وقت کے ساتھ سائنس کا سفر

جب میں سائنس کی تاریخ پر اپنے خیالات مجتمع کررہی تھی کہ یکایک وہ اشتہارمیرےذہن میں گردش کرنے لگا جو بچوں کی صحت کیلئے مفیدایک مشروب کے متعلق تھا۔اشتہارمیں یہ دعویٰ کیاگیا تھا کہ مشروب میں قدرت اورسائنس دونوں کی آمیزش کی گئی ہےجو دراصل اس مشروب کی اعلیٰ غذائیت کا ثبوت دیتا ہے۔اس مشروب کو بنانے والی کمپنی یہ باورکروانا چاہتی ہیکہ قدرت ,تغذیہ فراہم کرتی ہے اور سائنس, معدنیات۔اگر کوئی اس بے معنی اشتہار کو سمجھنے کی کوشش کرے تو یہ بات معلوم ہوتی ہیکہ معدنیات ،قدرت کا حصہ نہیں ہیں جبکہ ہمیں یہ سکھایا گیا ہیکہ سائنس ، قدرت کی نیر نگینیوں پر سر دھننے کا کام ہے ۔ یوروپین اور ایشیائی ادب پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے پر یہ عقدہ کھلتا ہیکہ قدرت کی نیر نگینیوں کو جاننا اور ان سے قوت حاصل کرنیکی سوچ بنی نوع انسانیت کیلئے نئی نہیں ہے۔مذکورہ بالا واقعہ نے مجھے سائنس کے تئیں ہمارے رویے کے سلسلے میں خوداحتسابی کرنے پر مجبور کردیا اور سائنس کو لیکر نقطہ نظر میں وقت کے ساتھ آئی تبدیلیوں کے بارے میں سوچنے کا بھی موقع مل گیا۔
انگریزی لفظ “Science” دراصل لاطینی لفظ “Scientia “سے مشتق کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی، علم کے آتے ہیں۔

سائنس، طبعی حقائق کی وقوع پذیری کی دریافت اور انہیں سمجھنے کی کوشش کا نام ہے۔ سائنس، اس مجموعی علم کا نام ہے جو ہم حواس خمسہ(دیکھنا، چھونا، سونگھنا، سننا اور چکھنا)کا استعمال کرتے ہوئے طبعی دنیا کا مشاہدہ بغرض تحقیق و تطبیق کرنے پر وجود میں آتا ہے۔ آکسفورڈ ڈکشنری میں دیکھئے تو پتہ چلتا ہیکہ سائنس کوطبعی و قدرتی کائنات کا منظم فکری و مشقی انداز میں تجربات و مشاہدات کےعمل کا نام ہے۔ جدیدسائنس کی ابتداء تک کلاسیکی مواد کے ذریعے پہونچا جاسکتا ہے۔ کئی قدیم تہذیبوں نے فلکیاتی اطلاعات کو آسان مشاہدات کی روشنی میں منظم انداز میں جمع کیا تھا۔ بجز اسکے کہ وہ ستاروں و سیاروں کی حقیقی طبعی ساخت سے ناواقف تھے، انہوں نے کئی نظریے پیش کئے ۔ انسانی جسم کی ماہیت اور اسی طرح کیمیاء کا استعمال کئی تہذیبوں کا خاصہ رہا ہے۔3500قبل مسیح جبکہ انکی شروعات “سمر”(آجکا عراق) سے ہوئی تھی، میسوپوٹامی تہذیب کے باشندوں نے مکمل اعداد ی و مقدار ی انداز میں مشاہدات کو جمع کرنا شروع کردیا تھا۔ ماقبل سقراط گزرے فلسفی تھیلس جنہیں سائنس کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے، وہ پہلے شخص گزرے ہیں جنہوں نے مظاہر قدرت جیسے بجلی کی چمک اورزلزلے کی توجیہ پہلی بارغیر مافوق الفطرت طریقے سے کی تھی۔ قدرت سے متعلق کئی ایسے تجرباتی تحقیقات کاذکر جہاں قدیم تہذیبوں بشمول یونانی تہذیب(تھیلس، ارسطو اور دیگر)میں ملتا ہے وہیں سائنسی طریقے کے استعمال کی مثالیں عہد وسطی میں بھی ملتی ہیں۔
قدیم ہندوستان، دھاتوں کے متعلق کام سے مشہور تھا جس کی مثال دہلی میں موجود لوہے کے ستون سے لی جاسکتی ہے۔ اس دور کے لوگ لوہے کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان ہتھیاروں کی تیاری میں بھی مہارت رکھتے تھے جوخام لوہے کو قابل استعمال لوہا بنانے میں مدد دیتے تھے جسے آج “ہندوستانی سٹیل” کہا جاتاہے۔ان کے ہاں ایسے ایسے ورکشاپس بھی موجود تھے جو دنیا کے مشہور ترین خنجر و آلات کی کاریگری بھی کی جاتی تھی۔قدیم چین نے دنیا کو چار (۴) جامع ایجادات دیں۔ کمپاس، گن پائوڈر، پیپر کی تیاری، اور پرنٹنگ۔

بہرحال سولہ اور سترہویں ویں صدی کے یورپ میں(جو جدید دور کا بالکل ابتدائی نقطہ تھا) وقوع پذیر”سائنسی انقلاب”، دراصل آج کی سائنس کا نقطہ آغازتھا۔ لفظ “سائنس” دراصل 19 ویں صدی میں ولیم وھیویل نے پہلی بار استعمال کیا تھا، جبکہ اس سے پہلے وہ لوگ جو قدرت کی تحقیق و تنقیح کرتے تھے۔ جدید سائنسی طرائق موجودہ سائنس کیلئے مضبوط بنیاد بن گئے ہیں حتی کہ کچھ سائنسی فلسفی اور سائنسدان ابتدائی دور میں قدرت کی تفتیش و توجیہ کی کوششوں کو ماقبل سائنس سے تعبیر کرتے ہیں۔عام طور پر سائنس کے تاریخ دانوں نے ان تعبیروں کا کما حقہ احاطہ کیا ہے۔

سائنس کی وسیع النظراورجدید تعریف،قدرتی عوامل کے ساتھ ساتھ سماجی اور انسانی رویوں پر مبنی تحقیقی قرار دی جاسکتی ہے جس میں کسی بھی مظہر واقعہ کو مشاہدہ،شناخت،بیان، تجرباتی کھوج، اور نظریہ کی شکل میں بیان کیا جاتا ہو۔درآنحالانکہ کچھ دوسری تعریفیں بھی کی گئیں ہیں جن کے تحت صرف قدرتی مظاہر کی تحقیق ہی دراصل سائنس ہے کیونکہ وہ طبیعاتی دنیا سےمتعلق رکھتی ہے۔

متذکرہ بالا بیانیہ میں مشاہدہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔جس کی بنیاد پر سائنسدانوں سے یہ امید کی جاتی ہیکہ وہ بلا کم و کاست ،صرف اور صرف غیر متعصب مشاہدے کی بنیاد پر سائنسی طریقہ کی روشنی میں کسی بھی نظریہ کی حتمی طور پریا توتصدیق کریں یا نفی کردیں۔

سائنسی ماہرین کو مواد کی تیاری سے لیکر نظریہ سازی تک با مقصد مشاہداتی طریقہ استعمال کرناچاہئے۔سائنس کا انتہائی اہم فائدہ یہ ہیکہ وہ خود تصحیح کے اصول کو قبول کرتی ہے،گویا سائنسدان ہر ایسے نظریہ کو اپنے قلادے سے نکال پھینکتے ہیں جو غیر منطقی نظر آتا ہے۔

میری دانست میں سائنس دراصل، ایسی مشق ہو جس کا ہدف قدرت کےعلم کاحصول ہو۔اور زندگی کا ایسا طریقہ ہے جوانسانی وجود کے مختلف پہلوئوں کےادراک، اوران کےتئیں صحتمندانہ دریافت کاراستہ کھولتا ہے۔سائنس کی فلسفیانہ تعریف اسے منظم اور علمی انداز میں سوال کرنےسےتعبیر کرتا ہے۔اور سائنسی جستج سوچ وسمجھ کو پروان چڑھائےجوبالآخرمزید سوال کرنے پر ابھارے۔حقیقت حال یہ ہیکہ آج، ہندوستان کےتعلیمی میدان میں مشاہدہ اور تفتیش دونوں کو دامے درمے سخنے ہی کوئی اہمیت دی جاتی ہے۔بلکہ الٹا طلباء میں موجودان دونوں انتہائی اہم خصوصیات کی ہمت افزائی بھی نہیں کی جاتی برخلاف اسکے انہیں سوچ و سمجھ سے عاری لاش  کے مماثل بنادیا جاتا ہے جس میں کوئی تجزیاتی صلاحیت نہیں پائی جاتی۔ بدقسمتی یہ ہیکہ آج سائنس محض ایک مضمون کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، جو نصاب کا ایک حصہ ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور معلومات کی افزائش تک محدود ہو کر رہ گیا ہےمزید برآں اس کا ردعمل یہ ہوتا ہیکہ تفتیش و دریافت و تحقیق سے طلباء بہرہ مند بھی نہیں ہوتے۔ ایک سائنس کےطالب علم سے غیر مناسب امید رکھی جاتی ہیکہ وہ محنت کش، اصول پسند، بغاوت سے مبرا،اور سر تسلیم خم کرنے والا ہو۔ برخلاف جسکے ایسا بچہ جو اونچے خواب دیکھتا ہو، مزاحیہ حس  و خوشگوارذہن رکھتا ہو،اور انقلابی خیالات کے ساتھ ساتھ مشکل سوالات  پوچھتا ہو، سائنس کیلئےغیرمناسب گردانا جاتا ہے اوراس کی ہمت افزائی تو کجا الٹا اس کو کم ہمت کیا جاتا ہے۔

متذکرہ بالا اشتہار کےمصداق جہاں سائنس کوئی روبوٹ ہے تو اس پر طرہ آج کل سائنس کو ٹکنولوجی سے مماثل کوئی چیز یا ٹکنولوجی کو خود سائنس پر محمول کرلیا جارہا ہے۔سائنس کی تاریخ کو یوں تو،ٹکنولوجی اور سائنسی علمی میدان میں بتدریج ہونےوالی ترقیاتی منزلوں کونشان زد کرتے ہوئے بیان کیاجاتاہےلیکن، یہ بات ذہن میں رہنی چاہئےکہ ٹکنولوجی اورعلم سائنس دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔جبکہ ٹکنولوجی دراصل سائنسی علم کا بالراست اثر ہے جومزیدغوروفکرکی جانب ابھارتا ہے۔ہمارےملک ہندوستان میں بہت وقت سےمطلق سائنسی علوم پرٹکنولوجی جیسے انجینئرنگ کو فوقیت حاصل ہے۔ہمارے سماج کا یہ رویہ ابھی بدلا نہیں ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہیکہ میری ایک طالب علمہ نے بی۔ایس۔سی مضمون چھوڑ کرانجینئرنگ  کورس میں داخلہ لے لیا تاکہ وہ آنے والے وقتوں میں اپنے لئے اچھے شوہر کو سزاوار ہوسکے۔

لیونارڈو ڈا ونسی، ایسا نام ہو جو سائنسی میدان میں شائد کچھ خلاف معمول لگے ۔ لیکن ہم دور نشات ثانیہ کےاس عظیم پولی میاتھ کے بارےمیں جتنا بھی جانیں اتنا ہی اس حقیقت کا ادراک ہوگا کہ انہوں نے سائنسی طریقہ کو ہرشعبہ زندگی بالخصوص آرٹ وفنون لطیفہ میں بہترین انداز میں استعمال کیا تھا۔یوں تو لیونارڈو اپنے ڈرامائی اور تاثراتی آرٹ کیلئے جانے جاتے ہیں اس کے علاوہ انہوں نےکئی ایسے تجربات کئے جو بالآخر مستقبل کی ایجادات پر منتج ہوئے اور یہ سب جدید سائنس اور اس کی ایجادات سے بہت پہلے ہوا۔لیونارڈو سائنس کے تئیں مشاہداتی رویہ اپنائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کسی بھی مظہر ِواقعہ کو سمجھنے کیلئے اس کو تفصیلی طور پر بیان کرنےاور تصویراتی خاکہ میں ڈھالنے کی ٹھانی بخلاف اسکے کہ اس کی نظریہ سازی کی جائے یا مسلسل تجربات کے ذریعےادراک واقعہ کیا جائے۔معمول کے مطابق، چونکہ لیونارڈو مروج ریاضیاتی اور لاطینی تعلیم سے بے بہرہ تھے اس دور کے علماء سائنس و علم نے انہیں نظر انداز کردیا۔

لیونارڈوڈا ونسی کی مثال اس حقیقت کا ادراک کرنے لیکئے انتہائی اہم ہیکہ ہمارے علمی سفر کو کن مہلک مسائل سے نبرد آزمائی کرنا ہے۔ان میں سے ایک آرٹ اور سائنس کے سنگم کو حرام قرار دے دینا ہے! مزید برآں یہ کہ خود سائنس کو مختلف فیہ ذیلی علوم میں تقسیم کرنے پر ان ذیلی علوم کے درمیان زمین آسمان کا فرق پیدا ہو گیا ہے۔لہٰذا تادم تحریر ملک عزیز ہندوستان میں ایک سائنسدان کی ماہیت ایک خشک مزاج،غیرسماجی اورغیرتخلیقی مخلوق کی سی ہوگئی ہے جو اپنےمخصوص قسم کی تجربہ گاہ میں مصروف و ممنون رہتا ہے جسے باہر کی دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا،جس کا نتیجہ یہ ہواکہ طلباء اس میدان کے نام سے ہی کدرت محسوس کرتے ہیں۔

الغرض سائنس،جس کی ابتداء کائنات کی حشرسامانیوں کےادراک سےشروع ہوئی تھی،اب کئی ذیلی علوم ومضامین کےغیر متوازن کچومرکی شکل میں منتج ہوئی ہے۔لیکن مثبت بات یہ ہیکہ ہم نےاس مسئلہ کی شدت کو محسوس کیا ہےاور کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے کیلئے پہلا قدم اس کی حقیقت و شدت کو سمجھنا ہوتا ہے۔ علم کی تلاش و ادراک میں مشہور سائنسدان البرٹ آئنسٹائن کے یہ الفاظ ہماری رہنمائی کا بہیترا سامان رکھتے ہیں:”علم کی کمی خطرناک ہوتی ہے۔ اسے طرح بہت زیادہ علم بھی خطرناک ہوتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہیکہ سوال پوچھنا بند نہیں ہونا چاہئے۔”

کاتب تحریر: نندیتا نارائنا سوامی، یونیورسٹی آف بروڈہ سے سن 1996 میں بائیو کیمسٹری میں پی۔ایچ۔ڈی کیا تھا۔وہ تاحال دہلی کے شری وینکٹیشورا کالج میں اسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ان کی دلچسپی سائنس کو مزید تجرباتی اور تکسیب کو مزید تجزیاتی کرنے میں ہے۔

مترجم: عبد المومن

بشکریہ لرننگ کروسائنس اشو12،عظیم پریمجی فائونڈیشن، بنگلورو
(Learning Curve Issue 12, April 2009)

Author: Abdul Mumin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے