ریاضی کی نوعیت اور اسکولی تعلیم سے اسکا رشتہ(حصہ اول)

اسکول کے مضامین میں ریاضی ایک منفرداور گنجلک حیثیت کا حامل ہے۔ اسے اسکولی تعلیم کا اہم جز سمجھا جاتا ہے۔ ابتدائی جماعتوں سے لیکر دہم تک ایک لازمی مضمون کی حیثیت رکھتا ہے             علاوہ ازیں جہاں اس نےمختلف مروجہ مضامین میں ممتاز حیثیت اختیار کرلی ہے گویا کہ  وہ “پارس” ہو۔( کیونکہ کوئی بھی تعلیم یافتہ شخص کی خاصیت ہوتی ہیکہ وہ ریاضی سے واقف ہوتاہے) وہیں دوسری طرف تمام اسکولی مضامین میں اس نےسب سے خطرناک مضمون کی حیثیت بھی اختیار کرلی ہے۔ جس کا اثر یہاں تک ہیکہ طلباء ریاضی کو لیکر خوف اور ناکامی کے جذبات کا شکار ہورہےہیں۔ حتی کہ وہ بڑے جنہوں نے اسکولی تعلیم کامیابی کیساتھ ہی کیوں نہ مکمل کی ہو یہ کہتے ہوئے نظر آئینگے  کہ “ہم نے  اسکول میں کبھی ریاضی سمجھا ہی نہیں “.(ہم نے  دہلی یونیورسٹی کے اسکولی ریاضی کے پروجکٹ پر کام کرتے ہو ئے اسی خوف  کو دور کرنیکی کوشش کی تھی۔ اسی سے متعلق مزید تفصیلات  مندرجہ ذیل لنک پر دستیاب ہے ۔

متذکرہ بالا اختلاف  کچھ سوالات کا پیش خیمہ بنتا ہےجن میں سے کچھ یہ ہیں: ریاضی کیا ہےاور اس کو اسکول میں کیوں پڑھایا جائے؟  مروجہ اسکولی ریاضی کے مسائل کا تعلق کیا ریاضی کی قدرتی  نوعیت کے مرہون منت ہے یا تعلیمی طریقہ کار کا نتیجہ ہے یا دونوں وجوہات ہیں ؟  کیا ہرکوئی ایک خاص سطح تک ریاضی سیکھ سکتاہے ؟ اسکول میں کون سی ریاضی سکھائی جائے؟ اور کیسے سکھایا جائے؟                    

ان سوالات کے جوابات کی کھوج  جرات مندانہ رہیگی۔ اس مضمون میں ہم پچھلے 5 (پانچ) دہوں میں اسکولی  ریاضی کے تئیں  پیش آئی تبدیلیوں کا احاطہ کرینگے اور ارض وطن (ہندوستان) میں اسکےاثرات کا بھی تذکرہ کرینگے

حساب سب کیلئے :

اسکولی ریاضی سے متعلق کوئی بھی بحث کو  “ابتدائی تعلیم کے آفاقی رخ “Universalisation of Elementary Education(UEE)  کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئیے۔ UEEآج  ایک خواب  گم گشتگان نہ رہا  بلکہ ایک حقیقت اور  قابل حصول چیز بن گیا ہے۔

Universal Secondary Education – USE  کا اگلا  سنگ میل بھی تعلیمی  ایجنڈے پر اثر  انداز ہونے سے عبارت ہے۔ بہر کیف جب ہم  اسکولی  ریاضی کی بات کرتے ہیں تو  دراصل تمام ہی قسم کے  طلباء کو ذہن  میں رکھتے ہیں۔

کیا ہر کوئی  ریاضی سیکھ سکتا ہے؟ یہ سوال کچھ دہوں پہلے ، منفی انداز میں ہواکرتا تھا ، المیہ یہ ہیکہ آج بھی کئی  بڑےحضرات  کچھ بچوں کے تئیں یہ احساس  رکھتے ہیں کہ “وہ کبھی ریاضی نہیں سیکھ پائیں  گے”!   اس مخمصہ کو UEE/USE کیسے دیکھتے ہیں  آئیے اوپر دئیے گئیے لنک کے ایک اقتباس پر نظر ڈالتے ہیں –

“عمدہ ریاضی تعلیم پر مبنی ہمارے وژن کی دو بنیادیں ہیں – ایک کہ ہر طالب علم ریاضی سیکھ سکتا ہے اور دوسر اہر طالب علم کا ریاضی سیکھنا ضروری ہے. لہذا ہر طالب علم کو ریاضی کی اعلی   تعلیم سے بہرہ مند کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے”

اب  سوال رہ جاتا ہیکہ ، ریاضی کی تعلیم کس پیرائے میں دی جائے کہ ہم درحقیقت تمام طلباء کاحق ادا کرسکیں؟  اس سوال کی کھوج ہم علم ریاضی کے بنیادی اہداف کی وضاحت کرتے ہوئے کرسکتے ہیں۔

اسکولی تعلیم ریاضی کے مقاصد:

اب جب کہ دہم جماعت  تک ریاضی سیکھنا لازمی کردیا گیا ہے،تعلیم ِریاضی کا بنیادی مقصد ہر گز یہ نہیں ہوسکتا ہیکہ “ریاضی دانوں ” کی کھیپ کی کھیپ تیار کی جائے  اور نہ ہی اس کا مقصد طالب علم  کو سائنسدان و انجنیئربنانا ہوگا حالانکہ مذکورہ  میدانوں میں اختصاص کیلئےریاضیاتی   صلاحیت اہم اور ناگزیر ہے-  بہرکیف آخر کیا ہونگے اسکولی تعلیم کے مقاصد؟ 

اسی اقتباس میں یہ وضاحت بڑے آسان انداز میں کردی گئی ہیکہ۔”سب سے اہم ہدف ۔ بچہ کے سوچنے کے عمل کو ریاضیاتی رخ دیناہے“۔

دوسرے الفاظ میں کائنات کو ریاضی کی زبان میں سمجھنے کی صلا حیت پیدا کرنا  اور ریاضی سے مربوط سوچ  کو فروغ دینا ۔ لیکن ہمارے  ملک میں پچهلےپانچ (5) دہوں سے مروجہ نصاب و کتب کا جائزہ لیں گے تو

کچھ اور ہی تصویر سامنے آتی ہے.ایسا لگتا ہےگویا “جامعاتی تعلیم”  یا “IIT”طرز تعلیم اسکولی  ریاضی تعلیم  کے مواد اور طریقہ تعلیم پر حاوی ہوگیاہو!!

الغرض اس میں کوئی اچنبھا نہیں ہونا چاہئے کہ سابقہ اور موجودہ طلباء کی ایک کثیر تعدادعلم ریاضی  کو پسند نہیں رکھتی!

ریاضی کیا ہے؟ آخرش….!

 سوچ کو ریاضیاتی رخ دینے کیلئے ہمیں ریاضی کے خد و خال پر ایک عمومی نقطہ نظر کا حامل ہوناچاہئے۔ 

اگر ہم  یہ سوال اٹھائیں کہ “ریاضی کیا چیزہے”؟  تو جھٹ سے  جمع، تفریق، ضرب، تقسیم(یعنی حساب) کے مماثل کو ئی چیز گوشہ ذہن میں گھومنے لگتی ہے—(یا کچھ اور کُریدا جائے تو الجبرا اور جیومٹری بھی شامل کردئیے جاتے ہیں !!)

بہرکیف، اعدادکو لیکر مختلف فیہ کام انجام  دئیے جاتے ہیں  جو یقیناً ریاضی میں اہم کردار ادا توکرتے ہیں لیکن ریاضی اور ریاضیاتی سوچ تک  پہونچنے میں اصلاً مددگار ثابت نہیں ہوتے. ہم ریاضی کا تعارف دینےکےبجائے ریاضیاتی سوچ کےمتعلق  آگےکچھ مثالیں  پیش کرینگے—

1۔ دروازہ  میرے اور دیوار کے بیچ  میں ہے-

2۔ مرتبان  میں پندرہ15 ٹافیاں  رکھیں ہیں –

3۔ یہ گلاس لمبا ہےپر پتلا ہے،  اس میں کسی بھی چوڑے پیالے سے کم ہی پانی کی گنجائش ہے-

4۔ یہاں سے اسٹیشن سڑک کے راستہ سےپندرہ(15) منٹ کی دوری پر ہے اور اگر غیر معروف متبادل راستہ اختیارکیا جائے تو دس (10) منٹ میں پہونچا جاسکتا ہے-

سرسری نظر دوڑانے پر ایسا لگے گا کہ متذکرہ پہلےبیانیہ میں کسی قسم کی ریاضیاتی سوچ  کا اظہار نہیں ہوتا- لیکن بہرحال  ایک  پر ی اسکول کے بچہ کیلئے مقاماتی  اصطلاحات  جیسے’اوپر’، ‘نیچے’، ‘درمیان/بیچ’، ‘آگے’ وغیرہ  ریاضیاتی  عمل کا اہم حصہ ہیں-

سوچ کو ریاضیاتی قالب میں ڈھالنے کا کا م نہ مطلقاً انجام دیاجاسکتا ہےاور نہ ہی کسی ایک بیٹھک میں پایہ تکمیل کو پہونچایاجاسکتاہے. بچے ہوں یا بڑےاسکول اور اسکے علاوہ بھی ان گنت ریاضیاتی تجربات سے گزرتے رہتےہیں۔

 

تحریر: امیتھابھامکھرجی، پروفیسر یونیورسٹی آف دہلی 

ترجمہ: عبد المومن                                                                                                  

  بشکریہ لرننگ کرو، عظیم پریم جی یونیورسٹی، بنگلورو

اس مضمون کا اگلا حصہ یہاں پر ملاحظہ فرمائیں۔

Author: Admin

1 thought on “ریاضی کی نوعیت اور اسکولی تعلیم سے اسکا رشتہ(حصہ اول)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے