پڑھنے کی بیماری

پڑھنے کی بیماری جراثیم سے ہوتی ہے۔ اسے لیا جاتا ہے دیا نہیں جاتا”۔ (اور تم اسے  اس شخص سے نہیں لے سکتے جس نے اسے حاصل نہیں کیا ہے) ۔کرسٹین نیوٹال (۱۹۲۷: ۱۹۸۳)۔

مجھے اس بیماری نے بہت کم عمری میں اثر کیااور میں اپنی پہلی بچی کواس کے پہلے جنم دن سے قبل اس سے متاثرکرسکی! نہیں،  وہ  بچی نہ تو  غیر معمولی  تھی اور نہ ہی وہ معمولی سا پڑھائی کا ٹیسٹ پاس کر سکتی تھی۔ لیکن یہ ذہن میں رکھئے کہ  بے شک وہ کہانی کے جملوں پرمتعلقہ بہت سارے کرتب  دکھا  سکتی تھی(بیٹرکس پوٹرس کی پیٹر ریبٹ)ہاں وہ بس اسی کی نقل تھی کہ جو کچھ میں اسکے سامنے کہانی کوبلند آواز سے پڑھتے ہوے کرتی تھی۔ تھوڑے ہی عرصے میں وہ رینگتے ہوے کتابوں کےشیلف کی طرف بڑھتی جس میں ہرطرح کی کتابیں رکھی ہوئی تھیں اور بغیر کسی چوک کے اپنی ہی کتاب اٹھاتی۔ ہم میں سے کسی پر بھی یہ بات واضح نہیں  تھی کہ اس نے  کب اور کیسے پڑھنے کے فن کو سیکھا۔ہمیں ڈومین کے ‘مکمل لفظ’ کے طریقے، جسے بہت جلد چھوڑ دیاگیا، پر کے گے کئ خوشگوار تجربات یاد ہونگے۔ آنے والے سالوں میں لگتا ہے کہ اس بچی نے پڑھائ میں غرق ہو کر اپنے دن گزارے ہونگے اسکا ایک ہاتھ دوسرے کام کرتا اور ایک ہاتھ کتاب کو سنبھالتا۔ اپنے بچپن میں میں ماں کا کردار نبھاتی اورکہتی ”کھاتے وقت پڑھائی نہیں“۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں  پڑھائی کی بیماری کو منظم کیا جانا چاہئے  تاکہ اہم کام  انجام دئے جا سکیں۔ان میں سے کچھ کاموں کو پڑھائی  کے ساتھ ملانا  بے شک ممکن ہے ، جیسا کہ میرے اسکول کے دنوں میں بہت باریہ خواہش ہوتی کہ میں اپنے چشموں پرچھوٹے  وائپر اور کتابوں میں پلاسٹک کے صفحات لگاسکوں تاکہ میں غسل خانے میں بھی پڑھ سکوں۔”پڑھنے کی بیماری سے متاثرہ افراد” (ریڈنگ انفیکٹڈ پرسنز) کوایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی اسکولینگ کو پڑھنے کے ذوق پر اثر انداز نہ ہونے دیں۔
پڑھنے کی بیماری سے متاثرہ افراد” بہت سارے منصوبوں کا سہارا لیتے ہیں۔  جیسے فزکس کے موٹے ٹیکسٹ کے نیچے چھپا کر ناول پڑھنا  ، میگزینس (مجلے) کو لمبے نوٹ بکس کے جلدوں میں چھپانا، نئے ٹرم کے شروع ہونے سے پہلے ہی کتابیں پڑھنا تاکہ کلاس روم کے وقت میں چوری جاسوسی کہانیوں کے مزے لوٹ سکیں۔       مانوس درختوں کی شاخوں میں چھپ جانا تا کہ پڑھنے میں کوئ خلل نہ ہواور غسل خانہ میں زیادہ وقت تک غائب ہو جانا وغیرہ۔نوعمر بچے مختلف ذرائع پڑھنے کی بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں ۔ جیسے والدین،  دادا، دادی یا نانا ،نانی ،   رشتہ  دار، دوست اور اساتذہ انفیکشن ممکنہ ترین ذرائع ہیں۔ کتب خانے اورکتابوں کی دکانیں پڑھنے کی بیماری پھیلنے کے موثر ترین ذرائع ہیں۔ اب یہاں پر کچھ وضاحتی کیس اسٹدیز پیش کئے جائیں گے  جس سے اس بیماری کے خلاف مزاحمت کوآسانی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یعنی نصیحت آموز کہانیاں۔
ایک لڑکی جس کی عمر زیادہ سے زیادہ چار سا ل تھی، جب اسے اسکول میں داخل کیا گیا تو وہ چھے ماہ تک مزاحمت کرتی رہی اس کے با وجود کہ اس کے والدینپڑحنے کی بیماری کے دائمی مریض تھے اور اسکی نشانیاں انکی شخصیات سے ظاہر تھیں۔ اس لڑکی کی استاد نے آوازوں کی مشق شروع کی جسکی مدد سے  بچوں کوآواز اور علامتوں کے تعلق کی پہچان ہوتی اور اسکے ذرئع پڑھنے کی بیماری نے اس بچی میں اپنی جڑیں جمالیں۔تقریباَ تین ماہ کےعرصے میں اس بچی کی ماں نے بتایا کہ بچی نے چھٹیوں میں ایک ریسورٹ کےایک کمرے میں داخل ہونے سے انکار کردیا اوروجہ پوچھنے پر کمرے کے اوپر لگےبورڈ کی طرف اشارہ کیا جس پر”گیسٹ روم”لکھا تھا اور کہا کہ”گھوسٹ روم، ممی مجھے ڈر لگ رہا ہے”۔ یہ دراصل علامتوں سے معنی کی طرف قدم تھےاوراسی کے ساتھ یہ بیماری بچی میں اچھی طرح سرایت کر گئی اور اسکے بعد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
اگلی کیس اسٹڈی ایک بانچ سالہ بچے سے متعلق  ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا تا ہے کہ وہ اس بیماری سے محفوظ ہے۔ یہاں بیماری سے تحفظ کی وجہ ٹی وی کارٹون پرآنے والے کردار”ہِی مین“  کی طرف دلچسپی ہے۔ ایک دن وہ بچہ اپنی ماں کے ہمراہ با دل نا خواستہ کتب خانہ گیا تو اس کی نگاہ ایک ایسی کتاب پر پڑی جو اسی  کردار پر مشتمل تھی اور اس نے  وہ کتاب حاصل کرنے کی خواش ظاہر کی۔ ماں نے بچے کی بات مان لی  اور اسی وقت سے سالوں سے موجود تحفظ ختم ہونا شروع ہوا۔ اس بات کے خوف سے کہ”ہِی مین“  کتابوں کی فراہمی ختم  نہ ہو جائے(ایک دفعہ جب پڑھنے کی لت لگ جائے  تو قاری کو تسلسل کے ساتھ کتابوں کی فراہمی ہونی چاہئے)  ماں نے  حکیمانہ انداز میں  بچے کو اس جانب موڑا کہ وہ جب بھی اس سیریز سے کوئ کتاب لیتا تو ماں اسے ایک دوسری کتاب بھی منتخب کرواتی اور اس طرح سے آنے والے بحران سے چھٹکارا مل سکا۔ ریکارڈ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچہ ایک کے بعد دوسری سیریز پڑھتا چلا گیااور ہرسیریز کے ختم ہونے سے پہلے اسکی ماں اسکی سیریز کے علاوہ ایک اور کتاب منتخب کرنے پر اکساتی تھی۔
آخری کیس اسٹڈی بھی  جس کو میں پیش کرنا چاہتی ہوں  ایک کم عمر بچے سے متعلق ہے جس کے بارے میں یہ خیال ہے کہ اس بیماری سےفطری طور پر محفوظ تھا۔ اس کے گھر والوں نے قصداَ گھر میں ٹی وی نہیں رکھاتھا اور اسکے علاوہ کوئی اور تحفظ کا ذرئع نہیں تھا۔ اس معاملے میں بھی قابل غور بات یہ ہے کہ والدین اس بیماری سے بہت ہی متاثر تھے۔ اس بچے کےبھائی/بہن میں بھی یہ بیماری تھی۔ اسکول میں استاد بھی اس بیماری کے تحفظ کو ختم نہ کر سکی کیونکہ بچہ کلاس روم میں آوازکی مشق کرنے بجائے زیادہ تر باہرکھیلنا پسند کرتا تھا۔ ایک روز،جب وہ گھومتے ہوئے بڑے بچوں کی کلاس میں گیا تو وہاں موجود ٹیچرنے کھڑکی کے باہر منڈیر پر آواز کرتے  ہوئے ایک پرندےکی طرف اشارہ کر رہی تھی۔گھرمیں داخل ہوتے ہی اس لڑکے نے اپنی ماں کو بتایا کہ استاد نے اسے ایک پرندہ دکھایا۔ جب ماں نے استاد سے ملاقات کی مذاقًا بتایا کہ بچے نے “بش- چاٹرنامی پرندے کے بارے میں کیا تخیل قائم کیا ہے جس کے جواب میں  استاد نے ماں اور بچے کو سلیم علی کی وہ کتاب دکھائی جس میں اس پرندے کی تصویر تھی اور اس سے  پرندوں کے بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔ بچے نے اس کتاب کو لینے کی درخواست کی اور بہت جلد اس قابل ہو گیا کہ وہ کتاب کے ذریعے پرندوں کو پہچان سکے اور بسا اوقات وہ  استاد سے درخواست کرتا کہ وہ پرندوں کے نام بتائیں۔ بہت جلد وہ کتاب کو ٹیچر سے زیادہ جان گیا تھا اور پورے اعتماد کے ساتھ وہ دوسرے بچوں کو انکے دیکھے ہوئے پرندوں کے متعلق اس کتاب میں صحیح معلومات دیتا۔ اپنے آپکو پرندوں کے بتانے کی خواہش اس بیماری کے مقابل تحفظی خول سے زیادہ مضبوظ تھی اور افسوس، یہ بچہ بھی بہت جلد اس بیماری کاشکارہوگیا۔ مزید مطالعے کے دوران معلوم ہوا کہ اس لڑکے میں جو اب جوان ہو گیا ہے ،نہ صرف پرندوں کے مطالعہ میں دلچسپی ہے بلکہ وہ پڑھنے کی بیماری سےپوری طرح متاثر ہوچکا ہے اور یہ بیماری پیچھا چھوڑنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
لہذا، پڑھنے کی بیماری سے متاثرہ ساتھیو! میں آپ کو ان کیس اسٹڈیز پر غور کرنے  اوراپنے تجربات کو قلمبند کرنے کی درخواست کرتی ہوں تاکہ ہم اسے  بہتر  طریقے  سے سمجھ سکیں اوراس عزیز گفتگو کوزیادہ سے زیادہ پھیلا سکیں۔
اندرا وِجیسمہا عظیم  پریم جی فاؤنڈیشن کی شعبہ تعلیمات اور طریقہ تعیم کی مشیرہ ہیں۔ وہ “پورنا لرننگ سنٹر”کی فائونڈر- ٹرسٹی ہیں۔ یہ ایک متبادل اسکول ہے جو انکے اپنے تجربات اور افکار سے نمودار ہوا ہے جو انھوں نے اپنے بچوں کو ہوم اسکول کرنے کے دوران حاصل کئے۔ وہ چامراج نگر میں موجود ضلعی تعلیمی  ترقی پروجیکٹ میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسس میں ایم۔اے ایجوکیشن کے شعبہ کا اہم حصہ ہیں۔ جہاں وہ ٹیچر پروفیشنل ڈیولپمنٹ کورس پڑھاتی ہیں جسے انھونے دوسروں کے ساتھ مل کر بنایا ہے۔ وہ سابقہ میں “پتارا” گروپ سے وابستہ رہیں جو بچوں کےلئے کہانیاں پڑھنے کے سیشنس منعقد کرتی رہیں۔ انھیں اس ای میل پررابطہ کیا جا سکتا ہے
[email protected]

Share:

Author: Syed Mazhar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے