سائنس پڑھانے میں ٹی.ایل.ایم. کا استعمال

موجودہ صورت حال میں، فن تعلیم، سائنسی تدریس کے طریقوں کو تیار کرنے کے لئے ہماری مستقل کوشش کا مطالبہ کرتا ہے – اسمیں سائنسی آلات یا ٹیچنگ لرننگ مٹیریل(ٹی.ایل.ایم ) کا استعمال شامل ہونا چاہئے، جسکے بنا، نہ تو پڑھانا ممکن ہے اور نہ ہی سیکھنا- اس مضمون میں، میں ایک طالب علم کے ساتھ ساتھ ایک معلم کی حیثیت سے اپنی زندگی کے تجربات اور اپنی سوچ کے بارے میں بات رکھونگی جو وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی گئی ہیں –

جب ہم طالب علم تھے، تب درس گاہ میں سب سے نمایاں شخص استاد ہوتے تھے- نصابی کتاب کے ساتھ ساتھ کئی بار، تدریس کے دوران کچھ مزید چیزوں کا استعمال کیا جاتا تھا – مجھے وہ دن یاد ہے جب ہمارے سائنس کے استاد نے جسم کے عضوی نظام کو سکھاتے ہوئے ٹی.ایل .ایم. کے طور پر ایک چارٹ دکھایا تھا اور ہم کلاس میں کافی لطف اندوز ہوئے تھے ہم نے اُس چارٹ کو دیکھ کر تصاویربھی بناے تھے – مجھے ابھی بھی غرقی گرمالہ چھڑ کا ماڈل یاد ہے جو ہم نے اپنے آس پاس کی چیزوں کو جمع کرکے بنایا تھا-

اوپر دکھایا گیا ماڈل، کچھ ہی وقت میں ایک پیالہ پانی گرم کر دے گا – اِس ماڈل کو ہم واضح طور پر یاد رکھتے ہیں کیونکی اسے ہم نے خود بنایا تھا-

سیکھنے کے آلات کے بارے میں کافی گفتگو ہوا کرتی تھی اور ہم ان آلات کو کافی محنت سے  تیار توکیا کرتے تھے لیکن اُسکے استعمال کو نہیں جانتے تھے- اس میں سے زیادہ تر آلات کے بنانے میں سیکھنے والے کی کوئی شمولیت نہیں ہوتی تھی، وہ صرف دکھانے اور بتانے کے لئے تھے- طالب علم کے پاس اپنے ہاتھوں سے کرکے سیکھنے کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا تھا- میرے درس گاہ کے دنوں میں، استاد نہ تو ٹی.ایل.ایم. کو کلاس میں لاتے تھے اور نہ ہی انہیں بنانے میں زیادہ وقت دیتے تھے –

1977 میں، میں نے اُدے پور کےایک غیرسرکاری امدادی ثانوی درس گاہ میں سائنس پڑھاناشروع کیا- مجھےچھٹویں سے دسویں درجے کے طالب علم بچوں کو سائنس پڑھانا تھا- شروع میں میں نے چاک اور بلیک بورڈ کا استعمال کرکے بنیادی اصولوں کو سمجھاناشروع کیا اورمحسوس کیا کہ نصابی کتاب کی مددسےپڑھانا ایک بہت اچھاخیال تھا -سائنس کے استادوں کے لئے سردی کی چھٹیوں میں ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہمارے ادارے سے جڑے دوسرے درس گاہ کے سائنس کے استاد بھی شامل تھے- ورکشاپ میں ہم نے کئی سائنسی تجربات کئے اور ان پر آپس میں گفتگو بھی کی گئی – ہم نے چیزوں کو بہتر ڈھنگ سے سمجھا اور اُسی نے مجھے باقاعدہ ٹی.ایل.ایم.استعمال کرنے کے لئے متاثر کیا- اس ورکشاپ نے مجھے یہ محسوس کروایا کہ میں نے جو سائنس پہلے پڑھی تھی وہ بنیادی اصولوں کو سمجھے بغیر صرف رٹ کر سیکھنے پر مبنی تھی-

ورکشاپ میں کئے گئے سائنسی تجربوں میں سے ایک میں میں نے دیکھا کہ پانی میں رکھا ہوا ایک سکّہ کیسے اٹھا ہوا نظر آتا ہے اور کنستر سے پانی ڈالنے یا باہر نکالنے پر کیا بدلاؤ ہوتے ہیں – اس مشاہدے کے بعد کئی باتیں صاف ہو گیئں- یہ سائنسی تجربہ آٹھویں درجے کی سائنس کی کتاب میں موجود تھا، لیکن تب تک مجھے یہ ٹھیک طرح سے معلوم نہیں تھا کہ سکّہ پانی میں اٹھا ہوا کیوں دکھتا ہے- جب میں نے اِس تجربے کو ورکشاپ کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ دیکھا تو میں جوش سے بھر گئی! ہم سب نے اب تک یہ تجربہ ٹھیک سے پڑھا بھی نہیں تھا اور پھر اُس دن اُسے ہوتے ہوئے دیکھ بھی لیاتھا – اسکے بعد میں نے اپنے دَم پر کتاب میں دے گئے تجربوں کو کرنا شروع کیا اور اِس طرح میرا حوصلہ بڑھتا گیا- ہم نے اپنے ورکشاپ میں بھی سائنسی تجربے کئے اور بچوں نے بھی بنیادی اصولوں کو بہتر طریقہ سے سمجھا- سائنسی تشخیص کے دوران ہم نے دیکھا کہ بچے، سوالوں کے جواب بہتر طریقہ سے دے رہے ہیں کیونکی انہوں نے تجربات کے دَم پر بنیادی اصولوں کو سیکھا تھا- اُنکی کارکردگی، نقشہ کشی (labelling) اور اظہار خیال کافی واضح تھے-

ہم نے طالب علم بچوں کے ساتھ تجربے (نصابی کتاب میں دے گئے) کرتے وقت کچھ بہت ہی خاص چیز کا مشاہدہ کیا- راجستھان بورڈ کے درجے 6-10 کی سائنس کی نصابی کتاب کے تقریبا دس تجربوں کے نتیجے ہمارے کئے گئے تجربوں کے نتیجوں سے میل نہیں کھاتے تھے- اب مجھے نہیں پتا کہ ہم نے ہدایات کو ٹھیک سے پڑھا تھا یا ہم ان تجربوں کو کرنے میں غلط ہو گئے تھے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ ایک ہی تجربہ کئی بار کرنے کے بعد بھی نتیجے میل نہیں کھا رہے تھے- کچھ مثالیں اس طرح ہیں :

١- مقناطیس کا باہری اثر – نصابی کتاب کے حساب سے، اگر لوہے کے برادے یا چھوٹے پِن کو دوسری چھوٹی چیزوں کے ساتھ پتلی چادر پر رکھا جاتا ہے اور مقناطیس کو چادر کے نیچے لے جایا جاتا ہے تو لوہے کا برادہ یا چھوٹے پن کے ساتھ لکڑی، گلاس، پلاسٹک، وغیرہ بھی ہلِنے لگتے ہیں- لیکن، جب مقناطیس پتلی لوہے کی شیٹ پر رکھی گئی لوہے کی چادر کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے تو وہ بالکل بھی نہیں ہلتے کیونکی مقناطیسی پھیلاؤ لوہے کی چادر پار نہیں کر سکتا ہے- جب ہم نے کلاس میں جامتی کے بکسے کو لوہے کی چادر کی طرح استعمال کیا تو، تو ہم نے پایا کہ لوہے کا برادہ یا پن تھوڑا تو ہلتا ہے-

٢- ہوا دباؤ ڈالتی ہے- کتاب کے مطابق ایک ٹن یا پیپے کو پانی سے آدھ بھر کر گرم کریں- ایک بار ابال آنے کے بعد آنچ بند کردیں، اسے ڈھکن سے بند کریں اور ٹھنڈا ہونے دیں- کچھ گھنٹوں کے بعد، پیپے کے یہاں وہاں پچکنے کے نشان دیکھنے لگیں گے- لیکن جب ہم نے اس تجربے کو کیا تو پیپے پر کوئی پچکنے کے نشان نہیں تھے- ہم نے اسکے لئے پانی کی صاف-شفّاف پلاسٹک کی بوتل کا استعمال سے شروع کیا- یہ تجربہ نصابی کتاب میں بھی پلاسٹک کی بوتل کے ساتھ کیا گیا ہے-

مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ کٹ اور ٹی.ایل.ایم. کی تیاری میں اکثر بہت وقت لگتا ہے- کئی بار اس بات پر کافی اختلاف پیدا ہوتا ہے کہ  کٹ موجود نہیں ہے اسلئے تجربات نہیں کئے جا سکتے- میں اپنے تجربے سے کہہ سکتی ہوں کہ ہم چیزوں کے ساتھ کئی سائنسی تجربے کئے جا سکتے ہیں- سامان کی تین قسمیں ہوتی ہیں-

  1. ہمارے آس پاس موجود سامان- اُن میں سے کچھ تو درس گاہ میں ہی پائی جا سکتی ہیں- ایسی چیزوں کے ساتھ بہت سارے تجربے، مشاہدے اور مطالعہ کیا جا سکتا ہے-
  2. استاد اور بچے گھر سے کچھ سامان لا سکتے ہیں
  3. سامان تجربہ گاہ یا کلاس کے لئے خریدے جا سکتے ہیں-مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ اس طرح کے سامان کا ایک اور فایدہ یہ بھی ہے کہ گھر پر بھی کچھ تجربہ کرنے اور .گفتگو کے امکانات بھی ہو سکتے ہیں

٢٠١٤ میں، میں نے سرکاری ہائی اسکول، گنگلا میں پڑھانا شروع کیا- دھیرے-دھیرے میں نے وہاں بھی تجربہ کرنا شروع کر دیا ۔ جب میں نے ساتویں درجے میں  (substance) کو الگ کرنا سکھایا، تو  کلاس سے کہا کہ دومادے (liquid) اجزاء کے مرکّب(mixture)، جو ایک دوسرے کے ساتھ مل نہیں سکتے(جیسے تیل اور پانی)، کو الگ کرنے کے لئے ہم ایک الگ کرنے والی قیف کے علاوہ اسپتال کی خالی گلوکوس بوتل کا استعمال کر سکتے ہیں-

ہمارے درس گاہ کے سامنے ایک سرکاری اسپتال تھا- اگلے ہی دن بچے وہاں سے ایک خالی گلوکوس کی بوتل لے آئے، اوپر سے تھوڑا کاٹا، درس گاہ کے باورچی-خانے سے کچھ تیل نکالا اور اسمیں پانی ملایا – اسے کچھ وقت ایسے ہی چھوڑ دیا اور پھر ایک ڈاٹ کا استعمال کرکے الگ کیا گیا- جب بھی اس سوال کو تشخیص کے لئے پوچھا گیا، تو بچوں نے  اسکا بہترین جواب دیا اور میں اس نتیجے پر پہنچی کہ جب بچے خود سامان جمع کرتے ہیں تو وہ مشاہدے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں- اس طرح کا کوئی کام بچوں کے سپرد کیا جاتا ہے تو پوری کلاس میں جوش اور توانائی بھر جاتی ہے-

اس طرح میں نے چھٹویں درجے کے کچھ بچوں کو پودے اور اسکے حصّوں کی معلومات دینے کے لئے درس گاہ کے باغ میں لے گئی- میں انہیں بخارات کے اخراج( transpiration) کے بارے میں بتانا چاہتی تھی جو ایک پودے میں پانی کی حرکت کا عمل ہے اور ساتھ ہی اسکے پتوں، تنوں، اور پھولوں جیسے کھلے حصّوں میں تبخیر کیسے ہوتا ہے- بچوں نے پتیوں کے اوپر ایک صاف پلاسٹک کا بیگ لیا اور ٹہنی کے آس پاس تاگے کی مدد سے اس بیگ کو باندھ دیا-

جب انہوں نے 5 گھنٹے بعد اسے کھولا تو میں ایک عجوبہ دیکھ سکتی تھی! جو بچے کلاس میں کبھی کچھ نہیں بولتے تھے وہ بھی میرے سوالوں کا جواب دے رہے تھے! اس دن ہوئی گفتگو کی ایک مثال یہاں پیش ہے:

استاد: جب اسے کھولا گیا تو پلاسٹک کی تھیلی میں کیا دیکھا گیا؟
بچے: پانی کی بوندیں- پتے بھی گیلے ہیں-
استاد: یہ پانی کی بوندیں کہاں سے آئیں؟
بچے- پتیوں سے، پودے سے-
استاد- کیا یہ بوندیں ہر دن نکلتی ہیں؟
بچے- ہاں-

استاد- لیکن ہم انہیں کیوں نہیں دیکھ پاتے؟
بچے- وہ سورج کی روشنی کی وجہ سے بھاپ بن جاتی ہیں-

استاد- پتیوں میں پانی کہاں سے آیا-

بچے- جڑوں سے۔

ہر بچے نے پودے میں بخارات کے اخراج کو دکھاتے ہوئے ایک تصویر بھی بنائی –

میرا تجربہ مجھے بتاتا ہے کی سائنس کو آسان، دلچسپ اور بچوں کے لئے دوستانہ ماحول بنانے کے لئے، ہمیں اپنے آس پاس سے سامان جمع کرنا ہوگا اور بچوں میں سیکھنے کے مواقع بنانے کے لئے ہمیں انہیں خود سے کرنے کا موقع دینا ہوگا-

اکثر استاد درس گاہوں میں سائنس پڑھاتے وقت ٹی.ایل.ایم. کا استعمال نہیں کرتے ہیں- کچھ ہی اپنے شوق سے کچھ موقعوں پر اُنکا استعمال کرتے ہیں- سبق، تجربوں کو کرنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن کہیں بھی صاف طور پر اس کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے- کچھ درس گاہوں میں ٹی.ایل.ایم. ہیں لیکن استاد کو اسکا شوق نہیں اور کچھ درس گاہوں میں استاد کو شوق رکھتے ہیں لیکن وہاں ٹی.ایل.ایم. نہیں ہیں-

کسی بھی کتاب میں دے گئے تجربوں کو کرنے کے لئے ضروری سامان تیار کر سکتا ہے اور اُن کوعمل میں لانا شروع کر سکتا ہے- کچھ ہمارے آس پاس آسانی سے موجود ہیں، کچھ بچوں کے گھر سے مل سکتے ہیں اور کچھ دوسرے ضروری سامان بازار سے خریدا جا سکتا ہے-  یہ طالب علم بچوں کے لئے ایک ‘سائنس کٹ’ ہے، جسکو نصابی کتاب کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ کئی درجے کے بچوں کو سائنسی تجربہ کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے-

اسلئے، ایک اچھی طرح سے سوچی گئی کٹ سائنس پڑھانے کو ایک اچھی شکل فراہم کرتی ہے- اس سے طالب علم بچوں میں سائنسی سمجھ پیدا ہوتی ہے’ جس سے انہیں ‘کرکے سیکھنے’ کا موقع ملتا ہے- طالب علم فعال بن جاتے ہیں، تصوّرات کو سمجھتے ہیں اور اپنے نتیجے پر پہنچتے ہیں جس سے انکا اعتماد بڑھتا ہے-

مصنف –  ڈاکٹر انجو شرما
اردو میں ترجمہ:
محمّد زبیر

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے