کلاس روم کو تجربہ گاہ بنوائیے :ذہن کو ندرت بخشئے – حصہ اول

یہ بحث خارج از بحث ہے کہ “کیا ایک اچھا تجربہ گاہ، سائنس کے سیکھنے اور سکھانے کو تقویت بخشتا ہے؟”۔ جہاں یہ ناگزیر ہے وہیں یہ بھی ممکن ہیکہ باضابطہ تجربہ گاہ کے بغیر بھی سائنس سیکھا سکھایا جاسکتا ہے اسوقت جب روزانہ وقوع پذیر واقعات کی توجیہ ہو، عمومی سوالات پر سر دھنا جائے، باآسانی مہیا وسائل کا استعمال ہواور چند آلات کوخریدا جائے۔ اگر ہم ایک سائنسی کمرہ جماعت کے سفر کی نقشہ سازی کریں تو کچھ ایسی صورتحال نظر آتی ہے:

اوپر کے اکتسابی عمل میں استاد کی حیثیت اس لکچرر کی طرح ہوتی ہے جس کا کام مقررہ عنوان کا اچھےسےاحاطہ کرنا ہوتا ہے۔ اور بچے کی حیثیت ایک ایسے غیر فعال و غیر خود کار وصول کنندے کی سی ہوتی ہے جس سے امید کی جاتی ہے کہ جو کچھ بھی پڑھایا جائے اس کو ازبر کرلے، ذہن نشین کرلے اورامتحان کے موقع پر اس کا منہ زبانی اعادہ کردے! اس مشق کا نتیجہ میں طلباء مندرجہ ذیل چیزیں نہیں سیکھ پاتے: تجرباتی تکسیب، تجسس کی آبیاری، سوالات کی وضاحت،تجربات انجام دینا، مشاہدات کو نوٹ کرنا، جمع کئے گئے مواد میں نمونوں کو معلوم کرنا، منطقی طور پر مدلل نتائج اخذ کرنا اور آخر کار سوچ وفکر میں بتدریج مثبت تبدیلی واقع ہونا۔

متذکرہ بالا امور خلاف واقعہ نہیں ہیں بلکہ کسی بھی جماعت یہاں تک کہ ایک ایسے مدرسہ کی چہارم جماعت کیلئے بھی قریب ازحقیقت ہے جہاں کوئی تجربہ گاہ بھی نہ ہو۔جس کو ثابت کرنے کیلئے میں ایک تحقیقی مضمون کی مدد لوں گی جس میں مندرجہ بالاسادہ مثال دی گئی ہے:-ایک درجہ چہارم کے استاد کو “حرارت” کے بارے میں بتلانا ہےاور وہ ایسا راستہ ڈھونڈتا (تی) ہے جو اوپر منسوب طریقہ سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔بلکہ وہ (امریکہ کی ریاست مساچسٹس کے سرد دنوں میں) 9 سالہ طلباء سے پوچھتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں وقوع پذیر 9 سرمائی موسموں میں “حرارت” اور”گرمی” کے کن تجربات سے گذرے ہیں۔(مندرجہ بالا تفصیل دیکھئے)

“سویٹر، گرم ہوتا ہے”۔ کیٹی نے لپک کر کہا!

“اگر ہم تھرمومیٹر کوانگیٹھی(آگ کے الاؤ)میں رکھ دیں تووہ گرم ہوتا جاتا ہے۔90 درجہ حرارت بھی ہوسکتا ہے”۔نیل نے سوچ بچار کی کہا۔

اگر ہم تھرمومیٹر کو کچھ دیر اور رکھ دیں تو درجہ حرارت غالباََ 200 بھی ہوسکتا ہے۔

بچوں کے حرارت کے تئیں ان تصورات سے نبرد آزما ہوکر ذہین و فطین استادنے بچوں کے بتائے ہوئےمثالوں کو انہیں سے تجربات کروانے کی ٹھانی۔سارےدرجےکےطلباءکی مدد سےاس نے تھرمومیٹرکوانگھیٹی،سویٹراورموڑے ہوئےقالین میں رکھوایا۔ ابتداءمیں جب درجہ حرارت میں کوئی تبدیلی نظرنہیں آئی توبچوں کوخودادراک ہواکہ انہیں کچھ اوردیرتک تھرمومیٹرکو رکھنا ہوگا۔(دھیان رہے کہ عام طور پر ابتدائی اشاریوں کو بنیاد بناکرمفروضہ پر قائم ہونے سے متضاد رویہ دیکھنے کو ملا) لہٰذا بچوں نے اگلے دن تک کا انتظار کیا, لیکن پھر بھی درجہ حرارت میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں واقع ہوئی۔ بچے اب بھی اپنے مفروضوں پر قائم دائم تھے۔ایک غیر سنجیدہ اورعجلت پسنداستاد شائد اسی مقام پر رک جاتا(تی) ان کی تصحیح کرتے ہوئے بچوں کو سمجھانا شروع کردیتا (تی) کہ درجہ حرارت میں تبدیلی کیوں واقع نہیں ہوئی۔ اس کے برخلاف اس استاد نے انہیں مسئلہ کی مکمل آگہی حاصل کرنےاور اس کی ملکیت لینے کا ہنر سکھلایا۔جس کے نتیجہ میں طلباءمسلسل سوچ، تفکر،اور انہی کے خیالات و مفروضوں کی جانچ اور بحث میں مگن رہے یہاں تک کہ وہ خود اپنے مجہول مفروضوں سے دستبردار ہوکراس بات کے متحمل ہوگئے کہ کچھ نیا علم حاصل کرلیں۔

اس مخصوص جماعت کی قابل ذکر چیز کیا ہے؟ اولاََ استاد کے سامنے اہم مدہ یہ تھا کہ طلباء کے اندر موجودپہلے سے موجود غلط مفروضوں کی بیخ کنی کی جائے چہ جائے کہ جلد از جلد نصاب کوختم کرلیا جائے۔ دوسرے ،اس نے طلباء کو ان کی استعداد کے مطابق سیکھنے کےعمل کو روا رکھا، ہر بچہ کے مفروضے کو جانچ کروایا، اور اس وقت تک انتظار کیا جب وہ اپنے مفروضے سے بذات خود دستبردار ہوگئے۔بعید از حقیقت نہیں ہے کہ اس قسم کےتجربوں پر ایک عام استاد ماتم کرتے ہوئے کہے کہ :”ہم ہر عنوان کے ساتھ تو ایسا نہیں کرسکتے ہیں وگرنہ اس ڈگر پر چلنے سے تونصاب کبھی مکمل نہیں ہوسکتا “۔ بالکل، ایسا کرنے سے نصاب کبھی مکمل نہیں ہوگا لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آپ کو نصاب مکمل کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ بچوں کے اندر پہلے سے موجود مفروضوں پر نت نئی جہتوں سےسوچ و بچار کروانا، اور بچے سیکھنے کے جس متوازن و مربوط عمل سے گزرے ہیں اس کے بعد جب اگلا عنوان دریافت کرنے کا وقت آئے گا (نہ کہ عنوان کو مکمل کرنےکا وقت)تو ساری جماعت ہشاش بشاش و دلچسپی کے ساتھ دل خوش کن حالت میں ہوگی۔( بخلاف اسکے سارے نصاب کو یک رنگی انداز میں بچوں تک منتقل کرتے ہوئے کوئی کیسے دعوی کرسکتا ہے کہ اس نے سائنسی تعلیم کا حق ادا کردیا ہے جبکہ اس میں طلباء نہ ہی خودکار سوچنے کے حامل ہوپائے اور نہ ہی سائنسی ذہنیت سےمالا مال ہوئے)۔تیسرے،متذکرہ بالا تجرباتی و خودکار تککسیبی قسم کی سائنسی سوچ اور ہماری روزمرہ زندگی میں ایسی خوشگوارمناسبت ہیکہ سائنسی نصاب میں “سائنسی مزاج” کے نام سے الگ سبق پڑھانے کی بھی نوبت نہیں آئے گی۔اور یوں نصاب کے کئی حصے بآسانی پڑھادئے جاسکتے ہیں۔

یہاں یہ انتہائی اہمیت کی حامل بات ہیکہ اگرسائنس کو”اسم”کی روشنی میں کم اور”فعل” کےنظریےسے زیادہ دیکھا جائے توسائنس کےتئیں سوچ وفکر میں امتیازی تبدیلی رونما ہوگی۔۔بچوں کو اپنے خیالات اور نظریات پر قائم رہنے کی آزادی دینا دراصل انہیں کچھ مضبوط ایقانات کی چھان بین کرنے کے قابل بنانے کاعمل ہے جس میں بچہ خود اعتمادی کی سیڑھی چڑھتا رہتا ہے اور ان ایقانات، خیالات اور نظریات کی آزادانہ تطبیق و تنقیح کرنے لگتا ہے ۔بعد ازاں یہ امید بھی کی جاسکتی ہیکہ بچہ کلاس روم کےباہر بھی اس قسم کے مزاج کی آبیاری کرے گا۔لہذا مذکورہ بالا زاویہ فکر کو سائنسی کلاس روم میں ودیعت کیا جائے۔ جس کیلئے کم از کم چہارم اور پنجم جماعتوں کیلئے کوئی اعلی و ارفع لیباریٹری کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

متذکرہ بالامضمون کادوسرا حصہملاحظہ ہو۔

مصنف: نیرجا راگھون، اکیڈمک اورپیڈاگوگی کنسلٹنٹ عظیم پریمجی فائونڈیشن,بنگلورو

مترجم: عبدالمومن

بشکریہ لرننگ کروسائنس اشو12،عظیم پریمجی فائونڈیشن، بنگلورو
(Learning Curve Issue 12, April 2009)

Author: Abdul Mumin

2 thoughts on “کلاس روم کو تجربہ گاہ بنوائیے :ذہن کو ندرت بخشئے – حصہ اول

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے