلے ہی وہاں جا کر مطالعہ کر لینا چاہئے۔

دوسرے اساتذہ سے استفادہ کرنا:

ذاتی مطالعہ اور غور و فکر سے اگرکوئی مسئلہ یا عبارت حل نہ ہو سکے تو با صلاحیت اساتذہ اور دوسرے علماء کرام سے پوچھ لینا چاہئے ۔اس سلسلہ میں جس سے بھی تعاون مل سکے اور مسئلہ حل ہو سکے اس سے پوچھ لینا ہرگز معیوب نہیں،حتی کہ چھوٹے اساتذہ اور تلامذہ سے بھی بعض مسائل کے پوچھ لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ فرمان الٰہی : ﭽ فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﭼ (النحل: ٤٣) اگر تمہیں علم نہ ہو تواہل علم سے پوچھ لو ۔ میں عموم ہے اور محدثین کرام کے یہاں ’’رواية الاکابر عن الاصاغر‘‘ معلوم و معروف ہے۔

ابو بکر عبد اللہ بن زبیر الحمیدی جوامام شافعی رحمہ الله کے شاگرد ہیں فرماتے ہیں کہ میں مکہ سے مصر تک امام شافعی رحمہ الله کے ساتھ رہا ،میں ان سے مسائل کے سلسلہ میں استفادہ کرتا تھا اورو ہ مجھ سے حدیث کے سلسلہ میں استفادہ کرتے تھے۔ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے امام شافعی رحمہ الله نے کہا : تم لوگ حدیث کے بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہو ،اس واسطے جب تمہارے نزدیک کوئی حدیث صحیح ہو جائے تو ہمیں بتادو تاکہ ہم اس کو لے سکیں ۔اور صحابہ کرام  رضى الله عنہم کی ایک جماعت کا تابعین سے روایت کرنا ثابت ہے اور ان سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت اُبی رضى اللہ عنہ کے سامنے قرآن پڑھنا اور یہ فرمانا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم پر پڑھوں ۔ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فاضل کو مفضول سے علمی استفادہ میں ہتک نہیں محسوس کرنی چاہئے۔ (تذکر ۃ السامع والمتکلم فی ادب العالم والمتعلّم:ص۲۹)

کوئی مسئلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں“ لا أدری” کہنا:

اگر کوئی مسئلہ ذاتی مطالعہ اور دوسروں سے پوچھنے کے باوجود بر وقت حل نہ ہو سکے تو درس کے وقت طلبہ سے صراحت کے ساتھ کہدیں ’’لا ادری‘‘ یعنی مجھے بروقت یہ مسئلہ معلوم نہیں، اوربعد میں تحقیق اور مطالعہ کرکے بتائیں گے۔

اگر کسی مسئلہ میں صحیح علم نہ ہو تو صرف اپنی ناک بچانے کے لئے غلط سلط یا اندازے سے کوئی بات نہیں بتانی چاہئے، بلکہ خندہ پیشانی سے عدم واقفیت کا اعتراف کرنا چاہئے اور پھر معلومات حاصل کر کے بعد میں بتا دینا چاہئے ۔اس سے استاد کا علمی وقار قائم اور طلبہ کااس پر اعتماد برقرار رہتاہے اور وہ بلا علم بات کرنے اور غلط بیانی کے اس گناہ اوروبال سے بھی محفوظ ر ہتا ہے جس کی جانب حدیث ’’ مَنْ أُفْتِىَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ ‘‘ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود متعد دسوالات کے جوابات میں لا علمی کا اظہار فرمایا اور جب ان کے بارے میں وحی نازل ہوئی تب بتايا ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودرضى اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ سُئِلَ مِنْكُمْ عَنْ عِلْمٍ هُوَ عِنْدَهُ ، فَلْيَقُلْ بِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لاَ تَعْلَمُ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : {قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} ‘‘ (مسند أحمد 1/ 431 )

لوگو !جس سے کسی علمی مسئلہ کے بارے میں پوچھا جائے تو اگر اسے معلوم ہو تو چاہئے کہ بتائے ،اور جس کے پاس اس کے بارے میں علم نہ ہو وہ ’’اللّٰہُ اَعْلَمُ ‘‘کہہ دے، اس لئے کہ یہ بھی علم ہے کہ جس کے بارے میں آدمی نہ جا نتا ہو’’اللّٰہُ اَعْلَمُ‘‘ کہہ دے ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا : ’’آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر اجرت نہیں طلب کرتا ہوں،اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔

حضرت ابراہیم  بن طہمان رحمہ اللہ کو لوگوں کو مسائل بتانے پربیت المال سے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا ، ایک دن ایک مسئلہ کے بارے میں ان سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا : ’’لاأدری‘‘یہ مسئلہ مجھے نہیں معلوم ، بعض لوگوں نے کہا :ہر ماہ اتنی اتنی تنخواہ لیتے ہو اور ایک مسئلہ اچھی طرح نہیں جانتے ؟ انھوں نے برجستہ کہا:’’ اِنَّمَا آخُذُ عَلٰی مَا اُحْسِنُ ،وَلَوْ أخَذْتُ عَلٰی مَالَااُحْسِنُ لَفَنِیَ بَيْتُ الْمَالِ ولَا يَفْنیٰ مَالَا اُحْسِنُ‘‘ میں جو اچھی طرح جانتا اور بتاتا ہوں اسی پر تنخواہ لیتا ہوں، اگر میں ان باتوں پر پیسے لینے لگوں جن کا مجھے ٹھیک سے علم نہیں توبیت المال کا خزانہ ختم ہوجائے گااور میری وہ باتیں ختم نہ ہوں گی جنھیں میں اچھی طرح نہیں جانتا۔

خلیفہ کو ان کا یہ جواب بہت پسند آیا اور اس نے انھیں انعام اور خلعَت سے نوازا اور تنخواہ میں بھی اضافہ کردیا۔(العلم و الدین:ص۲۴،۲۵)

اورابو عمر الزاہد فرماتے ہیں کہ میں ابو العباس ثعلب کی مجلس میں تھا ،ایک سائل نے ان سے کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھا ، انھوں نے کہا ’’لاادری‘‘ یعنی یہ مسئلہ مجھے معلوم نہیں ۔اس نے کہا:آپ’’لاادری ‘‘ کہتے ہیں حالانکہ لوگ آپ کے پاس اونٹوں پر کجاوے کَس کر اور ہرہر شہرسے سفر کر کے آتے ہیں؟ابو العباس ثعلب نے اس سے کہا:اگر تیری ماں کے پاس میرے ’’ لا ادری‘‘ کے برابر اونٹوں کی مینگنیاں ہو جائیں تو وہ مال دار ہو جائے گی۔(مصدر سابق :ص۲۴)

غرضیکہ اساتذہ کومطالعہ اور تیاری کر کے کلاس میں آنا چاہئے اور مطالعہ وتحقیق کے بعد ’’علی وجہ البصیرۃ‘‘پڑھانا چاہئے اورجو چیزیں معلوم نہ ہوں بلا جھجک ان کے بارے میں اپنی لا علمی کا اظہار کر دینا اور بعد میں تحقیق و مطالعہ کر کے بتانا چا ہئے ۔

(۲)کلاس میں استاذ کی ہیئت میں آنا:

اساتذہ کو علمی تیاری کے ساتھ ذ ہنی اور جسمانی طور بھی پر تیار ہو کر کلاس میں آنا چاہئے۔ چنانچہ پہلے نہا دھو کر، اچھے کپڑے پہن کر اورخوشبو لگا کر تروتازہ ہو جائیں پھر کلاس میں آکر پورے نشاط کے ساتھ درس دیں ۔امام مالک  رحمہ اللہ باقاعدہ غسل کرکے عمامہ اور اچھے کپڑے زیب تن فرما کر اور خوشبو لگا کر درس میں آتے تھے ۔(انظر رحلۃ الامام الشافعی : ص ۲۴)

بعض اساتذہ میلے کچیلے کپڑے میں اور اچھی طرح ہاتھ منھ دھوئے بغیر کلاس میں آجاتے ہیں ،بعض اساتذہ کے کپڑے سکڑے ہوئے اور داڑھی اور سر کے بال پراگندہ اور مونچھوں کے بال بے ہنگم ہو تے ہیں اور اسی طرح وہ کلاس میں پڑھانے آجاتے ہیں ۔ان کا یہ عمل درست نہیں ۔ کیونکہ ایک تو وہ اس سے اپنے طلبہ کے سامنے کوئی اچھا نمونہ نہیں پیش کرتے،بلکہ وہ نا دانستہ طور پر انھیں بھی لا ابالی پن کی تعلیم دیتے ہیں۔

دوسرے یہ اسلام کی نظافت و طہارت کے آداب و احکام اور اہل علم کی شان کے خلاف ہے ۔

تیسرے اس کی وجہ سے کسل مندی اور سستی ہوتی ہے ،اور ذہنی اور جسمانی نشاط نہیں ہو تا۔ اور ظاہر ہے کہ ذہنی اور جسمانی نشاط کے بغیر استاذ تعلیم و تفہیم کا پورا حق ادا نہیں کر سکتا۔

(۳) کلاس میں اول وقت میں پہنچنااوروقت کی پابندی کرنا:

اساتذہ کو چاہئے کہ وہ وقت کی پابندی کریں ،اور اپنی گھنٹی شروع ہو تے ہی کلاس میں پہونچ جائیں ۔ اگر اساتذہ کلاس میں تاخیر سے آئیں گے تو طلبہ بھی آنے میں تاخیر کریں گے ،بلکہ ان سے زیادہ ہی تاخیر سے آئیں گے ۔نتیجہ یہ ہوگا کہ اسکول اور کلاس میں بدنظمی پیدا ہو گی ،درس کا حق ادا نہیں ہو گا اور مقررہ نصاب بھی مکمل نہیں ہو پائے گا۔کیونکہ اگر مدرس پانچ منٹ بھی لیٹ کر کے آئے گا تو کم از کم پانچ چھ منٹ طلبہ کی حاضری اور کلاس کا جائزہ لینے میں لگ جائیں گے، اس کے بعد عبارت خوانی ہوگی، اس کے بعد درس شروع ہو گا ،اس طرح لگ بھگ دس بارہ منٹ چلے جائیں گے اور بمشکل تمام ۲۵سے۳۰منٹ درس کے لئے ملیں گے جن میں اطمینان سے سبق پڑھاکر کورس مکمل کرنا مشکل ہوگا۔

اسی طرح اساتذہ کو گھنٹی ختم ہونے کے بعد جلد از جلد درس ختم کردینا چاہئے، بعض اساتذہ زبر دستی دوسرے اساتذہ کی گھنٹیوں میں اپنی کتابیں پڑھاتے رہتے ہیں، جس سے ایک تو ان اساتذہ کو باہر کھڑے ہوکر انتظار کرنا پڑتا ہے اور تکلیف ہوتی ہے ۔دوسرے ان کی حق تلفی ہوتی ہے اور ان کا کورس ختم نہیں ہوتا ۔تیسرے بسا اوقات اس کی وجہ سے اساتذہ میں جھگڑے ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی چغلخوری اور شکایت کرتے ہیں اور بدنام و گنہگار ہوتے ہیں ،اس واسطے اساتذہ کو اپنے وقت کی پابندی کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔

(۴)کلاس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا:

اساتذہ جب کلاس میں جائیں تو داخل ہو تے وقت طلبہ سے سلام کریں ۔ بعض اسکولوں میں دیکھنے میں آتا ہے کہ استاذ جب کلاس میں داخل ہو تا ہے تو وہ سلام نہیں کرتا، بلکہ طلبہ کو کھڑے ہو کر سلام کرنے کے لئے کہتا ہے اور اگر کوئی طالب علم کھڑا نہ ہو تو اسے سزادیتا ہے ۔یہ طریقہ اسلامی اصول کے خلاف ہے ۔اسلامی طریقہ یہ ہے کہ آنے والا بیٹھے ہوئے لوگوں کو سلام کرے ،ارشاد باری ہے: ﭽ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتاً غَيْْرَ بُيُوتِکُمْ حَتَّی تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَی أَهْلِهَا  ﭼ (النور: ٢٧)اے مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں نہ داخل ہو ا کروجب تک کہ گھر والوں سے اجازت اور ان کی رضا نہ لے لو اور ان سے سلام نہ کر لو۔

اورحضرت انس رضى اللہ عنہ ایک مرتبہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔( صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري : 8/ 68 , صحيح مسلم : 7/ 6)

اسی طرح کسی مجلس میں آنے پر وہاں کے لوگوں کو اپنی تعظیم کے لئے کھڑا کرنا بھی اسلامی طریقہ نہیں ،بلکہ یہ عجمیوں کا شعار اور طریقہ ہے ۔ اس سے بھی اجتناب کر نا چاہئے ۔ حضرت انس بن مالک رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخص معزز اور محبوب نہیں تھا ۔لیکن ان کی عادت تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریف لاتے ہوئے دیکھتے تو تعظیماً کھڑے نہ ہو تے، اس لئے کہ و ہ جا نتے تھے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں ۔ (رواہ احمد و التر مذی ،وھو حدیث حسن)

              اور حضرت ابو امامہ رضى اللہ عنہسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ میں چھڑی لئے ہوئے ہمارے مجمع میں تشریف لائے ،ہم آپ کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا : ’’ ’’ لاَ تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا ‘‘ (انظر مسند احمد:۵؍۲۵۳،وابوداود:۵؍۳۹۸(۵۲۳۰)

جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں اس طرح مجھے دیکھ کر تم لوگ کھڑے نہ ہو ا کرو۔
ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضى اللہ عنہ باہر نکلے، وہا ں ابان بن زبیررضى اللہ عنہ اور ابن عامررضى اللہ عنہ تھے ،آپ کو دیکھ کر ابن عامر کھڑے ہو گئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، حضرت معاویہ رضى اللہ عنہ نے ابن عامررضى اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ اجْلِسْ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‘‘(رواہ ابو داود:۵؍ ۸ ۹ ۳،وا لترمذ ی :۵؍۹۰ ، وقال : حد یث حسن )بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:جسے پسند ہو کہ لوگ اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوں اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

بہر حال کلاس میں داخل ہوتے وقت اساتذۂ کرام کوخود سلام کرنا چاہئے اور طلبہ کو اپنی تعظیم کے لئے کھڑا نہیں کرنا چاہئے،بلکہ انھیں اس سے منع کرنا چاہئے۔

(۵) کلاس میں داخل ہوتے ہی طلبہ کی حاضری لینا:

کلاس میں آنے کے بعد اساتذہ کو سب سے پہلے طلبہ کی حاضری لینی چاہئے اورتاخیر سے آنے والوں کو غیر حاضر بنانا اور سختی سے تنبیہ کرنا چاہئے ۔اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ طلبہ اول وقت میں ہی کلاس میں پہونچ جائیں گے، درس كے لئے زیادہ وقت ملے گا، اساتذہ اطمینان سے پورا سبق پڑھائیں گے ، درمیان میں کوئی تشویش نہیں ہو گی اور طلبہ ڈسپلن اور نظام کی پابندی کے عادی بنیں گے ۔

بعض اساتذہ شروع میں تو حاضری لے لیتے ہیں مگر بعد میں آنے والے طلبہ کو بھی حاضر بناتے رہتے ہیں۔اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔بلکہ الٹے نقصان ہوتا ہے ۔

اسی طرح بعض اساتذہ گھنٹی کے اخیر میں حاضری لیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طلبہ وقت کی پابندی نہیں کرتے اور اخیر تک آتے رہتے ہیں، جس سے درس میں تشویش ہو تی ہے اور جو طلبہ سبق کے ابتدائی حصے میں غیر حاضر رہتے ہیں وہ استاذ کے درس اور علمی فوائد سے محروم رہتے ہیں اور استاذ کی محنت خاطر خواہ بار آور نہیں ہوتی۔

جو طلبہ درس سے غیر حاضر رہیں اساتذہ کو ان کے بارے میں پرشش اورتحقیق کرنی چاہئے ،اور غیر معقول عذر ہونے کی صورت میں ان کی تنبیہ كے لئے مناسب کاروائی کرنی چاہئے۔تاکہ ان کی یہ بری عادت چھوٹ جائے اور وہ حقیقی طالب علم بن سکیں۔

(۶)کلاس کا جائزہ لینا:

حاضری لینے کے بعد اسا تذہ کو کلاس کا جائزہ لینا چاہئے اور طلبہ کے لباس ،شکل و صورت ، اور وضع قطع پر نظر ڈالنی چاہئے۔اسی طرح یہ بھی دیکھنا چاہئے کون درس کے لوازمات :کتاب ، کاپی اور قلم وغیرہ لایا ہے اور کون نہیں ۔نیز یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کوئی غیر درسی چیزیں خاص طور سے گندے رسالے اور ناول وغیرہ تو لے کر نہیں آیا ہے اور درس سننے کے بجائے انھیں رسالوں اور کتابوں کو  پڑھتا ہے۔

بعض طلبہ کلاس میں کھیل کے سامان، ٹیپ ریکارڈ اور کیسٹیں لے کر آتے ہیں اور اساتذہ کی نظریں بچاکر ان سے کھیلنے اور محظوظ ہونے میں لگے رہتے ہیں اور سبق نہیں سنتے ۔کلاس میں ایسے طلبہ کی حاضری بے معنی ہوتی ہے۔ اس واسطے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ درس شروع کرنے سے قبل کلاس کا جائزہ لیں اور جہاں انہیں آداب درس کے خلاف کوئی چیز نظر آئے فورا اس پر تنبیہ اور طلبہ کی ا صلا ح کریں ۔

(۷)کلاس میں طلبہ کو بٹھانے کا اصول:

کلاس کا جائزہ لیتے وقت اس کو بھی دیکھنا ضروری ہے کہ طلبہ کلاس میں قاعدے سے بیٹھے ہیں یا نہیں ، اگر طلبہ قاعدے سے نہیں بیٹھے ہیں اور اِدھر اُدھر متفرق و منتشر ہیں تو پھر درس کا خواطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا ۔

مختلف مدارس و جامعات میں طلبہ کے کلاس میں بٹھانے کے الگ الگ اصول ہیں، اس واسطے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس موضوع پر بھی کچھ گفتگو ہوجائے ۔

بعض مدارس میں طلبہ کو کلاس میں بٹھانے کا اصول یہ ہے کہ سالانہ امتحان میں نمبرات کے حساب سے جیسے ان کی ترتیب ہوتی ہے اسی ترتیب سے کلاس میں بٹھاتے ہیں ،اس میں جہاں یہ فائدہ ہے کہ ذہین اور محنتی طلبہ کے آگے اور استاذ کے قریب ہونے کہ وجہ سے ، وہ صحیح صحیح عبارت خوانی کرتے ، استاذ کی باتوں اور درس کو جلدی اور اچھی طرح سمجھتے ہیں اور بعد میں اپنے ساتھیوں کو مذاکرہ کراتے اور درس سمجھاتے ہیں ، وہیں اس میں یہ خامی بھی ہے کہ اس سے کمزور طلبہ پیچھے ہوجاتے ہیں جو ایک تو پہلے سے پیچھے اورکمزور ہوتے ہیں دوسرے استاذ سے دور اور آخری صفوں میں ہوجانے کی وجہ سے استاذ کے درس اور تقریر کو صحیح اور مکمل طور سے نہیں سن پاتے ،جس سے سبق کے بہت سے اجزاء ان کی سمجھ میں نہیں آتے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ترقی کرنے کے بجائے علمی اعتبار سے اور پیچھے ہوتے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں اس سے بہت سے طلبہ استاذ کی نظروں سے دور ہونے اور سبق کے برابر نہ سننے کی وجہ سے اونگھنے اور سونے لگنے لگتے ہیں یا کسی دوسرے کام میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح یہ طلبہ تعلیم میں مزید کمزور اور پیچھے ہو تے جاتے ہیں ۔

بعض اساتذہ کمزور ، معذور اور شریر بچوں کو آگے بٹھاتے ہیں، تاکہ کمزور اور اونچا سننے والے بچے استاذ کی باتوں کو اچھی طرح سن اور سمجھ سکیں اور تعلیم میں پیچھے نہ رہ جائیں ،اسی طرح وہ طلبہ جو شرارت کرتے ہیں یا درس کے وقت سوتے رہتے ہیں انھیں بھی آگے بٹھاتے ہیں تاکہ ان پر برابر نظر رہے اور انھیں سونے یا شرارت کرنے کا موقع نہ ملے، یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن اگر سارے ذہین بچے پیچھے چلیں جائیں تو یہ ہوسکتا ہے کہ استاذ کی کچھ علمی باتیں وہ بھی نہ سن پائیں اور کمزور بچے بھی نہ سمجھ پائیں جس سے وہ باتیں غیر مفہوم رہ جائیں ۔ اورجامع ترمذی: ۵؍۷۳ (۷۲۵ ۲) سنن ابی داود :۵؍۱۶۴(۴۸۲۵) الادب المفرد للبخاری :ص۲۹۲(۱۱۴۱) میں حضرت جابر بن سمرۃ رضى اللہ عنہ کی روایت ہے : ’’ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِى ‘‘ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے تو مجلس جہاں ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے تھے ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجلس اور کلاس میں پہلے آنے والوں کو آگے اور مدرس کے قریب بیٹھنے کا زیادہ حق ہے اور ہر شخص جیسے جیسے آئے پیچھے ترتیب سے بیٹھتا جائے۔

البتہ صحیح بخاری :۱؍۱۵۶(۶۶) ’’ باب من قعد حيث ينتهي به المجلس ومن رأى فرجة في الحلقة فجلس فيها ‘‘ اور جامع الترمذی :۵؍۷۳ ( ۲۷۲۴)میں ابوو ا قد اللیثی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرماتھے اور آپ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی تھے کہ تین آدمی آئے جن میں سے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے قریب آئے اور کھڑے ہوگئے ، پھر ایک آدمی نے حلقہ میں ایک خالی جگہ دیکھی اور وہاں جاکر بیٹھ گیا اور دوسرا ان کے پیچھے جاکر بیٹھ گیا اور تیسرا پیٹھ پھیر کر چلاگیا ، رسول اللہْ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی باتوں سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ کیا میں تم لوگوں کو تینوں افراد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اس میں سے ایک نے اللہ کے پاس پناہ لی ، اور دوسراشرمایا (اور اس کی وجہ سے مجلس سے واپس نہیں گیا ) تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی (اور اس پر رحم فرمایا ) اور تیسرا رخ پھیر کر چلا گیا تو اللہ نے بھی اس سے رخ پھیر لیا ‘‘۔

اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ اگر آگے کی صفوں میں یا حلقۂدرس میں کوئی جگہ خالی ہوتو بعد میں آنے والے شخص کے لئے اس جگہ بیٹھنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب بھی ہے ۔ اور ان حدیثوں سے مجموعی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو طلبہ کلاس میں پہلے آئیں وہ آگے بیٹھیں اور بعد میں آنے والے جہاں جگہ خالی دیکھیں وہاں یا اخیر مجلس میں بیٹھیں ۔

اس میں کئی فائدے ہیں ، مثلاً: آگے بیٹھنے کے لئے ہر طالب علم کلاس میں پہلے پہونچنے کی کوشش کرے گا اوراس میں ہر طالب علم کے لئے آگے بیٹھنے اور استاذ کے درس سے اچھی طرح استفادہ کرنے کا موقع رہتا ہے ، اور جس کو بھی علم کا شوق ہوگا خواہ وہ ذہین و فطین ہو یا کمزور اور غبی ، وہ پہلے آکر استاذ کے قریب اور سامنے بیٹھنے کی کوشش کرے گا ۔

رہے کلاس میں سونے اور شرارت کرنے والے طلبہ تو استاذ انھیں تنبیہ کرسکتا اور اول وقت میں کلاس میں بلاکر اپنے قریب اور سامنے بٹھا سکتا ہے ،بصورت دیگر اپنے دائیں بائیں بٹھا سکتا ہے ۔

اس واسطے میرے نزدیک یہ طریقہ سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، البتہ درس کی مصلحت کی خاطر استاذ کبھی بعض ذہین طلبہ کو آگے بلا سکتا ہے ۔جیسا کہ امام مالک  رحمہ الله نے امام شافعی رحمہ الله کو بلایا تھا۔ (انظر رحلۃ الامام الشافعی: ص۲۵،۲۶ )

(۸)عبارت خوانی کرانا:

حاضری اور کلاس کاجائزہ لینے کے بعد اساتذہ کسی طالب علم سے اس دن پڑھائے جانے والے سبق کی عبارت خوانی کرائیں اور اعراب ،تلفظ اور لب و لہجہ میں اگر کوئی خامی یا غلطی ہو تو اس کی اصلاح کریں ۔

عبارت خوانی میں اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ روزانہ ایک ہی طالب علم ،یاصرف چند طلبہ ہی عبارت خوانی نہ کریں ۔بلکہ کلاس کے تمام طلبہ سے باری باری عبارت خوانی کرائیں، ورنہ جو طلبہ عبارت خوانی نہیں کریں گے وہ قواعد( نحو و صرف) کی تطبیق، اورالفاظ کی صحیح ادائیگی میں کمزور رہ جائیں گے اور کتاب صحیح طریقہ سے نہیں سمجھ سکیں گے، نیز وہ محنت کرنا چھوڑ دیں گے اور کم ہمتی و بزدلی کا شکار ہو جائیں گے، جس سے و ہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔

مطالعہ کے لئے باری مقرر کرنے کے بجائے سب کو روزانہ مطالعہ کر کے آنے کا مکلف کریں اور ہر روز بدل بدل کر اپنی مرضی سے بھی کسی طالب علم سے عبارت پڑھوائیں ۔یہ طریقہ باری مقرر کرنے سے زیادہ بہتر ہے، اس واسطے کہ اس سے سارے طلبہ روزانہ مطالعہ اور عبارت فہمی كے لئے محنت کریں گے، اور باری مقرر کرنے کی صورت میں جس کی باری ہو گی صرف وہی مطالعہ کر ے گا اور باقی طلبہ غفلت سے کام لیں گے ۔البتہ اگر زیادہ کتابیں اور گھنٹیا ں ہوں اور ساری کتابوں کا مطالعہ اور مذاکرہ ہر طالب علم کے لئے مشکل ہو تو اس طرح باری مقرر کی جا سکتی ہے کہ ہر طالب علم کم از کم ایک کتاب کی عبارت خوانی روزانہ ضرور کرے۔

(۹) درس کے وقت کلاس میں نظم برقرار رکھنا:

اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ درس کے وقت اپنے کلاس میں نظم و نسق کو برقرار رکھیں ،کلاس پر ان کا مکمل کنٹرول ہو ۔ اور طلبہ درس کے وقت خاموشی اور توجہ سے درس سنیں ،ضروری باتیں نوٹ کریں، اور اِدھر اُدھر تانک جھانک، جھگڑا لڑائی اورکھیل کود سے اجتناب کریں اور دوسری کتابوں اور مجلات و جرائد کا مطالعہ نہ کریں۔

اسی طرح درس کے وقت طلبہ کی آمد و رفت کا سلسلہ بند ہو نا چاہئے ۔ کیونکہ دوران سبق طلبہ کے بار بار آنے جانے سے درس میں کافی تشویش اور پریشانی ہو تی ہے، افکا ر کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے،خیالات منتشر ہو جاتے ہیں اور اساتذہ و طلبہ کی توجہ دوسری طرف چلی جاتی ہے۔

بعض اساتذہ کو دیکھا گیا ہے کہ کلاس میں چند طلبہ انہیں گھیر کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اپنی باتوں میں انہیں لگائے رہتے ہیں اور دوسرے طلبہ چپکے چپکے پیچھے سے باہر نکل جاتے ہیں۔اس طرح درس کا بھی نقصان ہوتا ہے اور کلاس اور اسکول میں بد نظمی ہوتی ہے۔اساتذہ کو بہت ہوشیار ہونا چاہئے اور طلبہ کی اس قسم کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہئے۔اور کلاس پر مکمل کنٹرول رکھنا چاہئے۔

(۱۰)آسان زبان و بہترین اسلوب اختیار کرنا:

درس کی تفہیم اور مسائل کی توضیح میں اساتذہ کو ہمیشہ ایسی زبان استعمال کرنی چاہئے جو عام فہم اور طلبہ وطالبات کے معیار کے مطابق ہو ،تا کہ وہ ان کی باتوں کو آسانی سے سمجھ سکیں ۔مشکل الفا ظ ، دوسری زبانوں کے غیر مانوس کلمات اورمقفیٰ ومسجع عبارتوں کا درس میں استعمال کرنا ٹھیک نہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں رسول اسی قوم میں سے مبعوث فرمایا، جو ان کی زبان سے اچھی طرح واقف ہوتا تھا ، اور انھیں کی زبان میں انھیں وعظ و نصیحت کرتا ،تعلیم دیتااور دعوت و تبلیغ کرتا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﭽ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ  ﮟ  ﭼ إبراهيم: ٤ اور ہم نے ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا تاکہ ان کے سامنے وضاحت سے بیان کردے۔

جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کوبھیجتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا کہ وہ اپنی قوم کی زبان سے اچھی طرح واقف ہوں، اور انبیاء علیہم السلام اپنی قوم کوانہیں کی زبان میں تعلیم دیتے تھے تو اساتذہ اور معلّمات کو بھی اس کا لحاظ رکھنا چاہئے، اور تدریس وتفہیم میں طلبہ کی زبان اور ان کے معیار کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ ماہرین تعلیم کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ بچوں کی ابتدائی تعلیم ان کی مادری زبان میں ہی ہونی چاہئے، تاکہ ان کو سمجھنے میں سہولت ہو اور زبان اور مسائل کے سمجھنے کا ڈبل بوجھ ان پر نہ پڑ ے ۔

(۱۱)درس کے وقت آواز کاواضح اور بلند ہونا:

اساتذہ کی آواز درس دیتے وقت اتنی بلند ہونی چاہئے کہ کلاس کے تمام طلبہ وطالبات اسے بآسانی سن سکیں، اور زبان اتنی واضح ہو نی چاہئے کہ سب بآسانی سمجھ سکیں ۔

بعض اساتذہ و معلّمات درس کے وقت اپنی آواز اتنی پست رکھتے ہیں کہ طلبہ و طالبات صحیح طریقہ سے ان کی باتیں نہیں سن پاتے،ایسی صورت میں ان کے درس کاخاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے توآپ کی آواز بلند ہوتی تھی۔ حضرت جابررضى اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے اور قیامت کا ذکر فرماتے تو آپ کا غضب شدید ہوجاتا اور آپ کی آواز بلند ہوجاتی۔ (صحيح مسلم : 3/ 11)

اور حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے ۔ آپ جب ہمارے پاس پہونچے تو نماز کا وقت تنگ ہوگیا تھا، اور ہم وضو کررہے اور اپنے پاؤں پر مسح کر رہے تھے۔ آپ نے یہ دیکھ کر بلند آواز سے پکار کر دویا تین بار فرمایا:’’ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‘‘. (رواہ البخاری :۱؍۸۴۳) آگ کے عذاب کی خرابی ہے ان ایڑیوں كے لئے جو خشک رہ جا ئیں ۔

اس سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت بات کو مکرر سہ کرر بیان کرنا چاہئے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ معلم کی آواز بقدر ضرورت بلند ہونی چاہئے تاکہ سارے مخاطبین سن سکیں۔ لہٰذا اساتذہ و معلّمات کو چاہئے کہ درس میں اپنی آواز اسقدر بلند رکھیں کہ تمام طلبہ وطالبات بآسانی اسے سن سکیں اور مناسب آواز اور دلکش انداز میں شوق ورغبت سے پڑھائیں، بے دلی سے اور ایسی پست آواز میں نہ پڑھائیں کہ ان کی بات طلبہ کی سمجھ میں نہ آئے ، جو اساتذہ و مدرسین ایسا کرتے ہیں وہ عموما ناکام رہتے ہیں،ہم نے ایک عرب استاذ کو دیکھا ،جب وہ کلاس میں آتے تو اپنی جگہ پر بیٹھتے ہی کتاب میز پر رکھتے اور سرنیچا کر کے پڑھانے لگتے ، ان کی آواز اتنی پست ہوتی کہ طلبہ کو برابر سنائی نہیں پڑتی اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کہتے ہیں ،اورجب درس طلبہ کی سمجھ میں نہیں آتا اور دیکھتے کہ شیخ سر اوپر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں ہیں تو آہستہ آہستہ کلاس سے بھاگ نکلتے اور کبھی کبھی صورت حال یہ ہوتی ہے کہ صرف دو چار طلبہ ہی کلاس میں رہ جاتے ۔

بہر حال اساتذہ کی آواز بقدر ضرورت بلندہو نی چاہئے ،اور انھیں تمام طلبہ سے مخاطب ہونا اورچاروں طرف دیکھنا چاہئے ، بولنے کی رفتار درمیانی اور معتدل ہو نی چاہئے، نہ بہت تیز ہو کہ طلبہ تمام باتیں اپنی گرفت میں نہ لے سکیں اور نہ اتنی سست ہو کہ وہ اکتا جائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے با ر ے میں وارد ہے کہ جب آپ گفتگو فرماتے تو آپ کا ایک ایک لفظ اس طرح واضح ہو تا تھا کہ گننا چاہیں تو گن سکتے تھے۔

درس اور وعظ ونصیحت میں اس کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے کہ آواز اس قدر بلند ، اور کرخت نہ ہو کہ سننے والوں پر گراں اور ان کے ذوق سماعت پر بار گزرے۔ بے تحاشہ چیخنے کی وجہ سے ہی گدہے کے بارے میں کہاگیا ہے : إِنَّ أَنکَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ  ﭼ (لقمان: ١٩) بیشک گدھے کی آواز سب سے خراب آواز ہے۔

اس واسطے درس میں بے تحاشہ چیخنے سے بھی احتراز کرنا چاہئے اور مناسب ودلکش آواز میں درس دینا چاہئے ۔

(۱۲) درس کے مسائل اور عبارتوں کی اچھی طرح تشریح کرنا:

اساتذہ کو چاہئے کہ درس کے مسائل اور عبارتوں کی اچھی طرح تشریح کریں اور جومسائل اور باتیں تفصیل طلب ہوں انھیں تفصیل کے ساتھ سمجھائیں، صرف ترجمہ کر کے یا سر سر ی اشارہ کر کے نہ گزر جائیں، البتہ جو باتیں طلبہ کے لئے آسان ہوں اور جنھیں وہ پہلے سے پڑھ اور سمجھ چکے ہوں ان کی جانب اشارہ کرنا ہی کافی ہے ۔اسی طرح مشکل عبارتوں کی بھی اچھی طرح تفہیم کریں ، پہلے مفردات کی تشریح کریں ،پھر پوری عبارت کو سمجھائیں ،لفظی ترجمہ، اصطلاحی ترجمہ ، واحد ،جمع اور مصدر ،اصل مادّہ ،باب ،صیغہ اور ترکیب وغیرہ بتائیں ،تاکہ عبارت اچھی طرح حل ہوجائے اور اس کا مفہوم اچھی طرح واضح ہو جائے ۔

(۱۳) طلبہ کے معیار کے مطابق باتیں بتانا:

علمی اور فقہی باتوں کو پیش کرتے وقت طلبہ ، طالبات اور حاضرین کے ذہنی وعلمی معیار اور عمر وغیرہ کا لحاظ رکھنا چاہئے اور ان کے سامنے ایسی باتیں ہرگز نہیں پیش کرنی چاہئے جو ان کی سمجھ سے بالا تر ہو ں۔حضرت علی رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ أَتُحِبُّونَ أَنْ يُكَذَّبَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‘‘ (رواہ البخاری : ۱؍۲۲۵) لوگوں سے ایسی باتیں بیان کرو جو وہ سمجھ سکیں ،کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی جائے ۔

اور بعض روایتوں میں ہے :’’دَعُوْا مَا يُنْکِرُوْن‘‘(رواہ آدم بن ا یاس وابو نعیم) یعنی جو باتیں اور مسائل ان کے معیار سے بلند ہوں اور جو وہ نہ سمجھ سکتے ہوں اور ان کوبیان کرنے کی صورت میں انکار کرنے اور فتنہ میں پڑ جانے کا خطرہ ہو ان مسائل اور باتوں کو چھوڑ دو۔

اور عبد اللہ بن مسعودرضى اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا لاَ تَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ إِلاَّ كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةً ‘‘ (صحيح مسلم: 1/ 9) جب آپ کسی قوم سے ایسی باتیں کریں گے جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہوں گی تو یہ ان میں سے بعض لوگوں کے لئے فتنہ کا باعث ہوں گی۔

اس لئے علمی باتیں اور مسائل پیش کرتے وقت مخاطبین کے علم ،عمر اور سمجھ بوجھ وذہنی معیار کا لحاظ کرنا ضروری ہے ۔ بعض اساتذہ نابالغ بچوں اور بچیوں کے سامنے نکاح ، جماع، غسل جنابت،حیض ونفاس اور ولادت وغیرہ کے مسائل چھیڑ دیتے ہیں ،بعض لوگ چھوٹے بچوں کے سامنے انکار حدیث کی تاریخ اورمنکرین حدیث کے شبہات وغیرہ بیان کرتے ہیں، جو ان کی عمر اور عقل
کے اعتبار سے قطعاً مناسب نہیں۔

(۱۴)مکر ر سہ کر ر سمجھا نا:

اگر کوئی مسئلہ ایسا ہو جس کو طلبہ و طالبات ایک مرتبہ بتانے اور سمجھانے سے بآسانی نہ سمجھ سکتے ہوں تو انھیں وہ مسئلہ مکرر سہ کرر سمجھا نا چاہئے، تا کہ طلبہ اسے اچھی طرح سمجھ سکیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ’’ أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ ، وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ‘‘ (بخاری:۱؍۱۸۸ مع الفتح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں سے گفتگو فرماتے اور کوئی بات کہتے تواس کو تین مرتبہ دہراتے یہاں تک کہ وہ بات اچھی طرح لوگوں کے سمجھ میں آجاتی ۔اور جب کسی قوم کے پاس آتے تو سلام کرتے اور تین مرتبہ ان سے سلام کرتے ۔

امام نووی رحمہ الله فرماتے ہیں :یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جب مجمع بڑاہو۔ (الاذکار: ص۲۱۹ )

میں کہتا ہوں کہ بات کے اعادہ کے سلسلہ میں یہ اس صورت پر بھی محمول ہوگی جب کوئی بات مشکل ہونے یا کسی اور بنا پر ایک مرتبہ کہنے اور سمجھانے سے مخاطبین کی سمجھ میں نہ آئے ،الحمد للہ آج ماہرین تعلیم نے بھی اعادہ وتکرار کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور تدریس کے اسالیب میں سے ایک اہم چیز درس کے اعادہ کو بھی مانا ہے ۔

مگر اساتذہ و معلّمات کو چاہئے کہ درس کے اعادہ اورمکرر سہ کرر سمجھانے میں اس کی حاجت و ضرورت کا ضرورلحاظ کریں ،ایسا نہ ہو کہ بالکل آسان اور عام فہم مسائل کو بلاضرورت مکرر سہ کرر سمجھائیں ۔ اساتذہ کرام کو معلوم ہے کہ کچھ طلبہ کم پڑھنے اور امتحان میں محنت سے بچنے کے لئے جھوٹ بولتے اور بلاوجہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ استاذ ! یہ سبق پھر سے سمجھائیے ،ہم لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا ہے، ایسے طلبہ سے ہوشیار رہیں اور بلاوجہ درس کے اعادہ و تکرار سے بچیں۔

(۱۵) عملی طور سے(پریکٹیکل) کر کے دکھانا :

کچھ مسائل اور چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب تک ان کو عملی طور سے کر کے نہ دکھایا جائے طلبہ کی سمجھ میں نہیں آتیں ،ایسی چیزوں کو عملی طور سے(پریکٹیکل) کر کے دکھا نا چاہئے ،کتاب و سنت میں اس کی کئی نظیر موجود ہیں ،مثال کے طور پر جب نماز کی فرضیت نازل ہوئی توحضرت جبریل علىہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو روز باقاعدہ نماز پڑھ کر دکھایا، پہلے روز اول وقت میں، اور دوسرے روز آخروقت میں ، اور پھر فرمایا:’’ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ ‘‘(سنن أبي داود محقق وبتعليق الألباني: 1/ 150 , سنن الترمذي: 1/ 278 , المستدرك على الصحيحين للحاكم : 1/ 306)اور وقت ان دونوں وقتوں کے در میا ن ہے۔

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام کو نماز پڑھ کر دکھایا اور فرمایا: ’’صَلُّوْا کَمَا رَأيْتُمُو نِیْ اُصَلِّیْ‘‘(رواہ البخاری و احمد، انظر البخاری: ۱؍۱۱۱[۳۱ ۶ ] و مسند احمد :۵؍۵۳)

ایک مرتبہ آپ نے منبر پر نماز پڑھی اور جب سجدہ کرنا ہوا تو الٹے قدم نیچے اتر کر سجدہ کیا اور پھر منبر پر لوٹ آئے۔ اورنماز سے فراغت کے بعد لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:’’ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي ‘‘ (البخاری:۲؍۳۹۷) اے لوگو! میں نے ایسا صرف اس لئے کیا تاکہ تم لوگ میری اقتداء کرو اور میری نماز سیکھ لو۔اسی طرح آپ نے حج بھی عملًا کر کے دکھا یا اور فرمایا: ’’ خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ ‘‘(رواہ احمد: 3 / 318) تم لوگ مجھ سے مناسک حج سیکھ لو۔

آج بھی عربی مدارس میں نیچے کے درجات میں طلبہ سے عملی وضو کرایا جاتا،اور عملی نمازیں پڑھائی جاتیں ہیں ،اس واسطے کہ اگر ان طلبہ کو صرف زبانی وضوء کا طریقہ بتا دیا جائے تو کچھ بھی ان کے پلّے نہیں پڑے گا ،لیکن جب سامنے وضو کر کے انہیں دکھایا جاتاہے ،اور اپنے سامنے کھڑا کرکے باقاعدہ انہیں عملی نماز پڑھائی جاتی ہے، تو طلبہ وضو کا مکمل طریقہ اور نماز میں قیام، رکوع ، سجدہ، جلسہ ، تشہد وغیرہ تمام اعمال کا صحیح طریقہ سیکھ لیتے ہیں اور انہیں ساری دعائیں یاد ہو جاتیں ہیں۔

بہر حال جن چیزوں کی تعلیم و تفہیم کے لئے عملی طور سے کر کے دکھانا ضروری یا زیادہ مفید ہو انھیں عملی طور سے کر کے دکھانا چاہئے، عصری علوم کی تعلیم میں پریکٹیکل کی بڑی اہمیت ہے ، خاص طور سے سائنس اور طب میں۔مگر دینی علوم کی تعلیم میں بھی اس کی ضرورت پڑتی ہے، اور بوقت ضرورت اس کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔

(۱۶)مثالوں کے ذریعہ سمجھانا:

بہت سی باتیں اوراصول وقواعد مثالوں کے بغیر سمجھ میں نہیں آتے، اور کچھ باتیں ایسی ہو تی ہیں جو مثالوں سے بہت جلد سمجھ میں آجاتی ہیں، اور بغیر مثال کے سمجھانے میں دیرلگتی اور پر یشا نی ہوتی ہے، ایسی باتوں کومثالوں کے ذریعہ سمجھانا چاہئے ، کتاب وسنت میں اس کی بہت سی مثا لیں مو جود ہیں ۔

مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﭽ مَثَلُهُمْ کَمَثَلِ الَّذِیْ اسْتَوْقَدَ نَاراً فَلَمَّا أَضَاء تْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَکَهُمْ فِیْ ظُلُمَاتٍ لاَّ يُبْصِرُونَ  ﭼ (البقرة: ١٧) ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ،پھر جب اس کے آس پاس کی چیزیں روشنی میں آگئیں تو اللہ نے ان کے نور کوچھین لیا اور انھیں اندھیرے میں چھوڑ دیا ،جو دیکھتے نہیں۔

اس میں اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں جو پہلے تو مسلمان ہوئے ،لیکن پھر جلدہی منافق ہو گئے، بتایا کہ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا، پھر اس نے روشنی جلائی جس سے اس کا ماحول روشن ہو گیا اور مفید اور نقصان دہ چیزیں اس پر واضح ہو گئیں ، پھردفعتًا وہ روشنی بجھ گئی، اور وہ حسب سابق تاریکیوں میں گھر گیا، یہ منافقین بھی پہلے شرک کی تاریکی میں تھے ،پھر مسلمان ہوئے تو ایمان کی روشنی میں آگئے، اور حلال و حرام اور خیر و شر کو پہچان گئے ،پھر دوبارہ نفاق کی جانب لوٹ گئے تو ساری روشنی جاتی رہی ۔ (فتح القدیر)

ایک دوسری جگہ فرمایا : ﭽ مَّثَلُ الَّذِيْنَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِيْلِ اللّهِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَالله وَاسِعٌ عَلِيْمٌ  ﭼ (البقرة: ٢٦١)جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کئے ہوئے مال کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں ،اور ہر بالی میں سو دانے ہوں،اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر دیتاہے،اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔

اسی طرح باتوں کی وضاحت اور مسائل کی توضیح و تشریح کے لئے اور بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی باتوں کو سمجھانے كے لئے مثالوں کا استعمال کیا ہے، مثلاً آپ نے فرمایا:’’ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِى تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ‘‘(صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري : 8/ 12 , صحيح مسلم : 8/ 20)

مومنوں کی مثال آپسی لطف و محبت اور رحم دلی میں ایک جسم کے مانند ہے کہ اس کے کسی بھی عضومیں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بخار،درد اور جاگنے میں برابر شریک ہوتا ہے ۔

اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے باہمی ربط اور محبت و تعلق کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھایا ہے کہ مسلم معاشرہ ایک جسم کی طرح ہے، جیسے جسم کے کسی ایک عضو میں بیماری اور تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے، ایسے ہی اگر کسی مسلمان کو تکلیف ہو تو اس تکلیف میں سارے مسلمانوں کو شریک ہونا چاہئے ۔

ایک حدیث میں آپ نے فرمایا:’’ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِى يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِى لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِى يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِى لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلاَ رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْهُ شَىْءٌ أَصَابَكَ مِنْ رِيحِهِ وَمَثَلُ جَلِيسِ السُّوءِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْ سَوَادِهِ أَصَابَكَ مِنْ دُخَانِهِ ‘‘ (سنن أبي داود محقق وبتعليق الألباني : 4/ 406)

اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اترجہ (سنترے کے مانند ایک خوش ذائقہ اور خوشبو دار پھل)کی مانند ہے ،جس کی بو بھی اچھی ہو تی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے ۔اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی طرح ہے، جس کا ذائقہ اچھا ہو تا ہے ، مگر اس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے، ریحانہ(ایک خوشبو دار پھل) کی مانند ہے، جس کی بو اچھی ہو تی ہے، مگرذائقہ کڑوا ہو تا ہے ،اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا، اندرائن کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی بو بھی نہیں ہوتی ۔اچھے ساتھی کی مثال مسک والے کی مانند ہے  اگر تمہیں اس میں سے کچھ نہیں لگے گا توخوشبو ضرور ملے گی،  برے ساتھی کی مثال بھٹی والے(لوہار وغیرہ) کی مانند ہے ،اگر تمہیں اس کی سیاہی نہ لگے، تو اس کا دھواں تو ضرور لگے گا۔

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن اور فاجر اور ان کے قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے کے عمل کے اثرات کو محسوس چیزوں سے تشبیہ دے کر بہت زیادہ آسان قابل فہم اور اثر انگیز بنادیا ہے،اسی طرح برے ساتھی کو لوہار سے تشبیہ دے کر یہ واضح فرمایا ہے کہ جس طرح لوہار کے پاس بیٹھنے والا اگر اس کے کوئلے کی سیاہی اورآگ کی چنگاریوں سے بچ بھی جائے تو کم از کم اسے دھواں تو لگے گا ہی ۔ ا سی طرح برے شخص کی صحبت میں رہنے والے کو بھی اس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ تکلیف اور نقصان ضرورپہونچے گا ۔اس واسطے بروں کی صحبت سے حتی الامکان دور رہنا چاہئے۔

بہر حال کتاب و سنت میں بہت سی باتوں کی توضیح مثالیں دیکر اور تشبیہ اور تمثیل کے ذریعہ کی گئی ہے، اس واسطے اساتذہ و معلّمات کو بھی اپنی باتوں کو سمجھانے كے لئے مثالوں سے مدد لینی چا ہئے ۔

(۱۷)اشارے کے ذریعہ سمجھانا:

بعض اشیاء کا اشارے کے ذریعہ سمجھا نا آسان ہو تا ہے اور اس سے مخاطبین بات کو بڑی آسانی سے سمجھ لیتے ہیں، ایسی صورت میں اساتذہ کو تفہیم کے لئے اشارے کااستعمال کرنا چاہئے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھانے کے لئے کہ قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا ہو تا ہے اور کبھی تیس دن کا اشارے سے کام لیا، اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو پھیلا کر اشارہ کرتے ہوئے فر مایا : ’’الشَّهْرُ هٰکَذا وَ هٰکَذاوَ هٰکَذا‘‘ کبھی مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو موڑلیا ، پھر فرمایا: ’’ ’’الشَّهْرُ هٰکَذا وَ هٰکَذاوَ هٰکَذا ‘‘اور اس مرتبہ انگوٹھے کو نہیں موڑا، اس طرح آپ نے اشارہ فرمایا کہ مہینہ کبھی انتیس کا اور کبھی تیس کا ہو تا ہے ۔  (صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري : 7/ 68 , صحيح مسلم: 3/ 123)

اسی طرح مسلمانو ں کے باہمی ربط و تعلق کو بتانے كے لئے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ‘‘مومن مومن کے لئے عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے میں پیوست ہو کر اس کومضبوط کرتا ہے ،راوی حدیث حضرت ابوموسیٰ اشعری رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ ‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر جال بنا کر دکھایا۔ (صحيح البخاري  حسب ترقيم فتح الباري : 1/ 129 , صحيح مسلم : 8/ 20)

اورحضرت سہل بن سعد الساعدی رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ‘‘(صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري :  7/ 68) میں اور یتیم کی کفاکت کرنے والا جنت میں ان دونوں انگلیوں کی طرح ہوں گے ۔اور یہ کہتے ہوئے آپ نے درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا۔

ظاہر ہے کہ اس اشارے سے صحابہ کرام کی سمجھ میں یہ بات بڑی آسانی سے آگئی ہوگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایک دوسرے سے بالکل قریب ہوں گے اور دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہو گی۔

ایک بار سفیان بن عبد اللہ رضى اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ: اللہ کے رسول یہ ارشاد فرمائیے کہ آپ کی نظر میں میرے لئے کون سی چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے ؟آپ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا:یہ۔(رواه الترمذي :  4/ 607 وصححہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر جواب میں ’’یہ‘‘ کہہ کرجہاں اس بات کی جانب اشارہ فرمایا کہ زبان کے استعمال میں بے احتیاطی سب سے خطر ناک امر ہے وہیں آپ نے زبان کو پکڑ کر اس بات کی جانب بھی اشارہ کردیا کہ زبان پر گرفت ہونا اور اس کو اپنے قابو میں رکھنا ضروری ہے ۔

در اصل بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں لوگ اشارے سے بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ جاتے ہیں اور صرف زبان سے کہنے سے یا تو اسے دیر میں سمجھتے ہیں یا سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں ، ایسے مواقع پر تفہیم کے لئے اشاروں کا استعمال کرنا زیادہ مناسب اوربہتر یا ضروری ہو تا ہے۔

بہر حال تعلیم و تربیت کا کام کرنے والوں کو چاہئے کہ اپنی باتوں کو اچھی طرح سمجھانے اور واضح کرنے کے لئے حسب ضرورت اشاروں سے بھی مدد لیں۔

(۱۸)نقشہ بنا کر یا لکیریں کھینچ کر سمجھانا:

بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو نقشہ بنا کر یا لکیروں سے اس کی شکل بنا کر دکھانے اور سمجھا نے سے مخاطبین کوفورا سمجھ میں آجاتی ہیں،اور اگر ویسے سمجھایا جائے تو سمجھ میں نہیں آتیں ۔ ایسی چیزو ں کونقشہ کے ذریعہ یا خطوط کھینچ کر سمجھانا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حسب ضرورت ا یسا کیا کرتے تھے ۔

حضرت جابر بن عبد اللہ رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، آپ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی ،پھر اسکے دائیں جانب دو لکیریں اوربائیں جانب دو لکیریں کھینچیں ،پھر درمیان والی لکیر پر اپنا ہاتھ رکھا اور فر مایا: یہ اللہ کا راستہ ہے ،پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﭽ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِيْماً فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِيْلِهِ  ﭼ الأنعام: ١٥٣  (رواہ ابن ماجہ: ۱؍۲۴)یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی کو اختیار کرو اور دوسرے راستوں کواختیار نہ کرو اس لئے کہ وہ تم کو اس کے راستے سے ہٹاکر متفرق کردیں گے۔

اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے ایک خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر چند خطوط اس کے دائیں اور بائیں جانب کھینچے، پھر فرمایا کہ یہ ایسے راستے ہیں جن میں سے ہر ایک پر شیطان ہے اور جو اپنی جانب بلاتا ہے ۔پھر آیت کریمہ: ﭽ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِيْماً فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِيْلِهِ  ﭼ کی تلاوت فرمائی ۔(مسند احمد:۱؍۴۳۵،۴۶۵)

پہلی روایت کے مطابق

 دوسری روایت کے مطابق

غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطوط کھنچ کر آیت کریمہ اور اللہ کی راہ’’ صراط مستقیم ‘‘کی تشریح کس قدر عام فہم انداز میں فرمائی، جس سے صحابہ کرام رضى الله عنہم کے ذہنوں میں یہ بات بڑی آسانی سے جا گزیں ہو گئی کہ اللہ کا سیدھا راستہ صرف ایک ہے اور باقی تمام راستے شیطانوں اور گمراہی وضلالت کے ہیں۔

ایک دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سمجھانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مربع نما شکل بنائی ۔ اور اس کے بیچ سے باہر نکلتا ہوا ایک خط کھینچا اور اس درمیانی خط سے ملا کر چھوٹے چھوٹے خطوط کھینچے ۔پھر مربع کے درمیان میں انگلی رکھ کر فرمایا:یہ انسان ہے اور مربع بنانے والے خطوط اس کی موت ہیں اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط حوادث و مصائب ہیں جو انسان پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔اگر ان کا نشانہ چوک جاتا ہے تواجل آلیتا ہے ،اور مربع سے باہر نکلتا ہوا جو خط ہے وہ انسان کی آرزو اور تمنا ہے ۔جہاں تک آدمی کبھی نہیں پہنچ پاتا۔

 حافظ ابن حجر  رحمہ الله نے فتح الباری(۱۱؍۲۳۷)میں مختلف محدثین کرام کی بنائی ہوئی شکلیں نقل کی ہیں اور اس شکل کو سب سے زیادہ معتمد قرار دیا ہے۔

اس خاکہ کی مدد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات واضح فرمائی کہ انسان اور اس کی آرزؤوں کے درمیان حادثات اور مصائب حائل ہیں، پھر موت چاروں طرف سے انسان کو گھیرے ہوئے ہے، جس سے کوئی راہ فرار نہیں ۔اورانسان کو کتنی بھی طویل زندگی کیوں نہ ملے اس کی آزوئیں ادھوری رہ جاتی ہیں، اور کوئی بھی انسان زندگی میں اپنی تمام تمناؤں کی تکمیل نہیں کر پاتا۔(انظر صحیح البخاری مع الفتح:۱۱؍۲۳۵۔۲۳۷، سنن ابن ماجہ:۲؍۱۴۱۴،رسول خدا کا طریق تربیت ص ۴۶،۴۹)

(۱۹) اہم چیزوں کو لکھانا اورتختۂ سیاہ کا استعمال کرنا :

اساتذہ و معلّمات کو ضرورت کے مطابق طلبہ کو سمجھانے كے لئے کبھی کبھی تختۂ سیاہ (بلیک بو ر ڈ ) کا بھی استعمال کرنا چاہئے ،کچھ باتوں کا املا کرانا چاہئے، اور کچھ چیزیں لکھ کر بتانا چاہئے، اور جو با تیں اہم اور ضروری ہوں انھیں ضرور لکھانا چاہئے ،تا کہ وہ طلبہ کے پاس محفوظ رہیں،کیونکہ کہا جا تا ہے ’’الذھن خوّان‘‘ یعنی ذہن بہت خیانت کرنے والا ہے، بہت ساری باتوں کے بارے میں آ دمی سوچتا ہے کہ یہ ہمیشہ یاد رہیں گی مگر حافظہ خیا نت کرجاتا ہے اور وہ باتیں ذہن سے نکل جاتی ہیں ۔

خاص طور سے چھوٹے بچوں كے لئے ضروری باتیں بلیک بورڈ پر ضرورلکھ دینا چاہئے، تا کہ وہ دیکھ کر صحیح صحیح اپنی کا پیوں پر نقل کر لیں اور ان کے پاس محفوظ رہیں،اور ساتھ ہی بچوں کولکھنے کی اہمیت بھی بتانا چا ہئے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب انبیاء علیہم السلام  پر اپنے کلام کو نازل فرمایا، تو صرف انبیا ء علیہم السلام کی زبانی ان کی تبلیغ پر اکتفاء نہیں کیا ، بلکہ انھیں کتابی شکل میں بھی عنایت فر ما یاتاکہ وہ محفوظ رہیں اور لوگ مقررہ مدت تک ان سے استفادہ کرتے رہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرآن کریم کی حفاظت كے لئے کاتبین وحی کو مقرر فرمایا ۔جو آپ پرنازل ہونے والی سورتوں اورآیتوں کو آپ کی ہدایت کے مطابق مصحف میں لکھتے تھے، فتح مکہ کے سال قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے بنی لیث کے ایک شخص کو قتل کردیا، جب اس واقعہ کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے اپنی سواری پر سوار ہوکر ایک عظیم الشان خطبہ دیا جس میں حرم کی عظمت وحرمت اور اس کے آداب کی تفصیل اور قتل میں قصاص ودیت کے احکام کو بیان فرمایا، جب آپ خطبہ سے فارغ ہوئے تو یمن کے ایک صحابی ابو شاہ رضى اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول مجھے یہ خطبہ لکھوا دیجئے ۔آپ نے صحابہ کرام رضى الله عنہم کو ابو شاہ كے لئے یہ خطبہ لکھ کر دینے کا حکم دیا ۔ اور فر مایا : ’’ اُکْتُبُوْا لِأبِيْ شَاهْ‘‘ابو شاہ کے لئے لکھ دو۔(صحيح البخاري مع فتح الباري : 3/ 165)

اسی طرح آپ نے عمر و بن حزم رضى اللہ عنہ وغیرہ كے لئے صدقات، دیات، فرائض اور سنن کے متعلق ایک کتاب تحریر کروائی تھی۔(انظر جامع بیان العلم واھلہ)

ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریر کا تعلیم و تبلیغ میں بڑا دخل اور اس کی بڑی اہمیت ہے ، اس واسطے طلبہ ا وراساتذہ کواہم اہم مسائل کے لکھنے لکھانے کا اہتمام کرنا چاہئے اور فرائض اور ریاضی وغیرہ کے مسائل کی تفہیم کے لئے بلیک بورڈ کا استعمال ضرور کرنا چاہئے۔

(۲۰)تدریس میں اعتدال و تدریج سے کا م لینا :

اساتذہ کو اس بات کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے کہ اسباق کو تدریجا اور تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھائیں ،ایسا نہ ہو کہ سال کا اکثر وقت گپ شپ میں گذار دیں اور جب امتحان کا وقت قریب آئے تو جلدی جلدی پڑھائیں،اور مقررہ نصاب میں سے کچھ پڑھائیں اور کچھ چھوڑ دیں، اورطلبہ سے کہیں کہ تم لوگ اسے خود سے پڑھ لینااور یاد کر لینا ،یا اکثر ایام کلاس سے غیر حاضر رہیں ، اورد نیا بھر کے دورے اور سفر کرتے رہیں اور اخیر میں آکر تیزی سے کتابوں کا دورہ کرا دیں، یہ طریقہ ہرگز صحیح نہیں ہے،طلبہ کو تھوڑا تھوڑاان کی قابلیت ا ور فہم کی صلاحیت کے مطابق پڑھانا اور سمجھانا چاہئے ۔ دورہ نہیں کرانا چاہئے، اور نہ وقت گذاری کرکے اکٹھے زیادہ پڑھا نا چا ہئے ۔

سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک استاذ کو جب کوئی کتاب پڑھانے کے لئے دی جائے تو وہ سب سے پہلے سال بھر کے تعلیمی ایام کا حساب لگا ئے، اس طرح کہ سال کے تین سو ساٹھ دن جوڑ کر دیکھے کہ ان میں سے کتنے دن تعلیم ہو گی، اور کتنے ایام رخصت وغیرہ میں نکل جائیں گے ۔ حساب لگاتے وقت رخصت علالت ، رخصت اتفاقی ،جمعہ کی چھٹیاں ،سہ ماہی ، ششماہی اور سالانہ امتحان اور ان کی تیاریوں کی چھٹیاں ،عید ،بقرعید کی چھٹیاں وغیرہ تمام تعطیلات کو مد نظر رکھیں، بلکہ حساب لگاتے وقت یہ بھی ملحوظ رکھناچاہئے کہ درمیان میں مہمانوں کی آمد، یا مدرسہ کے ذمہ داروں کی تشریف آوری کی وجہ سے لگ بھگ کتنے دن تعلیم نہیں ہو گی، اور اس کا بھی خیال رہے کہ یقینی طور سے سالانہ امتحان کی تیاری سے کم از کم پندرہ، بیس روز پہلے ہی کورس ختم ہوجائے ،کیونکہ اگر ایسا نہ ہو گاتو طلبہ کو مذاکرہ، آموختہ کے اعادہ، اور اساتذہ سے پوچھنے كے لئے موقعہ نہیں ملے گا ، اور نہ مدرس انھیں امتحان اور اسکی تیاری کے بارے میں کچھ بتا سکے گا۔ جبکہ مدرس کو امتحان سے پہلے اس کے بارے میں اہم اہم باتیں ضرور بتانا چاہئے،مثلاً یہ کہ امتحانی سوالات کے جوابات کیسے لکھنا چاہئے ، امتحان کی تیاری کیسے کرنی چاہئے ،پرچہ لکھتے وقت کن کن چیزوں کا لکھناضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔

یاد رہے کہ جو اساتذہ سال بھر کا ٹائم ٹیبل بنا کر پڑھاتے ہیں وہ مناسب رفتار سے اور اچھی طرح پڑھا تے ہیں، اور ان کا کورس بھی آسانی سے ختم ہو جاتا ہے ۔اور جن کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہو تا وہ صحیح طریقے سے نہیں پڑھاتے ،اور عموماً ان کا کورس بھی وقت پر ختم نہیں ہوتا،اور تعلیمی میدان میں وہ ناکام رہتے ہیں، اس واسطے کہ وہ کبھی اتنا کم پڑھاتے ہیں کہ طلبہ کو نہ آسودگی ہوتی، اور نہ کورس ختم ہو تا ہے، اور کبھی اتنا زیادہ پڑھادیتے ہیں کہ طلبہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، اور جو کچھ وہ پڑھا تے اور بتاتے ہیں وہ اسے ہضم نہیں کر پاتے۔ کیونکہ وہ نہ اتنا مطالعہ کرکے آتے ہیں اور نہ ہی استاذ اطمینان اور تفصیل کے ساتھ پڑھاتا ہے، بلکہ جلدی جلدی عبارت پڑھاکر آگے بڑھ جاتا ہے ،اور بہت سی چیزوں کو چھوڑ کرکہہ دیتا ہے کہ اب تم لوگ بڑی جماعت میں پہونچ گئے ہو، خود سے سمجھ لینا ، اور یاد کر لینا،اوردونوں صورتوں میں طلبہ کا علمی خسارہ ہوتا ہے۔

اسی طرح اساتذہ و معلّمات کو سبق کے سمجھانے اور معلومات دینے میں بھی اعتدال سے کام لینا چاہئے، نہ اتنی کم معلومات دیں کہ درس کا خاطر خواہ فائدہ نہ ہو اور طلبہ کی علمی تشنگی برقرار رہے، اور نہ اتنی تفصیل میں جائیں کہ ان کا سمجھنا اور یاد رکھنا طلبہ کے لئے مشکل یا نا ممکن ہو ۔مثلا ترجمہ معانی القرآن پڑھا تے وقت مفردات کی لغوی اور نحوی صرفی تشریح کرنی چاہئے ،آیات کا لفظی اور سلیس ترجمہ کرنا چاہئے ،سبب نزول اور آیتوں سے مستنبط ہونے والے کچھ مسائل بھی بتانا چاہئے ، صرف لفظی ترجمہ پر ہی اکتفا ء کرنا اور شان نزول وغیرہ کو بالکل ترک کردینامناسب نہیں ۔ اسی طرح کسی جگہ اتنی معلومات دے دینا کہ طلبہ ہضم نہ کرسکیں اور کسی جگہ بالکل خاموشی اختیار کرنا یا بہت مختصر معلومات دینابھی مناسب نہیں۔ صحیحین وغیر ہ کتب حدیث کے پڑھانے والے بعض اساتذہ صرف ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘کہنے پر اکتفا کرتے ہیں،اور جامعہ اسلامیہ میں تفسیر کے ایک استاذ تھے جو تفسیر فتح القدیر للشوکانی پڑھا تے تھے، وہ جب پڑھانے آتے تو زبانی آیتیں پڑھتے جاتے اور جلالین میں جتنی مختصر تفسیر ہے اتنی ہی مختصرتفسیر بیان کر دیتے، بلکہ صرف الفاظ قرآن کے آسان عربی میں ترجمے پر اکتفاء کرتے، اور کسی روز پاؤ پارہ ،کسی روز آدھا پارہ پڑھا کر چلے جاتے ،اس پرکئی طلبہ نے کہا:شیخ! تفسیر فتح القدیر مفصل ہے ،اس میں لغت، نحو، صرف، بلاغت، فقہ ، احادیث و آثاروغیر ہ کے مسائل بیان کئے گئے ہیں ،آپ ان پر بھی روشنی ڈالیں اورکچھ باتیں اپنی جانب سے بھی بتائیں، جتنی باتیں آپ بتاتے ہیں وہ بہت مختصر اور نا کافی ہیں ۔اس پر انھوں نے جواب دیا کہ میں جانتاہوں کہ تم لوگ کچھ نہیں سمجھ پاؤگے اسی واسطے میں جامعہ میں پڑھانے كے لئے نہیں آ رہا تھا ،مگر شیخ ابن باز  رحمہ الله نے اصرار کیا، اور کہا : آپ سے طلبہ کو فائدہ ہو گا، اس واسطے میں چلا آیا ، اگر ہم زیادہ بتائیں گے تو تم لوگوں کے کچھ پلے نہیں پڑے گا ۔اس پر طلبہ نے کہا :شیخ !مزید بتائیے ہم لوگ ان شاء اللہ سمجھیں گے ۔ توانھوں نے ایک آیت پڑھی ،اورجاہلی شعراء کے تقریبا ۱۰۰ اشعار اس کے ایک غریب لفظ کی تفسیر وتشریح میں پڑھے ،او ر پھر پوچھا کہ بتاؤ: کیا سمجھا ؟اور کتنا یاد ہے ؟

در حقیقت یہ افراط و تفریط اور حد اعتدال سے تجاوز کرناہے ۔ کہ یا تو اتناکم بتائیں کہ فتح القدیر کو جلالین بنادیں، یا اتنا زیادہ بتائیں کہ ایک لفظ پر ۱۰۰؍ اشعار سنائیں اور چاہیں کہ سب طلبہ کو بر وقت یاد بھی ہو جائے ،یہ تدریس کے صحیح منہج کے خلاف ہے ۔ہر مدرس اور معلمہ کوطلبہ اور طالبات کے معیار کے مطابق معتدل انداز میں کتاب پڑھانا اور معلومات دینا چاہئے، اور مناسب مقدار میں روزانہ پڑھانا چاہئے ۔اگراعتدال اور تدریج سے کام نہیں لیا گیا تو درس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا۔

جامعہ سلفیہ کے ہمارے اساتذہ میں سے ایک استاذ مولانا عبد المعید بنارسی رحمۃ اللہ علیہ تھے، یہ منطق ،فلسفہ اور نحو وصرف میں بڑے ماہر تھے، اس کے ساتھ تفسیر وحدیث بھی اچھا پڑھاتے تھے ، یہ ہمیشہ تعلیمی سال کی ابتداء ہی میں تعلیمی ایام کا حساب لگا لیتے ، جس میں جملہ تعطیلات کے علاوہ یہ بھی ملحوظ رکھتے کہ کبھی ناظم اعلی صاحب کے آنے کی وجہ سے اور کبھی کسی مہمان کی آمد اور کبھی کوئی ہنگامی پروگرام ہونے کی وجہ سے اسباق کا کتنا ناغہ ہوگا، پھر یہ دیکھتے کہ کتاب میں کتنے صفحات اور ہر صفحہ میں کتنی سطریں ہیں ،پھر انھیں تعلیمی ایام پرتقسیم کر کے دیکھتے کہ روزانہ کتنا پڑھائیں تو کورس آسانی سے ختم ہو جائے گا ؟ پھر اسی حساب سے روزانہ پڑھاتے، اورمعلومات بھی اتنی مقدار میں دیتے کہ طلبہ آسانی سے سمجھ جاتے ،جیسے جلالین میں ترجمہ کراتے اور اس میں مذکورہ مسائل کو متوسط انداز میں اچھی طرح سمجھاتے، نہ بہت لمبی تقریر کرتے اور نہ بہت اختصار سے پڑھاتے، جس سے طلبہ بھی مطمئن رہتے اور سب سے پہلے نصاب بھی ختم ہو جاتا۔ بہر حا ل اساتذہ کو تعلیم و تدریس میں اعتدال اور تدریج کا لحاظ رکھنا چاہئے ۔

غورفرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کا نزول ۲۳؍ سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے ہوا، اور ایک ہی مرتبہ پورا قرآن نازل نہیں کردیا گیا،کیوں؟ اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے یاد کرنے اور لو گو ں تک پہچانے میں آسانی ہو، او ر لوگوں کو بھی اس کے سمجھنے، یاد کرنے، اور عمل کرنے میں سہولت ہو ۔

اسی طرح اسلامی احکام و فرائض کا نزول بھی بتدریج ہوا، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انھیں ایک ہی مرتبہ نازل کر دیتا، مگر متعدد مصلحتوں کے پیش نظر ایسا نہیں کیا ۔ بہر حال تدریج اور اعتدال قرآن کریم کا منہج ہے، اور اس میں بڑی حکمتیں اور فوائد ہیں، اس واسطے اساتذہ و معلّمات کو بھی تعلیم و تربیت میں اس کا لحا ظ رکھنا چا ہئے۔

حضرت معاذ بن جبل رضى اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو انھیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، تم انھیں پہلے توحید و رسالت کی دعوت دینا، وہ جب یہ بات مان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسو ل ہیں تو پھر انھیں یہ بتانا کہ اللہ نے ان پر شب و روز میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ یہ بھی تسلیم کرلیں تو پھر انھیں یہ بتانا کہ اللہ نے ان پر زکاۃ فرض کیاہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور غریبوں اور فقیروں پر خرچ کی جائے گی۔ متفق علیہ(مشکوٰۃ:۱؍۵۵۵ ح ۱۷۷۲)

ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت میں تدریج و اعتدل کا لحاظ کرنا ضروری ہے ۔

(۲۱)مسائل کو آسان بنا کر پیش کرنا:

اساتذہ ومعلّمات کی ذمہ داری ہے کہ جو کتابیں پڑھائیں انھیں طلبہ وطالبات کے سامنے آسان اورقابل فہم و قابل حفظ بنا کر پیش کریں ۔ اور تعلیم اور مدرسہ کا ذکر بچوں کے سامنے اس طرح کریں کہ انہیں مدرسہ آنے اور تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہو۔

افسوس کہ برصغیر میں بچوں کو ان کے گھر والے ،محلہ پڑوس کے لوگ ،رشتہ دار اورخود بعض اساتذہ اورمدرسہ کے ذمہ داران بھی اس طرح ڈراتے ہیں کہ گویا بچے کو مدرسہ میں استاذ کے پاس پڑھنے کے لئے نہیں، بلکہ قصاب کے پاس ذبح کرنے کے لئے بھیجا جاتاہے ،اور مدرسہ تعلیم و تربیت کی جگہ اور درس گاہ نہیں، بلکہ بچوں کا مذبح ہے ۔ کسی بچے نے کوئی شرارت کی کہ امی یا ابو یا دادی کی آواز آئی :ارے یہ بہت شرارت کرنے لگا ہے، اس کا نام مدرسہ میں لکھادو ۔ وہاں ماسٹر صاحب یا میاں صاحب یا مولوی صاحب اس کو ٹھیک کر دیں گے ۔ کوئی کہتا ہے کہ وہاں اتنی پٹائی ہو گی کہ چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا ۔کوئی مرغا بنانے ،کوئی پیٹھ پر اینٹ لادنے ، کوئی دیر تک اٹھک بیٹھک کرانے، کوئی کرسی بنانے ، اور کوئی کان اینٹھنے کا تذکرہ اتنے بھیانک انداز میں کرتا ہے کہ مدرسہ کا تصور بچہ کے ذہن میں کسی ایسے وحشت ناک جیل کی شکل میں ہوتا ہے۔ جس میں بچوں کو مارنے پیٹنے اور طرح طرح کی اذیتیں دینے کے لئے اساتذہ و معلّمین کے نا م پر انتہائی ظالم اور بے رحم قسم کے داروغہ اور پولیس کے لوگ رہتے ہوں۔

بعض اساتذہ و معلّمات بھی طلبہ و طالبات کو خوف زدہ کرتے اور ڈراتے رہتے ہیں کہ مدرسہ خالہ پھوپھی کا گھر نہیں ہے ، چمڑی ادھیڑ لیں گے ۔بعض معصوم بچوں کو بری طرح پیٹتے بھی ہیں ۔ بچوں کو ڈرانے کا یہ اسلوب اور طریقہ بالکل غلط اور انتہائی نقصان دہ ہے۔اس سے بچے پہلے ہی مدرسہ اور اساتذہ سے متنفر اور خوف زدہ ہو جاتے ہیں ،اور پھر یا تو وہ مدرسہ جاتے ہی نہیں، یا جاتے ہیں تو ڈرے اور سہمے ہوئے رہتے ہیں۔ جس سے ان کے اندر بزدلی و کم ہمتی پیدا ہو جا تی ہے، جو تعلیم و تربیت اور ہر ناحیہ سے بچوں کے لئے نقصان دہ ہے ۔

اس کے برخلاف ہم نے سعودی عرب میں دیکھاکہ بچوں کو مدرسہ جانے سے پہلے تعلیم کی خوب تر غیب دی جاتی ہے ،مدرسہ ، اس کے ماحول اور وہاں کی مشغولیات کو اس انداز میں ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بڑے شوق اور رغبت سے مدرسہ جاتے ہیں،اور مدرسہ میں بھی انہیں بڑے لاڈو پیارسے پڑھایا جاتا ہے،ان کے لئے کھیل اور تفریح کے مناسب سامان اور پروگرام ہو تے ہیں،وہاں انہیں چاکلیٹ اور مشروبات بھی دئے جاتے ہیں، جس سے طلبہ بلا کسی سختی اور مار پیٹ کے خود ہی مدرسہ جاتے ہیں، بلکہ اس كے لئے بے قرار رہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم كے لئے ترغیب و تسہیل کا انداززیادہ صحیح اور بہتر ہے۔

بہت سے اساتذہ کچھ کتابوں کو پڑھانے سے پہلے ہی کہنے لگتے ہیں کہ یہ کتا ب بہت مشکل ہے اور کسی کے سمجھ میں آنے والی نہیں ہے، لیکن پھر بھی ہم پڑھا ئے دیتے ہیں، نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ طلبہ پہلے ہی سے مایوس ہو جاتے ہیں اور اس کے درس کو توجہ سے نہیں سنتے ، اس طرح وہ کتاب انکی سمجھ میں نہیں آتی، حالانکہ اگراستاذ صرف یہ کہے کہ یہ کتاب ذرا مشکل تو ہے لیکن آپ لوگ توجہ دیجئے ان شاء اللہ سمجھ میں آجائے گی، اور طلبہ درس توجہ سے سنیں ،تو اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ، کیو نکہ ؂

مشکلے نیست کہ آساں نہ شود               مرد باید کہ ہراساں نہ شود

بہر حال اساتذہ و معلّمات ا ور والدین وغیرہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے سامنے مدرسہ اور تعلیم کا ذکر اچھے انداز میں کریں، اورمدرسے کا ماحول ایسا عمدہ ، خوش گوار اوردلچسپ بنا ئیں کہ بچے وہاں خود اپنے شوق اور رغبت سے جائیں، اور اساتذہ جو کتابیں یا مضامین پڑھائیں انھیں آسان اور قابل فہم بنا کر پیش کریں، طلبہ کی ہمت افزائی ،اور مدد کریں، اور کوئی ایسا قول و فعل ان سے صادر نہ ہو جس سے طلبہ کو تعلیم سے نفرت ہو اور وہ مدرسہ نہ جائیں یا چھوڑ دیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذرضى اللہ عنہ اورحضرت ابو موسی رضى اللہ عنہ کو جب یمن کی جانب روانہ کیا تو انھیں یہ نصیحت فرمائی:’’ يَسِّرَا ، وَلاَ تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا ، وَلاَ تُنَفِّرَا ‘‘(صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري : 4/ 79 , صحيح مسلم : 5/ 141) لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ، سختی نہ کرنا ،ان کو بشارت دینا اور نفرت نہ دلانا،نیز آپ نے فر مایا ’’اِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ، وَلَن يُّشَادَّ أحَدٌ اِلاغُلِبَ ،فَسَدِّدُوْا، وَقَارِبُوْا، وَاَبْشِرُوْا. ‘‘(البخاری: ۱؍۹۳) بیشک دین آسان ہے ۔ جو شدت کا رویہ اپنائے گا وہ مغلوب ہو جائے گا ،اس لئے سیدھی اور میانہ روی اپناؤ، اور بشارت حاصل کرو۔

(۲۲) طلبہ کو تعلیم کی اہمیت و فضیلت بتانا:

اساتذہ و معلّمات کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کو وقتاً فوقتاً تعلیم کی ضرورت و اہمیت اور اس کے فضائل و فوائد بتاتے رہیں،خاص طور سے نئے سال کی ابتداء میں اور ان طلبہ کے سامنے جو مدرسہ میں نئے نئے داخل ہوئے ہوں علم کی فضیلت پر ضرور روشنی ڈالیں اور بتائیں کہ علم ایک بہت بڑی نعمت اور بیش بہا دولت ہے، اس کی وجہ سے انسان کو دین و دنیا کے متعلق بڑی اچھی اچھی اور مفید معلومات حاصل ہو تی ہیں۔عزت و سربلندی ملتی ہے اور اس سے دنیا اور آخرت میں درجات بلند ہو تے ہیں ،قرآن مجید و سنت نبویہ میں اس کی بڑی تا کید اور ترغیب ہے ۔علم ہی سے افراد اور قومیں ترقی کرتی ہیں، اور آخرت کی کامیابی و کامرانی کا دارو مدار بھی علم وعمل پر ہے ۔

پھر انھیں صحابۂ کرام رضى الله عنہم اور اسلاف کے واقعات سنائیں اور بتائیں کہ انھوں نے حصول علم كے لئے کس قدر محنت کی اور قربانیاں پیش کی ہیں۔انھیں بتائیں کہ علم کی خاطر پریشانیاں اور اساتذہ کی سختیا ں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں، حضرت جبریل  علىہ السلام جب پہلی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لے کر آئے تو انھوں نے آپ کو اتنے زور سے بھینچا کہ آپ کو کافی تکلیف پہونچی ، پھرفرمایا : ’’اِقْرَ أ‘‘ پڑھو،آپ نے کہا: ’’مَا اَنَا بِقَارِي‘‘مجھے پڑھنا نہیں آتا، پھر دوسری مرتبہ بھی اسی طر ح کیااور آپ نے اسی طرح جواب دیا، پھر تیسری مرتبہ بھی اسی طرح کیا اور فرمایا: ﭽ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ (3) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ  ﭼ (العلق: ١ – ٥)پڑھئے اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون سے انسان کی تخلیق کی،پڑھئے اور آپ کارب بڑا کریم ہے ،جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی ، انسان کو وہ سکھایا جس کااسے علم نہ تھا ۔(انظر صحیح البخاری:۱؍۲۳)

کبھی کھانے پینے کے انتظام میں کچھ پریشانی اور کمی ہو اور طلبہ کھانے کی شکایت کریں تو انہیں حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ عنہ کا عبرت انگیز واقعہ سنائیں اور بتائیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ عنہ جوعلم حدیث کے بہت بڑے حافظ اور مکثرین صحابہ میں سے تھے ، انھوں نے حصو ل علم کی خاطر بڑی تکلیفیں برداشت کیں،یہاں تک کہ کبھی کبھی بھوک کے مارے ان کا یہ حا ل ہوتا تھا کہ سینے کے بل مسجد میں پڑے رہتے ، ایک مرتبہ شدید بھوک کی وجہ سے نکل کر راستہ پر بیٹھ گئے ، ادھر سے حضرت ابو بکر رضى اللہ عنہ کا گذر ہوا تو ان سے ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، مقصد صرف یہ تھا کہ وہ ان کی حالت کو سمجھ جائیں اور گھر لے جاکر کھانا کھلا دیں ،مگر وہ جواب دے کر آگے بڑھ گئے ، پھر ادھر سے حضرت عمر رضى اللہ عنہ گذرے تو ان سے بھی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا ،وہ بھی جواب دے کر چلے گئے،اتنے میں وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ہوا، آپ انھیں دیکھ کر مسکرائے،پھر فرمایا: ابو ہریر ہ ! میرے گھر آجاؤ۔ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئے ،گھر پہنچ کر آپ نے ازواج مطہرات سے پوچھا کہ کھانے کے لئے کچھ ہے ؟ جواب ملا کہ ایک پیالہ دودھ ہے جسے فلاں شخص نے ہدیہ میں بھیجا ہے۔ آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ عنہ سے فرمایا:تمام اصحاب صفہ کو بلالاؤ۔( اصحاب صفہ مدرسۂ نبوی کے وہ طلبہ تھے جو ایک طرح سے مسلمانوں کے مہمان تھے ،ان کے پاس مال و متاع اور اہل و عیال نہیں تھے ۔آپ کے پاس اگر صدقہ کا مال آتاتو سب ان کے پاس بھیج دیتے اور ہدیہ ہوتا تو آپ بھی ان کے ساتھ شریک ہو جاتے) حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ عنہ کو اس وقت یہ بات اچھی نہیں لگی ،  وہ سوچنے لگے : ایک پیالہ دودھ ہے اور سارے اصحاب صفہ کو بلالاؤں گا تو کیا ہو گا ؟مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا اس واسطے سب کو بلا لائے، جب سب آکر بیٹھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ابو ہریرہ ! پیالہ لو اور سب کو پلاؤ، وہ سوچنے لگے کہ جب تک میری باری آئے گی پتہ نہیں کچھ بچے گا بھی کہ نہیں،مگر الحمد ﷲاس دودھ میں اتنی برکت ہوئی کہ تمام اصحاب صفہ نے سیر ہو کر پیا ،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ عنہ سے فرمایا: ابوہر یرہ! اب تم پیو ،وہ فرماتے ہیں میں نے پیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور پیو، میں نے اور پیا، آپ نے فرمایا اور پیو، میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دیکر بھیجا ہے اب کوئی گنجائش نہیں ہے ،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور سب سے اخیر میں ا لحمد للہ اور بسم اللہ کہہ کرنوش فرمایا۔(رواہ الترمذی:۴؍۶۴۸ (۴۷۷ ۷) وقال: ھذا حدیث حسن صحیح)

بہر حال طلبہ کو بتانا چاہئے کہ علم کی راہ میں بھوک وپیاس کی تکلیف، اساتذہ کی ڈانٹ، مار اور سفر کی مشقتیں وغیرہ برداشت کرنی پڑتی ہیں، صحابہ کرام رضى الله عنہم نے ایک ایک حدیث کی طلب كے لئے ایک ایک ماہ کا سفر کیا ہے ، محدثین کرام رحمہم اللہ حصول علم كے لئے مختلف شہروں کا سفر کرتے ،کئی مرتبہ ایسا ہو تا کہ ان کے پاس کھانے پینے كے لئے کچھ نہیں ہوتا ۔ اور فاقہ یا درخت کی پتیوں پر گذارہ کرنا پڑتا ، بعض مر تبہ وہ اینٹ کا تکیہ بنانے پر مجبور ہوتے تھے۔(انظرمناقب الامام احمدلابن الجوزی ص:۲۵ ،۲۶)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ایک مرتبہ مکہ میں تھے ۔ ایک چور ان کا سامان اور کپڑے چرا لے گیا جس کی بنا پر وہ استاذ کے پاس پڑھنے نہیں جاسکے، ان کے ساتھی حال معلوم کرنے آئے تو سارا معاملہ بتایا ۔انھوں نے تعاون کرنا چاہا اور کہا کچھ پیسے یا تو صلہ رحمی کے طور پر یا قرض لے لو، مگر انھوں نے لینے سے انکار کر دیا ۔پھر بعض ساتھیوں نے یہ تجویز رکھی کہ آپ کچھ حدیثیں اپنے ہاتھ سے لکھ دیں ہم اس کی اجرت دے دیں گے،آخربمشکل تمام وہ اس پر راضی ہوئے اس طرح ان کے لئے کپڑوں کا انتظام کیا گیا۔ (انظر مناقب الامام احمد لابن الجوزی ص :۲۳۰)

مختصر یہ کہ طلبہ کے سامنے علم کی اہمیت وفضیلت بیان کرتے رہنا چاہئے، اور انھیں بتانا چاہئے کہ علم کی خاطر مختلف تکالیف اور مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں، اس سے ان کے اندر علم کا شوق اوراس کے لئے ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کرنے اورقربانیاں دینے کا جذبہ پیدا ہو گا۔

(۲۳) طلبہ کی ہمت افزائی کر نا:

جوطلبہ وطالبات ذہین و فطین ،صالح وپرہینر گار اور اچھے اخلاق و عادات کے حامل ہوں اساتذہ کو ان کی ہمت افزائی کرتے رہنا چاہئے۔ اسی طرح جو طلبہ ا چھے نمبرات سے کامیابی حاصل کریں یا اچھی تقریر کریں ،یا کسی سوال کا برجستہ صحیح جواب دیں ،یا نماز کی برابر پابندی کریں یا کوئی اور نمایاں اور اچھا کارنامہ انجام دیں ان کی بھی ہمت افزائی کرنی چاہئے ۔

غزوۂ تبوک کے موقع پرمسلمانوں کو سخت مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے تعاون کی اپیل کی تو حضرت عثمان غنی رضى اللہ عنہ نے ایک ہزاردینار پیش کئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیناروں کو اچھالتے جاتے اور فرما تے جاتے :آج کے بعد عثمان غنی کو کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچائے گا۔( فضا ئل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل:رقم۷۳۸،۸۴۶)

یہ ان کے ایثار و قربانی اور انفاق فی سبیل اللہ کی عزت افزائی اور تحسین تھی۔

اس موقع پر سب سے زیادہ ایثار ایک غریب اورمحنت کش صحابی نے کیا، جنھوں نے رات بھر پانی کھینچ کھینچ کردو صاع چھو ہارہ کمایا،پھراس میں سے ایک صاع چھو ہارہ اپنے اہل و عیال كے لئے رکھا اور ایک صاع آپ کی خدمت میں لاکر پیش کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس جذبۂ ایثار کی بڑی قدر کی اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا: ان چھوہاروں کو قیمتی مالوں کے ڈھیر پر بکھیر دو ۔ (تفسیر ابن کثیر:۲؍۴۹۲)

اسی طرح جوطلبہ اپنی غربت اور پریشانیوں کے باوجود حصول تعلیم میں لگے ہوں ان کی دل جوئی اور ہمت افزائی کرنی چاہئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمار بن یا سررضى اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو توحید کی خاطر کفار کی اذیتیں برداشت کرتے دیکھتے تو ان کی دلجوئی اور ہمت افزائی کرتے ہوئے فرماتے:’’ اَبْشِرُوْا آلَ يَاسِرْ فَاِنَّ مَوْعِدَ کُمُ الْجَنَّةُ‘‘ (المعجم الأوسط للطبراني: 2/ 141 , المستدرك على الصحيحين للحاكم : 3/ 438) اے یاسر کے گھر والو ! تمہیں خوشخبری ہو ، تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے ۔

اسی طرح اساتذہ ان غریب اور کمزور حال طلبہ کو تسلی دیں اور ان کی ہمت افزائی کرتے ہوئے ان سے کہیں : صبر کرو اور محنت سے پڑھوان شاء اللہ تمہارا مستقبل روشن ہوگا، کامیابی تمہاری قدم بوسی کرے گی ، اور تمہاری محنت، صبر اور قربانی کا پھل تمہیں ضرور ملے گا۔

حضرت عمر بن خطاب رضى اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضى اللہ عنہ کی ان کے علم و فضل کی وجہ سے تعریف کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے’’نِعْمَ تَرْجُمَانُ الْقُرآنِ ابنُ عَبَّاس‘‘ ابن عباس کیا ہی بہترین قرآن کی تفسیر کرنے والے ہیں، اور کبھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تشریف لاتے تو فرماتے: ’’جَاءَ فَتَی الْکُهُولِ ، وَذُو اللِّسَانِ السَّؤلِ، وَالقَلْبِ الْعَقُولِ‘‘ ادھیڑ عمر والے کی متانت وسنجیدگی اور سوال کرنے والی زبان اورعقل رکھنے والے دل کامالک نوجوان آگیا۔

عبد الملک بن عبد العزیز بن ابی سلمہ الماجشون فرماتے ہیں کہ میں منذر بن عبد اللہ الحزامی کے پاس آیا ، اس وقت میں کمسن تھا، مگر میں نے جب ان سے گفتگو کی تو میری زبان میں فصاحت دیکھ کر انھوں نے میری جانب زیادہ التفات کیا، پھر پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے کہا عبد الملک بن عبد العزیز بن ابی سلمہ ۔ انھوں نے فرمایا:’’ اُطْلُبِ الْعِلْمَ فَاِنَّ مَعَکَ حِذَاءَ کَ وَ سِقَاءَ کَ ‘‘ تم علم حاصل کرو، تمہارے پاس تمام اسباب موجود ہیں۔

امام زہری اپنے تلامذہ سے فرمایا کرتے تھے ’’لاَ تُحَقِّرُوا أنْفُسَکُمْ لِحَدَاثَةِ أنْفُسِکُمْ‘‘ تم لوگ اپنے آپ کو اپنی کم عمری کی وجہ سے حقیر مت سمجھو ۔

اچھے اساتذہ ہمیشہ اپنے طلبہ کی ہمت افزائی کرتے اور انھیں محنت کرنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ تم ہی لوگ مستقبل میں امت کے کشتىبان ہوگے۔ قوم کی قیادت اور سیادت تمہیں لوگوں کو سنبھالنی ہے، تمہیں لوگوں میں کوئی محدث بنے گا ، کوئی مفسر، کوئی مفتی بنے گا،کوئی قاضی، کوئی مصنف بنے گا، کوئی صحافی۔تمہیں کو جامعات و مدارس اور دینی جماعتوں اور تحریکوں کی ذمہ داریوں کو سنبھالنا ہے، اس واسطے خوب محنت کرواور اپنے آپ کو ہر اعتبار سے ان ذمہ داریوں کو اٹھانے کا اہل بناؤ اگرتم لوگوں نے ابھی محنت نہیں کی اور اپنے آپ کو اس کے لئے تیار نہیں کیاتو تمہارا اور قوم کا بہت خسارہ ہو گا ۔

طلبہ کی ہمت افزائی کرنا ،انہیں علم کا شوق دلانا، ان کی خفتہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا نہایت ضروری ہے، تا کہ وہ سلف کے بہترین خلف بن سکیں اور جو ذمہ داریاں ان پر امت کی اصلاح ،دینی ودنیوی قیادت،اسلامی عقیدہ وتہذیب کی حفاظت او ر علم کی نشرو اشاعت کے سلسلہ میں آنے والی ہیں انہیں بحسن و خوبی ادا کرسکیں۔

(۲۴) کبھی کبھی طلبہ سے سوالات کرنا:

اساتذہ کو چا ہئے کہ طلبہ سے کبھی کبھی سوالات کرتے رہیں،ان سے سوالات کرنے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے ان کے ذہن کا صیقل ہوتا ہے، جس طرح لوہے پر زنگ لگ جاتا ہے تو اسے صیقل کیا جاتا ہے جس سے اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور چمکنے لگتا ہے اور چھری وغیرہ ہو تو تیز بھی ہوجاتی ہے، اسی طرح ذہنوں کوبھی سوالات کے ذریعہ صیقل کیا جاتا ہے، کیونکہ اگر طلبہ اپنے ذہنوں کو استعمال نہ کریں اور یوں ہی چھوڑ دیں تو ان میں بھی زنگ لگ جاتا ہے اور کند ہو جاتے ہیں، اور اگر اساتذہ وغیرہ ان سے برابر سوالات کر تے رہیں اور وہ اپنے ذہنوں کو برابر استعمال کرتے رہیں تو ان کا ذہن تیز ر ہتاہے اور سوچنے سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے طلبہ سبق اور آموختہ برابر یادکرتے اور اپنی معلومات تازہ رکھتے ہیں، اور اگر اساتذہ صرف پڑھاتے رہیں اور کبھی ان سے سوالات نہ کریں اور آموختہ نہ سنیں تو وہ خالی کلاس میں درس کے سماع پر اکتفاء کرتے ہیں، نہ مطالعہ کرتے ہیں، نہ سبق یاد کرتے ہیں ،نہ آموختہ دہراتے ہیں، اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی کند پڑ جا تی ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابۂ کرام رضى الله عنہم سے ان کی معلومات کا جائزہ لینے اور ان کے ذہنوں کو صیقل کرنے كے لئے کبھی کبھی سوالات پوچھا کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ نے صحابۂ کرام ث سے پوچھا : بتاؤ وہ کون سا درخت ہے جس کی مثال مومن کی سی ہے اور اس کے پتے جھڑتے نہیں؟حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ سب لوگوں کا ذہن جنگل کے درختوں کی طرف گیا، مگر میرا ذہن فوراً کھجور کی طرف گیا، کیونکہ تھوڑی دیر قبل ہی آپ کے سامنے کھجور کے گاپھا کا میٹھا گودا پیش کیا گیا تھا اور آپ نے ہم لوگوں کے ساتھ اسے تناول فر مایا تھا۔ میں نے بتا نا چاہا مگر دیکھا کہ میں سب سے چھوٹا ہوں اس لئے خاموش رہا ۔ پھر لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ آپ ہی بتائیے وہ کون سا درخت ہے؟ آپ نے فرمایا:کھجور کا درخت۔ ( بخاری: ۱؍۱۴۷ مع الفتح)

علاوہ ازیں سوال و جواب کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے مخاطبین و حاضرین کو باتیں بہت جلد سمجھ میں آجا تی ہیں۔ کیونکہ سوال کی وجہ سے مخاطبین اس کی جانب پورے طور سے متوجہ ہوجاتے ہیں اور گفتگو میں دلچسپی لیتے ہیں، اسی واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم و تفہیم کے لئے کبھی کبھی اس انداز کو بھی اختیار فرمایاکرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے صحابہ کرام ثسے پوچھا : ’’اَتَدْرُوْنَ مَنِ الْمُسْلِمُ ؟‘‘ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انھوں نے کہا : ’’اللّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ ‘‘اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے ، آپ نے فرمایا:’’ اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَ يَدِهِ ‘‘ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔پھر آپ نے فرمایا:’’ اَتَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤمِنُ؟‘‘ کیا تم جانتے ہو مومن کون ہے ؟ صحابہ نے کہا : ’’ اللّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ ‘‘اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے۔آپ نے فرمایا: ’’اَلْمُؤمِنُ مَنْ أمِنَهُ الْمُؤمِنُوْنَ عَلیٰ أنْفُسِهِمْ وَ أمْوَالِهِمْ ‘‘ مومن وہ ہے جس سے اہل ایمان اپنی جانوں اور مالوں کے سلسلہ میں مامون و محفوظ رہیں۔ (مسند أحمد بن حنبل: 2/ 206)

اس واسطے اساتذہ کرام کو بھی طلبہ سے سوالات کرتے رہنا چاہئے اور خاص طور سے جماعت ثالثہ تک کے طلبہ سے خوب پوچھنا اور آموختہ ودرس سنتے رہنا چاہئے ،تاکہ ان کو نحو، صرف وغیرہ کے قواعد اور بنیادی باتیں اچھی طرح یاد ہو جائیں۔

(۲۵)طلبہ کو محنت پر ابھارنا:

یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ کوئی چیز بھی بغیر محنت اورجد وجہد کے حاصل نہیں ہو تی ۔ مگر حصول علم کے لئے خصوصی طور پر محنت کی ضرورت ہے ،قاعدہ ہے:’’مَنْ جَدَّ وَجَدَ‘‘جو محنت اور کوشش کرے گا وہ پائے گا۔’’وَلَيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَاسَعیٰ‘‘انسان كے لئے وہی ہے جو اس نے محنت کر کے حا صل کیا ۔ ’’ بَقَدْرِ الْکَدِّ تُکْتَسَبُ الْمَعَالِیْ ‘‘ کدو کاوش کے مطابق ہی اعلی مراتب حاصل ہوتے ہیں۔

ہمارے اسلاف, محدثین ، فقہاء اور بڑے بڑے ائمہ کرام نے جو مختلف علوم میں اعلیٰ مقامات حاصل کئے اور انھیں ان علوم وفنون میں جو مہارت حاصل ہوئی ان میں ان کی محنت اور جد وجہد کا بھی بڑادخل تھا ۔مثلاً امام بخاری رحمہ اللہ امیر المؤمنین فی الحدیث مانے جاتے ہیں اور ان کی کتاب صحیح بخاری’’ اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰهِ‘‘ مانی جاتی ہے،مگر ان کو اور ان کی کتاب کو یہ مقام ویسے نہیں حاصل ہوا،اس کے لئے انھوں نے بڑی محنت اور جد وجہد کی، حصول علم کے لئے ان کی حرص و خواہش اور جد وجہد کا یہ عالم تھاکہ رات کو کئی کئی مرتبہ بیدار ہوتے، اٹھ کر چراغ جلاتے اور ذہن میں جو علمی نکتے اور فوائد کی باتیں آتیں انھیں نوٹ کرتے ،اور پھر چراغ بجھاکر لیٹ جاتے ، حتی کہ بعض راتوں میں آپ اس طرح بیس بیس مرتبہ اٹھتے ۔

ابو الوفاء ابن عقیل  رحمہ الله  کے علمی شوق کا یہ عالم تھاکہ وہ کہتے ہیں : میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ کھانے میں کم سے کم وقت صرف ہو، چنانچہ وقت بچانے کی خاطر میں روٹی کی بجائے کیک کے سفوف کو ترجیح دیتا ہوں، اور اسے پانی کے ساتھ نگل لیتا ہوں،اس طرح مطالعہ اورعلمی فوائد کو نوٹ کرنے کے لئے وقت بچاتا ہوں۔وہ فر ماتے تھے کہ میں اپنے لئے حلال نہیں سمجھتا کہ اپنی عمر کی ایک ساعت بھی ضائع کردوں۔یہاں تک کہ جب میں تھک جاتا ہوں اور زبان مذاکرہ اور قراء ۃ سے قاصر اورآنکھیں مطالعہ سے عاجز ہو جاتی ہیں تو آنکھیں بند کر کے چپ چاپ لیٹ جاتا ہوں، اور اس آرام کی حالت میں بھی غورو فکر کرتا رہتا ہوں،اور جو علمی باتیں اور نکات ذہن میں آتے ہیں ان کو ترتیب دیتارہتا ہوں، پھر جب کچھ آرام کر کے اٹھتا ہوں تو انھیں ترتیب سے لکھ لیتا ہوں ، آج میری عمر اسّی سال ہے مگر میرے علمی ذوق و شوق اور تڑپ میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ، بیس سال کی عمر میں حصول علم کی جتنی خواہش اورلگن میرے اندر تھی آج اس سے زیادہ ہی ہے ۔

شیخ مجد الدین ابو البرکات عبد السلام بن عبد اللہ جو ا بن تیمیہ الجد کے نام سے مشہور ہیں اور جنکی تصنیفات میں سے ’’منتقی الأخبار من احادیث سید الأخیار ‘‘ جس کی شرح ’’نیل الاوطار للشوکانی ‘‘ ہے اور ’’المحرر فی الفقہ‘‘ وغیرہ بیش قیمت کتابیں ہیں، ان کے حصول علم کے شوق و حرص اور اپنے اوقات کو بے کار ضائع ہو نے سے بچانے کی خواہش کا یہ عالم تھا کہ ان کے بارے میں شیخ عبد الرحمن بن عبد الحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ فر ماتے ہیں کہ ہمارے دادا جب بیت الخلاء جاتے تومجھ سے کہتے : کتاب کو تم بلند آواز سے پڑھو، تاکہ میں بیت الخلاء میں بھی سنتا رہوں، اوریہ صرف اس خاطر تھا کہ ان کا یہ وقت حصول علم سے خالی نہ جائے ۔(دیکھئے:مقدمۃ المحررفی الفقہ:ص۱۳، العلم و الدین:۱۰،۱۱)

اس واسطے اساتذہ و معلمات کو خود حصول علم کے لئے خوب محنت کرنی چاہئے اور طلبہ و طالبات کو بھی برابرحصول علم کے لئے محنت کرنے کی تاکید کرتے رہنا چاہئے اور ان کے اندر مطالعہ کا شوق پیدا کرنا اور انھیں علم کے دینی و دنیوی فوائد بتاتے رہنا چاہئے۔

(۲۶)حصول علم کے اہم اور آسان طریقوں سے آگاہ کرنا:

اساتذہ ومعلّمات کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ وطالبات کی حصول علم کے آداب وافضل طر یقوں کی جانب رہنمائی کرتے رہیں۔مثلاًکلاس میں غسل کرکے یا کم ازکم ہاتھ منہ دھوکر اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر آنا ،تاکہ نشاط رہے اور نیند نہ آئے ،روزانہ مطالعہ کرنا، اسا تذہ درس میں جو باتیں بتائیں انھیں توجہ سے سننا اور سمجھنے کی کوشش کرنا،کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو دوبارہ استاذ سے پوچھ لینا ،درس کے وقت بات کر نے اور سونے سے احتراز کرنا ۔وغیرہ وغیرہ

انھیں یہ بھی بتائیں کہ کلا س میں اساتذہ کی بتائی ہوئی باتوں کو تفصیل کے ساتھ نوٹ کرنا ممکن نہیں ہوتا ، اس لئے خاص خاص باتیں اشارات میں نوٹ کرلیں اورجب کلاس ختم ہو نے کے بعد اپنے کمرے میں جائیں تو تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد انہیں تفصیل سے لکھ لیں، اس واسطے کہ ان اشارات کو بر وقت سمجھنا آسان ہوتا ہے، مگرایک دو ہفتہ کے بعد ان کو دیکھیں گے تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا،لہذاہر روز کا درس اسی دن تعلیم کے بعد لکھ لینا چاہئے، اور آج کا کام کل پر نہیں ٹالنا چاہئے۔ اسی طرح حصول علم کے جو آسان طریقے اور آداب ہیں انھیں وقتاً فوقتاً طلبہ کو بتاتے ر ہنا چاہئے۔

(۲۷)طلبہ کو اپنے وقت کو منظم کرنے کی ترغیب دینا:

بہت سے طلبہ وطالبات اپنی طا لب علمی کی زندگی بڑے غیر منظم طریقے پر گذارتے ہیں ، چنانچہ پڑھنے کے وقت سوتے ،اور سونے کے وقت پڑھتے یا کھیلتے ہیں ، بے وقت کھاتے اور بے وقت بازار جاتے ہیں ،اسی طرح نہانے دھونے وغیرہ کے سلسلے میں بھی انکا کوئی نظام نہیں ہو تا ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تعلیم میں بھی نا کام ہو جاتے ہیں۔اور دوسرے کا موں میں بھی کامیاب نہیں ہو تے۔

اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے طلبہ کو ہمیشہ اپنے اوقات کو منظم کرنے اور وقت کی پابندی کر نے کی ترغیب دیں، اور تنظیم اوقات کے جو فوائد اور وقت کی پابندی نہ کرنے اور غیر منظم زندگی گزارنے کے جو نقصانات ہیں انھیں بتائیں، اور پھر اس سلسلہ میں جو طلبہ کوتاہی کریں اورغفلت سے کام لیں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ کریں ۔

جوطلبہ کلاس کے وقت بلا کسی معقول عذر کے سونے یاکھیلنے یا نہانے دھونے یا تعلیم کو چھوڑ کر کسی اور کام میں مشغول رہیں ان کو اس سے سختی سے منع کرنا چا ہئے ،اور جو نہ مانیں ان کے خلاف تادیبی کاروائی کرنی چاہئے ۔کیونکہ جب تک وقت کی صحیح تنظیم اور پابندی نہیں ہوگی صحیح طور سے علم حاصل نہیں ہو سکتا ۔نیز یہ چیز ہمیشہ کے لئے مضر ہے ،اگردور طالب علمی سے ہی اس سلسلہ میں طلبہ کی اصلاح نہ کی گئی تو وہ ہمیشہ كے لئے بد نظمی کے عادی ہو جائیں گے۔اور ان کی پوری زندگی غیر منظم طریقہ پر اور ناکام گزرے گی۔

(۲۸)نشاط کے وقت پڑھنے پرابھارنااور کلاس میں تازہ دم ہوکرآنے كے لئے تاکید کرنا:

جیسے مسلسل کام کرنے کی وجہ سے بدن تھک جاتا ہے، اسی طرح مسلسل پڑھنے اور ذہنی کام کرنے کی وجہ سے ذہن بھی تھک جاتا ہے ،اور جیسے بدن تھکا ہوا ہو تو جسمانی کام صحیح طور سے نہیں ہوتا ہے اسی طر ح جب ذہن اور دماغ تھکا ہوا ہو اور ذہنی نشاط اور سکون خاطر نہ ہوتو پڑھنے پڑھانے کا کام بھی صحیح طریقہ سے نہیں ہوتا ۔اس واسطے طلبہ کو کلاس میں ہاتھ منھ دھو کر بلکہ ممکن ہو تو غسل کرکے،اورصاف ستھرے کپڑے پہن کر اور خوشبولگاکرآنے کی تاکید کرنا چاہئے، تاکہ درس کے وقت ان میں نشاط رہے اور وہ توجہ سے سبق سن اور سمجھ سکیں ۔اسی طرح طلبہ کو سونے اور آرام کرنے کے وقت سونے اور آرام کرنے کی تاکید کرنا چاہئے، تاکہ کلاس میں انہیں نیند نہ آئے اور وہ اتنے تھکے ہوئے نہ ہوں کہ درس میں دل نہ لگے۔

ا گر کوئی طالب علم بیماری یا کسی وجہ سے رات کو نہ سو سکے اور تعلیم کے وقت اس پر تکان اور نیند کا غلبہ ہو تو اس سے کہنا چاہئے کہ کلاس سے رخصت لے کر آرام کر ے اور جب نیند پوری ہوجائے اور اسے سکون وآرام مل جائے تب پڑھے ۔تھکے ماندے اور نیند سے پریشان طلبہ کو پڑھانا ،یا ایسے وقت پڑھانا جب سب کو نیند آرہی ہو یا سخت گرمی یا سردی سے سب پریشان ہوں بے سود ہے ، اس سے احترازکرنا چاہئے ۔

مدارس کے ذمہ داروں کو بھی اس کا لحاظ کرنا چاہئے کہ سخت گرمی یا سردی میں اساتذہ و طلبہ کو پڑھنے پڑھانے کا مکلف نہ کریں ، بلکہ ایسے وقت میں تعطیل کردیں ۔حضرت عبد اللہ بن مسعودرضى اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’إنَّ لِلْقُلُوبِ نَشَاطًا وَإِقْبَالاً ، وَإِنَّ لَهَا لَتَوْلِيَةً وَإِدْبَارًا ، فَحَدِّثُوا النَّاسَ مَا أَقْبَلُوا عَلَيْكُمْ ‘‘ دلوں میں نشاط اور رغبت بھی ہو تی ہے،ا ور اعراض و بے رغبتی بھی ،اس واسطے جب لوگوں میں نشاط، رغبت اور توجہ ہو تو ان سے حدیثیں بیان کرو۔

اور حضرت علی رضى اللہ عنہفرماتے ہیں :’’ دلجمعی حاصل کرو ،ذہن کو انتشار سے بچاؤ اور اس کے لئے حکمت کی پر لطف باتوں سے مدد لو ۔جیسے بدن تھک جاتاہے اسی طرح دلوں میں بھی اکتاہٹ پیداہو جاتی ہے‘‘۔

حضرت ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعودرضى اللہ عنہ نکل کر ہمارے پاس آئے پھر فرمایا: ’’ إِنِّي أَخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ وَلَكِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا ‘‘( رواہ البخاری وغیرہ )

مجھے آ پ لوگوں کے بیٹھنے کا علم ہے مگر مجھے نکل کرآپ لوگوں کے پاس آنے سے صرف یہ مانع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے وعظ و نصیحت میں ہمارے اکتاجانے کے ڈرسے ناغہ کرتے تھے ۔

بہر حال اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو نشاط کے وقت پڑھنے اور مطالعہ کرنے پر ابھاریں اور بتائیں کہ نشاط کے وقت پڑھنے اور تھک جانے کی صورت میں آرام کرنے سے مطالعہ کا خاطر خواہ فائدہ ہو گا اور صحت و تندرستی بھی قائم رہے گی ۔

خود اساتذہ کو بھی اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ جب طلبہ اکتاجائیں اور ان کے اندر نشاط اور رغبت نہ ہو توان کی چھٹی کردیں۔ اوراگر گھنٹی ختم نہ ہو ئی ہو تو دلچسپ علمی چٹکلوں اور اہل علم کے پر لطف اور عبرت انگیز واقعات کے ذکر اور اچھے اشعار پڑھنے سننے اور بیت بازی وغیرہ میں وقت صرف کریں۔

(۲۹)احکام شرعیہ اور اسلامی اخلاق و عادات کی پا بندی کرانا :

اساتذہ ومعلّمات کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ طلبہ وطالبات کو اسلامی اخلاق وعادا ت ، اوراحکام شرعیہ کی پابندی،اوردینی ا مور کے لحاظ کرنے کی تعلیم وترغیب دیں، ایسا نہ ہو کہ مدرسہ میں رہ کر وہ صرف کتاب خوانی کریں، اور اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی جانب توجہ نہ دیں،مدرسہ صرف تعلیم گاہ ہی نہیں بلکہ تربیت گاہ بھی ہے ،اس واسطے طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی خیال رکھنا     چا ہئے اور انہیں اخلاق فاضلہ،عادات اسلامیہ اور احکام شرعیہ کی پابندی کی تاکید کرتے رہنا چاہئے ۔

امام مدائنی فرماتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان نے اپنے بچوں کے اتالیق سے کہا : ’’عَلِّمْهُمُ الصِّدْقَ کَمَا تُعَلِّمُهُمُ الْقُرْآنَ ‘‘ ان کو سچائی کی ایسی ہی تعلیم دو جیسے تم انہیں قرآن کی تعلیم دیتے ہو ۔

کیونکہ اگر سچائی نہ ہو ، حسن اخلاق نہ ہو ، بات چیت کا سلیقہ نہ ہو ، چھوٹے بڑے کی تمیز نہ ہو، احکام شرعیہ کی پابندی نہ ہو تو ایسی صورت میں تعلیم ، مدرسہ اور قرآن و حدیث اور دیگر علوم شرعیہ کے پڑھنے پڑھانے کا کیافا ئدہ؟ اس واسطے جیسے طلبہ کوکتاب و سنت اور دیگر علوم کی تعلیم دیتے ہیں ویسے ہی انھیں اخلاق حسنہ اور احکام شرعیہ کی پابندی کی بھی تعلیم دینی چاہئے۔

عبد الملک بن مروان نے یہ بھی کہا: ’’وَجَنِّبْهُمُ السَّفَلَةَ‘‘ہمارے بچوں کو نچلے درجے کے لوگوں سے دور رکھئے’’فَاِنَّهُمْ أسْوَأ النَّاسِ رَغْبَةً فِيْ الْخَيْرِ وَ أقَلُّهُمْ أدَباً‘‘ اس واسطے کہ نچلے درجے کے لوگ نیکیوں کی سب سے کم رغبت رکھنے والے اور قلیل الادب ہو تے ہیں ۔( الدین و العلم : ص ۲۰ )

بہر حال طلبہ کو برے لوگوں کی صحبت سے دور رکھتے ہوئے اچھے اخلاق وعادات کا عادی اور شرعی امور کا پابند بنانا چاہئے ۔اور انھیں اپنے لباس، وضع قطع اورشکل و صورت وغیرہ کو درست کرنے اور شریعت کے مطابق رکھنے کی ترغیب دیتے اور تاکید کرتے رہنا چاہئے ۔

(۳۰) بوقت ضرورت طلبہ کو تنبیہ کرنا:

اساتذہ ومعلّمات کو بوقت ضرورت طلبہ وطالبات کو تنبیہ کرتے رہنا چاہئے ،اور اگر تعلیم و تربیت کے لئے انھیں سزا دینے کی ضرورت پڑے تو سزابھی دینا چاہئے، لیکن پہلا مرحلہ سمجھا نے کا ہے جیسا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کے سلسلہ میں فرمایا : ’’مُرُوْا أوْلادَکُمْ بِالصَّلاَةِ وَهُمْ أبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ،وَاضْرِبُوْهُمْ عَلَيْها وَهُمْ أبْنَاءُ عَشْرِ سِنِيْنَ ، وَ فَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِِ‘‘ ( رواه احمد:۱؍۱۸۰، ۱۸۷، وابوداود، وسنده حسن کما قال الالباني في حاشية المشکاة:۱؍۱۸۱)

جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز کا حکم دو،اور جب دس سال کے ہوجائیں اور نماز نہ پڑھیں تو انہیں مار مار کرنماز پڑھاؤ اور ان سب کے بستر الگ الگ کر دو۔

اس لئے اگر کچھ طلبہ یا طالبات سمجھانے سے راہ راست پر نہ آئیں ، اچھی باتوں پر عمل نہ کریں اور برے اخلاق و عادات کے عادی بنتے جارہے ہوں تو انہیں سزا دینی چاہئے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارنے کا حکم دیا ہے۔البتہ اگر دس سال سے کم عمر کے بچے ہوں تو انھیں حتی الامکان مارنے سے احتراز کرنا چاہئے اور اچھی طرح ترغیب اور باربار تاکید سے اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔

اسی طرح دس سال یا اس سے زیادہ عمر کے طلبہ کو بوقت ضرورت دوسری سزا بھی دے سکتے ہیں ، حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ الله جوبہت ہی نیک اور صالح خلیفہ گذرے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے ان کو خلیفۂ خامس مانا ہے ،ان کی تربیت كے لئے ان کے والد محترم نے صالح بن کیسان  رحمہ الله کو اتالیق مقرر کیا تھا، یہ بہت اچھے اور باصلا حیت عالم تھے، اور جہاں ان کی تعلیم کا خیال رکھتے تھے وہیں ان کی تربیت پربھی گہری نظررکھتے تھے، تاکہ وہ اسلامی اخلاق وعادات سے آراستہ ہو جائیں، اور انھیں کسی غلط چیز کی عادت نہ پڑے، اس سلسلہ میں وہ ذرا بھی تساہلی ا ورسستی نہیں کرتے تھے۔

ایک مرتبہ عمر بن عبد العزیز رحمہ الله کی نماز با جماعت چھوٹ گئی توصالح بن کیسان رحمہ الله نے انھیں بلوایا اور پوچھا کہ نماز میں تاخیر کیوں ہوئی ؟انہوں نے جواب دیا کہ بال سنوار نے لگا تھا جس کی وجہ سے جماعت چھوٹ گئی، صالح بن کیسان رحمہ الله نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ الله کے والد کے پاس اطلاع بھجوائی کہ آپ کے صاحبزادے اتنے زیادہ شوقین ہو گئے ہیں کہ بال سنوارنے میں جماعت چھوڑ دیتے ہیں۔اس پر ان کے والد محترم عبد العزیز  رحمہ اللہ نے ان کی یہ سزا متعین کی کہ ان کے با لوں کو منڈوا دیا جائے تا کہ نہ یہ بال رہیں اور نہ ان کے سنوارنے میں نماز چھوٹے ۔ ( انظرسیر اعلام النبلاء: ۵ ؍ ۶ ۱ ۱ )

دراصل اگرطلبہ وطالبات کو یوں ہی شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا جائے اوران کی غلطیوں اور شرارتوں پر تنبیہ نہ کی جائے تو وہ بگڑ جا تے ہیں، اور ان کی صحیح تربیت نہیں ہو پاتی ہے ۔ اس واسطے بوقت ضرورت اصلاح کی خاطر انھیں تنبیہ کرنا اور سزا دینا چاہئے، البتہ بے تحاشہ پیٹناا وربلا ضرورت سزادینا غلط ہے ، حدیث نبوی ہے ’’مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ ‘‘ جو رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْيُؤ قِّرْ کَبِيْرَنَا وَيَرْحَمْ صَغِيْرَنَا‘‘ ( رواہ احمد :۲؍۲۰۷)جو ہم میں سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کااحترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

اس لئے جہاں بڑوں کا احترام واجب ہے وہیں چھوٹوں پر شفقت بھی ضروری ہے،اور طلبہ وطالبات کو بلاوجہ یا کسی ذاتی رنجش یا خاندانی عداوت کی بنا پر سزا دینااورمارنا درست نہیں، اسی طرح کسی کو ذاتی رنجش کی بناپر فیل کردینا ،یا اپنے بچوں اور بچیوں کو استحقاق سے زیادہ نمبرات دینا اور دوسرے بچوں کوکم نمبر دینا ،یہ ساری چیزیں غلط اور ظلم ہیں، ان کاقیامت کے روز حساب دینا ہوگا۔اس لئے اساتذہ کو ہر چیزمیں اعتدال وانصاف سے کام لینا چاہئے ۔

سزا میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ کسی طالب علم کو بوقت ضرورت کلاس سے باہر کردیں، یا مدرسہ سے اس کا اخراج کردیں۔حضرت موسیٰ علىہ السلام  جب حضرت خضر  رحمہ الله کے پاس حصول علم كے لئے تشریف لے گئے تو انھوں نے یہ شرط رکھی کہ جو کچھ میں کروں اسے صرف دیکھنا اور اعتراض وتنقید نہ کر نا ۔ بلکہ میرے بتانے سے پہلے اس چیز کے بارے میں سوال بھی نہ کرنا۔مگر حضرت موسی      جیسے جلالی پیغمبر بھلا کہاں صبر کرپاتے، چنانچہ جب دونوں آدمی کشتی میں سوار ہوئے تو ملاح نے انہیں بزرگ لوگ سمجھ کر ان سے کرایا نہیں لیا،مگر حضرت خضر رحمہ الله نے کشتی کا ایک تختہ توڑ دیا، اس پرحضرت موسیٰ        سے صبر نہ ہوسکااوربول پڑے: ’’آ پ کا عمل بڑا عجیب ہے، کیا آپ لوگوں کو ڈبونا چاہتے ہیں‘‘؟ حضرت خضر  رحمہ اللہ نے کہا :’ ’ کیامیں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟‘‘ حضرت موسی علىہ السلام  نے فوراً معذرت پیش کی، مگرآگے بڑھے تو حضرت خضر رحمہ الله نے ایک بچے کو ما رڈالا، حضرت موسی علىہ السلام  کو پھر صبر نہ ہوا، اورکہا :آپ نے ایک معصوم بچے کو ناحق مار ڈالا، آپ نے غلط کیا،حضرت خضر  رحمہ اللہ نے کہا:’’ کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھاکہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے‘‘؟ حضرت موسی  علىہ السلام  نے پھر معافی مانگی، اور کہاکہ اگر آئندہ مجھ سے ایسی غلطی ہوئی تو آپ اپنے ساتھ نہ رکھئے گا، پھر دونوں آگے بڑھے اور ایک بستی میں پہنچے جہاں کے لوگوں نے درخواست کے باوجود ان کی ضیافت سے انکار کردیا۔مگر حضرت خضر رحمہ الله نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی، اور اس کو درست کرنے لگے ، حضرت موسی علىہ السلام کو پھر صبر نہ ہوا،ا ور کہنے لگے :’’اگر آپ چاہتے تو اس کی مزدوری لے سکتے تھے‘‘ حضرت خضر  رحمہ الله نے فرمایا : ﭽ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْْنِیْ وَبَيْْنِکَ سَأُنَبِّئُکَ بِتَأْوِيْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْراً ﭼ (الكهف: ٧٨)یہ ہمارے اور آپ کے درمیان جدائی ہے۔ آپ جن باتوں پر صبر نہیں کر سکے میں ان کی تشریح آپ کے سامنے کروں گا۔ اور پھر ان کی تشریح کرتے ہوئے ان کی حکمتیں بتائیں۔ (انظر سورہ الکہف:۶۶۔۸۲)

اسی طرح طلبہ وطالبات کو بھی کسی غلطی پر تین یا اس سے زائد مرتبہ تنبیہ اورمعاف کر نے کے بعد خارج کرسکتے ہیں ۔لیکن یا د رہے کہ ہراستاذ نہ خضر  رحمہ اللہ ہے اور نہ ہرطالب علم حضرت موسیٰ، مگر بہر حال اس سے بوقت ضرورت طلبہ کے اخراج کا جواز اور ثبوت ملتا ہے ، ا ور جب یہ بات واضح ہوجائے کہ کسی طالب علم یا طالبہ کامدرسہ میں رکھنا بے فائدہ ہے، بلکہ اس کا رکھنا مدرسہ اور دوسرے طلبہ و طالبات کے لئے نقصان دہ ہے، تو ایسی صورت میں اس کا اخراج کیا جا سکتا ہے۔

جس طرح ہسپتال میں جب ڈاکٹر کسی مریض کے علاج سے مایوس ہو جاتے ہیں تو اس کا ڈسچارج کر دیتے ہیں اور اس کے گھر والوں سے کہہ دیتے ہیں کہ اس کا علاج یہاں نہیں ہو سکتا اسے یہاں سے لے جائیے ۔ اور گھر رکھئے یا کسی بڑ ے ڈاکٹر کو دکھائیے ،اسی طرح جب کسی طالب علم کی اصلاح سے اہل مدرسہ مایوس ہو جائیں تو اس کا اخراج کر سکتے ہیں۔

سزا دینے میں اس بات کابھی لحاظ رکھنا چاہئے کہ جرم کیسا ہے؟ اور کب اور کن حالات میں اس جرم کا وقوع ہوا ہے؟ مثلاً کسی طالب علم نے سبق یاد نہیں کیا تو آپ اسے پہلے بلاکر سمجھائیں کہ تمہارا یہ عمل غلط ہے ، اگر سبق یاد نہیں کرو گے تو تمہارے اندر کچھ بھی علمی لیاقت نہیں پیدا ہو گی، اگر کسی کے والد عالم ہیں تو اسے یہ بھی سمجھائیں کہ تمہارے والد اتنے بڑے عالم ہیں ، تمہیں تو ان کا جانشین اور اپنے گھر کا روشن چراغ بننا چاہئے ، نہ کہ چراغ تلے اندھیرا ہو۔ پھر بھی وہ اپنی اصلاح نہ کرے تو سزا دے سکتے ہیں۔

اگر کبھی کوئی طالب علم ایسی غلطی کرے جس پر اگر اسے برسر عام نہ سزا دی جائے تو اس کے نقصانات عام ہونے اور اس کے دوسرے طلبہ پر غلط اثرات پڑنے کا قوی اندیشہ ہو تو اسے برسر عام سزا دینی چاہئے۔ جیسے کوئی طالب علم اپنے کسی استاذ یا ادارہ کے ذمہ دار سے سب کے سامنے جھگڑا اور ہاتھا پائی کرے تو مشورہ کے بعد اسے سب کے سامنے سزا دینی چاہئے، تاکہ دوسرے طلبہ و طالبات کو ایسی حرکت کرنے کی جر أت نہ ہو ۔شریعت اسلامیہ میں بھی بہت ساری سزائیں ایسی ہیں جن کو برسرعام دینے کا حکم ہے ۔

اور اگر جرم ایساہے کہ تنہائی میں بھی سزا دینے یا تنبیہ کرنے سے اصلاح ہو سکتی ہے تو بلاوجہ سب کے سامنے زجر وتوبیخ کر کے یا سزا دے کرطالب علم کی بے عزتی نہیں کرنی چاہئے، ہشام بن عبد الملک نے اپنے بچے کے اتالیق سے کہا تھا: ’’اِذَا سَمِعْتَ مِنْهُ الْکَلِمَةَ الْعَوْرَاء فِيْ الْمَجْلِسِ بَيْنَ جَمَاعَةٍ فَلاتُؤنِّبُهُ لِتُخْجِلَهُ،وَعَسیٰ اَنْ يَنْصُرَخَطَأهُ فَيَکُوْنَ نَصْرُهُ لِلْخَطَأ أقْبَحَ مِنْ اِبْتِدْاءِهِ بِهِ،وَلٰکِنْ اِحْفَظْهَا عَلَيهِ فَاِذَا خَلافَرُدَّهُ عَنْهَا.(الدین والعلم:ص۲۱)

جب تم میرے بچے سے مجلس میں کوئی غلط بات سنو تو سب کے سامنے ہی اس کی سرزنش کر کے شرمندہ نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے وہ اپنی غلطی کی تائید کرنے لگے، تو اس کا اپنی غلطی پر اصرار کرنا غلطی کی ا بتدا سے زیادہ قبیح ہو۔بلکہ جب کوئی غلطی دیکھو تو یاد رکھو اور جب تنہائی میں ملے تو سمجھا دو ۔

کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ اگرطالب علم کو تنہائی میں بلا کرسمجھا دیجئے تو اس کا بہت اچھا اثر ہو تا ہے ، اور وہ فوراً اپنی غلطی کا اقرار کر کے آئندہ نہ کرنے کا عہد کرلیتا ہے ،لیکن اگر مجلس میں اسے ٹوک دیجئے تو وہ اور ضد کرنے لگتا ہے کہ اب تو ہماری بے عزتی ہو ہی گئی ہے، اس واسطے اب ہم اسی طرح کریں گے، دیکھتے ہیں کہ یہ ہم کوکتناڈانٹتے مارتے اور سزا دیتے ہیں۔

بہرحال سزا دینے میں موقع ومحل، جرم کی نوعیت اور حالات وغیرہ کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اور جہاں سمجھانے سے کام چل جائے وہاں سزا نہیں دینی چاہئے، جہاں صرف زجر و توبیخ کی ضرورت ہو وہاں مارنا نہیں چاہئے،اور جہاں تنہائی میں سزا دینے سے اصلاح ہو جائے وہاں سب کے سا منے سزا نہیں دینی چاہئے۔ اور نہ بلا وجہ اخراج کرنا چاہئے۔ بلکہ ایک والد کی طر ح ہمیشہ ادارہ اور بچوں کی مصلحت کو ملحوظ رکھنا چاہئے، سزا برائے اصلاح ہونی چاہئے، برائے تعذیب نہیں۔

تالیف – ڈاکٹر فضل الرحمن المدنی، جامعہ محمدیہ ، منصورہ مالیگاؤں

بشکریہ-     http://drfazlurrahmanmadni.blogspot.com/2011/02/blog-post_6555.html

Share:

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے