(کلاس روم: تجربات کرنے ،چیزوں اورآلات کوبنانے کی جگہ(حصہ دوم

دوسری جنگ عظیم میں کئی قومیں تباہ ہوگئی تھیں۔ معاشی طور پر بد حال ہونے والی قوموں نے اسکولوں کی از سر نو تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سائنسی لیابور یٹریز(تجربہ گاہوں) کی قائم کرنے کیلئے اُن ہاں وسائل اور سرمایہ میسر نہیں تھا۔
سال 1950 دہے کے اواخر میں ایک انگریز استاد جے پی اسٹیفننے عام و سادہ وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ایک کتاب کی تشکیل دی جس میں انہوں نے مشقی سائنس (تجرباتی سائنس) کی کئی مثالیں ترتیب دی تھیں۔ اِس کتاب کا عنوان خود معنی خیز تھا: “بدحال/ مفلوک الحال ممالک میں سائنسی اساتذہ کیلئے کچھ مشورے۔ اس کتاب نے ساری دنیا میں ہلچل مچادی تھی اور یہ ثابت کیا تھا کہ عام(معاشی لحاظ سے کمزور) بچوں کی زندگیوں سے مہنگے اوراعلیٰ آلات دور ہوکر رہ گئے ہیں۔ یونیسکو نے اس کتاب کے مواد کو مزید تقویت بخشتے ہوئےسائنسی تدریس کیلئے یونیسکو سورس بُککے نام سے ایک اور کتاب شائع کی جو بعد ازاں سائنسی تجربات(مشقوں) کیلئے مانندِ بائبل مانی جانے لگی۔
سال 1963 میں یہ کتاب ہندی ، مراٹھی اور کچھ دیگر ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کی گئی۔ 1990 دہے کے اوائل میں وننی ہارلیناور جوس ایلسٹگیسٹنے پرائمری اسکول کیلئے یونیسکو سورس بُک ترتیب دی تھی۔اس کتاب کا بین الاقوامی (انٹر نیشنل)ایڈیشن 20 ڈالر میں ملے گا۔
خوش قسمتی سے نیشنل بُک ٹرسٹ نے ہندوستانی ایڈیشن کو محض 65 روپئے میں شائع کیا۔
درآنحالانکہ اِس کتاب پر ابھی تک کوئی نظرِ ثانی نہیں کی گئی لیکن ابھی تک یہ چار بار دوبارہ شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب کے بار بار شائع ہونے پر مجھے خوشی ہوتی ہیکہ اِس مُلک کے عام اساتذہ اس قسم کے کام میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ 
مذکورہ کتاب کے دو حصے ہیں۔ ایک تھیوری(نظریہ) پر بحث کرنے والا حصہ ہے جس کے بعد چار بہترین سائنسی مشقوں پر مبنی حصے موجود ہیں جو یہ ہیں:
۔ بچے اور پانی 
۔ بچے اور توازن
۔ بچے، آئینے اور عکس
۔ بچے اور ماحول
کاش کوئی اللہ کا بندے اس کتاب کو دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کردیں!
دنیا جہاں کے تجربات سے یہُ عقدہ کھلا کہ پہلے سے بنے بنائے سائنسی کِٹس کبھی فائدہ مند نہیں ہوتے۔ اکثر ایسے کِٹ نہ ہی اساتذہ اور نہ ہی بچوں کی توجہ کامرکز بن پاتی ہیں۔ کیوں کہ اساتذہ نے انہیں خود نہیں بنایا ہے وہ انہیں استعمال کرنے میں جھجک محسوس کریں گے۔ ایک عام تاثر یہ ہوتا ہیکہ اگر اِس قسم کی کِٹس یا ماڈلس کے غلط استعمال کرنے پرٹوٹ سکتی ہیں، لہٰذعافیت اِسی میں ہیکہ انہیں ویسے ہی چھوڑ دیا جائے! برخلاف اِس کے اگر کوئی استاد روزمرہ استعمال آنے والی اشیاء کے ذریعے کوئی سائنسی ماڈل بناتا/تی ہو تو وہ اُس کے استعمال میں دلچسپی دکھائے گا/گی۔ اگر اساتذہ خود سے اِن چیزوں کو بنائیں گے تو وہ خود مکتفی اور بااختیار محسوس کرینگے اور بعید نہیں کہ وہ اُنہیں استعمال بھی کرنے لگیں۔
ہم ایک صارف زدہ(کنزیومرسٹ) سماج میں اندگی گزار رہے ہیں جس میں مستعمل شدہ(اشیاء) پہاڑوں کی جسامت میں یوں ہی چھوڑ دی جاتی ہیں۔کارڈ بورڈ کارٹونس، بال پین کی ریفِل، پُرانی استعمال شدہ پین، سِکّے، جھاڑو کا دستہ، آگ کی ڈبی، ٹیٹرا پیاکس، دودھ کے بیاگس، آئس کریم اسٹِکس، اسٹرا وغیرہ دراصل ایک لمبی فہرست کی چند مثالیں ہیں۔ 
ان استعمال نہ ہونے والی چیزوں کو (جو ممکن ہے کچرے کی نذر ہوجائیں) کو لیکر مختلف سائنسی ماڈلس بنائے جاسکتے ہیں۔ 
مثال کے طور پر پرائمری اسکول کے بچوں کیلئے نیچے دی گئی مشق(یا تجربہ) باآسانی کیا جاسکتا ہے:
دو فِلم کیانوں کو ایک پُرانے سائیکل کے ٹیوب کے ذریعے آپس میں مِلایا جائے (چپکانے کیلئے چمٹے رہنے والے ٹیپ کا استعمال کیا جائے جو والوکی طرح کام کرتا ہو)جس سے ایک بہترین ہینڈ پمپ (دستی پمپ) بنایا جاسکتا ہے۔ اس پمپ کے ذریعے آپ ایک غبارے کوبھر سکتے ہیں یا پانی کو دس فیٹ کی دوری تک پھینک سکتے ہیں۔
کسی بھی سائنسی اُصول کی کھلونوں یا آلات سے مربوط کرنے پر بچے اُن اُصولوں کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اُن کے ساتھ کھیل پائیں تو سونے پہ سُہاگہ، اب تو وہ اُنہیں محسوس بھی کرپائیں گے۔
مرکز مائل (Centripetal) اور مرکز گریز(Centrifugal) قوتیں ، بچوں کیلئے محض مجرد الفاظ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں اور اُنکے معانی انہیں اپس وقت تک سمجھ میں نہیں آئیں گے جب تک انہیں اَن قوتوں کا تجربہ نا کروایا جائے یا انہیں اِن قوتوں کو محسوس کروایا جائے۔ مثال کے طور پر، ایک ایسا اکروبیاٹ کھِلو نہ جس کے ہاتھ اور پیر بھی ہوں ، اگر تیز گھمایا جائے تو اُس سے ڈھیلے سے ُ منسلک ہاتھ اور پیرنکل پڑیں گے۔یہاں بچوں کو بتا یا جائے کہ یہاں مرکز گریز قوت کام کررہی ہے۔ 
“The Joy of Making Indian Toys” اِس قسم کے دیگر سیکڑوں کھلونوں کی تفصیلات ایک کتاب میں ترتیب دی گئی ہیں۔

یہ کتاب جس کے مصنف جے سدرشن کھننہ ہیں نیشنل بک ٹرسٹکی جانب سے محض 40 روپئے میں شائع کی گئی۔
اِس قسم کے کھلونے ہر دور میں موجود رہے ہیں اور نَسَل در نَسَل یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ مستعمل شدہ چیزوں سے بننے والے یہ کھلونے ماحول دوست ہوتے ہیں اور معاشی لحاظ سے کمزور بچوں کیلئے مفید تر ہوتے ہیں۔اِس قسم کے کھلونوں کے بنانے میں بچے کاٹنا، تراشنا، چِپکانا، جوڑنا، کیلے مارنا اور واپس ترتیب میں جوڑنا وغیرہ سیکھتے ہیں۔ الغرض وہ بہترین سائنس سیکھتے ہیں۔
سائنس کا بحران یہ ہیکہ لوگ سائنس کرنے اور سیکھنے میں اپنے ہاتھوں کو پراگندہ کرنا نہیں چاہتے۔ رَٹّا مارنا اور چاک و بات چیت کے ذریعے سیکھنا عام ہے، نِصاب کو ختم کرنا گویا ہر کسی کا مذہبی فریضہ بن گیا ہے۔ اس گم گشتری میں یہ بالکل بھلا دیا جاتا ہیکہ نصاب کا مقصد ہی دراصل چیزوں اور تصورات کی دریافت کرنا ہے!

“Making Things”شمالی امریکہ کے شہر بوسٹن میں موجود بچوں کے میوزیم کے تخلیقی ڈائرکٹر اور مشہور کتاب

کے مصنف این سئیرّے وائیز میاننے اچھی سائنس کے معانی کو اِس آزاد نظم میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔


ناکام ہونا کوئی غلط بات نہیں ہے: غلطیاں کرنا بھی کوئی بُری بات نہیں ہے
کیوں کہ اِس دوران آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں!
جوکھم بالکل لینا چاہئے: کچھ کرنے کیلئے وقت لینا بھی دُرُست ہے
خود کی رفتار پکڑنے کیلئے وقت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے
اپنے طریقے سے کوشش کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے
ناکام ہونا کوئی غلط بات نہیں ہے
بلا خوف وخطر کسی بھی وقت دوبارہ کوشش کی جاسکتی ہے
بیو قوف دِکھنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے
اور نہ ہی مختلف ہونے پر کوئی شرم کرنی چاہئے۔
جب تک آپ کسی چیز کیلئے تیار نہ ہوں انتظار کرئے
مختلف طریقوں سے تجربات کریں
مروج اصولوں پر سوال اٹھائیں
یاد رہے اپنی خصوصیت باقی رکھنا بہت اہم ہوتا ہے
اکثر برباد کرنا بھی اہم ہوتا ہے
اگر آپ برباد کرنے کے بعد آباد کرسکتے ہوں تو
(کیونکہ ہر تخلیقی عمل بربادی کے راستے سے گزر کر ہی ممکن ہوتا ہے)

مصنف: اروند گپتا ہندوستان کے جنوب مغربی شہر پونے میں موجود بچوں کے سائنسی سنٹر میں کام کرتے ہیں۔ اِس مضمون میں ذکر کی گئی کتابوں کو نیچے دی گئی زیب سائٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
http://arvindguptatoys.com/
مصنف سے نیچے دئے گئے ای میل پر ربط پیدا کیا جاسکتا ہے۔
[email protected]
[email protected] مترجم: عبد المومن

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے