بچوں کیلئے سائنس کو دلچسپ کیسے بنایا جائے؟

بچوں کیلئے سائنس کو دلچسپ بنانے کی خاطر”سائنس آخر کیسے دلچسپ نہیں ہوسکتی ہے؟” اور “اسکول میں پڑھائی جانے والی سائنس بچوں کوبیزاری کیوں دلاتی ہے؟” جیسےبنیادی سوالات اور ان کے جوابات پرسَر دُھننا ہوگا۔  پہلے سوال کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ سائنس کا مطلب کائنات کامشاہدہ کرنا ہے جوہم اپنے حواس اور اُن جدیدآلات سے جو ہمارے حواس کوتقویت دیتے ہیں سے انجام دیتے ہیں۔ پھر کائنات کے نظام کو سمجھانے والا ماڈل بنائیں۔ اس قسم کے طریقے کو استعمال کرنے پر شائد ہی کوئی بچہ بیزار ی محسوس کرے!یہ اسی طرح کا تجربہ ہوگا جیسے کوئی نوزائیدہ اور چھوٹابچہ رینگتا ہے، چیزوں کو دیکھتا ہے، انہیں اٹھاتا ہے، پھینکتا ہے، اُن کو چکھتا ہے اور مشاہدے کے ذریعے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ میں ایک ایسے بچے کو جانتی ہوں جس نےابھی محسوس کیا کہ ہر چیز اُچھلتی نہیں!سال بہ سال اس قسم کے احساسات و تجربات بچے کو مختلف چیزوں میں باہم ربط اور اصول ہائے کائنات کے ادراک میں مدد دیتی ہیں۔

دوسرے سوال کا حل یوں تو ہمارے تعلیمی نظام پر تنقید و جائزے میں موجود ہے لیکن اس سے قطع نظر یہ نکتہ انتہائی اہم ہیکہ”سائنس پڑھانے کیلئے کتاب کا استعمال کرتے ہوئے دراصل ہم کیا سکھانے کی کوشش کررہےہیں؟”۔اول تو سائنس اور ٹکنالوجی میں اُلجھن ہےدُوم اس اَمر میں بھی اشکال موجود ہیکہ سائنسی خواندگی میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں ،یعنی کیا سائنس کو”عمل”سے تعبیر کیا جاسکتا ہے یا “مواد” سے؟تیسرے ہم نے ہماری نصابی کتب میں گاڑھے مواد کے بجائے آسان مواد بھر دیا ہے اس کی پرواہ کئے بغیر کہ بچوں کو وہ سمجھ میں آرہی کہ نہیں!مثال کے طور پر دسویں جماعت کی نصابی کتاب میں “راکٹ کی مساوات “، راکٹس اور سیٹلائٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے اوراس سے پہلے نہ ہی نیوٹن کے حرکت کے اصول بتائےجاتے ہیں اور نہ ہی میاتھس(ریاضی) کے لوگارتھمس کو سمجھایا گیا۔

سائنسی عمل کے ساتھ ساتھ سائنسی مواد سکھانے کا طریقہ سائنسی تعلیم میں آنے والی اُن مشکلات کوآسان کردیتا ہےجوبچوں کی عام زندگی سے بالکل الگ چیزوں کو سمجھنے میں اورنِرےحقائق کو یاد کرنے میں پیش آتی ہیں ۔کئی ایک کتابیں اور پروگرام ایسے ہیں جو تجسس و تلاش کاطریقہ استعمال کرتے ہوئے مضامین بیان کرتی ہیں۔ایکلویا کاپروگرام، ہومی بھابھاسائنس سنٹر کی چھوٹی سائنسی کتابیں، اوراین سی ای آر ٹی کی ابتدائی نصابی کتب اس طریقہ تدریس پربات کرنے والی کچھ مشہور مثالیں ہیں۔متذکرہ بالا کتابیں اسکولوں میں زیادہ استعمال نہیں ہوئیں ہیں اسلئے کہ اُن کو جانچنے کا طریقہ آسان نہیں ہے۔تجسس و تلاش کے طریقے میں بچے کی سیکھنے کی استعداد معلوم کرنا بہت مشکل ہوتا ہےکیونکہ اس طریقے میں حقائق پر دھیان نہیں دیا جاتا کہ انہیں اَزبر کرتے ہوئے پیش کردیا جائے!یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ اس کی وجہ کتابیں نہیں بلکہ خود ہمارا ازکار رفتہ”جانچنے والانظام “ہے۔ ہماری تدریس و تعلیم میں کوئی تبدیلی واقع ہونے کیلئے ضروری ہیکہ ہم تعلیم و تدریس کو جانچنے والے نظام میں تبدیلی لائیں، جو بذات خود اپنے آپ میں طریقہ تلاش و تجسس ہے۔

طلباء کیلئے سائنس کو دلچسپ اورمعنی خیز بنانےکیلئے کم از کم کلاس روم میں تجرباتی انداز میں سکھانا ہوگا۔ایک سائنسی استادکے تجرباتی طریقے سے دور بھاگنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ تجربات مہنگے ہوتے ہیں، کلاس روم کی سرگرمیوں میں مخل بن سکتےہیں،ممکنہ حد تک خطرناک صورتحال پیدا کرسکتےہیں اور بہت زیادہ وقت کےسزاوار بھی ہوتے ہیں۔ درحقیقت اسکولی سائنس کا اکثر حصہ تجرباتی نوعیت رکھتا ہےاور سائنسی علم کا سہل واصل حصول اسی طریقے کی مرہون منت ہوسکتا ہے۔”سوڈیم ایک سفید مائل بہ چاندی دھات ہے جو پانی کے ساتھ شدید تعامل کرتی ہے”۔ اس عبارت کو پڑھنے کی بہ نسبت مذکورہ تعامل کو ہوتاہوا”دیکھنا”کسی طالب علم کیلئے زیادہ معقول ہوگا۔اور یہ بات اظہر من الشمس ہیکہ اس منظر کو دیکھنے کی وجہ سے،یادداشت میں آسانی سے لمبے عرصےتک محفوظ رہ جاتا ہے۔ مزید برآں جب ہم بچوں کو اسکولی سائنس تجربات کے ذریعہ سکھاتے ہیں تب وہ کئی اہم چیزوں جیسےاپنے ہاتھوں کی مددسے کام کرنا، گہرا مشاہدہ کرنا اور مواد جمع کرنے میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں۔ وہ اس بات کا بھی ادراک حاصل کرینگے کہ کسی عمل و مظہر کے بارے میں سوچنا ایک ہے اور اس کو حقیقت میں ڈھالنا بالکل الگ چیز ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ بچے، اپنے ہاتھ سے کام کرنے والے اشخاص کی عزت بھی کرینگے اوراُن کے بارے میں حقیقت مندانہ جذبے کو پروان چڑھائیں گے۔ دریں اثناء بچے،کسی بھی چیز کےظاہر پر اکتفا نہ کرتے ہوئے پس پردہ حقیقت تک رسائی کی کوشش کرینگے۔کیسے اور کیوںجیسے سوالات انکی ذہنی پرداخت لازمی حصہ ہوگا۔

عمومی اصولوں کو سمجھانے کے علاوہ ایک سائنسی استاد اور کر بھی کیا سکتا ہے جبکہ عام طور پرکلاس بھی بڑی ہوتی ہے اور استاد کو کتاب کی پیروی کرنی پڑتی ہے. مندرجہ ذیل ایسے طریقے ہوسکتے ہیں جن کو استعمال کر سائنس کو سوجھنےاور سمجھنے والے مظہر کے طور پرپیش کیاجاسکتا ہے۔

اولاََ، ہم نصابی مواد کو روزمرہ تجربات سے جوڑ سکتے ہیں۔ پرائمری اور سیکنڈری اسکول کی سطح پر یہ طریقہ اچھے نتائج لا سکتا ہے۔ ملکِ عزیز کی جنوبی ریاست کرناٹکا میں پنجم (V) کلاس کی نصاب کتب میں “لِور” کا تذکرہ موجود ہے جس میں ہمہ اقسام کے لِور کو اُن کے منسلکہ قوت، باراور نقطہ ارتکاز کی روشنی میں بیان کیا گیاہے۔استاد مختلف اقسام کے لِوروں کی مثالیں سمجھاکر بچوں کو اُن سےہونے والے کاموں کو جاننے پراُبھارسکتا ہے جس کے بعد اُن سے یہ خواہش کی جاسکتی ہے کہ روزمرہ استعمال شدہ لِور وں کا مشاہدہ کریں ۔لِور کی چند مثالیں کروبار، باٹل کھولنے والا آلہ اور چکی وغیرہ ہوسکتی ہیں۔

دُوم، ہم دریافت کی کہانی کو مختلف پیراؤں میں جوڑ کر سمجھا سکتے ہیں۔ جیسے فلاں چیز یا مظہرِواقعہ کی دریافت کس نے کی؟ کب؟کن کن تجربات سے گزرنا پڑا؟اور بالآخر دریافت کا مطلب کیا ہے؟۔

راقم تحریر جوہر کی ساخت کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے۔ سرِدست مذکورہ زیریں تجربات، شخصیات اور مفروضات کی روشنی میں تمہید بندھتی ہے:۔

۱۔ ڈالٹن کے جوہری ماڈلاور اُن کے مفروضے (Dolton’s Model of Atom)

۲۔ بُنسن اور کرچاف کے آگ کی جانچ(Flame tests by Bunsen & Kirchhoff) 

۳۔منڈیلیو کا جوہری خصوصیات کی بناء پر بنایا ہوادوری جدول(Mendelev’s Periodic arrangement based on Properties) 

تابکاری کی دریافت.جس پر بحث اور مطالعہ کئی ایک سائنسی کہانیوں اور سائنسی شخصیات پر معلومات بہم پہونچاتےہیں

۴۔ (The Discovery of Radioactivity) 

۵۔ الیکٹران کی دریافت(The Discovery of Electron) 

۶۔ تھامسن کا جوہری ماڈل یا نمونہ (Thomson’s Model of Atom) 

۷۔ رُتھرفورڈ کے تجربات اور اُن پر مبنی ماڈلس(Rutherford’s experiments & models) 

۸۔ بوہر کے جوہری ماڈل کوآگ کی جانچ والے تجربہ (Bohr’s Model) 

اِن تمام ماڈلوں کی سمجھ بوجھ کے بعد موجودہ جوہری ماڈل کا تصور، اُس کی تشکیل کے عوامل کی سمجھ اور اس سارے مظہر کو نہ صرف یاد رکھنا آسان ہوجاتا ہےبلکہ موقع ملنے پر اس تصور کو لاگو کرنا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔ مجھے یہ سب کرنے کیلئے چھ(6) دورانیے لگے جن میں ہم نے آگ کی جانچ والا تجربہ بھی کیا۔

سوم، بچوں کے سامنے سائنسی مظاہرے کئے جائیں۔خاص طور پر ایسے تجربے جن میں کچھ نقصان ہوسکتا ہے یا جن میں مہنگی چیزیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ اوپر بیان کئے گئے آگ کی جانچ والے تجربے کو میں خود کرتا تھا اور بچوں کو آگ میں موجود نمک کو ہاتھ میں لینے کی ترغیب دیتاتھا۔

چہارم، ایسے تجربات کئے جائیں جن کو کرنا آسان ہو، اور مستعمل چیزیں آسانی سے مل جائیں، جیسے اِنک چھوڑنے والی پین، پلاسٹک شیٹ وغیرہ تاکہ طلباء کلاس روم میں بیٹھ کر تجربات کرسکیں۔ دیکھئے باکس نمبر ۱

پنجم، ایک تمثیلی تجربہ کریں۔ دیکھئے باکس نمبر 2 ۔

اوپر بیان کئے گئے طریقے ہرسائنسی سبق کا واجبی حصہ ہوسکتے ہیں۔ایسا کرنا کسی بھی استاد کیلئے بہت مشکل ہوگا۔ “دئے گئے تصور کی منظر کشی کیسے کی جائے؟”، “آسان سے آسان قابل عمل تجربہ کیا ہوسکتا ہے؟”،”روزمرہ زندگی میں سے کونسی بہتر مثال لی جاسکتی ہے؟”وغیرہ کچھ ایسے سوالات ہوسکتے ہیں جو استاد کو لمحہ لمحہ ساچنا ہوگا۔یہاں تک کہ میں خود ابھی تک سرگرداں ہوں کہ بوئیل کے قانون کاحتی المقدور مظاہرہ پیش کروں!

انٹرنیٹ، نصابی کتب، عوامی سائنسی کتب، یونیسیف کی مطبوعہ سائنسی دستی کتب اور سب سے اہم بذات خود، یہ وہ عوامل ہیں جو تجربہ کرنے اور آسان آلات کی تیاری میں کام آتے ہیں۔

سائنس کو مزیدار بنانا مشکل تر کام ہے، لیکن اتنا ہی ثمر آور ہےاورکلاس روم کولطف اندوز بناسکتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ کلاس روم میں تجربہ کرنے سے پہلے استاد خود سے تجربہ کرلے تا آنکہ کوئی غیر متوقعہ صورتحال پیدا نہ ہوجائے اور تجربہ نا کام نہ ہو۔ کئی کتابیں ہَوا کے وزن کو جانچنے کا تجربہ کرنے کی ترغیب دیتی ہیں جس میں دو ہَوا سے بھرے ایک جیسے غباروں کوایک رُولرسے لٹکایا جاتا ہے۔ ایک غبارے کو پھوڑدیا جائے دفعتاََدوسراغبارہ تیرنے لگے گا(کتاب کے مطابق) کیونکہ غبارہ وزنی تھا۔

حقیقت حال یہ ہیکہ غبارہ جس وجہ سے اوپر اٹھتا ہے اسے سائنسی زبان میںBuoyancyکہتے ہیں۔

 کے تصورکی منظر کشیMoleباکس نمبر 1: ۔

یہ دراصل اجزاء کی تعداد اورکمیت کی پیمائش کیلئےاستعمال ہونے والاعدد ہے۔اکثر طلباء اس تصورکو سمجھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔

مختلف قسم کے بیج جیسےمونگ، پھلیاں، راجما، گندم، خشک مٹروغیرہ کولیکرایک تمثیلی تجربہ کیا جاسکتا ہے۔ ہرایک قسم کےسو(100) بیج گنیں اوران کی فرداََ فرداََکمیت معلوم کریں۔کمیت معلوم کرنے کیلئے نزدیکی دُکان میں موجود ترازو کا استعمال کیا جاسکتا ہے!سب سے ہلکے بیج کا وزن معلوم کیجئے اوراُسے”ہائیڈروجن ” کا نا م دے کراس کی کمیت “ایک” مقررکیجئے۔اب دیگربیجوں کی کمیت کو اِس ہائیڈروجن بیج کی نسبت سے مقررکیجئے۔اب آپ بآسانی اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی بھی دئے گئے حجم کے بیج میں کتنے کمیت موجودہیں ۔

آپ اس نسبتی جوہری کمیت کے خیال کو اوسط جوہری کمیت سے جوڑ سکتے ہیں۔

 

باکس نمبر 2: کیمیکلس کی درجہ بندی۔

ہر بچے کو مختلف قسم کا پھول لینےکو کہئے۔ پانی میں تھوڑا سا بھِگو کر اُن میں موجود رَس نکال لیجئے۔ اب اَس کو تین حصوں میں تقسیم کیجئے۔ پہلے میں لیمو کا رَس ملائیے، دوسرے میں چونے یا چاک (قلم) کا پانی ملائیے اور دیکھئے کہ آیا  رنگ میں کچھ فرق واقع ہوا کہ نہیں۔ سب سے بہتر محلول کی ایک بڑی مقدار بنائیے تاکہ وہ اشاریے کا کام کرسکےتاکہ مختلف اقسام کی چیزوں کی جانچ کی جائے کہ وہ تیزابی ہیں یا بیسک ۔اس خصوص میں بچوں سے کہئے کہ دودھ، دہی، سنترے کا رَس، صابن، شیمپو، چائے اور تیل وغیرہ اپنے ساتھ لائیں۔ بچوں کی ایک جماعت دریافت کرے گی کہ ایسڈ کھٹےاور بیس کڑوے ہوتے ہیں۔ اسی تجربے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے بچوں نے یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا تمام کھٹے عناصر ایسڈ ہوتے ہیں اور کیا تمام کڑوے عناصر ہوتے ہیں۔

 

 


تحریر: ٹی وی وینکٹیشورم۔ سائنسدان، وگیان پرسار، نئی دہلی۔

بشکریہ- لرننگ کرو ، عظیم پریم جی یونیورسیٹی ،   بنگلور 

مترجم: عبد المومن

Author: Abdul Mumin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے