عوامی تعلیمی تحریک کی جانب ایک قدم – تامل ناڈو سائنس فورم اور سائنسی تعلیم: حصہ اول

اس مضمون میں ہم تامل ناڈو سائنس فورمکی جانب سے انجام دئےگئےتعلیمی میدان میں تاریخی ارتقاء کے سفر کا احاطہ کریں گے۔ خاص طور 1980 سے 2008 کے درمیان فورم کی خدمات پر طائرانہ نظر اور اس کے ماڈل کا مطالعہ کرینگے۔ انتہائی کم قیمت پرمنحصراساتذہ کیلئےتربیتی پروگرامس سے شروعات کرتے ہوئے آج یہ فورم تمل سماج میں ابتدائی تعلیم کولیکرسنجیدگی پیدا کرنےکےمشن پرلگا ہوا ہے۔

ابتدائی سال:مختلف فیہ تجربات و مہارتوں کے حامل آئی آئی ٹی مدراس کےسائنسدانوں، مختلف جامعات کےمحققین، اور کچھ اسکولوں و کالجوں کے اساتذہ کےایک گروپ نے سال 1980 میں اس فورم کی بنیاد ڈالی تھی۔ ابتدائی سالوں میں فورم کا رخ “خراب سےخراب ہوتی ماحولیاتی تبدیلی”، “سائنسی تعلیم میں گراوٹ”، اور”سائنس اورٹکنالوجی کاغلط استعمال جیسےجوہری بم وغیرہ کی تیاری کیلئے” وغیرہم جیسےعنوانات پرمبنی تھا۔ بتدریج اساتذہ، طلباء، اور محققین کی کھیپ کی کھیپ فورم میں دلچسپی کا اظہار کرنے لگی اور سال 1986 سے فورم کی کاروائیوں میں بہیترا اظافہ ہونے لگا۔مدراس (آجکےچینائی) میں”مشہورسائنسی لکچر” منعقد کرنے والا گروپ اب گاؤں گاؤں پھر کر ٹیلی سکوپ اور سلائیڈ شو کی مدد سے لوگوں کو ستاروں کی سیر کروانے لگا تھا۔ معمہ ہی سہی لیکن بھوکے اور گھر بدر لوگ بھی ستاروں کے بارے میں جاننے کی کوشش کررہے تھے۔ اس کائنات کی ماہیت کو جاننے اوراس کاادراک کرنے کی خواہش انسانی جبلت میں موجود ہے جو کیا غریب کیا امیر ہر دو میں ودیعت کی گئی ہے۔ سال 1987 کا تھا اور فورم نے اپنے پر پھیلائے ، بھارت جن وگیان گتا کے نام سے قومی سائنسی شہرے کیلئے فورم نے ملک کے کونے کونے میں پروگرامس منعقد کئے اور “لوگوں کیلئےسائنس، قوم کیلئے سائنس اور دریافت کیلئے سائنس” کا نعرہ دیا۔ سائنس کو نہ ہی حقائق کو رٹنے والی چیز سمجھا گیا اور نہ ہی کوئی جادوئی آلہ ۔ بلکہ سائنس، آفاق و انفس اور داخلی انسانی ادراک کیلئے مفید چیز قرار پائی۔

بعد ازاں ریاست تامل ناڈو کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والےوسطانوی اسکولوں کےکئی ایک اساتذہ فورم سے جڑنے لگے اور سائنسی تعلیم کی اصلیت وماہیت پر صحت مندانہ بحث چھڑنے لگی۔ اس وقت کامروج طریقہ تعلیم جس میں مخففات کے ذریعہ جوابات کو ذہن نشین کیا جاتاتھا، اب سوال کے کٹگہرے میں ٹہرنے لگا۔ ” کیا سائنس، محض یادداشت و ذہن نشینی جیسےغیر سائنسی طریقوں سے سیکھی جاسکتی ہے” اور “سائنسی تعلیم میں تجربات اور تفتیش کی اہمیت “جیسے سوالات پر سر دھنے جانے لگے۔ خوش قسمتی کی بات ہیکہ اسی دوران برطانیہ(انگلینڈ) میں “نفیلڈ سائنس ریسرچ پروگرام” مشہور ہورہا تھا جس کی رو سے سائنسی تعلیم کے میدان میں بہت بڑی تبدیلی آنے لگی تھی جسے بعد ازاں “طریقہ دریافت” سے بھی موسوم کیا گیا۔ فورم کے سامنے سخت ترین سوال یہ تھا کہ ایسے سرکاری اسکول جہاں بنیادی ضروریات کی بھی سہولیات میسر نہیں ، آیا تجربات و مشقوں کے ذریعہ سائنسی تعلیم فراہم کرنے کے سزاوار ہوسکتے ہیں؟۔ دریں اثناء فورم ، “ہوشنگاباد سائنس ٹیچنگ پروگرام” سے روشناس ہواجس کی مدد سے واجبی قیمتوں پر مبنی تکنیک کا استعمال کرسائنسی تجربات و مشقیں کروائی جاسکتی تھیں(اس پروگرام پر اس وقت مدھیہ پردیش میں کام ہورہا تھا)۔فورم سے جڑے اساتذہ “کیرلا شاستراساہتیہ پریشد”سے اچھے سے واقف تھے جس میں سائنس سیکھنے کے عمل کو “خوشگوار” بنانے پر دھیان دیا جاتا تھا۔فورم کے جہدکار و اساتذہ کا شدید احساس تھا کہ سائنس سیکھنے کا عمل نہ صرف خوشگوار ہو ساتھ ہی ساتھ مشقوں اور تجربات سے آمیز بھی ہو جس میں واجبی قیمت یا بالکل ہی کوئی قیمت نہ لگے۔

سال 1988 تک ساری ریاست تامل ناڈو میں سلسلہ وار تربیتی کیمپ برائے اساتذہ کا انعقاد عمل میں آگیا تھا جس کے ذریعے وسطانوی اسکولوں کے اساتذہ کو واجبی و بغیر کسی قیمت پر مبنی سیکھنے سکھانے کے طریقوں کےاستعمال ابھارا جاتا تھا۔اس قسم کے کیمپ کامیاب ہوئے اور اساتذہ کی کھیپ کی کھیپ فورم کی جانب کھنچی چلی آئی۔درآنحالانکہ فورم کی کوششوں کا ثمرہ راست سرکاری اسکولوں تک ابھی مکمل طور پر نہیں پہونچا تھا، بہرحال فورم نے اپنے ماہانہ سائنسی جریدے “تھُلِر” کے طلباء قارئین پر مبنی سائنسی کلب “تھُلِر اِللامس” کا قیام عمل میں لایا۔ بچوں کیلئے سائنسی تہوارمنعقد کئے گئے جن میں تربیتی کیمپوں کی بدولت تربیت یافتہ اساتذہ کا اہم رول رہا۔

اسکول کے آگے سیکھنے کا عمل:فورم کا اٹوٹ احساس ہیکہ جہاں باضابطہ اسکولی تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ ہے وہیں بے ضابطہ، اسکول کے باہر بھی تعلیم و سیکھنے کا عمل اتنا ہی اہم ہے۔اسی تناظر میں فورم کا سائنسی کلب “تھُلِر اِللامس “انتہائی اہمیت کا حامل بننے لگا۔ جہاں کم از کم فورم کی جانب سے شائع شدہ ماہانہ سائنسی جریدے کو پڑھا اور بحث کا موضوع بنایا جاتا تھا۔بتدریج ان میں سے کچھ بچے “اپنے آپ تجربہ کیجئے” والی مشقوں میں دلچسپی لینے لگے ۔ پودے لگانا ، بحث کرنا اور سائنسی دورے “تھُلِر اِللامس ” کی عام سرگرمیاں تھیں۔

بچوں میں کام کرنے کی نسبت سے فورم کو “نیشنل چلڈرنس سائنس کانگریس” کے تامل ناڈو چاپٹر کو سنبھالنے کی ذمہ داری دی گئی۔جس کا مقصدبچوں میں سائنسی مزاج کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ مشاہدے کا سائنسی طریقہ،مواد کو اکٹھا کرنا، تجربے کا تجزیہ کرنا، نتائج تک پہونچنا اور معلومات کوپیش کرنا بھی سکھایا جاتا تھا۔3 تا 5 بچوں پر مبنی گروپ بننے لگے جو مختلف تجربات کرتے جیسے، سڑک پر خستہ حال ٹپکنے والے پانی کے نل سے ضائع ہونے والے پانی کی مقدار معلوم کرنا، گھروں میں موجود “کمپوسٹ گھڑوں” کی تعداد معلوم کرنا، گاؤں میں موجود پرندوں کی اقسام کو معلوم کرنا،علاقے میں علم نجوم پر ایمان رکھنےوالے لوگوں کا فیصد معلوم کرنا وغیرہ۔

بچوں کے ان گروپس نے تجربات کئے، تفصیلی مشاہدے کئے،اپنے نتائج کا تجزیہ کیا اور بالآخر بعد ازاں ہونے والی “چلڈرنس سائنسی کانگریسوں”میں اپنی معلومات و کارگزاریوں کو پیش بھی کیا۔

(نوٹ: اس مضمون کا دوسراحصہ ملاحظہ ہو)

تحریر: ٹی وی وینکٹیشورم۔سائنسدان، وگیان پرسار، نئی دہلی۔

مترجم: عبد المومن

بشکریہ لرننگ کروسائنس اشو12،عظیم پریمجی فائونڈیشن، بنگلورو
(Learning Curve Issue 12, April 2009)

Author: Abdul Mumin

1 thought on “عوامی تعلیمی تحریک کی جانب ایک قدم – تامل ناڈو سائنس فورم اور سائنسی تعلیم: حصہ اول

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے