زبان اور بولی

لوگ اپنی بات چیت کی زبانوں کو اچھی طرح جانتے  ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کیسے آوازوں  کو ایک ساتھ  لفظ بنانے کے لئے جمع کیا جائے  اور کیسے الفاظ کی ترتیب سے  جملے بنائے جائیں جو ہمیشہ قواعد کے مطابق اور قابل قبول ہوں، اور اکثر وہ زبان کو تشبیہی اور استعاری انداز میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

یہ علم ، حالانکہ انتہائی  مجرد ،تفصیلی اور پیچیدہ ہے لیکن شعوری  نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے  قطع نظر اس سے کہ آپ اس حاصل کردہ کوزبان یا بولی کا نام دیتے ہیں۔ اسے ہر بچہ چار سال کی عمر سے پہلے بنا محنت اور بغیرکسی خصوصی  گھریلو تدریس (ٹیوٹرنگ)  کے حاصل کرتا ہے، حالانکہ سماجی اشتراک کیلئے زبان مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگوں کو کہیں نہ کہیں یہ بھی معلوم  ہیکہ  زبان کے بغیر کوئی نظامِ زبان اور کسی  تہذیب کا وجود نہیں ہو سکتا۔  لیکن یہی لوگ زبان کے مسئلے کے ساتھ بے حسی اور نا تجربہ کاری کا معاملہ کرتے ہیں۔ ان کیلئے  خالص و معیاری زبان اور مقامی سطح پر استعمال ہونیوالی  دہقانی بولی کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

بہت سارے لوگ زبان کے متعلق نا معقول اور بے بنیاد باتیں  مانتے  ہیں اور انہیں پھیلاتے ہیں۔ایسے لوگ انسانی سماج میں امن کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔خاص طور پر  ہمارا تعلیمی نظام ان بے بنیاد باتوں کی نیو پر بنائی گئی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ درحقیقت اس میں ان لوگوں  کا کوئی قصور نہیں ہے۔ زبان کاسائنسی فہم پیدا کرنا نہ ہی ہمارے سماجی اشتراک کا حصہ ہے اور نہ ہی ہماری تعلیم کا ۔

علم ِقواعد:

ہم تمام اپنی بول چال کی زبان کے قواعد کے استعمال میں ماہر ہیں۔ ہم شاذ و نادر ہی غلطی کرتے  ہیں،اگر بھول سے کوئی غلط جملہ نکل بھی جائے تو  اسکی  فورًا اصلاح  کرلیتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا بھی ایسی غلطی کر دے تو ہمیں فورًا معلوم ہو جاتا ہے۔ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں نئے جملے تخلیق کرتے ہیں اور دوسروں کے نئے الفاظ اور جملوں کو آسانی کے ساتھ سمجھ لیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود زبان کے مسئلے پر مباحثہ  ماہرین لسانیات  کے حلقے تک ہی محدود ہے اور ماہرین لسانیات  کی بحث عام آدمی کی فہم سے بعید ہے۔

مثال کے طور پر، ہر ہندی بولنے والا جانتا ہے کہ”گیتا کھانا کھاتا ہے “ صحیح جملہ نہیں ہے ۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ گیتا مؤنث ہونے کی وجہ سے فعل مذکر  استعمال کرنا غلط ہے لیکن یہ اصول ان دو جملوں میں موزوں نہیں ہے: ۱) موہن نے کھانا کھایا اور ۲) گیتا نے کھانا کھایا۔  یہ دونوں جملے قواعد کی رو سے درست ہیں۔ یہاں پر گیتا اور موہن دونوں مختلف جنس ہیں اس کے باوجود فعل  وہی ہے۔ جب کوئی کہتا ہے ”گیتا نے کھانا کھائی “یہ غلط ہے ۔ اگر آپ الجھن کا شکار ہو رہے ہیں تو ان دو مثالوں کو دیکھئے: ۱) موہن نے روٹی کھائی ۲) گیتا نے روٹی کھائی۔ اب سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد یہ کہا  جا سکتا ہے کہ  ‘نے’فاعل کے بعد آیا ہے  تو فعل مفعول کے مطابق آیا ہے نہ کہ فاعل کے مطابق۔ لیکن ان جملوں کے بارے میں کیا خیال ہے۔۱) موہن نے گیتا کو مارا ۲) گیتا نے موہن کو مارا۔یہ دونوں جملے صحیح ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ گیتانے موہن کو ماری غلط ہے حالانکہ فاعل مؤنث ہے۔

تمام ہندی زبان بولنے والے افرادجانتے ہیں کہ جب تمام اسما ایک جملے میں لاحقوں کی وجہ سے روک دئے جاتے ہیں  تو فعل ان  میں سے کسی سے اتفاق نہیں کرتا۔یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جن کے بارے میں ماہر لسانیات بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔

زبان  یا بولی؟

اس سوال کا عام جواب یہ ہے :زبان کے کچھ قواعد ہوتے ہیں  اور ان سے مشترک کچھ نوشت بھی ہوتے ہیں اور بولی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ زبان  کثیر آبادی اور بڑے علاقے میں بولی جاتی ہے  جبکہ بولی مقامی ہوتی ہے جو ایک چھوٹےعلاقے تک محدود  ہوتی ہے۔ زبان معیاری  اور اعلیٰ ہوتی  جو  ادب ، صحافت،حکومتی اور دیگر دفتروں اور عدلیہ وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے اور بولی روزمرہ گفتگوکے لئے استعمال ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ فصاحت یا درستگی زبان کے لئے ضروری ہے  اور بولی کے لئے اس طرح کے اصولوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے  ۔ اس کے علاوہ زبان اور بولی کے مابین فرق کے سلسلے میں  اسی طرح کی اور بہت ساری تشریحات  پیش کی جاتی ہیں۔

بہر حال ایک ماہر لسانیات کےلئے بولی اور زبان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں میں قواعد  اور اصول ہوتے ہیں ۔ کس چیز کو زبان کہا جائے اور کون سی چیز بحیثیت بولی برقرار رہتی ہے یہ خالصۃً ایک سماجی اور سیاسی مسئلہ ہے۔  ایک قسم  جسے اہم لو گ(عہدیدار اور مالدار) استعمال کرتے ہیں  وہ دکھائی دیتی ہے اور وقت مقررہ کے بعد زبان کہلاتی ہے۔ دھیرے دھیرےاس کی فرہنگ ، لغت  اور قواعد لکھی  جاتی ہے۔ اس  کے علاوہ، یہ  اس علاقے کی ادبی زبان بھی بن جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ معیار بن جاتی ہے اور اسکولوں میں بچوں کی تعلیمی زبان بھی بن جاتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد  اس زبان سے ملتے جلتے مواصلات کے ذرائع  اس زبان کی بولی کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ صرف اس طرح کے طریقوں سے ہی ہوتا ہے کہ  زبانیں جیسے اودھی،برَج، میتھلی،بھوجپوری وغیرہ  جو ہندی کی مائیں  ہیں اسکی بولیاں کہلاتی ہیں۔زبان کی وہ تعریف جو  برائیٹ  کی ہے غالبًا وہ موزوں تر ہے : زبان فوجی اوربحری طاقت رکھنے والی ایک بولی ہے۔

ان پیچیدہ معاشی وسیاسی عوامل  کی وجہ سےانڈر پریولیجڈ بچوں کو ظلم سہنا پڑتا ہے،  اسلئے کہ جس زبان کے ساتھ اسکول میں آتے ہیں وہ   ایک معیاری زبان کے حضورقربان کردی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اس ہندی جملے پر غور کیجئے: نند کانندن کدمب کے پیڑ کے نیچے دھیرے دھیرے مرلی بجاتا ہے۔ برَج میں یہی جملہ ایسے ہوگا: نند کو نندن کدمب کو تروتر دھیرے دھیرے مرلی بجاؤں اور  میتھلی  کے مشہور شاعر  کی زبان میں یہ جملہ ایسے ہوگا: نندک نندن کدمک تروتر دھیرے دھیرے مرلی بجاو۔

میتھلی کے قواعدی اصولوں کے مطابق  نند اور نندن کے مابین کا رشتہ صرف ایک حرف’د’ سے دکھایا جا سکتا ہے۔برج میں یہ ‘دکس’ ہے اور ہندی میں ‘دک’ ہے ۔ ایک ماہر لسانیات کے نقطہ نظر سے تمام حکمت عملیاں قواعد میں یکساں ہیں۔

 امارت کے ساتھ رشتہ

اسکول میں ایک استاد خود کوفصیح اور معیاری  زبان کا محافظ سمجھتا ہے۔یہ پھر ایک مسئلہ فہم و نقطہ نظر ہے۔ پہلی  بات یہ  ذہن نشین ہو جانی چاہئے کہ بچہ اسکول میں داخلہ لینے کے وقت  بولی جانے والی زبان کے تمام قواعد  و اصول سے واقف رہتا ہے ۔  دوسری بات یہ ہے کہ اس کی مادری زبان کا تعلیمی زبان نہ ہونا ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ بچہ معیاری زبان سیکھنے کے وقت غلطیاں کرتا ہے  وہ شرارتی یا بے بنیاد نہیں ہوتے ؛ وہ بعض نمونوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ چوتھی بات یہ  ہے کہ  یہ غلطیاں ایک وقت کے بعد ہی صحیح ہوتی ہیں اور استاد  کی کوششیں  کوئی فوری نتائج ظاہر نہی کرتیں۔ پانچویں بات یہ ہے کہ بچہ غلطیاں کئے بغیر زبان نہیں سیکھتا، فرسٹ لینگویج سیکھنے والا بچہ بھی وہی غلطیاں کرتا ہے جو سیکینڈ اور تھرڈ لینگویج سیکھنے والا کرتا ہے۔

اب ہم ادب کا مسئلہ لیتے ہیں۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ “زبان” ہی کے استعمال سے سنجیدہ ادب تشکیل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کھڑی بولی ہندی ہی معیاری زبان ہے  کیونکہ اس کا اخبار اور دفاتر  میں استعمال  ہوتا ہے  جبکہ دوسری جیسے برج، اودھی ، میتھلی وغیرہ  صرف اس کی بولیاں کہلائی جاتی ہیں۔

یہ ستم ظریفی ہی ہیکہ اودھی زبان جس میں  تُلسی داس نے راما چرِتا مانس کو ترتیب دیا ہے ،برَاج،  جس میں سُرداس اور دیگر شعرا نے خوبصورت شاعری کہی ہے  اور میتھلی جس کو وِدیاپتی نے اپنی تصنیف کے لئے استعمال کیا ہے  انہیں اب  ہندی کی اولاد تصور کیا جا تا ہے  نہ کہ مائیں۔ یہ صرف ہمارے زمانے کا ہی رجحان نہیں ہے۔جب کنَوج حکومت کا مرکز تھا  اَپَبھرَمسا امراء کی زبان بن گئی اوراودھی اور براَج وغیرہ  جس حال میں بھی تھیں بولی قرار سی گئیں۔ اسی طرح سے جب مرکز براَج علاقہ  میں منتقل ہوا تو  براَج کو سرپرستی حاصل ہوئی اور دہلی اور میرٹھ کی کھڑی ہندی  کو اس کی بولی قرار دیا گیا۔  ٹھیک اسی طرح سے جب دہلی کو مرکزیت حاصل ہوئی تو  کھڑی بولی کو نمایاں حیثیت دی گئی اور دیگر زبانوں کوصرف بولی کا ہی رتبہ ملا۔

زبان اور حکومت کے رشتے کو سمجھے بغیر ہم اس مسئلہ کو اعتدال اور سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی طرف آگے بڑھ سکتے ہیں۔

رسم الخط اورزبان

اب ہم رسم الخط کے مسئلے کی تفتیش کریں گے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ  زبان کے مرتبے کوپہنچنے کیلئے ایک اہم شرط ہے۔یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ بے شک ، دنیا کی کسی بھی زبان کو کسی بھی ایک رسم الخط میں لکھا جا سکتا ہے  یا کوئی کسی خاص زبان کو دنیا کے مختلف  رسم الخط میں  تھوڑی سی تبدیلیوں کے ساتھ لکھ سکتا ہے۔مثال کے طور پر ہندی اور انگریزی کی زبانوں کو  اور دیوَنگری اور رومن نوشتوں کو  لے سکتے ہیں ۔( نوٹ: یہاں ہندی کے بجائے ارد میں لکھا  جا رہا ہے۔مترجم)ہندی (دیوناگڑھی)’ موہن کھیل رہا ہے’۔

ہندی ، رومن۔

Mohan khel rahaa hai

ہندوستان میں کئی زبانیں ہیں جنہیں دیوناگڑھی رسم الخط میں لکھا جا تا ہے؛ سنسکرت ایک ایسی زبان ہے جسے ہمارے ملک کی مختلف رسم الخط میں لکھا جاتا ہے۔ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی بھی زبان کے ادب کی ترقی کیلئے رسم الخط کا ہونا ضروری ہے۔ رِگ وید کا معاملہ لیجئے،  اس کو جمع کرنے کے بعد کئی صدیوں تک  اسے لکھا نہیں گیا تھا  کیونکہ اس وقت رسم الخط موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود  اس دور کے لوگوں  نے رگ وید کی خالصیت  کو برقرار رکھا۔ زبان رسم الخط سے پرانی ہے اور کسی بھی زبان کے ادب کی ترقی میں رسم الخط کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

لوگوں کی کوئی بھی جماعت اپنی زبان کے لئےرسم الخط ایجاد کرسکتی ہے۔ لیکن سماج اسے کتنا قبول کریگا اس کا انحصار پس پشط موجود  سیاسی سرپرستی پر ہوگا۔ آج سنتھالی زبان  کو مختلف رسم الخط میں لکھا جاتا ہے جیسے دیوَنگری، رومن، بنگلہ، اوراول چکی۔ اب اس میں سے کس رسم الخط کو سنتھالی اکثریت کی سرپرستی حاصل ہوگی ایک سیاسی مسئلہ ہے،  اس وقت تک جد وجہد ہر رسم الخط کیلئے ہے۔

دوسرا مسئلہ اس  علاقہ کا ہے جہاں زبان بولی جاتی ہے ۔اس بات کا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ  زبان ایک وسیع  علاقے میں  بولی جاتی ہے یا ایک بڑی آبادی ا سے بولتی ہے اور بولی ایک محدودیا چھوٹے علاقے میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ بہت دلچسپ بات ہے ۔ پھر ہندی کا معاملہ لیجئے۔  اخبارات ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن مسلسل  اس بات کی تشہیر کرتے ہیں کہ اس زبان کو ہندوستان کی پچاس فیصد آبادی بولتی ہے۔اسے  وفاق کی دفتری زبان قرار دے کر دستور کی سرپرستی دی گئی ( عموماً لوگ اسے قومی زبان قرار دینے لگتے ہیں)۔اس کو اسکولوں میں تعلیمی زبان بھی بنایاگیا۔  اس سرپرستی اور مدد کے سہارے ہندی زبان بن گئی اور دیگر جیسے برَاج، اودھی،بھوج پوری اور میتھلی اس کی بولیاں بن گئیں۔  وہ کثیر آبادی  جو ان بولیوں کو  بولتی ہے انہیں” ہندی بولنے والے” افراد کے تحت جمع کردیا گیا،لہٰذا اس  بات کا دعویٰ کیا جاتا ہیکہ ہندوستان میں کروڑوں لوگ ہندی بولتے ہیں۔

کتنے لوگ معیاری ہندی  بولتے ہیں؟بے شک  بہت ہی کم۔حقیقتاً, لوگ اپنی اپنی  زبانیں جیسے بھوجپوری، میتھلی،برَاج، مگَدھی،بندیلی،ھدوتی،بگدی،چھتیس گڑھی وغیرہ  کو اپنی روزمرہ کی گفتگو کیلئے استعمال کرتے ہیں اور شاذ و نادر ہی معیاری ہندی کا استعمال کرتے ہیں۔ معیاری ہندی شاید الہ آباد، بنارس اور میرٹھ کے کچھ حصوں  میں ہی استعمال ہوتی ہے۔ لیکن ان لوگوں کے بارے  کیا خیال ہے ہماچل پردیش کے چمبا اور ہمیر پور ، ہریانہ کے روہتک اور بھوانی ، راجستھان کے جیسلمیر اور سَوائے مادھوپور ، بہار  کے آرا اور چھپرا یا پھر  چھتیس گڑھ کے رائے پور اور بلاس پور وغیرہ میں ہیں۔ کیا وہ معیاری ہندی بولتے ہیں؟

بہر حال ،  یہ بات واضح ہے کہ قواعد، رسم الخط ، ادب اور علاقے کی وسعت کی بنیاد پر زبان اور بولی میں فرق کرنا ممکن نہیں ہے۔  پھر یہ فرق  اور مراتب کیسے پیدا ہوئے؟ کیوں ہندی ،کوین-انگلش یا اور کسی زبان کو فضیلت دی جاتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر ایک سے گہرا محاسبہ چاہتا ہے۔

یہ مضمون اصلاً ہندی کےمضمون ‘کون بھاشا کون بولی’سےاخذ کیا گیا  ہے۔ یہ ایکلویا کے شائع کردہ ‘سندربھ ‘ کے ایشو 13 ، سالانہ جلد 3،  میں صفحہ 37تا43 تک شائع کیا گیا تھا۔

مصنف کے بارےمیں

رما کانت اگنی ہوتری دہلی یونیورسٹی میں لسانیات کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کی یورک یونیورسٹی (یو۔ کے) سے 1979 میں ڈی۔ فل کی ڈگری حاصل کی۔ یوہ اے۔ ایل کھناّ کے ساتھ مل کر سیج پبلیکیشنز کی ریسرچ ان اپلائیڈ لنگوسٹکس سیریز کو ایڈٹ کرتے ہیں۔ وہ این سی ای آر ٹی کے ہندوستانی زبانوں کی تعلیم پر بنائے گئے فوکس گروپ کے چیرمین رہے ہیں۔ ان سے رابطہ کیلئے

[email protected]

Author: Admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے