عوامی تعلیمی تحریک کی جانب ایک قدم – تامل ناڈو سائنس فورم اور سائنسی تعلیم: حصہ دوم

اساتذہ میں حساسیت پیدا کرنے کیلئے چلڈرن سائنس فیسٹول (تہوار)کی اہمیت

یہ فیسٹول، اسکول کے علاوہ اوقات میں ہونے والا بچوں اور اساتذہ کا پروگرام ہے جس میں سائنس کچھ ایسے انداز میں سیکھی جاتی ہے(اور بسا اوقات سماجی سائنس بھی)جواسکول کے احاطے میں سیکھنے والےطریقے سے یکسر الگ ہوتی ہے۔اس فیسٹول کا بنیادی مقصد بچوں میں اسکول کی اہمیت و افادیت کو دوبارہ پیدا کرنا اور یہ بچوں و اساتذہ پر یہ باور کروانا تھا کہ سکھانا اور سیکھنا غرض ہر دو عمل کیسے دلچسپ، متعلقہ، خوشگواراورمؤثر بنائے جاسکتے ہیں۔

اس سائنسی فیسٹول کی بنیادی سرگرمیاں فعال و متحرک ہوا کرتی تھیں۔جن میں مفت سائنسی تجربات اور کھیل کود کے ذریعے سائنسی تصورات کو سیکھا جاتا تھا۔ہائیڈروجن گیس کو پیدا کرنے کیلئے سائنسی لیاب میں استعمال شدہ مہنگےآلات کے بجائے “انڈے کاچھلکا اور لیمو کا رس ” استعمال کئے جاتے۔ اسی طرز پر طبیعات کے کئی تصورات جیسےجمود، برنولی کا قانون، طیف کی وجود پذیری و دیگر کئی چیزوں کو سمجھنے کیلئےصرف ایک “گنجلک آلہ یعنی کنٹراپشن” کافی تھا۔ روایتی لوک کھیل جیسے پَنڈی (جسے شمالی ہند میں سٹاپو کہا جاتا ہے)کی مدد سے تمل قواعد سیکھے جاتے وغیرہ وغیرہ۔ کردار پرمبنی کھیل، کٹھ پتلی اور گنجلک آلہ جات کا استعمال کرتے ہوئے سیکھنے اور سکھانے ک عمل کو خوشگوار اورمعنی خیز بناتے ہیں۔مذکورہ تمام سرگرمیاں عملی،سادہ اور تجربہ کے قابل ہوتیں۔

اسکے ساتھ ساتھ، فورم نے مختلف علوم کو آپس میں جوڑ کر اپنے اطراف کی دنیا کو سائنسی نقطہ نظر سے دیکھنے کی مربوط کوشش کی۔مثال کے طور پر باورچی خانے میں سائنس، پکانے سے متعلق مختلف سرگرمیوں کو مختلف مروج علوم سے مربوط کرتے ہوئی پرکھی گئی۔ جیسےحساب(مختلف چیزوں کو تولنے اور چیزوں میں تناسب نکالنے کیلئے)، حفظان صحت(پاکی و صفائی)، غذائیت، کیمیاء(پکانےسے متعلق)، توانائی(ہمہ اقسام کے سٹو اور پکانے کے طریقے)، طبیعات اور ٹکنالوجی(پکانےکےدوران استعمال ہونےوالےآلےجیسےچاقووغیرہ)۔ بات یہیں تک ختم نہیں ہوئی، بلکہ سائنس نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ”پکاتا کون ہے؟”۔ ایسا کیوں ہے کہ صرف خواتین ہی باورچی خانے کی صعوبتیں برداشت کرتی ہیں اورگھر کے اسی حصہ میں کیوں ان کا وقت نسبتاََ زیادہ گزرتا ہے؟اس قبیل کے سماجیات سے متعلق دیگر سوالات بھی بحث کئے جانے لگے۔فورم سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال پر تنقید کرنا اور سماجی تبدیلی کے موضوع پر بحث کرنا ضروری سمجھتا ہے۔اس مقصد کی خاطرچلڈرن سائنس فیسٹول میں کئی ایک سماجی-معاشی و ثقافتی پش منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ایک دوسرے سے جوڑا گیا جس کا واضح نتیجہ یہ نکلا کہ بچے اپنی روزمرہ کے تجربات سے پرے “سماج کی حقیقت “سےواقف ہونے لگے۔فیسٹول میں مہمان-میزبان کا نظام بہت اثر انداز ثابت ہوا۔فیسٹول میں آئے مہمان بچوں کی میزبانی ذمہ داری مقامی بچوں کو دی جاتی جو انہیں اپنے گھروں میں رکھتے۔اس سے ہوتا یہ کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں سیکھتے۔مہمان-میزبان کا یہ نظم رواداری میں اضافہ اور اپنے سے الگ “دوسرے” کے بارے میں آنکھیں کھولنے کیلئے کافی کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

فورم سائنس کی توجیہ اس طرح کرتا ہیکہ وہ ہر اس چیز کی کھوج کرتی ہے جواپنی دانست میں سائنسی ہو لہٰذا فیسٹول میں سماجی سائنس کا بھی اپنا مقام ہوا کرتاہے۔درحقیقت فورم ابھی کچھ سالوں میں مخصوص سماجی سائنسی فیسٹول کا انعقاد کررہا ہے جس میں ذات پات،مذہب، پیسہ، جمہوریت، تغذیہ، رہن سہن، عادات و اطوار جیسے عنوانات پر بات ہوتی ہے اوران سب کو سائنسی انداز میں سمجھا جاتا ہے۔ فورم جہاں “تجربہ کرتے ہوئے سیکھنے “والے تدریسی عمل میں یقین رکھتا ہےوہیں سماجی مسائل پر تنقید کو بھی اہم سمجھتا ہے۔

فورم نے اساتذہ کیلئے بیاضوں (ہینڈ بکوں)اور رسالوں کو شائع کیا جن میں سرگرمیاں، کھیل اور ورک شیٹس پائی جاتیں۔ فورم کے کام کا اثر حکومت وقت پر بھی پڑا اور فورم کی جانب سے شائع شدہ مواد سرکاری کتابوں اور تعلیمی نظام میں جاگزیں ہونے لگا۔ اس وقت کامشہور زمانہ قول زریں “میں سنتا ہوں، بھول جاتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں، یاد رکھتا ہوں۔ میں کرتا ہوں، سمجھتا ہوں”فورم کےنظریاتی غلبے کا ثبوت دیتا تھا۔

سیکھنے میں مزہ اور بچے پر محیط تدریسی عمل

دوپہر کے کھانے کی اسکیم کو روشناس کروانے کے بعد تامل ناڈو میں اسکولوں میں داخلے میں کافی اضافہ توہوا لیکن ڈراپ آؤٹ کی شرح میں بہیترا اضافہ بھی ہورہا تھا۔ڈراپ آؤٹ کیوں واقع ہوتا ہے؟ اس وقت یہ سمجھاجاتا تھا کہ غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے طلباء گھر گرہست چلانے کی خاطر “بچہ مزدوری “کرتے ہوئےاپنا گھرچلاتےہیں اسی لئے ڈراپ آؤٹ کرجاتے ہیں!یقیناََ بچہ مزدوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ بہرحال 1991 میں ایک تحقیق کے مطابق”ایسے گاؤوں میں جہاں ڈراپ آؤٹ شرح زیادہ ہے وہاں بچہ مزدوری کا باضابطہ نظم نہیں ہے بلکہ ڈراپ آؤٹ کی اہم ترین وجوہات ، بچوں کی اسکول میں عدم دلچسپی، ان کی تعلیمی ناکامی اوروالدین کی جانب سے نظم و ضبط کی کمی پائے گئے۔”سیکھنے میں مزہ” دراصل نہ صرف اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ کلاس روم کو فعال متحرک اور سائنسی تعلیم کو دلچسپ بناناچاہئے بلکہ بچوں میں بھروسہ کی بازیابی اوورانہیں اسکول کی جانب پھر راغب کرنے کا ہتھیار بھی تھا۔ سیکھنے کے دوران مزےکونہ صرف ہائیڈروجن کی تیاری کا خوشگوار احساس و رول پلے کے دوران آنے والی مسرت انگیز کیفیات سے ہی عبارت کیا گیا بلکہ ان سے کہیں اورگہری کیفیات جیسےکسی چیز کودریافت کرنا اور اپنے اطراف کے ماحول کےادراک کرنے پر محمول کیا گیا۔بچوں کولکھنے، پڑھنے اور حساب کتاب کرنے کی مہارتیں آجانے کوان میں دلچسپی کی برقراری پر گردانا گیا۔ بہرکیف بچوں پر محیط سرگرمیاں، فورم کا اٹوٹ حصہ بن گئیں۔

اصلاحات کیلئے تخم ریزی

جہاں فورم کے ابتدائی دور میں اساتذہ کوکم قیمتی یا بغیر قیمت کے تعلیمی نمونوں کو بنانے پر ابھاراگیا، سال 1990 سے فورم ،بچوں اورسرگرمیوں پر محیط تدریسی عمل کے پرچاراور کمیونٹی کو متحرک کرنےمیں، ان تک رسائی اور ان کےمعیارمیں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔اساتذہ، طلباء اور اسکول سنبھالنے والوں کے ساتھ ساتھ، والدین، سوِِل سوسائٹی، ریاستی تعلیمی افسران، اساتذہ یونینیں، عالمی ایجنسیاں جیسے یونیسیف اور دیگر غیر سرکاری تنظیمیں بھی اپنا اپنا اہم رول ادا کرتے ہیں۔

اس پس منظر کے تئیں فورم متذکرہ بالا کرداروں پرمحیط تعلیمی مجالس منعقدکررہا ہے تاکہ ان تمام میں صحت مندانہ اندا ز میں بات چیت اور بحث جاری رہے۔ اس قسم کی عوامی مجالس سے امید کی جاسکتی ہیکہ ٍکوئی ثمر آورو فعال کام انجام دئے جائینگے۔ الغرض اصلاح کی کوئی بھی کوشش اوپرسے نیچے مسلط نہ کی جائے بلکہ تعلیم سےمتعلق تمام ہی افراد کے درمیان صحت مندانہ بحث کے ذریعے پروان چڑھایا جائے۔ یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ تعلیم سے منسلک مختلف افراد کو عوامی سطح پر موقع دیا جائے اور قابل عمل کوششیں انجام دی جائیں۔

ابھی سفر مکمل نہیں ہوا ہے

اپنی بہیتری کوششوں کے باوجودفورم تعلیمی میدان ابھی بھی کئی ایک معاملات میں پیچھے ہے۔ ابتدائی سالوں سے ہی فورم نے مروجہ امتحان کے نظم اور جانچنے کے طریقے کو (جویادداشت اور سرعت تفہیم و تدریس پر مبنی ہے )کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کہ یہ نظم بچوں کےسیکھنے کےعمل کاصحیح ادراک نہیں کرسکتااور نہ ہی سیکھنے سکھانے کےعمل کی ہی صحیح جانچ کرسکتاہے۔فورم اس لحاظ سے ناکام ثابت ہوا کہ اس نے اپنی تنقید پر مبنی جانچنے کا کوئی متبادل نظام نہیں پیش کیا(اور نہ کرسکا)۔

فورم کی اکثر سرگرمیاں تدریس سے متعلق ہیں۔ بچوں اورسرگرمیوں پرمحیط تدریسی نمونوں کی تیاری اس کا بنیادی کام رہا۔ نصاب کی تیاری و ترقی میں اس کا نسبتاََ کم حصہ رہا۔یہ احساس اغلب رہا کہ ایک ہی قسم کا قومی نصاب سب کیلئے مناسب رہے گا اورہمہ ریاستی، مختلف فیہ سماجی-معاشی پس منظر اور ثقافتی تغیرات کویکسر نظر انداز کردیا گیا۔بالخصوص فورم اس معاملے میں بالکل کوئی پیش رفت نہیں کرسکا کہ سماجی و معاشی لحاظ سے پسماندہ طالب علم کےنقطہ نظر سے نصاب کیسا ہو !

ہر ترقی پسند ماہر تعلیم کی طرح فورم بھی ،کم از کم پرائمری سطح تک مادری زبان میں تعلیم کی وکالت کرتا ہے۔ انگریزی تدریس و تعلیم کی جانب کم ہی توجہ دی گئی۔ بہر حال ا ب کئی دلت جہد کار حضرات پسماندہ طلباء کیلئے معیاری انگریزی تعلیم کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو انہیں سماجی طور پر فعال و متحرک رکھ سکتی ہے۔ زبان کے اس مسئلہ پر پھر سے سوچنے کی آج بھی اشدضرورت ہے۔

(نوٹ: اس مضمون کا پہلا حصہ ملاحظہ ہو)

تحریر: ٹی وی وینکٹیشورم۔سائنسدان، وگیان پرسار، نئی دہلی۔

مترجم: عبد المومن

بشکریہ لرننگ کروسائنس اشو12،عظیم پریمجی فائونڈیشن، بنگلورو
(Learning Curve Issue 12, April 2009)

 

[h5p id=”2″]

Author: Abdul Mumin

1 thought on “عوامی تعلیمی تحریک کی جانب ایک قدم – تامل ناڈو سائنس فورم اور سائنسی تعلیم: حصہ دوم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے